حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, May 2010, د ر خشا ں ستا ر ے

’’تجھے نہیں معلوم کہ جس کمبل پر تو بیٹھا ہے اس پر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تشریف رکھتے ہیں‘ میں نے تو صرف مہمان نوازی کے خیال سے تجھے پیرومرشد کا کمبل پیش کردیا تھا مگر افسوس کہ تونے اس متبرک شے کی قدر نہیں کی… اور ادب و احترام کی ساری حدوں سے گزر گیا۔ اسی وقت یہاں سے اٹھ اور اپنا چہرہ گم کردے‘ تونے ہماری مدارات کا بہت برا صلہ دیا ہے‘‘
جیسے ہی مولانا بدرالدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کی بات ختم ہوئی‘ قلندر نے آنکھ اٹھا کر دیکھا‘ اس کے چلتے ہوئے ہاتھ یکایک رک گئے۔ پھر قلندر نے ناگہاں ایک ایسی چیخ ماری کہ خانقاہ کے درودیوار گونج اٹھے۔ قلندر کی چیخ میں بڑی ہیبت تھی‘ بڑا جلال تھا‘ پھر وہ کشکول لے کر اپنی جگہ سے اٹھا۔
خانقاہ کے خدمت گار دیکھ رہے تھے کہ قلندر کے جس ہاتھ میں کشکول تھا‘ وہ آہستہ آہستہ فضا میں بلند ہورہا تھا‘ دیکھنے والوں کا خیال تھا کہ قلندر اپنا کشکول مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کے سر پر مارنا چاہتا ہے اسی دوران حجرے کا دروازہ کھلا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ باہر تشریف لے آئے۔ قلندر کے تیور بہت بگڑے ہوئے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنا کشکول مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرے پر ماردیتا‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تیزی سے … قلندر کی طرف بڑھے اور قلندر کا اٹھا ہوا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے۔
’’مولانا بدر الدین کو میری وجہ سے معاف کردو یہ تمہیں پہچانتے نہیں تھے‘‘
جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان مبارکہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے تو تمام مرید اور خدمت گار سکتے میں آگئے۔ اب انہیں اندازہ ہوا کہ وہ قلندر کس مرتبے کا مالک ہے؟ ورنہ ’’انبان‘‘ گھاس کے پیستے وقت حاضرین خانقاہ نے سمجھ لیا تھا کہ وہ بھی قلندری کے لباس میں نشہ کرنے والا کوئی ملنگ ہے۔
’’فرید! میں تمہاری بات نہیں ٹال سکتا‘‘ قلندر کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ ’’میں تمہارا بہت احترام کرتا ہوں مگر تمہیں یہ راز بھی معلوم ہے کہ پہلے تو فقیر ہاتھ اٹھاتے ہی نہیں مگر جب اٹھا لیتے ہیں تو پھر اسے نیچا نہیں کرتے۔ بہتر ہے کہ اب اس ہاتھ کو بلند ہی رہنے دو‘‘
’’میں جانتا ہوں… خوب جانتا ہوں‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’تم اپنا ہاتھ اونچا ہی رکھو اور اس کشکول کو دیوار پر ماردو‘‘
قلندر ایک درویش کی بات کا مفہوم سمجھ گیا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ پھر جیسے ہی قلندر کا ہاتھ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی گرفت سے آزاد ہوا‘ اس نے پوری طاقت سے اپنا کشکول دیوار پر مار دیا۔
اس وقت خانقاہ میں موجود تمام لوگوں کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب کشکول کی معمولی ضرب سے ایک پختہ اور مضبوط دیوار آن کی آن میں زمیں بوس ہوگئی۔
دیوار کے گرتے ہی قلندر نے سر جھکالیا‘ کچھ دیر تک سکوت کے عالم میں کھڑا رہا۔ پھر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے کہتا ہوا چلا گیا ’’اچھا! اب ہم جاتے ہیں اﷲ تمہارا بھلا کرے‘‘
جب قلندر خانقاہ سے نکل کر چلا گیا تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مولانا بدر الدین رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’سب لوگوں کو ایک نظر سے نہیں دیکھتے‘ کبھی کبھی عام انسانوں کے لباس میں خاص ہستیاں بھی ہوتی ہیں‘‘
