امام احمد رضا اتحاد بین المسلمین کے داعی

in Tahaffuz, May 2010, د ر خشا ں ستا ر ے, محمد اسماعیل بدایونی

دوسرا سیشن
وکیل استغاثہ: جناب والا! کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان کے لئے کافر کہنے کا کوئی حق حاصل نہیں‘ لیکن مولانا احمد رضا نے نہ صرف اپنے مسلک کے سوا ہر مسلک کو کافر اور خصوصا مسلک دیوبند اور وہابیت کے اکابرین پر کفر کے فتوئوں کے گولے داغے۔ اگر مولانا دوسروں کو برداشت کرلیتے تو آج ملت اسلامیہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوتی اور فرقہ واریت کا عفریت یوں دنگل نہ مچاتا۔
وکیل صفائی: جناب والا! وکیل استغاثہ کے اس استغاثہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وکیل استغاثہ مولانا احمد رضا پر صرف الزام ہی نہیں لگارہے بلکہ فرد جرم بھی عائد کررہے ہیں۔ آج کی اس عدالت میں‘ میں چند ایک تاریخی واقعات پیش کروں گا۔
محترم جج صاحب! مٹی‘ سیمنٹ‘ بجری‘ وغیرہ کا ملاپ عمارت کی تشکیل دیتا ہے لیکن یہ عمارت‘ یہ مٹی نہ تو معتبر ہوتی ہے اور نہ مقدس لیکن اگر یہی عمارت مسجد کی شکل اختیار کرلے تو انتہائی مقدس ہوجاتی ہے‘ خانہ خدا قرار پاتی ہے۔ انسان ادب و احترام کے تمام قوانین بجا لاتا ہے اور توحید کے ڈنکے بجانے لگتا ہے۔
لیکن جناب والا! تاریخ کے صفحات کو الٹ دیجئے‘ آپ دیکھیں گے اﷲ کا نام لے کر بنائی جانے والی مسجد کو‘ توحید کے (نام نہاد) ڈنکے بجانے والی عمارت کو ڈھایا گیا۔ واقعہ ہے عہد نبوی کا اور اس عمارت کا نام ہے مسجد ضرار مگر اس عمارت کو ڈھایا گیا۔
ایک انجان آدمی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ کیا اس عمارت میں لات وہبل کی مورتیاں رکھی ہوئی تھیں؟
کیا اس مسجد ضرار میں خدا کے بجائے بتوں کی عبادت ہوتی تھی؟
کیا یہاں پر نماز کے بجائے لات وہبل کی پوجا ہورہی تھی؟
تو تاریخ جواب دیتی ہے ‘ نہیں ‘ ایسا نہیں تھا۔
تو پھر اس مسجد کو ڈھا کیوں دیا گیا؟ اس عمارت کے تقدس میں شبہ کیا تھا؟ یہ بھی اسی مٹی سے تشکیل دی گئی تھی‘ جس مٹی سے دیگر مساجد معرض وجود میں آئیں۔
تو تاریخ جواب دیتی ہے کہ یہ سچ ہے کہ اس کی تعمیر اسی مٹی سے ہوئی تھی جس مٹی سے اور دیگر مساجد کی تعمیر ہوئیں۔ مگر یہاں وہ خلوص نہیں تھا جو مسجد کی تعمیر میں ہوتا‘ بلکہ یہ مسجد کے نام پر اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی منافقین کی وہ سازش تھی جس کو اﷲ کے رسولﷺ نے ڈھانے کا حکم دیا۔ یہ مسجد کے نام پر مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کا وہ مرکز تھا جہاں سے افتاق و انتشار کے طوفان اٹھنے والے تھے۔ لہذا اس مسجد کو ڈھانے کا حکم دیا گیا۔ اور اس کی جگہ کو کوڑے کا ڈھیر بنا دیا گیا اور اسے قرآن نے یوں بیان کیا:
ترجمہ:
اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد بنائی تاکہ مسلمانوں کو ضرر پہنچائیں اور وہاں سے کفر پھیلائیں اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالیں اور اس شخص کے واسطے اسے کمین گاہ بنائیں جو پہلے سے خدا و رسول سے لڑ رہا ہے‘ وہ قسم کھا کر یقین دلائیں گے کہ مسجد کی تعمیر سے ان کا مقصد سوائے بھلائی اور کچھ نہیں ہے اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ آپ ہرگز ان کی مسجد میں نہ جائیں (پارہ 11‘ سورہ توبہ آیت 107)
