ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کا انٹرویو

in Tahaffuz, May 2010, انٹرویوز, محمد نواز کھرل

سوال: آپ کا مختصر تعارف‘ تعلیمی مراحل کی تفصیل اور اساتذہ کے نام؟
جواب: میری ولادت 12 اپریل 1968ء کو بھکھی شریف منڈی بہائو الدین کے محلہ عقلانہ میں ہوئی۔ میرا تعلق گوندل فیملی کے ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ میرے والد گرامی صوفی غلام سرور شعبہ تعلیم سے منسلک رہے ہیں۔ بھکھی شریف اور گردونواح میں لوگ آپ کے بڑے ممنون ہیں۔ آپ اگرچہ اسکول کے استاذ رہے لیکن آپ نے دنیاوی تعلیم میں دینی رنگ غالب رکھا اور طلباء کی تعلیم کے ساتھ ان کی تعمیر سیرت پر خصوصی توجہ دی۔ آپ نے زہد وتقویٰ اور ورع وپرہیزگاری کا فیض اپنے عہد کے عظیم مرد حق حافظ الحدیث حضرت پیر سید محمد جلال الدین شاہ نقشبندی قادری کی صحبت سے حاصل کیا۔ میری ولادت کے بعد حضرت حافظ الحدیث رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ ہی نے میرا نام تجویز فرمایا اور دعوت عقیقہ میں تشریف فرما ہوئے۔آپ ہی کی نسبت سے مجھے جلالی کہا جاتا ہے۔ میں نے ناظرہ قرآن مجید مولانا محمد عبدالباری بنگالی رحمتہ اﷲ علیہ سے پڑھا۔ پرائمری موضع عینوال‘ مڈل بھکھی شریف اور میٹرک ہائی اسکول چک نمبر 40 سے سائنس مضامین کے ساتھ کیا۔ اس دوران والد گرامی سے خصوصی شرف تلمذ حاصل کیا۔ 1983ء میں میٹرک سے فارغ ہونے کے بعد برصغیر کی عظیم اور قدیم درس گاہ جامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف (قائم شدہ 1940ئ) میں حضرت حافظ الحدیث رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کے فرمان پر قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا اور اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضرت قاری نذر حسین جلالی کے پاس سات ماہ میں قرآن مجید مکمل حفظ کرلیا۔ 1984ء میں درس نظامی پڑھنا شروع کیا۔ ایک سال میں درس نظامی کا تین سالہ نصاب پڑھا۔ اس طرح بندہ ناچیز نے 1993ء تک جامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف میں قدیم درس نظامی کا گیارہ سالہ کورس مکمل کیا۔ اس دوران بندہ نے جہاں تنظیم المدارس کے چاروں امتحانات ثانویہ عامہ‘ ثانویہ خاصہ‘ شہادۃ عالیہا ور شہادۃ عالمیہ پاس کئے وہاں ایف اے‘ بی اے اور ایم اے کے بھی باقاعدہ امتحانات دیئے‘ اور کامیابی حاصل کی۔ امتحانات میں بارہا قدرت نے مجھے اعزازات سے نوازا۔ بالخصوص 1993ء میں دورہ حدیث کے امتحان میں ملک بھر میں میری پہلی پوزیشن تھی۔ 1993ء ہی میں قائد اہلسنت حضرت مولانا شاہ احمد نورانی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ اور حضرت پیر سید محمد محفوظ مشہدی کی کاوشوں سے سرزمین علم و حکمت بغداد شریف میں میرا داخلہ ہوا اور صدام یونیورسٹی اور مستنصریہ یونیورسٹی سے جدید عربی میں ڈپلومہ کیا۔ وہاں پر دیگر شیوخ کے علاوہ حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کی درسگاہ مدرسہ قادریہ میں حضرت شیخ محمد عبدالکریم المدرس رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ سے پڑھا اور شیخ کی طرف سے اجازت تدریس علوم (فاضل بغداد) کے اعزاز سے نوازا گیا۔ بغداد شریف سے واپسی پر 1995ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پنجاب کی عظیم علمی و روحانی شخصیت حضرت شاہ عنایت قادری رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کے فقہی لٹریچر پر عربی میں مقالہ لکھنا شروع کیا۔ سالہا سال کی تحقیق کے بعد محترم ڈاکٹر ظہور احمد اظہر کی نگرانی میں یہ مقالہ مکمل ہوا اور 28 دسمبر 2002ء میں مجھے پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی۔ یہ مختصر سے تعلیمی احوال ہیں۔ اب بھی طالب علم جاری ہے مگر کیا وجہ ہے لوگ اب طالب علم نہیں کہتے۔ جہاں تک اساتذہ کا تعلق ہے تو کچھ اساتذہ کا تذکرہ ضمنا ہوگا۔ درس نظامی جسے میں اپنے علمی وجود کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتا ہوں۔ جن اساتذہ سے پڑھا ان کی تفصیل یہ ہے۔ حضرت علامہ امام عطا محمد بندیالوی رحمتہ اﷲ علیہ‘ حضرت مولانا محمد نواز فاضل بریلی شریف رحمتہ اﷲ علیہ‘ حضرت مولانا محمد اقبال افغانی‘ حضرت پیر سید محمد مظہر شاہ مشہدی‘ حضرت پیر سید محمد عرفان شاہ مشہدی‘ حضرت مولانا ظہور احمد جلالی‘ حضرت مولانا حافظ کریم بخش‘ حضرت مولانا حافظ نذیر احمد
سوال: بہت ساری دینی تنظیموں کی موجودگی میں ادارہ صراط مستقیم کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس کی؟
جواب: یقینا بہت سی تنظیمیں ہیں اور کام بھی کررہی ہیں۔ ہم ان کے کام کی قدر بھی کرتے ہیں۔ یہ سب آگ میں جلتے ماحول کی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ سوال یہ ہے کیا آگ بجھ گئی ہے۔ اگر نہیں بجھی تو ہم نے بھی ڈول پکڑ لیا ہے اور بدعقیدگی و بدعملی‘ میں شعلہ زن معاشرے پر پانی کا چھڑکائو شروع کردیا ہے۔ ڈول بھرنے اور ڈالنے کا ہر ایک کا اپنا اندازہ ہوسکتا ہے‘ ہوسکتا ہے ادارہ صراط مستقیم کے انداز کے مزید اچھے نتائج برآمد ہوں۔
سوال: ادارہ صراط مستقیم کے اب تک کے سفر کی کہانی سے آگاہ فرمائیں؟
جواب: ربیع الثانی 1428ھ / 11مئی 2007ء جمعتہ المبارک کے دن گوجرانوالہ میں صراط مستقیم کنونشن کے انعقاد سے ادارہ کی بنیاد رکھی گئی۔ بعد ازاں 18 جون کو لاہور 30 اگست کو گجرات ‘ 9 نومبر کو ڈسکہ اور چند دیگر مقامات پر صراط مستقیم کنونشنز کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے بعد فہم دین کورسز‘ صراط مستقیم کورسز‘ فکر آخرت کانفرنسز‘ تحفظ ناموس رسالت کانفرنسز کے ذریعے ہزاروں لوگوں تک دین ‘ ہدایت اور خیر کا پیغام پہنچایا گیا۔ حالات کی روشنی میں بہہ جانے کے مرض کو روکنے اور علم و تحقیق سے دلوں کی زمین کی سیرابی کے لئے سیمینار منعقد ہوئے جس کی ایک کڑی 8 مارچ 2008ء کو حضرت داتا گنج بخش ہجویری  رحمتہ اﷲ علیہ کی دہلیز پر منعقد کیا جانے والا تاریخ ساز ’’غائبانہ نماز جنازہ سیمینار‘‘ تھا۔ دروس صراط مستقیم ادارہ صراط مستقیم کا ایک خصوصی سرکل ہے۔ صرف لاہور ہی میں پانچ مقامات پر باقاعدہ سے اور بڑے بھرپور انداز سے ماہانہ درس صراط مستقیم دیا جارہا ہے۔ دیگر بہت سے شہروں تک بھی اس پروگرام کو بڑھا دیا گیا ہے۔الحمدﷲ اس وقت میرے تیس ہزار سے زائد آڈیو بیانات اور سینکڑوں ویڈیو سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز مارکیٹ میں موجود ہیں۔ تبلیغ دین کے لئے لٹریچر کی تیاری اور اشاعت کے میدان میں ہمارے ذیلی ادارے ’’صراط مستقیم پبلی کیشنز‘‘ دربار مارکیٹ لاہور نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ تحفظ ناموس رسالت کے سلسلہ میں کانفرنسز اور جلوسوں کے علاوہ فلیکس بورڈز چھوٹے بڑے تمام شہروں میں نصب کئے گئے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس مہم پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کی سعادت ادارہ کے حصہ میں آئی۔ ادارہ رجال کار بھی تیار کررہا ہے‘ جیسے ادارہ کے تحت جامعہ جلالیہ سے علماء کی کھیپ بھی تیار ہورہی ہے اور عوام کی اصلاح کے لئے بھی مختلف محاذوں پر کام ہورہا ہے۔
سوال: ادارہ صراط مستقیم کی شاخیں کہاں کہاں قائم ہوچکی ہیں اور ملک بھر میں کتنے افراد ادارہ کے ساتھ وابستہ ہوچکے ہیں؟
جواب: اب تک لاہور‘ گوجرانوالہ‘ فیصل آباد‘ شیخوپورہ‘ قصور‘ منڈی بہائو الدین‘ سیالکوٹ‘ گجرات‘ جہلم‘ گوجر خان‘ اسلام آباد‘ میانوالی‘ ننکانہ‘ جھنگ‘ دارالسلام ٹوبہ‘ بھکر‘ ہری پور ہزارہ‘ ایبٹ آباد‘ مانسہرہ‘ حافظ آباد‘ سرگودھا‘ چکوال‘ تلہ گنگ‘ اوور ملتان وغیرہ سے ہزاروں لوگ ادارہ سے وابستہ ہوچکے ہیں۔
سوال: بے شمار دینی تنظیموں ‘ اسلامی تحریکوں اور اداروں کے باوجود عہد حاضر کا نوجوان اسلام سے دور کیوں ہوتا جارہا ہے؟
جواب: اتنی دینی تحریکوں کے ہوتے ہوئے بھی مسلم نوجوانوں کی دوسرے طرف جانے کے چند اسباب یہ ہیں۔
1۔ دینی تنظیموں کے مقابلے میں جو الحادی اور باطل تنظیمیں ہیں ان کی خاصی تعداد ہیں وہ منظم بھی ہیں اور ان کے پاس وسائل بھی زیادہ ہیں۔
2۔ اسلامی تعلیمات اور پابندیوں کے برعکس نوجوان کو جب دوسری طرف آسانی نظر آتی ہے‘ تو اس کے لئے خواہ مخواہ شیطانی خیالات ایک جھکائو پیدا کردیتے ہیں۔
3۔ کچھ ذمہ داری دینی تنظیمات اور تحریکات پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی دعوت اور ابلاغ کو خامیوں سے پاک کرکے زیادہ موثر بنائیں۔
سوال: آپ کا ادارہ غیر سیاسی ہے۔ کیا سیاست سے دور رہ کر ملک میں اسلامی انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے؟
جواب: ایک سیاست کا وہ مفہوم ہے جو موجودہ حالات کی ڈکشنری میں ہے اس لحاظ سے ہمارا ادارہ یقینا غیر سیاسی ہے لیکن ایک لفظ سیاست کا وہ معنی ہے جو شریعت میں ہے جیسا کہ رسول اﷲﷺ کا فرمان بخاری شریف میں ہے۔ کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیائ۔ بنی اسرائیل کی سیاست ان کے پیغمبر علیہم السلام کرتے تھے۔ یہ سیاست امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے عبارت ہے۔ یہ سیاست تقدس‘ تقویٰ اور طہارت کا مظہر ہے۔ یہ سیاست انسان کی تہذیب‘ تربیت اور ہمدردی پر مشتملہے۔ یہ سیاست حقدار تک حق پہنچانے اور اسے حق دلانے کا نام ہے۔ اس سیاست سے ہم دست بردار نہیں ہیں۔ یہی سیاست اگر موثر طریقے سے معاشرے میں لانچ کی جائے تو اسلامی انقلاب آسکتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ جس ایمانی سیاست نے دوسروں کے حقوق پر پہرہ دینا تھا ہم اس لفظ کو اس کا اپنا حق نہیں دلا سکے کہ اسے اس کے صحیح مفہوم میں استعمال کیا جائے نہ کہ اسے کرپشن‘ ظلم اور ناانصافی کے مترادف استعمال ہوتے دیکھ کر اس کی مدد کرنے کی بجائے اس سے اپنی شناسائی کا ہی انکار کردیا جائے۔
سوال: اس وقت زوال امت کے اسباب کیا ہیں اور امت مسلمہ کی عظمت رفتہ پھر سے کیسے بحال ہوسکتی ہے؟
جواب: آپ کے اس سوال کے جواب میں یہی کہوں گا
رشتہ وفا کا نام محمدﷺ سے توڑ کر
یہ قوم آگئی ہے تباہی کے موڑ پر
جہاںتک عظمت رفتہ کے بحال کرنے کا معاملہ ہے‘ اقبال کہتے ہیں
کسی یکجائی سے اب عہد غلامی کرلیں
امت احمد مرسلﷺ کو مقامی کرلیں
سوال: وزیراعظم نے سزائے موت کو عمرقید میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے آپ اس حکومتی اعلان پر کیافرمائیں گے۔ شرعی نقطہ نظر کیا ہے؟
جواب: قاتل کے لئے جس کا جرم گواہوں یا اقرار سے ثابت ہوجائے کہ اس نے قتل عمدا کیا ہے۔ شریعت مطہرہ نے قتل کی سزا رکھی ہے۔ یہ حدود اﷲ میں سے ایک شرعی حد ہے۔ جس کو تبدیل کرنے کا کسی کو بھی اختیار نہیں۔ حکومت کو اس اعلان سے فورا رجوع کرنا چاہئے۔
سوال: خودکش حملوں کے حوالے سے آپ کی رائے کیا ہے؟
جواب: خودکشی اسلام میں حرام ہے۔ اسلام مخالف قوتوں کے خلاف جہاد ضروری ہے لیکن جس شریعت اور نظام مصطفیﷺ کے نفاذ کے لئے جہاد ہے پہلے اس کے احکام کو سامنے رکھنا لازم ہے۔ فدائی حملے کی جو تعریف صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کی سیرت سے سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ کفار کو نقصان پہنچانے کے لئے اپنی جان کی پرواہ نہ کرنا۔ یہاں تک کہ اپنے بچ جانے کے امکانات بالکل محدود کردینا۔ جیسا کہ البدایہ والنہایہ میں ہے کہ جنگ یمامہ کے موقع پر مسیلمہکذاب کے خلاف جہاد کرتے ہوئے حضرت ثابت بن قیس رضی اﷲ عنہ نے اور حضرت سالم مولی ابی حذیفہ نے گڑھا کھود کو اپنے آپ کو زمین میں گاڑ لیا تاکہ دشمنوں کے حملہ کی شدت سے کہیں قدم راہ وفا سے پیچھے نہ ہٹ جائیں۔ وہیں تیر اندازی کرتے کرتے دونوں شہید ہوگئے اسی جنگ میں جب مسیلمہ کذاب اور اس کے حواری قلعہ بند ہوگئے تو حضرت براء بن مالک نے کہا مجھے ڈھال میں بٹھا کر نیزوں سے ڈال بلند کرکے قلعہ کے اندر پھینک دو۔ میں دروازہ کھولوں گا۔ چنانچہ ایسے ہی کیا گیا اور وہ دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا۔ یوں تنہا ہزاروں دشمنوں میں کود جانا یہ ہے فدائی حملہ‘ کافر افواج کے خلاف جب اور کوئی بس نہ چلے پھر بھی خودکش حملوں کی صورت مختلف ہے مگر مسلم آبادیوں میں اور مسلمانوں کے خلاف ان کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
سوال: صوبہ سرحد کے بعض علاقوں میں طالبان گرلز اسکولز‘ انٹرنیٹ کلب‘ حجاموں کی دکانیں اور این جی اوز کے دفاتر نذر آتش کررہے ہیں؟ اس طرز عمل پر آپ کی رائے؟ آپ کا تبصرہ کیا ہے؟
