اساتذہ کرام کا ادب سکھانے کی خاطر سزا دینا کیسا؟

in Tahaffuz, May 2010, آپ کے مسا ئل کا شر عی حل, ابو الحسنین مفتی محمد عارف محمود خان قادری رضوی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسئلوں میں :
نمبر 1: کیا اساتذہ کرام کا اپنے طلبہ کو اصلاح کرنے کے لئے اور تربیت کرنے کے لئے ہاتھ سے‘ لکڑی سے‘ مکے سے مارنا جائز ہے؟
نمبر 2: یہ عوام میں مشہور ہے کہ ’’استاد کی مار جہاں لگتی ہے‘ وہاں جہنم کی آگ اثر نہ کرے گا‘ اس کی اصل کیا ہے‘ کہاں تک یہ بات درست ہے؟
بینوا وتوجروا
السائل
جاوید کراچی
باسمہ تعالیٰ
الجواب بعون الملک المنصام الوہاب
اللھم ہدایتہ الحق والصواب
اﷲ تبارک و تعالیٰ کا فرمان عالی شان ہے:
وامراہلک بالصلوٰۃ واصطبر علیہا (پ 16‘ طٰہ آیت 132)
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر قائم رہ (کنزالایمان)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیؔ گجراتی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
’’اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے‘ ایک یہ کہ گھر میں رہنے والے تمام لوگ انسان کے اہل کہلاتے ہیں ۔بیویاں‘ اولاد‘ بھائی برادر وغیرہ۔ دوسرے یہ کہ کامل نمازی وہ ہے جو خود بھی نمازی ہو‘ اپنے گھر والوں کو بھی نمازی بنادے‘ تیسرے یہ کہ حکم کی نوعتیں جداگانہ ہیں‘ چھوٹے بچوں اور بیوی کو مار کر نماز پڑھائے‘ بھائی برادر کو زبانی حکم دے
(نور العرفان ص 386)
نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے
واضر بوہن (النساء آیت 34) اور انہیں مارو (ترجمہ: کنزالایمان)
تفسیر میں ہے اس سے معلوم ہوا کہ افسر اپنے ماتحت کو سزا دے سکتا ہے۔ مگر ماتحت افسر کو سزا نہیں دے سکتا‘ خاوند بیوی کو ادب کے لئے مار سکتا ہے۔ مگر بیوی خاوند کو نہیں مار سکتی۔ یہی حال استاد شاگرد‘ پیرمرید اور باپ بیٹے وغیرہ کا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ افسر پر ماتحت کا قصاص نہیں‘ شاگرد استاد سے‘ بیٹا باپ سے‘ بیوی خاوند سے امتی نبی سے قصاص نہیں لے سکتا‘ کیونکہ قصاص میں ایک قسم کی برابری ہے (ایضا 747)
حضور نبی کریم رئوف و رحیمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’ اﷲ تبارک و تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنی لاٹھی دیوار پر ٹانگے رکھے کہ بیوی بچے اسے دیکھتے رہیں اور درست رہیں‘‘ (مرقاۃ المفاتیح)
ذکر کردہ آیات بینات اور حدیث مبارک ہوا کہ اپنے ماتحت افراد کو سزا دینا جائز ہے اور ان کو ڈرانے دھمکانے کے لئے لاٹھی وغیرہ رکھنا درست ہے‘ عین ممکن ہے یہ لاٹھی بھی اشارہ ہو‘ پٹائی کرنے سے اور تادیب کرنے سے۔
بہرحال شریعت اسلامیہ نے دو قسم کی سزائوں کا بیان فرمایا ہے
1۔ حدود        2۔ تعزیرات
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی گجراتی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں
حدود جمع ہے حد کی لغوی معنی حد یا آڑ ہے اور اصطلاح شرع میں شریعت کی مقرر کردہ سزا کو حد کہتے ہیں (ملخصاً مراۃ المناجیح ج 5‘ ص 286‘ نعیمی کتب خانہ گجرات)
نیز فرماتے ہیں:
’’تعزیر بنا ہے عزر‘ عزر کے معنی عظمت‘ حقارت منع اور روک کے ہیں اور اصطلاح شرح میں غیر مقرر سزا کو تعزیر کہتے ہیں جو حاکم اپنی رائے سے قائم کرے خاوند کا اپنی بیوی کو‘ باپ کا بچوں کو اور استاد کا شاگردوں کو سزا دینا تعزیر کہلاتا ہے‘ نیز نبی کریمﷺ نے فرمایا اپنے بچوں سے ڈنڈا نہ ہٹائو‘‘ (ایضاً ص 325)