جناب والا! بالکل اسی طرح انسان بھی مٹی سے تخلیق ہوا اور یہی مٹی علم و فضل کے وصف سے متصف ہوجاتی ہے تو علامہ‘ حکیم الامت‘ عالم دین‘ شیخ الحدیث‘ مفسر قرآن جیسے مقدس القاب سے ملقب ہوجاتی ہے۔ پھر ان کی تعظیم و تکریم کی جاتی ہے بسبب نائب رسول‘ بسبب علم و فضل‘ بسبب مفسر قرآن‘ بسبب شیخ الحدیث۔
لیکن جب یہی حاملین دین و ایمان‘ محراب و منبر کے تقدس کو پامال کرنے لگیں‘ علم و فضل کی مسندوں پر بیٹھ کر مسلمانوں کے نظریات کو کچلنے لگیں تو عالم دین نہیں علمائے سوء قرار پاتے ہیں اور پھر ان کو ڈھانے کے لئے کہیں شیر خدا کسی خارجی کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرتے ہیں‘ تو کہیں حسین ابن علی کربلا کے میدان میں یزیدیت کو فاش دیتے ہوئے پیام اجل کو لبیک کہتے ہیں‘ تو کہیں برصغیر کے میدان میں شیخ سرہندی‘ اکبرکے درباری علماء کے خلاف علمی و عملی جہاد کرتے نظر آتے ہیں۔
اور جب یہی مٹی کے تودے علم و فضل کی قبائوں اور عماموں کو پیچ در پیچ لپیٹے انگریزوں کے وفادار‘ ملت اسلامیہ کے نظریات پر شب خون مارتے نظر آتے ہیں تو مولانا احمد رضا‘ علمائے حرمین شریفین کی حمایت کے ساتھ ان مٹی کے تودوں کو جو علم و فضل کی قبائیں پہنے ہیں‘ ڈھاتے نظر آتے ہیں۔
وکیل استغاثہ: بہت خوب‘ میں وکیل صفائی کو اس شاندار تقریر پر داد دیتا ہوں۔ اگر ایسا ہے جیسا کہ وکیل صفائی نے اپنی طویل تقریر میں کہا تو سارے دیوبندی مکتب فکر کو کفر کے مشین تلے کیوں پیس دیا گیا؟ سارے مسلک کو کافر کیوں قرار دیا گیا؟
وکیل صفائی: جناب والا! وکیل استغاثہ نے ابھی جو کچھ کہا وہ جنون میں عقل کا جنازہ تو کہا جاسکتا ہے مگر سچائی کا تقاضا نہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو وکیل استغاثہ بتائیں کہ کب اور کہاں مولانا نے پوری ملت دیوبندیہ کو کافر کہا ہے؟ مولانا نے کب اور کہاں سارے مسلک کے لوگوں کو کافر قرار دیا؟
جناب والا! وکیل استغاثہ ہی بتائیں کہ کیا گستاخ رسول کافر ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کو مسلمان جاننے والا کون کون ہوگا؟ یہ قانون نہ تو مولانا احمد رضا نے ایجاد کیا ہے اور نہ ہی یہ ان کی اختراع ہے۔ یہ اصول وقواعد تو ہمیں رسول اﷲﷺ نے دیئے اور سلف صالحین نے قرنا بعد قرن اور نسلاً بعد نسل داروسن کے پھندوں کو چومتے ہوئے ہم تک پہنچائے۔ مولانا احمد رضا خان کفر کا فتویٰ لگانے میں مسلمان سلف صالحین کی طرح نہایت محتاط تھے۔
وکیل استغاثہ: مجھے وکیل صفائی کے اس بیان پر کہ مولانا احمد رضا کفر کے فتویٰ لگانے میں بہت محتاط تھے‘ اعتراض ہے۔ میں اپنی بات نہیں کرتا‘ ڈاکٹر خالد محمود لکھتے ہیں:
’’مولانا احمد رضا خاں مسلمانوںکی تکفیر میںواقعی بہت جری تھے۔ وہابی اور دیوبندی تو ایک طرف رہے‘ جو شخص ان میں سے نہ ہو لیکن انہیں کافر بھی نہ سمجھتا ہو مولانا احمد رضا خان اسے بھی معاف نہیں کرتے۔ جو شخص ان حضرات کے کفر میں شک بھی رکھتا ہو اس کے بارے میں مولانا احمد رضا خان کا فتویٰ درج ذیل ہے۔ اس فتویٰ میں تکفیر کے بجائے تفریق کا پہلو زیادہ غالب نظر آرہا ہے۔ یہ انداز مولانا احمد رضا خان کے مقصد درون خانہ کا پتہ دیتا ہے۔ ہندوستان میں انگریز حکومت یہ چاہتی تھی کہ مسلمان کہیں اکھٹے نہ بیٹھ سکیں۔ تکفیر اسی منزل تفریق کا ایک زینہ ہے‘‘
(مطالعہ بریلویت ص 97)
وکیل صفائی: جس طرح انگوروں کو سڑا کر ام الخبائث تیار کی جاتی ہے اور اس سے بو آتی ہے۔ اسی طرح جب دماغ کی ہانڈی میں کتابی علم‘ بغض و حسد کی آتش میں پکنے لگتا ہے تو اس سے بھی ایسا ہی تعفن اٹھتا ہے‘ جیسا کہ خالد محمود کی مذکورہ بالا عبارت سے اٹھ رہا ہے۔
بجائے اس کے کہ ڈاکٹر خالد محمود مسلمانوں کو جوڑنے کے لئے اتحاد بین المسلمین کی حمایت میں کوئی کتاب رقم کرتے‘ انہوں نے انتشار کی آتش برپا کرنے کے لئے دیانت کا خون اور علمی خیانت کی علم برداری کرتے ہوئے ’’مطالعہ بریلویت‘‘ لکھ ڈالی۔ اندازوں اور تخمینوں کی بنیاد پر الزام تراشیوں کا دیوان ترتیب دے کر اپنا نامہ اعمال سیاہ کر ڈالا۔
جناب والا! وکیل استغاثہ کے معاون و مددگار جناب ڈاکٹر خالد محمود صاحب کی عبارت پر میں کیا تبصرہ کروں: ڈاکٹر خالد ہی کے گھر سے اس عدالت کو دلیل فراہم کردیتا ہوں۔ جناب جج صاحب! دیوبند کے مشہور و معروف اسکالر شبیر احمد عثمانی صاحب رقم طراز ہیں:
’’مولانا احمد رضا خاں کو تکفیر کے جرم میں برا کہنا بہت ہی برا ہے کیونکہ وہ بہت بڑے عالم دین اور بلند پایا محقق تھے۔ مولانا احمد رضا خاں کی رحلت عالم اسلام کا ایک بہت بڑا سانحہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا‘‘ (ہادی دیوبند‘ ص 21 ذوالحجہ 1329ھ)
جناب جج صاحب! مولانا احمد رضا خاں نے اپنی زندگی میں صرف پانچ افراد پر لگے ہوئے کفر کے فتوے کی تصدیق کی اور حقیقتاً وہ فتویٰ مولانا احمد رضا خاںکا نہیں علمائے حرمین شریفین کا تھا۔ مولانا احمد رضا اس قدر محتاط تھے کہ انہوں نے پہلے (علمائے دیوبند کی گستاخانہ عبارتوں پر) حرمین شریفین کے مفتیان کرام سے فتوے منگوائے‘ پھر اس کی تصدیق فرمائی۔
وہ گستاخانہ عبارتیں کیا تھیں؟ میں دل پر پتھر رکھ کر چند ایک نقل کردیتا ہوں۔ چاول کے چند دانے دیکھ کر دیگ کا اندازہ لگانا‘ اہل عقل کے لئے کچھ بھی مشکل نہ ہوگا۔
رشید احمد گنگوہی نے انگریز کی ایماء پر کس طرح اسلامی نظریات پر شب خون مارا‘ اس کی صرف ایک ہی مثال کافی ہے۔ لکھتے ہیں ’’شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر عالم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کون سا ایمان کا حصہ ہے۔ شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر عالمﷺ کے وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے‘‘ (براہین قاطعہ ص 51)
اشرف علی تھانوی صاحب رقم طراز ہیں ’’پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہیں یا کل غیب‘ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضورﷺ ہی کیا تخصیص ہے‘ ایسا علم تو زید و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کے لئے بھی حاصل ہے‘‘
(حفظ الایمان‘ ص 7)
جناب والا! مولانا احمد رضا خاں نے پانچ افراد کی تکفیر فرمائی جس پر پاک وہند اور حرمین شریفین کے علماء کی تصدیق بھی موجود ہیں اور وہ ’’الصوارم الہندیہ‘‘ اور ’’حسام الحرمین‘‘ کے نام سے موسوم ہیں اور ان پانچ افراد کے نام درج ذیل ہیں (۱) مرزا غلام احمد قادیانی (۲) رشید احمد گنگوہی (۳) قاسم نانوتوی (۴) خلیل احمد انبیٹھوی (۵) اشرف علی تھانوی
جناب جج صاحب! یہ تصدیقات وکیل استغاثہ کے چھوٹے سے ذہن میں سما نہ سکیں گی‘ لہذا میں ان کو ان کے گھر سے ایک اور دلیل فراہم کردیتا ہوں۔
دارالعلوم دیوبند کے مشہور عالم مولانا مرتضیٰ حسن صاحب‘ مولانا احمد رضا خاں صاحب کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں :
’’اگر خاں صاحب کے نزدیک بعض علمائے دیوبند واقعی ایسے ہی تھے جیسا کہ انہوں نے سمجھا تو خاں صاحب پر ان علمائے دیوبند کی تکفیر فرض تھی‘ اگر وہ ان کو کافر نہ کہتے تو خود کافر ہوجاتے‘‘ (اشد العذاب ص 13‘ مطبوعہ دارالعلوم دیوبند)
جناب والا! اگر علمائے دیوبند کی وہ عبارتیں جن پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا‘ کفریہ نہ ہوتیں تو مرتضیٰ حسن صاحب یوں تحریر نہ فرماتے‘ بلکہ یوں لکھتے۔ اگر خاں صاحب کے نزدیک بعض علمائے دیوبند ایسے ہی تھے جیسا کہ انہوں نے سمجھا اور وہ ایسے نہ تھے بلکہ واقعی مسلمان تھے تو مسلمان کی تکفیر کرکے وہ خود کافر ہوگئے۔ لیکن مرتضیٰ حسن صاحب نے ایسا نہیں لکھا۔ بلکہ یہ لکھا کہ ’’خان صاحب پر علمائے دیوبند کی تکفیر فرض تھی اگر وہ ان کو کافر نہ کہتے تو خود کافر ہوجاتے۔‘‘
وکیل استغاثہ ’’المہند‘‘ کی یہ عبارت ملاحظہ فرمائیں ’’ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ نبی کریمﷺ کا علم‘ حکم و اسرار وغیرہ کے متعلق مطلقاً تمام مخلوقات سے زیادہ ہے اور ہمارا یقین ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ فلاں شخص نبی کریمﷺ سے اعلم ہے‘ وہ کافر ہے۔ اور ہمارے حضرات اس شخص کے کافر ہونے کا فتویٰ دے چکے ہیں جو یوں کہے کہ شیطان ملعون کا علم نبی کریم علیہ السلام سے زیادہ ہے‘ پھر بھلا ہماری کسی تصنیف میں یہ مسئلہ کیا پایا جاسکتا ہے‘‘ (المہند ص 26,25‘ از خلیل احمد انبیٹھوی)
اور ’’براہین قاطعہ‘‘ میں یہی خلیل احمد لکھتے ہیں: الحاصل غور کرنا چاہئے کہ شیطان ملک الموت کا یہ حال دیکھ کر عالم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کون سا ایمان کا حصہ ہے۔ شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی‘ فخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے‘‘ (براہین قاطعہ‘ ص 51‘ از خلیل احمد انبیٹھوی)
مذکورہ بالا دونوں عبارتیں عدالت کے معزز ججوں نے ملاحظہ کیں۔ کیا منافقین کا طرز عمل یہ نہیں تھا؟ تھا‘ بالکل یہی تھا۔ مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے کچھ اور پیچھے کچھ۔
’’المہند‘‘ کی مذکورہ بالا عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ علمائے حرمین شریفین اور مولانا احمد رضا کا فتویٰ حق اور درست تھا۔ جناب والا! میں نے یہ ایک مثال پیش کی ہے اسی طرح کئی مثالیں ایسی موجود ہیں۔