’’میں نے تو اس گھاس کی وجہ سے قلندر کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا کہ وہ آپ کے متبرک کمبل پر بیٹھ کر نشہ کرنا چاہتا تھا‘‘ مولانا بدر الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے عرض کیا۔
’’نہیں! یہ وہ گھاس نہیں تھی جسے ملنگ استعمال کرتے ہیں۔ وہ صاحب حال انسان تھا اور شاید ہماری آزمائش کے لئے آیا تھا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’آئندہ احتیاط رکھنا کہ پھر کبھی تمہاری نظر دھوکا نہ کھا جائے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تقریبا بارہ سال تک ہانسی میں مقیم رہے۔ یہیں بی بی نجیب النساء سے آپ کی سات اولادیں ہوئیں۔ چھ بچے صغیر سنی میں انتقال کرگئے۔ صرف ایک صاحب زادی شرف النساء زندہ رہیں‘ جنہیں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے حقیقی بھانجے اور مشہور بزرگ حضرت علائو الدین صابر کلیری رحمتہ اﷲ علیہ کی بیوی ہونے کا شرف حاصل ہے۔
ربیع الاول کا مہینہ تھا حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دہلی میں چار روزہ قیام کیا۔ پھر محفل سماع میں شرکت کے بعد ہانسی جانے کی اجازت طلب کی۔
حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے بڑی محبت سے آپ کو گلے لگایا۔ پھر نہایت پرسوز لہجے میں فرمایا ’’مولانا فرید دنیا اور آخرت میں تم ہی میرے رفیق ہو… اور میرا مقام درحقیقت تمہارا ہی مقام ہے‘‘
اس عنایت خاص پر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ پھر جب آپ ہانسی کی طرف روانہ ہوئے تو دل و دماغ پر ایک عجیب سا بوجھ تھا۔
آخر اسی اضطراب میں کئی روز گزر گئے پھر ایک روز آپ کو پیرومرشد کے وہ الفاظ یاد آئے جو حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ نے دہلی سے رخصت کرتے وقت ادا فرمائے تھے ’’مولانا! میں تمہاری امانت قاضی حمید الدین ناگوری کو دے دوں گا‘‘
اسی رات حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ پیرومرشد یاد فرما رہے ہیں۔ وہ رات کا پچھلا پہر تھا۔ آپ کی آنکھ کھلی تو بے چین ہوگئے۔ بی بی نجیب النساء سے فرمایا کہ سفر کا سامان تیار کریں۔
’’آپ کہاں تشریف لے جانا چاہتے ہیں؟‘‘ بی بی نجیب النساء نے عرض کیا۔ جب آپ نے دہلی جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو زوجہ محترمہ بے اختیار بول اٹھیں ’’ابھی تو دہلی سے آئے ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا ہے‘‘
’’پیرومرشد کا یہی حکم ہے۔‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
’’کم سے کم صبح ہونے کا تو انتظار کرلیجئے‘‘ بی بی نجیب النساء نے آپ کی عجلت پر حیران ہوتے ہوئے کہا۔
’’میرے لئے ایک ایک لمحہ گراں ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بہت زیادہ مضطرب نظر آرہے تھے ’’جب تک پیرمرشد کی خدمت میں حاضر نہ ہوجائوں اس وقت تک مجھے قرار نہیں آئے گا‘‘
پھر رات کے اندھیرے ہی میں آپ دہلی کی طرف روانہ ہوگئے۔
چوتھے دن دہلی پہنچے تو دنیا ہی بدلی ہوئی تھی۔ پورا شہر ایک ماتم کدہ نظر آرہا تھا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔
آفتاب زیر خاک سورہا تھا۔ پیرومرشد کی قبر پر نظر پڑی تو ایسے وارفتہ ہوئے کہ ہوش و حواس جاتے رہے جس شخص کا شمار صابرین میں ہوتا تھا‘ فراق کی اس منزل سے گزرا‘ تو صبروقرار کھو بیٹھا‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بچوں کی طرح حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے مرقد سے لپٹ کر رونے لگے۔
٭…٭…٭
دوسرے روز حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو وہ جامہ (خرقہ) پیش کیا جسے حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ پہنا کرتے تھے اور جو پیران چشت کی امانت تھی۔ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ نے اسی جامے کو برسوں اپنے جسم کی خوشبو سے مہکایا تھا… اور پھر جب قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے اسی جامے کو زیب تن کرکے خاندان چشتیہ کی روایات کو فروغ بخشا تھا… اور آج یہی خرقہ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ ‘ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے حکم سے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو پیش کررہے تھے‘ جب حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے خرقہ آگے بڑھایا تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔
’’مولانا! یہ خواجگان چشت کی امانت ہے۔ اس کا بارگراں آپ ہی اٹھا سکتے ہیں‘ اسے قبول فرمالیجئے‘‘ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابافرید رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’شیخ! میں اسے کیسے قبول کروں؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ پر ایک بار پھر گریہ طاری ہوگیا۔ ’’کل تک اس پاک لباس کو میرے پیرومرشد زیب تن فرماتے تھے‘ آج یہ غلام اس خرقہ عظیم کو پہنے گا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ میں اس قابل کہاں ہوں‘‘
’’نہیں مولانا! آپ ہی اس خرقے کے حقدار ہیں‘‘ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔ ’’حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ بہتر جانتے تھے کہ یہ خرقہ کس جسم کے لئے بنایا گیا ہے؟ شیخ نے رخصت ہونے سے پہلے اہل مجلس کے سامنے فرمایا تھا کہ جب مولانا فرید آئیں تو خواجگان چشت کے تبرکات ان کے حوالے کردیئے جائیں کہ میرے بعد وہی پیران چشت کی امانتوں کے امین ہیں‘‘
خرقے کے ساتھ ہی حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کا عصا اور چوبی نعلین (کھڑائوں) بھی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو پیش کئے تھے۔
خواجگان چشت کے تبرکات حاصل کرنے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دو رکعت نماز ادا کی اور پھر اس مسند خلافت پر بیٹھے جہاں حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ تشریف فرما ہوتے تھے۔
دیکھنے والوں نے دیکھا کہ سجادے پر بیٹھتے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا جسم لرزنے لگا تھا اور آنکھیں ایک بار پھر اشک برسانے لگی تھیں‘ اسی کیفیت میں بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اہل مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’برادران عزیز! جب میں آخری بار پیرومرشد سے مل کر ہانسی جارہا تھا تو شیخ نے مجھ سے فرمایا تھا
’’فرید! میرا مقام درحقیقت تمہارا ہی مقام ہے‘‘
’’لوگو! غور سے سنو! یہ سیدی کا ظرف تھا کہ میرے اور اپنے مقام کو یکساں قرار دیا تھا … ورنہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں فرید الدین مسعود ہوں‘ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ کا ادنیٰ غلام تم سب میرے لئے دعا کرو کہ میں اس آزمائش میں پورا اتروں اور پیرومرشد کی تابندہ روایات کو گمنام نہ ہونے دوں‘‘
حضرت بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ  کا لہجہ اس قدر پرسوز تھا کہ اہل مجلس بھی بے اختیار رونے لگے پھر تمام حاضرین خانقاہ نے بیک زبان کہا۔
’’آپ پیرومرشد کی روشن نشانی ہیں۔ اس لئے اب آپ ہی ہمارے شیخ ہیں اور آپ ہی ہمارے رہنما ہیں‘‘
٭…٭…٭
روایات میں ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے تین دن حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے دولت کدے پر گزارے اور سات دن تک مسند خلافت پر جلوہ افروز رہے پھر اچانک ایک ایساواقعہ پیش آیا کہ آپ دوبارہ ہانسی تشریف لے گئے۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں