کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین کہ کون کون سے رنگ کا عمامہ باندھنا سنت ہے؟ نیز سبز عمامہ باندھنا کیسا؟ اس کا ثبوت بحوالہ کتب دیجئے؟
بینوا توجروا
محمد عاصم قریشی
محلہ جہانگیر آباد‘ ناظم آباد 2 کراچی
الجواب ہوا لموفق للصواب
ابو عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کی حدیث … اسناد مروی ہے
1: قال ادرکت المہاجرین الاولین یعتمون بعمائم گرابیس سسود وبیض و حمر وخضر وصفر الخ
یعنی اولین مہاجرین صحابہ کو ابو عبداﷲ فرماتے ہیں کہ سفید‘ سیاہ‘ سرخ‘ سبز اور زرد عمامے باندھے دیکھا (مصنف ابن ابی شیبہ ج 6‘ ص 48‘ طبع امدادیہ ملتان)
2: علامہ خازن بغدادی علیہ الرحمہ الہادی رقم طراز ہیں:
قال ابن عباس رضی اﷲ عنہما کان سیما الملٰئکۃ یوم بدر عمائم بیضو یوم حنین عمائم خضر
یعنی بدر کے روز فرشتوں کے سفید اور حنین کے روز سبز عمامے تھے (خازن ج 1 ص 182‘ مطبوعہ کوئٹہ)
3: امام عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں
ثم یہبط عیسٰی علیہ السلام الی الارض فہو متعمم بعمامۃ خضرآء
یعنی عیسٰی علیہ السلام قرب قیامت میں سبز عمامہ میں نزول فرمائیں گے (حدیقہ ندیہ ج 2 ص 273)
4: شیخ احمد صاوی مالکی رقم طراز ہیں:
روز حنین فرشتوں کی نشانی سرخ عمامے تھے (صاوی ج 2 ص 41‘ مطبوعہ مکتبہ غوثیہ کراچی)
5: نیز خود رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم سے مختلف رنگوں کا عمامہ باندھنا ثابت ہے‘ جیسا کہ
6: مشکوٰۃ شریف باب الجمعہ میں مخطب وعلیہ عمامۃ سوداء
یعنی خطیب الانبیائﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے دراں حالیکہ کہ سر اقدس پر سیاہ عمامہ تھا (یاد رہے کہ کثرت کتب حدیث مع صحاح ستہ 22 کے لگ بھگ روایات میں سیاہ عمامہ ثابت ہے)
7: شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں۔
دستار آنحضرتﷺ اکثر سفید بود وگاہے سیاہ و احیانا سبز یعنی دستار آنحضرت اکثر سفید سیاہ و کبھی سبز ہوتی تھی (ضیاء القلوب فی لباس  المحبوب ص 3)
8: علامہ احمد جیون ہندی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
’’سرکارﷺ کا عمامہ سرخ و سیاہ ہوتا تھا‘‘ (نورالانوار ص 179‘ مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور)
9: حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں
’’سرکار کے سفید کپڑوں اور سبز عمامہ کا تصور باندھو‘‘ (کلیات امداد)
10: مولانا شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں
’’سرکارﷺ نے حالت مرض میں زرد عمامہ بھی باندھا ہے‘‘ (ذکر جمیل)
الغرض سفید‘ سیاہ‘ سبز‘ سرخ‘ زرد رنگ کے عمامے باندھنا سنت مصطفے‘ سنت ملائکہ اور سنت صحابہ سے ثابت ہے اور سبز عمامہ کے ان نقلی دلائل کے ساتھ ایک عقلی دلیل یہ بھی ہے کہ شاہی مسجد لاہور میں تبرکات منسوبہ بہ حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التحیتہ والثناء میں سبز عمامہ بھی ہے
(مفتی وقار الدین قبلہ علیہ الرحمہ کا قادیانیوں کی دیندار جماعت کی مشابہت کی وجہ سے سبز عمامہ سے روکنا ان کے دور میں تھا‘ اب وجہ مشابہت نہ رہی تو ممانعت بھی ختم ہوگئی اور سبز عمامہ باندھنا جائز ہے)