محترم جج صاحب! ڈاکٹر خالد محمود وہ شخصیت ہیں جن کو ملت اسلامیہ میں رہنے والا امن و سکون ‘ بھائی چارہ‘ محبت ایک آنکھ نہیں بھاتی اور امت کو فرقہ واریت کی بھٹی میں جھونکنے کے لئے وہ اور ان جیسے دانا دشمن یا نادان دوست ’’مطالعہ بریلویت‘‘ جیسی کتب لکھتے رہتے ہیں۔
مولانا احمد رضا خاں صاحب کے بارے میں دیوبند کے عالم سید سلیمان ندوی صاحب اس طرح اظہار خیال فرماتے ہیں:
’’اس احقر نے جناب مولانا احمد رضا خان بریلوی مرحوم کی چند ایک کتابیں دیکھیں تو میری آنکھیں خیرہ ہوکر رہ گئیں۔ حیران تھا کہ واقعی مولانا بریلوی صاحب مرحوم کی ہیں جن کے متعلق کل تک یہ سنا تھا کہ و ہ صرف اہل بدعت کے ترجمان ہیں اور صرف چند فروعی مسائل تک محدود ہیں۔ مگر آج پتہ چلا کہ نہیں ہرگز نہیں ۔یہ اہل بدعت کے نقیب نہیں بلکہ یہ عالم اسلام کے اسکالر اور شاہ کار نظر آتے ہیں۔ جس قدر مولانا احمد رضا خاں مرحوم کی تحریروں میں گہرائی پائی جاتی ہے‘ اس قدر گہرائی تو میرے استاد مکرم جناب مولانا شبلی نعمانی صاحب و حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی اور حضرت مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندی و حضرت مولانا شیخ التفسیر علامہ شبیر احمد عثمانی کی کتابوں کے اندر بھی نہیں ہے جس طرح مولانا بریلوی کی تحریروں کے اندر ہے‘‘ (ماہ نامہ ندوہ‘ ص 17 اگست 1913)
محترم جج صاحب! سید سلیمان ندوی صاحب کے استاد محترم اتحاد بین المسلمین کے داعی مولانا احمد رضا خاں صاحب کو یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں:
’’مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی جو اپنے عقائد میں سخت ہی متشدد ہیں‘ مگر اس کے باوجود مولوی صاحب کا علمی شجرہ اس قدر بلند درجہ کا ہے کہ اس دور کے تمام عالم دین اس مولوی احمد رضا صاحب کے سامنے پرکاہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتے اس احقر (شبلی) نے بھی آپ کی متعدد کتابیں بھی دیکھی ہیں جس میں احکام شریعت اور دیگر کتابیں بھی دیکھی ہیں اور نیز یہ کہ مولانا صاحب کی زیر سرپرستی ایک ماہ وار رسالہ ’’الرضا‘‘ بریلی سے نکلتا ہے‘ جس کی چند قسطیں بغور و خوض دیکھی ہیں جس میں بلند پایہ مضامین شائع ہوتے ہیں‘‘ (رسالہ الندوہ‘ ص 17 اکتوبر 1914)
فرقہ واریت کے تباہ کن اثرات کی وجہ سے قوم خون کے آنسو رو رہی ہے۔ خودکش حملوں کی بہتات ہو یا بم دھماکوں کا تسلسل‘ مخالفین کا قتل عام ہو یا طرفین کے گرتے ہوئے علماء کے لاشے‘ بیوہ ہوتی ہوئی قوم کی بیٹیاں‘ یتیم بچوں کی فوج اسلامی تہذیب وثقافت سے عاری معاشرہ‘ مادیت کی کوکھ سے جنم لینے والی خودغرضی‘ یہ حالات جنگل کا نہیں بلکہ وحشیوں کا منظر نامہ پیش کررہے ہیں اور ان حالات میں اھی کتب کے بجائے ’’مطالعہ بریلویت‘‘ جیسی کتب چھاپی جارہی ہیں۔
محترم جج صاحب! آج کی اس عدالت میں‘ میں اگرچہ یہ ثابت کرچکا کہ مولانا احمد رضا اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے اور آپ نے قوم کو ان نام نہاد علمائ‘ حکیم الامت سے بچانے کی کوشش کی۔
سنگین مذاق کرنے والے کون تھے؟ کس نے ہماری صفوں کو منتشر کیا؟ کس نے ہمیں آپس میں لڑایا اور کس نے ہمارے نظریات کو تباہ و برباد کرنے کا گھنائونا کھیل کھیلا… کون تھا جس نے ہم کو فرقوں میں تقسیم کرکے کمزور کر ڈالا؟
جناب والا! اب میں ان حقائق سے پردہ اٹھانا چاہوں گا‘ لیکن اس عدالت میں ایک مرتبہ پھر یہ بتاتا چلوں کہ یہ فرقہ واریت‘ دیوبندیت اور وہابیت مولانا احمد رضا خان کی پیدائش سے پہلے کی ہیں‘ جو منظر عام پر تو بعد میں آئیں‘ مگر پنپ پہلے ہی رہی تھیں۔ اور ملت اسلامیہ کے سانپوں کو انگریز بہت پہلے سے دودھ پلا رہے تھے‘ جسے ہم پہلے مقدمے میں ثابت کرچکے کہ کون انگریزوں کا وفادار تھا اور کس کو انگریز حکومت 600 روپے ماہوار اس زمانے میں دیا کرتی تھی۔
انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں: اس حوالے کو میں پہلے بھی بیان کرچکا ہوں ’’میرے نزدیک دیوبندیت خالص ولی اللٰہیفکر بھی نہیں اور نہ کسی خانوادہ کی لگی بندھی فکردولت و متاع ہے۔ میرا یقین ہے کہ اکابر دیوبند جن کی ابتداء میرے خیال میں سیدنا الامام مولانا قاسم صاحب اور فقیہ اکبر مولانا رشید احمد گنگوی سے ہے۔ دیوبندیت کی ابتداء حضرت شاہ ولی اﷲ رحمتہ اﷲ علیہ سے کرنے کے بجائے مذکورہ بالا دو عظیم انسانوں سے کرتا ہوں‘‘ (ماہ نامہ البلاغ مارچ 1969‘ ص 48)
اور دیوبندی مکتب فکر کے مولانا عبیداﷲ سندھی صاحب رقم طراز ہیں ’’مولانا محمد اسحاق مکہ معظمہ میں اپنے بھائی مولانا محمد یعقوب دہلوی کو اپنے ساتھ لے گئے اور دہلی میں مولانا مملوک علی کی صدارت میں مولانا قطب الدین دہلوی مولانا مظفر حسین کاندھلوی اور مولانا عبدالغنی دہلوی کو ملا کر ایک بورڈ بنایا‘ جو اس نئے پروگرام کی اشاعت کرکے نئے سرے سے جماعتی نظام پیدا کرے۔ یہی جماعت جو آگے چل کر دیوبندی نظام چلاتی ہے۔ الغرض امام شاہ ولی اﷲ کی اجتماعی تحریک کو نئی نہج پر ڈالنے میں شاہ محمد اسحاق کی اس اصابت رائے کا نتیجہ تھا کہ بعد میں دہلی مدرسہ کے نمونے پر دیوبند میں جو درس گاہ قائم کی گئی‘ اس نے پچاس سال کے عرصے میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی‘‘
(شاہ ولی اﷲ اور ان کی سیاسی تحریک ص 135,134)
انگریز کی پالیسی پر مشتمل اصولوں پر عملدرآمد کس طرح کرایا گیا۔ مزید آگے لکھتے ہیں ’’مدرسہ دیوبند کی مرکزی فکر اور اس کی سیاسی مصلحت کے اصول امیر امداد اﷲ اور ان کے رفقاء مولانا قاسم‘ مولانا رشید احمد اور مولانا محمد یعقوب دیوبندی کی جماعت نے متعین کئے تھے۔ اس لئے دیوبندی پارٹی کی مرکزی جماعت میں وہ شخص شامل نہیں ہوسکتا جو یہ اصول کاملا تسلیم نہ کرتا ہو‘‘ (شاہ ولی اﷲ اور ان کی سیاسی تحریک ص 150)
جناب والا! مسلک وہابیت کے پہلے دور کے حوالے سے عبیداﷲ سندھی رقم طراز ہیں ’’حکومت موقتہ کے امیر شہید سید احمد 1826ء تا 1831ئ۔ اس سال اس تحریک کا پہلا دور پورا ہوا‘ اس دور میں حزب ولی اﷲ میں ایک ایسا انسان بھی پیدا ہوا جو نہ امیر تھا اور نہ امام۔ لیکن اپنی مبارک زندگی اور شہادت سے اپنے جد امجد کی تحریک کو زندہ کرگیا وہ مولانا محمد اسمٰعیل بن عبدالغنی بن ولی اﷲ ہے‘‘ (شاہ ولی اﷲ اور ان کی سیاسی تحریک ص 9)
