عن عمرو بن میمون الاوری رضی اﷲ عنہ قال، قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم لرجل وہو یعظہ،

اغتنم خمسا قبل خمس

شبابک قبل ہرمک وصحتک قبل سقمک

وغناک قبل فقرک وفراغک قبل شفلک

وحیاتک قبل موتک

رواہ الترمذی مرسلاً

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسان اپنی فطرت سے مجبور ہونے کی وجہ سے فائدے کی تلاش میں رہتا ہے۔ خواہ وہ کسی بھی نوعیت کا ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنے فائدے یا نقصان کا کامل طور پر اسے علم ہو یا نہ ہو۔ بہرحال فائدے کی طلب میں کسی سے بھی تعلق قائم کرنے کی خواہش اس کی جبلت میں داخل ہے اور اس کے لئے ہر انسان کچھ پریشانیوں کو بھی قبول کر ہی لیتا ہے گویا ’’کچھ لو، کچھ دو‘‘ کا اصول انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔

نفع و نقصان کی شناخت اور نفع کے حصول کے طور طریقے معلوم کرنے کے لئے انسان ہر ذریعہ ووسیلہ اختیار کر ہی لیتا ہے تو کیوں نہ خلاق فطرت یعنی اﷲ تعالیٰ کے قائم کردہ نظام ہدایت، قرآن و حدیث کو نفع و نقصان کی معرفت کا معیار بنالیا جائے جوکہ یقیناًانسان کے لئے بھلائی کے داعی، محرک اور مشیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔تو آیئے مندرجہ بالا حدیث پاک کا مطالعہ کرکے اپنی سیرت کو منور اور زندگی کو باعمل بنانے کا اہتمام کریں۔

اﷲ کے آخری نبی، رسول مکرم حضرت محمد مصطفیﷺ نے فرمایا کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، یعنی زندگی کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر تقاضوں کی تبدیلی کی طرف توجہ دلائی گئی اور بھلائی کے حصول کی تاکید کی گئی۔ مذکورہ بالا حدیث پاک میں پانچ چیزوں کو ان کی متضاد اور مقابل پانچ چیزوں کے ساتھ ذکر کرکے ان سے فوائد کے حصول کی ترغیب دلائی جارہی ہے مثلا زندگی اور موت، جوانی اور بڑھاپا، تندرستی (صحت) اور بیماری، خوشحالی اور تنگدستی اور فراغت و مصروفیت۔

انسان کی فطرت ہے کہ اسے کسی نعمت کی اہمیت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ نعمت اس کی دسترس اور پہنچ میں نہیں رہتی جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں منقول ایک حکایت میں بیان کیا گیا کہ اگر موت نہ ہوتی تو زندگی کی اہمیت اور بیماری نہ ہوتی تو تندرستی کی نعمت وغیرہ کا احساس کیسے ہوتا؟

مذکورہ بالا حدیث شریف میں موت کے مقابل زندگی کو ذکر کرکے احساس دلایا جارہا ہے کہ انسان کی تمام توانائیاں اور ان کے استعمال کا اختیار زندگی کے ساتھ مشروط ہے اور خود یہ دنیاوی زندگی کوئی ہمیشہ رہنے والی چیزنہیں بلکہ غیر یقینی طور پر کسی بھی وقت یہ رشتہ زندگی، جسم اور روح کا تعلق منقطع ہوسکتا ہے لہذا اعمال خیر کو ممکنہ حد تک غیر ضروری طور پر موخر نہیں کرنا چاہئے کیونکہ موت کسی وقت بھی مہلت کے اس دور کا خاتمہ کرسکتی ہے لہذا زندگی کو موت سے قبل غنیمت جان کر اسے مفید کام میں صرف کرنا چاہئے۔

حدیث پاک میں جوانی اور بڑھاپے کا تقابل کرتے ہوئے ہماری توجہ انسانی زندگی کے ادوار پر مبذول کروائی گئی ہے۔ بچپن کا تو خیر تذکرہ ہی کیا کہ الہامی مذاہب ہوں یا دنیاوی قوانین ہر ایک کے نزدیک یہ زمانہ ہر لحاظ سے ناقابل مواخذہ اور قانونی، اخلاقی اور دنیاوی واخروی محاسبہ سے مبرا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بچپن تو اصل بادشاہی ہے۔ بچپن گزرنے کے ساتھ ہی جب انسان سن بلوغ کو پہنچتا ہے تو شریعت اسلامی اور دنیاوی قوانین کی پابندی اس کے ذمے آجاتی ہے اور تادم ہوش اس پر لازم رہتی ہے۔ اس پابندی کو نبھانے میں اس کی بلندی کردار اور عظمت افکار منحصر ہے۔ اور اس بلند منزل کے حصول کے لئے ایک مرد کامل کو اپنی سوچ اور عمل، تمام قوتیں بروئے کار لاکر ان اصولوں کے ماتحت کرنا پڑتے ہیں جو کسی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جوانی میں اپنے آپ کو کسی بھی نظام کاپابند کرلینا اس لئے آسان ہوتا ہے کہ جسمانی صلاحیتیں اپنے عروج پر ہونے کے ساتھ ساتھ ذہن کی قوت فیصلہ بھی مضبوط تر ہوتی ہے لہذا خود اعتمادی اپنی انتہا پر ہوتی ہے اور کوئی بھی اقدام اٹھانا آسان ہوتا ہے بہ نسبت بڑھاپے کے کہ جسمانی اور ذہنی ہر قسم کی لیاقت و صلاحیت روبہ زوال ہوتی ہے اور ساتھ ہی جسم کا دفاعی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے ہر طرح کی قوت برداشت خاتمے کی طرف رواں دواں ہوتی ہے لہذا انسان بڑھاپے میں کسی بھی معاشرے کا فرد ہونے میں جوان سے زیادہ مفید کسی طور بھی ثابت نہیں ہوتا۔ یوں ہی تو دانشوروں نے نہیں کہہ دیا:

جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری ست

وقت پیری گرگ ظالم میشود پرہیزگار

لہذا نبی کریمﷺ نے نصیحت فرمائی کہ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت جانو اور حکیم لقمان کی نصیحتوں میں ملتا ہے کہ در ہنگام جوانی کا ردوجہانے راست کن (کہ جوانی کے دور میں دنیا و آخرت کے کاموں کو درست کرلو) کہ جوانی میں تمام قوتیں اور محرکات تمہارے بس میں ہوتے ہیں اور بڑھاپا بے بسی کا دوسرا نام ہے۔

انسانی زندگی کے کسی بھی دور میں صحت و تندرستی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ صاحبان علم ودانش فرماتے ہیں کہ صحت بڑی دولت ہے () اور مرزا غالب فرماگئے:

تنگدستی اگر نہ ہو غالب

تندرستی ہزار نعمت ہے

صحت کی اہمیت کا اندازہ ضرب الامثال اور محاورات سے بھی لگایا جاسکتا ہے مثلا ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ ’’قبضہ سچا دعویٰ جھوٹا‘‘ وغیرہ بلامبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ طاقت ہی امن عالم کی ضمانت ہے۔ اسی سے مظلوم کا دفاع اور ظالم کا تعاقب و محاسبہ ممکن ہے۔ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ اﷲ کو طاقتور مومن کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہے۔ ایک مضبوط اور قوی شخص کسی بھی نظام کی طاقت اور اس نظام کی بقاء کا ضامن ہوتا ہے۔ لہذا اسلام جو آفاقی اور ابدی نظام حیات ہے، ہمیں صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت جاننے کی تعلیم و ترغیب دے رہا ہے کہ صحت مندی کے دور میں ایک مومن اپنے مفادات کا بھی بہترین محافظ ہوسکتا ہے اور اسلام کے فروغ کا ایک موثر ذریعہ بھی، جبکہ کمزور شخص اپنی بقاء اور تحفظ میں دوسروں کا مرہون منت ہوتا ہے۔ اسی لئے حکیم الامت علامہ اقبال نے فرمایا:

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

اسی طرح فرمایا

آ تجھ کو بتاؤں میں تقدیر امم کیا ہے

شمشیر وسناں اول، طاؤس و رباب آخر

لہذا غلبہ اسلام کے طلب گارو! اسلام کی تعلیم اور پیغمبر اسلامﷺ کا پرعزم اور اور باوقار ارشاد اچھی طرح گوش گزار کرلیجئے کہ صحت و تندرستی کو بیماری سے پہلے غنیمت جانو۔

دنیا میں قوتوں کے تعارف وتوازن میں دولت کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے۔ بسا اوقات بڑی بڑی جسمانی طاقتوں کو دولت سے خریدا جاسکتا ہے بلکہ بسا اوقات نظریات کو بھی دولت سے خرید لیا جاتا ہے، حالانکہ بجا طور پر کہاجاتا ہے کہ نظریہ ایک بڑی قوت ہے۔ نظریہ اور دولت کے اس تقابل کے پس منظر میں غریب اقوام میں باطل نظریات کے فروغ سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔ دولت کے بل بوتے پر کسی کی عزت کو تختہ مشق بنایا جانا بھی کوئی نیا تصور نہیں ہے۔ اسلام نے جہاں ایک طرف امیر غریب کی تفریق کو مٹاکر معاشرے مساوات قائم فرمائی اور محمود و ایاز کو ایک صف میں کھڑا کیا، وہیں عزت نفس کو بیداری اور تقویت بھی عطا فرمائی اور غربت وتنگدستی میں بھی کسی کے سامنے دست درازی کی مذمت فرمائی اسی لئے فرمایا کہ

الید العلیا خیر من الید السفلی

(اوپر والا ہاتھ یعنی دینے والا، نیچے والے ہاتھ یعنی لینے والے سے بہتر ہے)

اگر کسی شخص کے پاس زندگی گزارنے کے لئے کافی وسائل میسر ہوں تو وہ کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی ذلت سے بچ کر سفید پوشی کی زندگی گزار سکتا ہے۔ اور خود کفیل زندگی گزارنے کی وجہ سے اپنے نظریات پر آنچ نہیں آنے دیتا، گویا دنیاوی مال ومتاع کے ساتھ اگر کوئی شخصی قناعت و توکل کی دولت سے بھی مالا مال ہو تو اس کی یہ دولت دین میں پختگی، تصلب اور استقامت کا بہت بڑا ذریعہ ہے جبکہ غربت و افلاس میں آنے والا ہر لمحہ اس کے لئے ایک نئی آزمائش لے کر آرہا ہوتا ہے کہ دین وایمان بچانا مشکل ہوجاتا ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ غریبی کے تین نام ’’ننگا، لچا، بے ایمان‘‘ لہذا اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دولت مومن کو سوال کی ذلت سے بچا کر عزت نفس کی محافظ بنتی ہے اور دولت مند راہ خدا میں صدقات و خیرات کے ذریعے اپنے رب کے حضور بلندی درجات سے سرفراز ہوتا ہے اسی لئے ہمارے آقا و مولیٰﷺ نے فرمایا کہ ’’خوشحالی کو تنگ دستی سے پہلے غنیمت جانو‘‘

مذکورہ بالا تمام امور کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عملی معاشی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد عموما انسان معاملات حیات میں ایسا پھنس جاتا ہے کہ چاہنے کے باوجود بہت سے معاملات اس کی توجہ حاصل نہیں کرپاتے اور وہ اپنی پسند کے مطابق اپنی مصروفیات اور مشاغل کو ترتیب نہیں دے پاتا۔ اس وقت شدت سے گزرے ہوئے وقت کے ضیاع پر افسوس ہوتا ہے مگر افسوس کہ

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

لہذا معلم انسانیت اور پیکر اخلاق نبی کریمﷺ کے ارشاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زندگی کے خطوط کو آراستہ و مزین کیجئے فرمایا کہ ’’اپنی فراغت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت جانو‘‘ اس ضمن میں ارباب عقل فرماتے ہیں کہ ’’زندگی میں ترجیحات کا تعین وقت کے تناظر میں کیجئے اور اس کے بعد تمام وسائل اور قوتیں اس کے لئے صرف کرلیجئے انشاء اﷲ تعالیٰ وقت بھی آپ کے لئے مسخر ثابت ہوگا‘‘

معلم کائنات، فخر انسانیت، حبیب کبریاﷺ کے ارشادات کسی بھی انسان کے لئے ایک کامل منشور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان ارشادات عالیہ پر عمل کرنے کو اپنا نصب العین بنالیں اور دیگر تمام نظاموں سے دست کش ہوکر نظام مصطفےٰﷺ کے داعی بن جائیں تاکہ اﷲ تعالیٰ امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے طفیل ہمیں بھی صدیقین وصالحین میں شامل فرمائے۔ آمین

اﷲ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