شیخ حمود بن عبداﷲ بن حمود التویجری مزید رقم طراز ہیں:
وکل اعتماد الاثنین علیٰ نشاط الکلام والحرکۃ التجوالیۃ‘ وکلتا الاثنین تفرغان‘ جہودھما علی الاختلاس‘ والاختناس‘ والاصطیار‘ والتزلف الی الحکام واصحاب الاعتبار وذوی النفوذ‘ واجتذابہم الی انفسہم‘ مع التجنب عن کل صراحۃ‘ وقبولہم علی جمیع علاتہم‘ وترکھم علی حالھم‘ وموالاتہم علی کل ذلک‘ وموالاۃ کل حکم وحکومۃ‘ والاجتناب بشرۃ عن کل سیاسۃ علنیۃ
وکذالک فان مولدالاثنین ومنشاء ہما ومصدالانتطلاقتین ومأرزہما ہی القارۃ الہندیۃ فقط
وکذالک فان القادیانیین مبنی دیانتہم الجہل والایمان بالخرافات والحکایات‘ وکذالک التبلیغیّون مبنی دیانتہم الجہل والایمان بالخرافات والحکایات والاکثار منھا‘ وحب الجھل والجھلائ‘ وترجیح جھلائھم علیٰ علمآء المسلمین‘ ومحاربۃ العلم والعلمآء ‘ فما اوضح الشبہ بین الاثنین (القول البلیغ ص 22)
ترجمہ: دونوں (تبلیغی اور قادیانی) اپنی تقریروں اور جماعتوں کو پھیلانے میں بڑے پھرتیلے ہیں اور دونوں عوام الناس کو فریب کے ذریعے اچک لینے‘ دھوکہ دینے اور شکار کرنے کے لئے بھرپور کوشاں رہتے ہیں‘ اہالیان اقتدار کے بہت قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں اور یہ کام چپکے چپکے کرتے ہیں اور ان ظالم حکمرانوں کو ان کی جمیع برائیوں سمیت قبول کرلیتے ہیں اور پھر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ ہر قسم کی رواداری کرتے ہیں اور یہ کام یہ ہر حکومت اور ہر حاکم کے ساتھ کرتے ہیں اور خود شدت کے ساتھ سیاست ظاہریہ سے اجتناب کرتے ہیں۔ اس طرح ان دونوں جماعتوں کے پیدا ہونے کی‘ گھومنے پھرنے کی اور ہر پھر کو واپس آنے کی مرکزی جگہ ہندوستان ہے۔ اسی طرح قادیانیوں کے دیندار ہونے کی بنیاد جہل جہالت اور خرافات بھری حکایات پر ایمان لانا ہے اور ان حکایات کو کثرت سے بیان کرنا ہے اور تبلیغی جماعت والوں کا دارومدار بھی انہی سب چیزوں پر ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ ان میں یہ بھی چیز بکثرت پائی جاتی ہے کہ یہ جہالت اور جہلاء سے پیارکرتے ہیں اور ان کو علماء پر ترجیح دیتے ہیں اور علم و علماء سے جنگ کرتے ہیں۔ اب غور کرو ان دونوں پارٹیوں (تبلیغیوں اور قادیانیوں) میں کتنی واضح مشابہت ہے۔
تبصرہ قادری: قارئین کرام! گزشتہ قسط میں آپ حضرات نے ان نام نہاد تبلیغی ایجنٹوں کی منکرین ختم نبوت مرزائیوں قادیانیوں مرتدوں کے ساتھ ملنے جلنے والی حرکتوں کا کچھ بیان ملاحظہ کیا۔ اب اس قسط میں ان کی آپس میں ملنے جلنے والی دیگر حرکتوں اور خرافات بری کیفیتوں کا بیان ہے۔ آپ نے ملاحظہ کیا کہ یہ دونوں پارٹیاں اپنے کفریات و گمراہیات سے بھرے کلام کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے ہمہ وقت مصروف عمل رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ عوام الناس کو گھروں ‘ مسجدوں‘ دکانوں‘ بازاروں سے ہروقت شکار کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ اس کے لئے ان کے نام نہاد مبلغین مومنانہ صورت اور اسلامی حلیہ بنا کر گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور ان کو جہاں موقع ملے‘ وہاں عوام کے مجمع میں اپنی تقریر جھاڑنا شروع کردیتے ہیں۔ خاص طور پر ہم نے ان کو اس زمانے میں گائوں دیہاتوں کے چکر لگاتے ہوئے زیادہ دیکھا ہے‘ وہاں یہ بے روزگار نوجوانوںکو جلدی چکر دے دیتے ہیں‘ اس لئے کہ وہ بے چارے پہلے ہی بے روزگاری سے تنگ ہوچکے ہوتے ہیں۔ اب قادیانی مبلغ جب انہیں پاسپورٹ ویزے کا چکر دے کر اور بیرون ممالک میں نوکری مع چھوکری کا جھانسہ دیتا ہے‘ تو وہ جلد ہی اس کے قابو میں آجاتے ہیں اور پھر (معاذ اﷲ) یہ جٹ جاہل نوجوان اپنے ہاتھوں سے اپنے کفر کی سند (قادیانیت کا سرٹیفکیٹ) اس پر دستخط یا انگوٹھا لگا دیتے ہیں۔ یوں گویا یہ لڑکے اپنے ہاتھ سے اپنے کفر پر مہر ثبت کردیتے اور ان کے جال میں پھنس کر اپنی آخرت دائو پر لگا دیتے ہیں‘ اس لئے میرے بھائیو! تمہیں جہاں کہیں یہ قادیانی یا ان کے مشابہ شکاری تبلیغی نظر آجائے‘ اس کے ساتھ سانپ نظر آئے تو سانپ کو چھوڑ کر پہلے اس قادیانی اور تبلیغی مردود کا کام تمام کردو کہ یہ ایمان کے ڈاکو ہیں۔ جبکہ سانپ جان کا اور یہ ایمان کا دشمن ہے۔
شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی علیہ الرحمہ کیا خوب فرماتے ہیں:
تاتوانی دور شو از یار کد
یار بدبد بود از مار بد
مار بد تنہا ہمیں برجان زند
یار بد برجان و بر ایمان زند
ترجمہ: اے عزیز! جب تک ہوسکے برے دوست سے دور رہو کیونکہ برا دوست برے سانپ سے بھی بدتر ہے‘ اس لئے کہ برا سانپ صرف جان کو ہلاک کرتا ہے جبکہ برا دوست جان بھی لیتا ہے اور ایمان بھی تباہ کرتا ہے۔
اسی طرح یہ قادیانی اور تبلیغی پارٹی والے اپنے بڑے بڑے ایجنٹوں کو بھیج کر اہالیان اقتدار سے رابطے کرتے ہیں اور ان کو اپنی طرف مائل کرنے کی بہت جدوجہد کرتے ہیں۔ پھر ان اہالیان اقتدار میں سے جس کی ظاہری ہیبت و حکومت زیادہ دیکھتے ہیں‘ اس کے گرویدہ ہوکر اس کے پٹھو بن جاتے ہیں اور ہرگز اس کی برائیوں پر اسے ملامت نہیں کرتے بلکہ اس غدار ملک و ملت‘ بدمعاش زمانہ نام نہاد حاکم وقت یا جرنل کرنل کو یہ بہت اہمیت دیتے ہیں اوراس کے مقابلے میں علمائے حقہ اہل سنت کی یہ دونوں پارٹیوں والے شدید مخالفت کرتے ہیں۔ اس قادیانی و تبلیغی فرقوں کے بانیان سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ یہ لوگ تو انگریز حکومت کے بھی وفادار رہے ہیں اور مسلمانوں کے مخالف رہے ہیں اور انگریز گورنمنٹ سے وظیفے لیتے رہے اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے رہے ہیں۔ جیسا کہ ’’انکشاف حقائق قادیانیت‘‘ قلمی نسخہ میں یہ بات موجود ہے کہ ’’مرزا قادیانی انگریز سے مالی امداد لیتا رہا اور اس کے بعد اس کے نام نہاد خلفاء بھی برابر انگریز سے مدد لیتے رہے اور آج بھی اسرائیل کے یہودی ان کی پشت پناہی کرتے چلے آرہے ہیں۔
