شیخ ڈاکٹر یونس سومرو کے نظریات

in Tahaffuz, May 2010, ا سلا می عقا ئد, مولانا محمد طفیل رضوی

موجودہ دور مادیت کا دور ہے۔ ہر طرف فتنوں کا دور دورہ ہے۔ سادہ لوح اور پریشان مسلمانوں کی پریشانی اور سادگی سے فائدہ اٹھا کر نت نیا فتنہ اپنے شکنجے میں لے لیتا ہے‘ جس سے وہ سادہ لوح مسلمان اس طرف راغب ہوجاتا ہے‘ فتنوں کے شکنجے میں پھنسنے کی سب سے بڑی اور اہم وجہ علم کی کمی ہے۔ اگر ہم علم دین کے روشن چراغ کو اپنے سینے میں سجائے رکھیں گے‘ تو یہ روشن چراغ فتنوں کے اندھیروں کو اپنی روشنی سے مات دے دے گا۔
مگر افسوس کہ علم سے دوری نے مسلمانوں کو بھاری اکثریت کو گمراہیت کے دلدل میں دھکیل دیا ہے اور روز بروز نئے فتنے صوفیاء کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو حضورﷺ کا غلام‘ حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کا مرید‘ قطب‘ ابدال‘ غوث اور قلندر ظاہر کرکے مسلمانوں کو میٹھا زہر دیتا ہے تاکہ اس کی گندگی ان کے سینوں میں پیوست ہوجائے اور پھر لاکھ سمجھانے پر بھی وہ مسلمان ان شریروں کے شکنجے سے نہیں نکل پاتا۔
انہی میں سے ایک فتنہ کراچی کے ٍمشہور و معروف علاقے کھارادر میں موجود ہے جوکہ ایم سلیمان مٹھائی والے کی گلی میں بابو شیر مال والے کے برابر میں کراچی پیتھولوجیکل لیبارٹری کے نام سے کلینک واقع ہے‘ اس کلینک میں ڈاکٹر محمد یونس سومرو نامی شخص بیٹھتا ہے جوکہ مریضوں کو ایک کتابوں سے بھرا لفافہ تھما دیتا ہے جس میں چار کتابیں اور ایک پمفلٹ ہوتا ہے‘ اگر محمد یونس سومرو کا لٹریچر ملاحظہ کیا جائے تو کتاب کے ٹائٹل پر ڈاکٹر محمد یونس سومرو کے نام کے ساتھ وہ القابات تحریر ہیں جو اس وقت کوئی نہیں لگاتا‘ کتاب کے ٹائٹل پر ڈاکٹر یونس کا نام اس طرح تحریر ہے۔
’’سلسلہ مصطفوی کے بانی‘ غوث الاغیاث‘ قطب الاقطاب‘ قلندروں کے قلندر‘ صدیق‘ ابدالوں کے ابدال‘ اﷲ کے فقیر‘ ولی وقت حضرت شیخ ڈاکٹر محمد یونس سومرو‘‘
اب آپ حضرات کے سامنے اس کی تحریر شدہ کتاب بنام ’’پیغام الٰہی‘‘ جوکہ بقول ڈاکٹر یونس سومرو کہ قرآن و سنت اور الہام کی روشنی میں لکھی گئی ہے اس کی کچھ عبارات آپ گوش گزار کرتا ہوں جسے آپ پڑھ کر اندازہ لگائیں کہ کیا ڈاکٹر محمد یونس سومرو کے عقائد و نظریات باطل نہیں؟
1۔ فرقوں کوچھوڑنا ہوگا (کتاب پیغام الٰہی ص 1)
تبصرہ: ڈاکٹر یونس کی یہ بات مان لی جائے کہ ہم سب فرقوں کو چھوڑیں تو یقینا یہ بھی ایک نیا فرقہ ہوگا جو کسی فرقے میں نہیں۔ حدیث شریف میں حضورﷺ نے اپنی امت کے تہتر فرقوں کی خبر دی اور ایک کے جنتی اور باقی بہتر کے جہنمی ہونے کی خبر دی لہذا معلوم ہوا کہ فرقوں سے باہر ہونے کی بجائے ایک جنتی جماعت اہلسنت میں شامل ہوجائیں۔
2۔ شرک سے بچ کر بزرگوں کی عزت کرو (کتاب: پیغام الٰہی ص 1)
تبصرہ: ڈاکٹر یونس سومرو اگر بزرگوں کے ہاتھ پائوں چومنے کو شرک کہتا ہے تو وہ غلطی اور گمراہی پر ہے کیونکہ بزرگوں کی تعظیم کے لئے ان کے ہاتھ پائوں چومنا شرک نہیں کیونکہ یہ فعل احادیث سے ثابت ہے۔ اس طرح مسلمانوں پر شرک کا فتویٰ لگانا کم علمی کی دلیل ہے۔
3۔ قبرستانوں‘ مزاروں پر جائو عبرت کی خاطر (کتاب: پیغام الٰہی ص 1)
تبصرہ: قبرستانوں پر تو عبرت کے لئے جانا چاہئے مگر یہ کہنا کہ مزارات پر عبرت کی خاطر جائو‘ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ مزارات پر عبرت کی خاطر نہیں بلکہ فیض حاصل کرنے کے لئے جانا چاہئے اور یہی نظریہ عرصہ دراز سے صحابہ کرام‘ تابعین‘ تبع تابعین اور اولیاء کرام رحمہم اﷲ کا رہا ہے مگر ڈاکٹر یونس سومرو نے اسلامی نظریہ سے ہٹ کر نئی اور من گھڑت بات تحریر کی ہے۔
4۔ ڈاکٹر یونس سومرو توبہ کرنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے ’’قبروں کی پوجا بھی کی شرک بھی کیا‘‘ (کتاب : پیغام الٰہی ص 2)
تبصرہ: ڈاکٹر یونس سومرو نے امت مسلمہ پر یہ بہتان لگایا کیونکہ کوئی بھی مسلمان قبروں کی پوجا نہیں کرسکتا اور نہ ہی کرتا ہے بلکہ بعض جہلاء جو مزارات پر سجدے کرتے ہیں وہ جہلاء بھی شرک نہیں کرتے بلکہ فعل حرام کے مرتکب ہوتے ہیں کیونکہ جہلاء مزارات پر تعظیمی سجدہ کرتے ہیں اور تعظیمی سجدہ حرام ہے جبکہ سجدہ عبادت کفر ہے جوکہ کوئی بھی مسلمان غیر اﷲ کو نہیں کرتا۔
اصل میں ڈاکٹر یونس سومرو عالم دین نہیں ہے۔ اگر وہ سمجھ دار ہوتا تو ایسی توبہ نہیں کرواتا ہاں اگر خود ڈاکٹر یونس سومرو کسی شرک میں مبتلا ہے تو وہ یہ فتویٰ مسلمانوں پر کیوں لگاتا ہے؟
5: کسی پیر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں‘ کسی تعویذ کی ضرورت نہیں (کتاب: پیغام الٰہی ص 6)
تبصرہ: ڈاکٹر یونس سومرو دیگر پیران عظام کے پاس جانے سے روک کر صرف اپنی طرف بلانا چاہتا ہے تاکہ اس کی دکان چمکتی رہے۔ تعویذات کا انکار احمقانہ فعل ہے‘
تعویذات کا استعمال دور صحابہ میں بھی رہا ہے‘ چنانچہ حدیث شریف ملاحظہ ہو۔
حدیث شریف: عمرو بن شعیب کے والد ماجد نے ان کے جد امجد سے روایت کی ہے کہ حضورﷺ پریشانی کے وقت کہنے کے لئے یہ کلمات سکھایا کرتے ’’پناہ لیتا ہوں میں اﷲ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی اس کے غضب سے اور اس کے بندوں کی برائی سے اور شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس سے کہ وہ میرے پاس آئیں‘‘ چنانچہ حضرت عبداﷲ ابن عمرو رضی اﷲ عنہ یہ دعا اپنے بیٹوں کو سکھایا کرتے جو سمجھ دار ہوتے اور جو ناسمجھ ہوتے ان کے گلوں میں (تعویذ) لکھ کر لٹکا دیا کرتے (ابو دائود‘ جلد سوم‘ حدیث 496ص 177‘ لاہور)
معلوم ہوا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان تعویذات کو شفا کا ذریعہ سمجھ کر اپنی اولادوں کو پہنایا کرتے تھے مگر ڈاکٹر یونس صاحب امت مسلمہ کو تعویذات کے اتارنے کا حکم صادر کرتے ہیں۔
6: ڈاکٹر یونس سومرو کہتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ کون سا فرقہ صحیح ہے (کتاب: پیغام الٰہی ص 7)
تبصرہ: ڈاکٹر صاحب کا یہ لکھنا ثابت کرتا ہے کہ وہ مسلک حق اہلسنت کو بھی صحیح نہیں مانتے ورنہ ضرور مسلک حق اہلسنت کا نام لے کر کہتے کہ حق مسلک یہی ہے لہذا ایسے آدمی سے بچنا چاہئے۔
7۔ ڈاکٹر یونس سومرو لکھتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی پیغمبر‘ پیر‘ فقیر‘ انسانوں اور جنوں کو حاجت رواماننا شرک ہے (کتاب‘ پیغام الٰہی ص 8)
8: جب کسی بزرگ کا انتقال ہوجاتا ہے تو ان کی طرف سے فیض بند ہوجاتا ہے (کتاب: پیغام الٰہی ص 10)
9: آج کل کی نعت کا طریقہ اﷲ تعالیٰ کو بالکل پسند نہیں (کتاب: پیغام الٰہی ص 10)
تبصرہ: ہر نعت خواں اور ہر محفل نعت کا طریقہ غلط نہیں ہے‘ چند ایک جگہ ایسا ہوتا ہے مگر اس کو بنیاد بنا کر تمام محافلوں کو غلط کہنا یہ سراسر بددیانتی ہے۔
10: ڈاکٹر یونس لکھتا ہے کہ جعلی پیروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ پیغمبر اور ولی آپ لوگوں کی بخشش کروائیں گے (کتاب: پیغام الٰہی ص  8)
11: اﷲ کے سوا کوئی پیر‘ پیغمبر‘ ولی سے نہیں مانگنا چاہئے (کتاب: پیغام الٰہی ص 15)
12: ڈاکٹر یونس سومرو مرید بناتے وقت اپنی ولایت کا اقرار کرواتا ہے (کتاب : پیغام الٰہی ص 21)
یہ تمام عبارات شیخ ڈاکٹر محمد یونس سومرو کی لکھی ہوئی صرف ایک کتاب سے لی گئی ہیں‘ نہ جانے یہ شخص صوفیا کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو کس سمت لے جارہا ہے۔
مسلمان بھائیوں سے التماس ہے کہ اس کے پاس جانے‘ بیٹھنے اور اس کا لٹریچر پڑھنے سے پرہیز کریں کیونکہ شیطان کو بہکاتے دیر نہیں لگتی۔
اﷲ تعالیٰ تمام مسلمانوں کی جان و مال‘ عزت و آبرو اور عقیدہ و ایمان کی حفاظت فرمائے۔ آمین