ادریسیہ فرقے کے بانی کے بارے میں شرعی فیصلہ

in Tahaffuz, May 2010, ا سلا می عقا ئد, ابو الحسنین مفتی محمد عارف محمود خان قادری رضوی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ آج کل ادریسیہ فرقے کے بانی کے انٹرنیٹ پر بیانات جاری ہورہے ہیں‘ اس کے علاوہ شہر کراچی میں ان کی طرف سے اجتماع جمعہ کے بعد مساجد کے باہر اشتہارات تقسیم کئے جاتے ہیں اور یہ شخص اپنے آپکو رسول خدا کا خلیفہ کہتا ہے‘ جبکہ یہ اکابر دیوبند کی تعریفیں بھی کرتا ہے اور انہیں برا بھلا کہنے سے منع کرتا ہے۔ اس کے باوجود ہماری بستی کے ایک مشہور عالم و قاری اس کے خلیفہ بنے ہوئے ہیں‘ اور عوام الناس کو بکثرت اس کے سلسلے کی طرف مائل کررہے ہیں اور ان کے جھانسے میں آکر لوگ اس سلسلے میں شامل ہورہے ہیں۔ بحکم شریعت اس سلسلے کے بانی کا شرعی فیصلہ بیان کیجئے اور عنداﷲ ماجور و عندالناس مشکور ہوں۔
(اہالیان بستی بکرا پیڑی‘ میوہ شاہ روڈ باب المدینہ کراچی)
باسمہ تعالیٰ و تقدس
الجواب بعون الملک المنعام الوہاب
اللھم ہدایۃ الحق والصواب
اﷲ رب العزت جل جلالہ فرماتا ہے
اہدنا الصراط المستقیم
ہم کو سیدھا راستہ چلا (ترجمہ کنزالایمان) الفاتحہ آیت 5
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے خلیفہ اجل صدر الافاضل سید مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ اس کے تحت یوں رقم طراز ہیں:
صراط مستقیم سے مراد اسلام یا قرآن یا خلقِ نبی کریمﷺ یا حضورﷺ کے آل و اصحاب ہیں‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صراط مستقیم طریق اہل سنت ہے جو اہل بیت واصحاب اور قرآن و سنت و سواد اعظم سب کو مانتے ہیں۔ صراط الذین انعمت علیہم جملہ اولیٰ کی تفسیر ہے کہ صراط مستقیم سے طریق مسلمین مراد ہے اس سے بہت سے مسائل حل ہوتے ہیں کہ جن امور پر بزرگان دین کا عمل رہا ہو‘ وہ صراط مستقیم میں داخل ہیں‘ غیر المغضوب علیہم ولاالضالین اس میں ہدایت ہے کہ طالب حق کو دشمنان خدا سے اجتناب اور ان کے راہ ورسم‘ وضع و اطوار سے پرہیز لازم ہے (خزائن العرفان)
اﷲ رب العزت جل مجدہ کے محبوب اعظم‘ مخبر صادق‘ غیب داں نبیﷺ نے غیبی پیشن گوئی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
ستفرق امتی ثلثاً وسبعین فرقۃ کلھم فی الناس الاواحدۃ فقالوا‘ من ہم یارسول اﷲ؟ فقال ما انا علیہ واصحابی
یعنی عنقریب یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی‘ ایک جنتی ہوگا‘ باقی سب دوزخی ہوں گے‘ صحابہ عرض گزار ہوئے‘ وہ جنتی گروہ کون لوگ ہوں گے‘ ارشاد فرمایا وہ میرے اور صحابہ کے طریقے پر چلنے والے ہوں گے (الجامع الترمذی‘ مطبوعہ بیروت‘ ابواب الایمان عن رسول اﷲ حدیث 2167)
ابو دائود کی روایت میں ہے
ہم الجماعۃ وہ جنتی گروہ ’’جماعت‘‘ ہے
امام الانام محمد بن محمد الغزالی علیہ الرحمہ نے ’’احیاء علوم الدین‘‘ میں اس طرح روایت کی
ہم اہل السنۃ والجماعۃ
یعنی وہ نجات یافتہ لوگ اہل سنت و جماعت ہوں گے
اکابر اولیائے امت اور علمائے ملت اسی حدیث کے تحت تصریحات کرتے رہے کہ نجات پانے والا گروہ اہل سنت و جماعت ہے
امام الاولیائ‘ غوث الثقلین رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں
لاریب ولاشک انہم ہم اہل السنۃ والجماعۃ
یقینی طور پر جنتی لوگ سنی ہیں