جناب والا! اس تحریک کے دوسرے دور کو اگر میں دیوبندیت سے موسوم کروں تو غلط نہ ہوگا۔
مولانا عبیداﷲ سندھی میرے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں ’’اس تحریک کا دوسرا دور امام محمد اسحاق نے 1831ء سے شروع کیا۔ آپ1841ء تک دہلی میں رہے اور 1846ء تک مکہ معظمہ میں دہلی میں ان کے نائب مولانا مملوک علی اور ان کے بعد مولانا امداد اﷲ 12 برس تک دہلی میں رہے یعنی 1857ء تک‘ اس کے بعد مکہ معظمہ چلے گئے۔ ہندوستان میں پہلے نائب مولانا محمد قاسم 1879ء تک پھر مولانارشید احمد 1905ء تک اور ان کے بعد شیخ الہند مولانا محمود الحسن 1820ء تک اس تحریک کے سرپرست رہے۔ اس سال تحریک مذکورہ کا دوسرا دور ختم ہوا۔ تحریک کے تیسرے دور کو مولانا شیخ ہند نے 1920ء سے تھوڑا عرصہ پہلے شروع کیا‘‘ (شاہ ولی اﷲ اور ان کی سیاسی تحریک ص 10-9)
مزید لکھتے ہیں ’’جس دیوبندی جماعت کا ہم تعارف کرانا چاہتے ہیں وہ اسی جماعت کا دوسرا نام ہے جو مولانا اسحاق کی ہجرت کے بعد اس کے متبعین نے ان کی مالی اعانت اور ان کے افکار کی اشاعت کے لئے بنائی تھی‘‘ (ایضا ص 135)
جناب والا! میں اس موضوع پر اتنا ہی کہوں گا کہ مسلمانوں میں انتشار و تفریق پیدا کرنے میں مولانا احمد رضا کا ہاتھ نہیں‘ بلکہ سید احمد بریلوی‘ اسماعیل دہلوی‘ محمد بن عبدالوہاب نجدی جس نے لارنس آف عربیہ کے ایماء پر خلافت عثمانیہ کے سقوط میں اہم کردار ادا کیا۔ اور برصغیر میں اسی کی تحریک کو سید احمد بریلوی اور اسماعیل دہلوی نے پروان چڑھایا اور مسلمانوں کے اتحاد میں پھوٹ ڈالنے کی کامیاب کوشش کی۔
محترم جج صاحب! اسماعیل دہلوی کا زمانہ مولانا احمد رضا سے قبل کا ہے‘ لہذا یہ کہنا کہ وہابیت و دیوبندیت کی تقسیم مولانا احمد رضا نے کی‘ ایک دیوانے کی بڑ تو ہوسکتی ہے‘ مگر حقیقت نہیں۔
جج: دلائل و براہین کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وکیل استغاثہ کے دلائل بے جان اور محض الزامات کا پلندہ تھے۔ دیوبندیت اور وہابیت کی ابتداء اور اس کے بانی محمد بن عبدالوہاب نجدی اسماعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی ہیں اور مولانا احمد رضا خاں نہ صرف اتحاد بین المسلمین کے داعی بلکہ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ایک عظیم مجاہد اور مسلمانوں کے خیرخواہ لیڈر تھے۔ اور یہ مولانا احمد رضا ہی تھے جنہوں نے الحاد و بے دینی کی سرکش موجوں کے سامنے بند باندھا اور نہ صرف ملت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو کنارے لگایا بلکہ اس کے نظریات کی حفاظت بھی کی۔ کیونکہ جسم نظریے کا غلام ہوتا ہے۔ اگر نظریہ تباہ ہوجائے تو قوم تباہ ہوجاتی ہے۔ اور یہی وہ زمانہ تھا جب علامہ اقبال نے اس الحاد اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں کانگریسی مولویوں کی عبارات دیکھ لی تھی اور یہ کہا تھا کہ
یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو
عدالت برخاست ہوتی ہے