اسی طرح ان تبلیغی دیوبندی وہابی نجدی ایجنٹوں کے اول گرو ملا اسماعیل دہلوی کے پیر احمد رائے بریلی والے کا معاملہ تھا کہ اس نے انگریز کی نوکری اختیار کی‘ اس کے بعد اس کی جماعت کے لوگوں میں سے دارالعلوم دیوبند کے بانی قاسم نانوتوی اور مولوی رشید احمد گنگوہی نے ہمیشہ انگریز گورنمنٹ کی حمایت میں تقریر و تحریر پیش کی۔ اس کا ثبوت خود ان کے سوانح نگاروں نے تذکرۃ الرشید وغیرہ میں پیش کیا ہے بلکہ اس جماعت کے حکیم صاحب مولوی اشرف علی تھانوی کے بارے میں ان کے گھر کے دو بڑے مولویوں (مولوی شبیر احمد عثمانی اور محمود الحسن دیوبندی) کی شہادت موجود ہے چنانچہ ’’مکالمۃ الصدرین‘‘ ص 9 مطبوعہ مکتبہ رحمیہ دیوبند میں موجود ہے۔
’’اشرف علی ہمارے اور آپ کے مسلم بزرگ اور پیشوا ہیں‘ ان کے بارے میں یہ ہے کہ انگریز سرکار سے انہیں ماہواری چھ سو روپے ملتے تھے‘‘
اس کا ثبوت اس اشرف علی مذکور کے بھائی اکبر علی نے دیا جوکہ ڈاک کے محکمہ میں ملازم تھے اور یہ پیسے خود لاکر اپنے بھائی کو پیش کرتے تھے۔
بذل القوۃ فی ختم النبوۃ جلد اول کے مقدمے میں ان تبلیغیوں کے بڑے گروئوں کی انگریز نوازی اور قادیانی دوستی کا خوب ثبوت موجود ہے جبکہ اشرف علی انگریز کا مال کھا کھا کر قادیانیوں کی تعریفیں کرتے تھکتا نہیں تھا۔
الغرض ان دونوں جماعتوں کی آپس میں کئی مشابہتیں ہیں‘ ان کے دیگر معاملات پر بڑی تفصیلی گفتگو ہوسکتی ہے‘ مگر اس قسط میں آپ کو مختصر طور پر قادیانیت کی حقیقت اور اس کے بانی آنجہانی مرزا صاحب کی اصلی صورت کا نقشہ دکھاتے چلتے ہیں۔
اس فرقے کا بانی بکتا ہے
’’آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا‘ خدا کے حکم سے بند کیا گیا ہے۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے‘ وہ اس رسول کریمﷺ کی نافرمانی کرتا ہے‘‘ (خطبہ الہامیہ مترجم ص 29,28)
ایک اور جگہ یوں ہذیان بکتا ہے
’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ (معاذ اﷲ) مسلمان نہیں‘‘ (حقیقۃ الوحی ص 163‘ مصنف مرزا قادیانی)
تیسری جگہ وہ ہرزئی سرائی کرتا ہے
’’جو شخص میری پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل نہ ہوگا وہ خدا و رسول کی نافرمانی کرے گا اور جہنمی ہے‘‘ (اشتہار معیار الاخیار ص 8)
اسی طرح منظوم خرافاتی کلام میں یوں کہا
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال

دین کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا ہے مسیح جو دین کا امام ہے

دین کیلئے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے

اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد

منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(ضمیمہ ’’تحفۂ گولڑویہ‘‘ ص 39‘مصنف مرزا قادیانی)
(اس کی نبوت کے قائل ہونے کے ساتھ ساتھ مرزائی اس کی بیوی کو ام المومنین کہتے تھے۔ اس کے لئے حوالہ دیکھئے سیرت مہدی ج 3ص 210‘ از قلم مرزا بشیر احمد قادیانی)
چنانچہ بشیر احمد قادیانی رقم طراز ہے:
’’حضرت ام المومنین (زوجہ مرزا قادیانی) نے بتایا کہ حضرت کے ہاں ایک ملازمہ مسماۃ بھانو تھی۔  وہ ایک رات جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی اس وقت حضور کو دبانے بیٹھی‘ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی‘ اس لئے اسے پتہ نہ لگا کر کس چیز کو دبا رہی ہے‘ وہ حضور کی ٹانگیں نہیںبلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا ’’بھانو مائی آج بڑی سردی ہے‘ یہ سن کر بھانو بولی‘ ’’ہاں جی! تدے تے تہاڈیاں لتاں لکڑی وانگ ہویاں ہویاں نیں‘‘ (یعنی اس وجہ سے تو آپ کی ٹانگیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی ہیں) (ایصا ج 3 ص 210)
اس حکایت سے مرزائے قادیاں کے غیر عورتوں سے مراسم کا بھی حال کھل کر سامنے آگیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مالیخولیا کا یہ مریض بناسپتی پیغمبری کا دعویدار شرابی بھی تھا‘ جیسا کہ اس نے اپنے ایک مکتوب میں اپنے غلام کو شراب بیچنے کا حکم صادر کرتے ہوئے یوں رقم طرازی کی۔
’’اس وقت (تمہارے پاس) میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے‘ آپ اشیائے خوردنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن‘ ای پلومر کی دکان سے خریدیں‘ مگر ٹانک وائن چاہئے‘ اس کا لحاظ رہے۔ باقی سب خیریت ہے (خطوط امام بنام غلام ص 5)
ڈاکٹر عزیز احمد کہتا ہے:
’’ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے‘‘ (سودائے مرزا‘ ص 39)
تنبیہ:اس شراب کو پی کر مرزا کیا کیا گل کھلاتا ہوگا اس کا اندازہ کوئی کیا لگا سکتا ہے… القادری
اس کے علاوہ قادیان کا جھوٹا نبی قادیان میں بیٹھے شراب پینے کے ساتھ ساتھ سنیما اور تھیٹر بھی دیکھتا تھا جیسا کہ اس بدبخت کا نام نہاد صحابی مفتی صادق بکتا ہے:
’’ایک رات دس بجے کے قریب میں تھیٹر چلا گیا جو میرے مکان کے قریب تھا اور تماشا ختم ہونے پر رات کو دو بجے واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری غیر موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب تو رات کو تھیٹر چلے گئے تھے (یہ سن کر) حضرت بولے (کوئی مسئلہ نہیں) ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے‘‘ (ذکر حبیب ص 18‘ مفتی صادق)
اس کے ساتھ ساتھ قادیان کا یہ جھوٹا نبی گالیاں بھی بکتا تھا جس کے لئے یہ حوالہ جات درج ذیل ہیں۔
کہتا ہے:
’’ہر مسلمان مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعوے پر ایمان لاتا ہے مگر زنا کار‘ کنجریوں کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کردی‘ وہ مجھے نہیں مانتے‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص 547)