جواب: جہاں شر ہو‘ اسے ضرور روکنا چاہئے مگر اس کا انداز صحابہ اور سلف صالحین کے طریقہ کے مطابق ہونا چاہئے۔
سوال: دنیا بھر میں دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے منسوب کردیا گیا ہے؟ اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟ امن کیسے ممکن ہے؟ خودکش حملے کیسے رک سکتے ہیں؟
جواب: مسلمان ہرگز دہشت گرد نہیں ہوتا بلکہ مسلمان مجاہد ہوتا ہے۔ دہشت گردی کی بنیاد امریکہ نے رکھی ہے۔ وہی اس کا ذمہ دار بھی ہے۔ امریکہ خونخوار بھیڑیئے کی طرح مسلم امہ کا جو خون بہا رہا ہے‘ وہ باز آجائے تو حالات معمول پر آنے کی امید ہے۔
سوال: آپ کا دارالعلوم کس جامعہ کا تسلسل ہے‘ اس میں کتنے طلبہ زیر تعلیم ہیں؟ کون سے علوم پڑھائے جاتے ہیں اب تک کتنے طلبہ فارغ ہوچکے ہیں؟
جواب: ہمارا دارالعلوم جامعہ جلالیہ رضویہ مظہر الاسلام لاہور دراصل جامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف کی علمی اور روحانی تحریک کا تسلسل ہے‘ یہاں قرآن و حدیث‘ فقہ سمیت 16 علوم و فنون پڑھائے جاتے ہیں‘ چاروںصوبوں اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلباء جامعہ کے دستر خوان دانش کے مہمان بن چکے ہیں۔ پہلے بیج میں چالیس علماء کرام فارغ ہوئے۔ اب 48 علماء کرام فارغ التحصیل ہورہے ہیں۔
سوال: آپ کی تصنیفات کون کون سی ہیں؟
جواب: تین جلدوں میں عربی میں میرا پی ایچ ڈی کا تھیسز ہے۔ کتاب فہم دین چار جلدوں میں چھپ چکی ہے اور تقریبا چار جلدیں ابھی طباعت کے مراحل میں ہیں ’’مفہوم قرآن بدلنے کی واردات‘‘ کی پہلی جلد طبع ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ پچاس کے قریب کتابیں مختلف دینی‘ ملی‘ فقہی اور معاشرتی موضوعات پر طبع ہوچکی ہیں۔
سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ دینی مدارس میں پڑھایا جانے والا نصاب عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے؟ اس سلسلہ میں آپ کی رائے کیا ہے؟
جواب: عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا یقینا ضروری ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ بخاری شریف میں متعدد ایسے ابواب ہیں عالم‘ مفتی اور قاضی کے لئے اپنے عرف کو پہچاننا لازم ہے۔ شرح عنقو درسم مفتی میں بھی اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ عرف کو پہنچانے کے لئے بہت کچھ جاننا لازم ہوتا ہے۔ یہ سب عصریات اسی کا حصہ ہیں لیکن اس کا مطلب عمومی طور پر غلط لیا جاتا ہے۔ عصری علوم کی ضرورت اس لئے ہے کہ حالات کا صحیح ادراک کرکے شریعت کی روشنی میں عوام کی رہنمائی کی جائے۔ اگر حالات کا ادراک کرنے کی صلاحیت ہو مگر جس شریعت کی روشنی میں نئے مسائل کوحل کرنا ہے اس شریعت ہی پر عبور نہ ہو تو حالات کے اس ادراک کا فائدہ کیا ہوگا؟ ہمارے ہاں جدت پسندی کا نتیجہ یہی برآمد ہورہا ہے کہ علوم دینیہ جن کے جام پر جام پلائے جاتے تھے‘ اب پینے پلانے کا زمانہ ختم ہورہا ہے۔ اب علوم سونگھانے کی پالیسی اپنائی جارہی ہے۔ اگر کسی کا دینی مدارس کے نصاب کو عصری تقاضوں کے ہم آہنگ کرنے کا یہ مطلب ہے تو ہم اس کے حامی نہیں ہے اقبال کہتے ہیں۔
نئی بجلیاں کہاں ان بادلوں کے جیب و دامن میں
پرانی بجلیوں سے بھی ہے جس کی آستیں خالی
سوال: آپ کس شخصیت سے سب سے زیادہ متاثر ہیں؟
جواب: امام العصر حافظ الحدیث حضرت پیر سید محمد جلال الدین شاہ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ اور قائد اہلسنت حضرت مولانا شاہ احمد نورانی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ سے متاثر ہوں
سوال: ادارہ صراط مستقیم کے آئندہ کے عزائم کیا ہیں؟
جواب: اس وقت ادارہ اپنی ویب سائٹ www.siratemustaqeem.net کے ذریعے سے پوری دنیا میں پیغام حق پہنچا رہا ہے ہمارا خطبہ جمعتہ المبارک بہت سے ممالک میں سنا جاتاہے جس کے موضوعات کا اشتہار پہلے دیا جاتا ہے۔ اسے مزید موثر بنائیں گے۔ انشاء اﷲ تعالیٰ عنقریب ادارہ کا آڑگن (میگزین) بھی لانچ کریں گے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑے مرکز علوم اور قرآن و سنت کی تعلیم اور عصر حاضر کے چیلنجز کا جواب دینے کے لئے ایک وسیع پلیٹ فارم کا قیام اور عوام کے لئے تربیت گاہوں کا اہتمام نہاں خانہ دل کا ایک دیرینہ مہمان خیال ہے۔ آپ اور قارئین دعا کریں کہ اﷲ تعالیٰ اسے عملی جامہ پہنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
سوال: آپ عراق میںزیر تعلیم رہے۔ اس دور میں صدام حسین کاعراق کیسا تھا؟ صدام حسین کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا تھی؟
جواب: اس دور کے عراق اور آج کے عراق میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس وقت بھی اگرچہ خلیج کی جنگ اور اقتصادی پابندیوں کے اثرات عراق اور اہل عراق میں نظر آتے تھے مگر اس وقت کے عراق میں کبھی نہیں سنا جاتا تھا کہ کہیں کوئی بم دھماکہ ہوا ہو‘ دن رات کے ہر حصے میں ہمیں عراق کے مختلف صوبوں اور شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ رستے پرامن تھے اور نظم و ضبط مثالی تھا۔ عراق کے صحرائوں کو زیر کاشت لاکر صدام حسین نے اقتصادی پابندیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کامیاب حکمت عملی اختیار کی۔ ہر گھرانے کو کوٹہ سسٹم کے تحت اشیاء ضرورت فراہم کی جاتی تھی۔ عراقی عوام کے علاوہ غیر ملکی بھی صدام حسین سے خوش تھے۔ مصری‘ فلسطینی‘ سوڈانی‘ یمنی اور اردنی جو روزگار کی خاطر عراق میں مقیم تھے‘ وہ صدام حسین سے نہایت خوش تھے۔ صدام حسین کی مقبولیت مصنوعی نہیں‘ کافی حد تک حقیقی تھی مگر ان پر آزمائش کا وقت طویل ہوگیا جس سے مقبولیت کا گراف گرنے لگا نیز ایک مخصوص فرقہ کے لوگ اس وقت بھی دبے لفظوں میں تعصب اور عداوت کا اظہار کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے ہی امریکہ کو عراق میں ویلکم کہا
سوال: اختتام میں کیا کہنا چاہیں گے؟
جواب: اس دعا پر اختتام کرنا چاہتا ہوں
خدا کرے نہ خم ہو سر وقار وطن
اور اس کے حسن کو اندیشہ مہ و سال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو