شہر کے جنوبی حصے میں ایک گنجان گلی کے اندر اکثر مکانوں کی بتیاں بجھ چکی تھیں۔ ان میں رہنے والے سو رہے تھے مگر چند مکان ایسے بھی تھے جن کے روشن دانوں اور کھڑکیوں سے روشنی نکل رہی تھی۔ اس روشنی سے معلوم ہوتا تھا کہ ان مکانوں کے باسی ابھی کسی نہ کسی وجہ سے جاگ رہے ہیں۔ انہی میں وہ ایک چھوٹا سا مکان بھی تھا جو گلی کی ایک روکے آخر میں واقع تھا اور جس میں دروازے سے لٹکی ہوئی ایک پرانی لالٹین جل رہی تھی۔ اسی لالٹین کے نیچے ایک عورت جس کا نام ہاجرہ تھا‘ مشین سے کوئی کپڑا سی رہی تھی۔
ہاجرہ اپنے کام میں دو گھنٹے سے مصروف تھی‘ تھک کر نڈھال ہورہی تھی۔ اس کی آنکھیں نیند کی وجہ سے بار بار بند ہوجاتی تھیں‘ مگر جیسے ہی اسے اپنے شوہر افضال کا خیال آتا تھا‘ نیند اڑ جاتی تھی اور اس کا ہاتھ مشین کی ہتھی پر حرکت کرنے لگتا تھا۔
ہاجرہ نے اپنے تینوں بچوں کو جو کچھ گھر میں میسر تھا‘ کھلا کر سلا دیاتھا اور وہ گہری نیند سو رہے تھے۔ افضال عام طور پر رات کو دیر ہی سے آتاتھا‘ مگر زیادہ سے زیادہ گیارہ بجے تک پہنچ جاتا تھا‘ مگر اب تو ساڑھے بارہ بج چکے تھے اور ابھی تک دروازے پر دستک نہیں ہوئی اور ہاجرہ کی حالت یہ تھی کہ ہر پندرہ بیس منٹ بعد اس کی نظر دروازے پر جاپڑتی تھی اور ایک بار تو وہ اٹھ کر دروازے پر جا بھی پہنچی تھی کہ افضال دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔ حالانکہ یہ اس کا محض وہم تھا۔
ایک بجے دروازہ پر دستک کے بعد افضال کی آواز آئی
’’ہاجرہ! دروازہ کھولو‘‘
ہاجرہ نے جلدی سے اٹھ کر دروازہ کھول دیا۔
’’ہائے اﷲ! آج کیا ہوا ‘ اتنی دیر؟‘‘
’’بس دیر ہوگئی‘ بچے سوگئے ہیں‘‘
’’دس بجے تک تمہارا انتظار کرتے رہے‘ کھانا دوں؟‘‘
’’نہیں‘‘ افضال نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور خود بھی اپنی چارپائی پر بیٹھ گیا۔
’’سیٹھ اصغر نے بلایا تھا‘‘
ہاجرہ کے چہرہ پر تھوڑی سی رونق آگئی۔ سیٹھ اصغر مارکیٹ کا سب سے بڑا بیوپاری تھا۔ روزانہ لاکھوں کا بیوپار کرتا تھا۔ ہاجرہ نے جب یہ سنا کہ سیٹھ نے اس کے شوہر کو بلایا تھا تو وہ کسی خوشخبری کا انتظار کرنے لگی۔
افضال خاموش تھا۔
’’تو بتائونا‘‘ ہاجرہ کو اس وقت افضال کی خاموشی بالکل پسند نہیں تھی۔
’’تمہیں خبر ہے سیٹھ صاحب ہر سال کافی بڑی رقم کسی ضرورت مند کو دیتے ہیں‘‘
’’ہاں جانتی ہوں‘‘ ہاجرہ خوشخبری سننے کے لئے بے تاب تھی۔
افضال کہنے لگا ’’سیٹھ صاحب بولے کہ میں ساری زندگی گھر سے باہر نہیں نکلا۔ اب چاہتا ہوں کہ کچھ مہینے امریکہ کی سیر کروں۔ ایک سال بعد واپس آئوں گا‘‘
ہاجرہ کے چہرے کا رنگ بتا رہا تھا کہ اس کی بے قراری بڑھتی چلی جارہی ہے‘ تاہم وہ خاموش رہی۔ افضال نے بات جاری رکھی۔
’’سیٹھ صاحب مجھے خوب جانتے ہیں۔ ان سے کئی بار مل چکا ہوں۔ بولے کہ میں جانتا ہوں کہ تم امداد کے مستحق ہو۔ اس لفافے میں رقم ہے لے لو‘‘
ہاجرہ کی بانچھیں کھل گئیں۔ اس کے سارے چہرے پر تازگی آگئی۔
’’کہاں ہے لفافہ؟‘‘ ہاجرہ یہ فقرہ کہتے ہوئے اس تھیلے کو دیکھنے لگی جواس کا شوہر باہر جاتے ہوئے اپنے ہاتھ میں رکھتا تھا۔
’’بات تو سنو‘‘ افضال نے ذرا غصہ سے کہا
ہاجرہ نے برا مانا مگر خاموش رہی
افضال نے ہاجرہ سے نظریں ہٹاتے ہوئے کہا ’’میں نے پوچھا! سیٹھ صاحب آپ رقم دینے سے پہلے پوری طرح تسلی کرلیتے ہیں کہ جس شخص کی امداد کرنا چاہتے ہیں وہ سب سے زیادہ مستحق ہے؟ کیا اس مرتبہ بھی آپ نے ایسا ہی کیا ہے؟‘‘
ہاجرہ کا چہرہ کسی قدر پھیکا پڑ گیا
سیٹھ صاحب نے جواب میں کہا ’’میری نظروں میں تم مستحق ہو‘‘
’’مگر سیٹھ صاحب! سب سے زیادہ نہیں۔ آپ نے مارکیٹ میں عبدالکریم کو دیکھا ہوگا۔ ٹوٹا پھوٹا کھوکھا لگا کر پان سگریٹ بیچا کرتا ہے۔ سیٹھ صاحب! وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے۔ پانچ بچوں کا باپ ہے۔ بیوی ہمیشہ کی مریضہ ہے۔بڑی لڑکی جوان ہے‘ شادی کے لائق ہے‘‘
یہ بات سن کر سیٹھ صاحب نے کہا
’’ٹھیک ہے‘ جو مناسب سمجھو کرو‘‘
’’تو…؟‘‘ ہاجرہ نے بے قراری کی حالت میں سانس روک کر پوچھا
’’ہاجرہ! میں نے وہی کیا جو مناسب سمجھا‘ لفافہ عبدالکریم کے گھر دے آیا ہوں‘‘
ہاجرہ کو اور تو کچھ نہ سوجھا‘ غصے میں دایاں ہاتھ زور سے اپنے ماتھے پر مار لیا۔
’’میں پوچھتی ہوں! افضال تمہیں اپنے گھر کی غریبی‘ ٹوٹے پھوٹے مکان اور پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے بچوں کا خیال نہ آیا؟ گھر آئی ہوئی رحمت کو ٹھکرا دیا۔ تم سے زیادہ بے وقوف آدمی دنیا میں اور کون ہوگا؟‘‘ ہاجرہ نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو اس وقت اس کے جی میں آیا۔
افضال نے صبروتحمل سے سب کچھ سنا۔ بیوی کی کسی بات کا جواب نہ دیا۔ کہا تو صرف یہ کہا
’’ہاجرہ! میرے ضمیر نے یہی فیصلہ کیا تھا۔ عبدالکریم مجھ سے زیادہ امداد کا مستحق ہے‘‘
تیسرے روز افضال اور اس کے گھر والے ناشتہ کررہے تھے‘ کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ افضال نے اپنے بڑے لڑکے کو کہا
’’اکبر! دیکھو جاکر کون ہے؟‘‘
اکبر اٹھا اور دروازہ سے باہر نکلا‘ مگر جلدی سے واپس آگیا۔ وہ کچھ گھبرایا ہوا لگ رہا تھا
’’ابا جی!… سیٹھ صاحب‘‘
’’کیا کہا؟‘‘
’’سیٹھ جی!‘‘ اکبر نے دروازہ پر ہی کھڑے ہوکر کہا
افضال فورا اٹھ بیٹھا۔ تیزی سے چلتا ہوا دروازے پر پہنچا۔ باہر سیٹھ صاحب کھڑے تھے۔
’’سیٹھ صاحب…آپ؟‘‘ افضال کو انہیں اپنے دروازے پر دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی تھی۔
’’افضال اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔ مجھے تم سے ایک ضروری بات کہنی تھی۔ سوچا خود ہی گھر پہنچ کر کہہ دوں‘‘
افضال نے دروازے کے دونوں پٹ کھول دیئے اور کہا ’’اندر آجائیں‘‘
سیٹھ صاحب نے دروازے کے اندر قدم رکھا تو ہاجرہ اور بچے پریشان ہوگئے۔ ہاجرہ کھڑی ہوگئی۔
’’بیٹھی رہو بیٹی‘‘ سیٹھ صاحب نے کہا اور خود بھی ایک چارپائی پر بیٹھ گئے۔ افضال ان کے قریب کھڑا تھا۔
’’دیکھو افضال! مجھے ایک مدت سے ایک ایسے دیانت دار‘ نیک اور فرض شناس آدمی کی ضرورت تھی جو میرا کاروبار چلا سکے۔ اﷲ کاشکر ہے کہ وہ آدمی مجھے مل گیا ہے اور وہ تم ہو‘‘
’’جی‘‘ افضال کے منہ سے بے اختیار نکلا
’’آج سے تم میرے منیجر ہو۔ پرسوں ہم لوگ چلے جائیں گے۔ کل دفتر آئو‘ سارا معاملہ طے ہوجائے گا‘‘ یہ کہہ کر سیٹھ صاحب اٹھ گئے۔
’’بس مجھے یہی کہنا تھا‘‘ اور وہ دروازے کی طرف جانے لگے
’’سیٹھ صاحب میں کس زبان سے آپ کا شکریہ ادا کروں؟‘‘ افضال کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔
’’شکریہ کی ضرورت نہیں۔ میں کل تمہارا منتظر رہوں گا‘‘
سیٹھ صاحب دروازے سے نکل گئے۔ افضال بھی ان کے پیچھے گیا اور جب واپس آیا تو اسے یہ محسوس ہوا کہ اس کے چاروں طرف روشنی ہی روشنی پھیلی ہوئی ہے۔