سعد اﷲ لدھیانوی کے بارے میں کہتا ہے کہ ’’بے وقوفوں کا نطفہ اور کنجری کا بیٹا ہے‘‘ (تتمہ حقیقتہ الوحی ص 14)
اس کے علاوہ اس نے اپنے تین من گھڑت فرشتے بھی بنا رکھے تھے جن کے نام ’’ٹیچی ٹیچی‘‘ دوسرے کا ’’درشنی‘‘ اور تیسرے کا نام ’’خیراتی‘‘ رکھا ہوا تھا‘‘ (تریاق القلوب ص 192‘ حقیقت الوحی ص  232)
تنبیہ: اس بات سے فرشتوں کی واضح توہین ہوتی ہے کیونکہ اس نے ان کا کردار غیر اخلاقی اور ان کے نام عجیب و غریب بیان کرکے اہل ایمان کے سامنے فرشتوں کی حیثیت کم تر کرنے کی کوشش کی ہے۔
محترم جناب محمد نواز کھرل رقم طراز ہیں:
قادیانیت تاریخ کا زرد باب ہے‘ فاتر العقل‘ مخبوط الحواس‘ کور نگاہ‘ بدباطن‘ مال فروختی‘ حیلہ جو‘ تاویل پرست‘ منتشر الخیال‘ متلوج مزاج اور ذہنی عدم توازن کا شکار مرزا غلام احمد قادیانی نے 1889ء میںاس فتنے کی بنیاد رکھی اور 1901ء میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا‘ خانہ ساز‘ بناسپتی اور جعلی نبوت کے بانی مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو ایک صدی بیت چکی ہے‘ لیکن قادیانیوں کے دجل و فریب کا دھندا آج بھی پوری شدت سے جاری ہے۔
برطانوی سامراج کے زرخرید غلام اور غیر ملکی آقائوں کے تلوے چاٹنے والوں کا یہ مسیلمی ٹولہ ہر عہد اور ہر دور میں آستین کے سانپ کی طرح مسلم ملت کے اجتماعی کاز کے خلاف ہر قومی اور بین الاقوامی سازش میں ہمیشہ عملی طور پر شریک رہا ہے۔ مالیخولیا اور نفسیاتی عارضوں میں مبتلا مرزا قادیانی کے پیروکار اسلام اور پاکستان کے غدار ہیں‘ وہ استعماری طاقتوں کے ایجنٹ‘ انگریزوں کے نمک خوار‘ یہودیوں کے آلہ کار‘ طاغوتی طاقتوں کے گماشتے‘ اسرائیل‘ بھارت اور امریکہ کے جاسوس‘ تل ابیب‘ واشنگٹن‘ دہلی اور لندن کے فکری غلام ہیں۔ یہ قادیانیت‘ بے یقینیوں‘ مفروضوں‘ اندازوں‘ فریب کاریوں‘ دھوکہ دہیوں اور دشنام طرازیوں‘ جہالت و وحشت‘ فحاشی و عریانی‘ فتنہ و فساد‘ کفر والحاد‘ ظلم و استبداد‘ مصنوعی پارسائی‘ من گھڑت تاویلات اور شرم و حیاء سے عاری بدترین اخلاق باختہ جنسی اسکینڈلز کا مذہب ہے (تجزیہ و تبصرہ بحوالہ ماہنامہ تحفظ ص 39 گزشتہ شمارہ)
الغرض! اس فتنے کے خلاف بھی قلمی و لسانی جہاد ضروری ہے۔ اس کا اسرائیل میں داخلہ ہوچکا ہے اور اس کے علاوہ تبلیغی جماعت کے فتنے کا بھی اسرائیل میں داخلہ ہوچکا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ دونوں نے اولین مرکز ہند کو پھر پاکستان کو بنایا۔ مرزائے قادیان نے وہاں بیٹھ کر کیا گل کھلائے اور کس طرح لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی ناپاک جرأت کی‘ اگلی قسط میں آپ تفصیل ملاحظہ کریں گے اور دہلی میں تبلیغی جماعت کے مرکز والوں کی فریب کاری کا بیان … اس کے لئے منتظر رہیں۔ (جاری ہے)