نتیجہ یہ نکلا کہ استاد کا اپنے شاگردوں کو سزا دینا بطور تعزیر ہے‘ نہ کہ بطور حد تو اب آیا تعزیر واجب ہے کہ نہیں تو حق یہ ہے کہ جن جرموں میں تعزیر کا حکم ہے۔ وہاں تعزیر دی جائے اور جن جرموں میں اس کا حکم نہیں وہاں واجب نہیں اور تعزیر مجرم کے لحاظ سے دی جائے‘ مجرم سرکش کو تعزیر بھی سخت دی جائے۔ شریف آدمی اتفاقاً گناہ کر بیٹھے تو تعزیر معمولی کافی ہے (ایضا ص 325)
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ مولوی خلیل احمد پشاوری کے استفسار کے جواب میں رقم طراز ہیں:
’’زدن معلم کو دکاں را وقت حاجت بقدر حاجت محض بغرض تنبیہ و اصلاح و نصیحت بے تفرقہ اجرت و عدم اجرت رواست اما باید کہ بدست زنند نہ بچوب ودر کرتے برسہ بار نیفزائند‘‘
(فتاویٰ رضویہ قدیم جلد دہم ص 140‘ فتاویٰ رضویہ جدیدہ ج 23ص 651)
نیز خاتم الفقہاء علامہ امین الدین ابن عابدین المعروف شامی قدس سرہ السامی اس سلسلہ میں رقم طراز ہیں
’’لایجوز ضرب ولد الحر بامرابیہ اما المعلمہ فلہ‘ ضربہ لمصلحۃ التعلیم وقیدہ الطرلوسی بان یکون بغیر اٰلۃ جارحۃ وبان لا یزید علیٰ ثلاث ضربات‘ وردہ الناظم بانہ لاوجہ لہ‘ ویحتاج الی نقل واقرۃ الشارح قال الشربنلالی والنقل فی کتاب الصلوٰۃ یضرب الصغیر بالید لا بالخشبۃ ولا یزید علی ثلث ضربات انتہٰی (رد المحتار مطبوعہ بیروت 276/5)
احکام الصفار ص 16 مطبوعہ بیروت پر موجود ہے کہ ’’نماز نہ پڑھنے والے دس سالہ بچے کو اور شاگرد کو استاد اور باپ چھڑی سے نہ ماریں بلکہ ہاتھ سے ماریں اور تین ضربوں سے زیادہ نہ لگائیں‘‘
مراۃ المناجیح میں ہے کہ استاذ مارے جبکہ بعد میں ظاہر ہو کہ بچے کا قصور نہ تھا جو استاذ پر قصاص نہیں لیکن اگر معاذ اﷲ بچہ مرگیا تو دیت لازم ہے‘‘
(مراۃ المناجیح ج 5‘ص 216-320)
مذکور شامی کی عبارت سے بھی یہظاہر کہ ڈنڈے سے سخت مار نہ مارے بلکہ فقط ہاتھ استعمال کرے اور تین سے زائد ضربیں نہ  لگائے
(شامی جلد خامس ص 376‘ مطبوعہ بیروت)
الحاصل استاد اپنے شاگرد کو ادب سکھانے کے لئے نیت صالح کے ساتھ سزا تو دے سکتا ہے لیکن چھڑی استعمال نہ کرے بلکہ ہاتھ سے زیادہ سے زیادہ تین ضربیں لگائیں اور وہ بھی منہ پر نہ مارے کہ اس کی حدیث میں ممانعت آئی ہے۔
چنانچہ ارشاد نبوی ہے
اذا ضرب احد کم فلیتق الوجہ (مشکوٰۃ المصابیح باب التعزیر ص 316)
’’جب تم میں سے کوئی مارے تو چہرے سے بچے‘‘
اس فرمان عالی میں ہزار ہا حکمتیں ہیں‘ ہم نے بعض متقی استادوں کو دیکھا کہ وہ شاگرد کی پیٹھ پر چپت مارتے ہیں‘ منہ پر تھپڑ نہیں مارتے۔ (مراۃ المناجیح ج 5 ص 326)
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں
’’استاذ سید زادے کو مطلق سزا نہیں دے سکتا‘ قاضی جو حدود شریعیہ کے نفاذ کا پابند ہے‘ اگر وہ بھی سید پر حد جاری کرے تو نیت یہ کرے کہ شہزادے کے پائوں میں کیچڑ لگ گئی ہے‘ وہ صاف کررہا ہوں‘‘ (فتاویٰ رضویہ جدیدہ ص 568‘ ج 22‘ ملفوظات شریفہ حصہ سوم ص 305 مطبوعہ لاہور)
آخر میں معزز اساتذہ کرام کی خدمت میں گزارش ہے کہ اب مار دھاڑ کا دور نہیں بلکہ گنتی کے چند افراد جو دین سیکھنے آتے ہیں ان کو شفقت کے ساتھ علم دین سکھائیں اور پیار محبت سے انہیں فضائل علم سے روشناس کراکر دین سکھائیں۔ گالی گلوچ‘ مار دھاڑ سے پرہیز کریں‘ کبھی کبھار سزا دینے کے لئے کھڑا کردیں‘ ایک آدھ طمانچہ منہ کے علاوہ وہ بھی جسمانی کیفیت دیکھ کر رسید کریں وگرنہ یہ ضروری نہیں۔ اور یہ سمجھنا کہ جہاں مار لگے‘ وہاں آگ نہیں پہنچے گی‘ اس کی کوئی اصل ثابت نہیں ہے۔
ضروری تنبیہ: استاذ کے بارے میں یہ گمان رکھنا کہ اس کی مار نار جہنم سے بچائے گی‘ غلط مشہور ہے۔ ہماری نظر سے کبھی نہ گزری۔ ہاں اساتذ کامل سنی صحیح العقیدہ کی عقیدت و خدمت ضرور کامیابی عطا کرے گی۔ القادری