پاکستان بنانے والا، پاکستان بچانے والا۔ قاضی حسیب عالم

in Tahaffuz, May 2010, متفرقا ت

دادا جی… دادا جی! پاکستان کس کی ایجاد ہے؟
سات سالہ حذیفہ کے دل میں نجانے کیا سوجھی جو دادا جی سے پوچھنے لگے۔
’’بیٹا یہ ایجاد نہیں‘ علمائے اہلسنت اور قائداعظم کی بے مثال جدوجہد اور قیادت کا کارنامہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے لئے الگ وطن حاصل کیا‘‘ دادا جی سمجھانے کے انداز میں بولے۔
جی ہاں عزیز ساتھیو! کون جانتا تھا کہ 25 دسمبر 1976ء کو کھارادر (کراچی) میں پیدا ہونے والے محمد علی جناح اپنی جدوجہد کے ذریعہ ایک الگ وطن کی بنیاد رکھیں گے۔
قائداعظم جب لندن سے وکالت کی تعلیم حاصل کرکے واپس آئے تو آل انڈیا کانگریس میں شامل ہوکر انگریزوں کے خلاف سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا لیکن چند سالوں میں ہی آپ کو اندازہ ہوگیا کہ کانگریس کی جدوجہد صرف ہندوئوں کے مفادات کے لئے ہے اور وہ انگریزوں کے جانے کے بعد مسلمانوں کو غلام بنانا چاہتے ہیں۔ اسی لئے آپ نے 1913ء میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کیا۔ 1929ء میں آپ نے اپنے چودہ نکات پیش کئے۔ جس میں انگریزوں سے مسلمانوں کو ان کے حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔ 1934ء سے آپ مسلم لیگ کے مستقل صدر منتخب ہوئے۔ لیڈروں کی جاہ پرستی اور قوم کی غفلت اس قدر حوصلہ شکن تھی کہ اگر علمائے اہلسنت اور قائداعظم کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اس کام کو ناممکن سمجھ کر پیچھے ہٹ جاتا۔ مگر انہوں نے تمام مشکلات کا پوری دلیری اور عقل مندی سے مقابلہ کیا۔
ابتداء میں آپ چاہتے تھے کہ ہندو اور مسلمان مل کر انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کریں‘ لیکن آپ کی کوششوں کے برعکس جب ہندو لیڈروں نے انگریز حکام کے ساتھ مل کر مسلمانان ہند کے حقوق غصب کرنا شروع کئے تو آپ نے 1937ء میں وکالت چھوڑ کر تمام تر توجہ مسلمانوں کے لئے الگ ریاست کے حصول و قیام کی کوششوں پر صرف کرنا شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں 23 مارچ 1940ء کو لاکھوں مسلمانوں کی موجودگی میں لاہور کے اندر قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔
آپ اپنی جدوجہد سے بہت مخلص تھے جس کا اظہار انہوں نے پشاور میں مسلم لیگ کے جلسے میں کیا کہ اگر پاکستان کے لئے قربانی دینے کا وقت آیا تو سب سے پہلے میں اپنی جان پیش کروں گا۔ اسی خلوص اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ آپ کے دشمنوں نے بھی اعتراف شکست کرتے ہوئے کہا کہ جناح نہ بک سکتے ہیں اور نہ ہی جھک سکتے ہیں‘‘
قیام پاکستان جس کو کانگریس کے لیڈر گاندھی اور نہرو ناممکن قرار دے چکے تھے‘ بالاخر قائداعظم کی قیادت میں 14 اگست 1947ء کو وجود میں آیا۔ مخالفین نے بھی پاکستان کو علمائے اہلسنت اور قائداعظم کا کارنامہ کہا۔ پاکستان کے قیام کے بعد آپ بیمار ہونے کے باوجود پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے کوششیں کرتے رہے تو بہن فاطمہ جناح جوکہ پوری تحریک میں آپ کے ساتھ ساتھ تھیں‘ آپ کو کہا کہ آپ اتنا زیادہ کام نہ کریں تو قائداعظم نے فوری جواب دیا ’’تم نے کبھی سنا ہے کہ کوئی جنرل عین اس وقت چھٹی پر چلا گیا ہو جب اس کی فوج میدان جنگ میں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہو‘‘
٭…٭…٭
عالم اسلام کے ’’قلعے‘‘ پاکستان کو اپنی دن رات کی محنت کے بعد نئی بنیادیں فراہم کرنے والے عظیم سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1936ء میں ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان اسٹیل ملز میں ملازمت کے حصول کے لئے کوشش کی لیکن ملازمت نہ ملنے پر آپ ہالینڈ چلے گئے اور وہاں کی ایک لیبارٹری میں اٹامک انجینئر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔
قائداعظم کی وفات کے بعد جب پاکستان تنزلی کا شکار ہونا شروع ہوا تو پاکستان کی زبوں حالی آپ کو رنجیدہ کردیتی تھی۔ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے نتیجے میں پاکستان کے دو ٹکڑے ہونے پر بنائی گئی دستاویزی فلم دیکھ کر آپ تڑپ اٹھے اور اس وقت کے وزیراعظم پاکستان کو خط لکھ کر اپنی خدمات کی پیشکش کی۔
1974ء میں پوکھران (راجستھان) کے علاقے میں پڑوسی ملک بھارت نے جب ایٹمی تجربات کرکے پاکستان پر برتری ثابت کرنے کی کوشش کی تو اب پاکستانیوں کا بھی فرض بنتا تھا کہ وہ بھی ایٹمی تجربات کے ذریعے اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں۔ کیونکہ قرآن پاک میں بھی دشمن کے مقابلے میں اپنے گھوڑے سدھارنے کا حکم ہے۔ چنانچہ 1978ء میں وزیراعظم پاکستان نے کہوٹہ میں ایٹمی پلانٹ قائم کیا اور پاکستان کے تمام اٹامک انجینئرز کو وہاں ایٹمی توانائی کے حصول کے لئے جمع کیا اور ہالینڈ میں موجود ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو طلب کیاگیا۔ آپ نے حب الوطنی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے 30 ہزار روپے کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان کی بقاء کے لئے تین ہزار روپے کی ملازمت پر کہوٹہ لیبارٹری کے نگران بن گئے۔ 1985ء میں پاکستان نے یورینیم کی کامیاب افزودگی شروع کی۔ 1989ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی محنت رنگ لائی اور پہلے میزائل ’’عنزہ‘‘ کا کامیاب تجربہ کیا۔ اس کے بعد اپریل 1998ء میں پاکستان نے بھارت کے پرتھوی میزائل کے جواب میں تیزرفتار میزائل غوری کا کامیاب تجربہ کرکے ثابت کردیا کہ ’’ہم کسی سے کم نہیں‘‘
11 مئی 1998ء کوپوکھران کے علاقے میں بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو کشمیر کے متعلق دھمکایا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان ہر طرف سے دبائو کا شکار تھا۔ اور ایک بوسیدہ اور گرتے ہوئے مکان کی مانند تھا۔ لیکن 28 مئی 1998ء کو چاغی (بلوچستان) کے مقام پر چھ کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے بھارت اور اسلام دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا اور عالم اسلام کے گرتے قلعے کو نئی بنیادیں فراہم کیں۔ یہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا وہ کارنامہ تھا جس کی توقع نہ تو بھارت کو تھی اور نہ ہی عالم اسلام کے دیگر دشمنوں کو۔ اس طرح پاکستان عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں بڑی ایٹمی قوت بن گیا۔ رفتہ رفتہ آپ کی محنت کے نتیجے میں پاکستان نے دیگر ایٹمی تجربات کئے اور پاکستان کو اس قابل بنایا کہ کوئی حملے کی نیت سے اس پر آنکھ نہ اٹھا سکے۔
اے کیو خان نے ایٹم بم کے علاوہ غوری‘ شاہین‘ حتف اور کروز میزائل وغیرہ بنا کر پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔ اس کے ساتھ آپ کے کارناموں میں کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے اینٹی کرافٹ میزائل اور اینٹی ٹینک میزائل بھی شامل ہیں۔ آپ کے اعزاز میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا نام ڈاکٹر اے کیو خان لیبارٹریز رکھا گیا۔ قوم نے آپ کی خدمات کی وجہ سے محسن پاکستان کا خطاب دیا۔ آپ کے ساتھ ساتھ آپ کی ٹیم کا شمار بھی پاکستان بچانے والوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تمام خواہشات قربان کرکے پاکستان کی سلامتی کے لئے کام کیا۔