امام علامہ علی قادری علیہ الرحمہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں اس کا مصداق اہل سنت بتاتے ہیں۔ امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی اور امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہم الرحمہ اپنے مکتوبات و فتاویٰ جات میں اس کی صراحت کرچکے ہیں کہ اس امت کا نجات یافتہ گروہ ’’اہل سنت و جماعت‘‘ ہے‘ اس کے علاوہ سب گمراہ اور بدمذہب و بے دین ہیں۔
اہالیان بکرا پیڑی نے جس ادریسیہ سلسلے کے بانی کا سوال میں ذکر کیا ہے۔ اس کے انٹرنیٹ پر موجود بیانات کو میں نے خود ذاتی طور پر سماعت کیا ہے۔ گمراہ عقائد رکھتا ہے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔
1۔    اﷲ رب العزت جل جلالہ کے بارے میں واشگاف لفظوں میں بکتا ہے کہ اس نے سزائوں کا بیان ہمیں دھمکانے کے لئے دیا ہے‘ وگرنہ وہ سزا دے گا‘ ہرگز نہیں‘  صرف ڈراتا ہے ‘ وہ خیالی باتیں ہیں۔
2۔    اﷲ تعالیٰ کے نبیﷺ کے بارے میں یہاں تک بک دیتا ہے‘ کہ وہ کافروں کے جنازے بھی پڑھا دیتے تھے اور ان کے لئے دعائے مغفرت کردیتے تھے۔
3۔    اکابر دیوبند اچھے لوگ تھے‘ ان سے غلطیاں ہوئی ہیں‘ مگر آقا جی نے انہیں معاف کردیا اور اﷲ تعالیٰ نے ان کی محنت کو قبول کرلیا (حالانکہ اس پر اس شیخ امین کے پاس کوئی دلیل شرعی نہیں بلکہ اکابر دیوبند کے کفریات پر عرب و عجم کے علماء کے فتاویٰ موجود ہیں‘ القادری)
4۔    اس شخص نے اشرف علی تھانوی جس کا کفر اتفاقی یقینی ہے اس کے باوجود اس کو سراہا اور شبیر احمد عثمانی اور محمود الحسن دیوبندی کے لئے رحمت کی دعا کی اور ان دونوں کے ترجمہ و تفسیر کو اپنے سلسلے کی معتبر کتاب قرار دیا اور کہا کہ اسے گھروں میں رکھو بڑی برکت ہوگی۔
5۔ آقا جیﷺ اس کاتقیہ کلام ہے‘ جبکہ فتاویٰ مصطفویہ کے مطابق یہ ہندوئوں کا شعار ہے کہ وہ اپنے گروئوں کو جی بمعنی سردار کہہ کر پکارتے ہیں مثلا گاندھی جی وغیرہ
الحاصل اﷲ تعالیٰ پر محض خیالی سزائیں سنا کر دھمکی دینے کا بہتان لگا کر اور نبی کریمﷺ پر کافروں کے لئے دعائے بخشش کرنے کا بہتان گھڑ کر اور اکابردیوبند میں سے جو متفقہ طور پر باتفاق علمائے حقہ مرتد ہوچکے ہیں‘ ان کو اچھا مسلمان جاننے کی وجہ سے شیخ امین ہائو ہائو نامی شخص جو نام نہاد سلسلے کا بانی ہے یہ بحکم شریعت اسلامیہ کافر و مرتد اور واجب القتل ہے۔ جبکہ اگر یہ توبہ کرلے تو اس کے لئے تجدید ایمان کے ساتھ ساتھ تجدید نکاح شادی شدہ ہونے کی صورت میں اور مرید ہونے کی صورت میں تجدید بیعت لازم ہوگی۔ مگر گستاخ رسول سچی توبہ کرکے عنداﷲ مسلمان بھی ہوجائے تو عدالت دنیویہ میں اس کی شرعی سزا قتل ہی ہے اس سے چھٹکارا نہ ہوگا۔ (کمافی الکتب المشہورۃ الحنفیہ والمالکیہ)
لہذا اہالیان بکرا پیڑی اس شرعی فتوے کو اس مشہور عالم و قاری کو بھی دکھائیں۔ اگر وہ توبہ کرکے اس شخص مذکور شیخ امین کی وکالت چھوڑ دے اور صدق دل سے اہل سنت کا نظریہ اپنالے تو فبہا وگرنہ اس کا بائیکاٹ بھی شرعی طور پر لازمی ہے۔ اس کے علاوہ اس نام نہاد سلسلے کا کوئی بھی فرد جو اس شرعی فتوے کے باوجود بھی اس بدبخت شیخ امین کو اچھا جانے یا کم از کم مسلمان جانے اس سے بھی بائیکاٹ لازمی ہے۔ اس کے ماننے والے لوگوں سے رشتہ داری قائم کرنا ممنوع ہے۔ اس کے سلسلے کے اشتہار بانٹنے والوں کو حوالہ پولیس کیا جائے اور ممکن ہو تو اہل سنت کے علماء اور واعظین اپنے خطابات میں امت مسلمہ کو اس گمراہ گرپیر کے فتنے سے آگاہ کریں تاکہ عوام الناس اس کے شر سے بچیں۔
واﷲ اعلم و رسولہ الاکرم جل جلالہ وصلی اﷲ علیہ وسلم