مسئلہ علم غیب پر غیر مقلد مولوی سے قلمی مناظرہ

in Tahaffuz, May 2010, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت, علامہ مولانا عدنان سعیدی رضوی

محقر کی طرف سے چند روز پہلے ایک سوال مسئلہ علم غیب کے سلسلہ میں پیش ہوا۔ پڑھ کر انتہائی افسوس ہوا کہ دعویٰ تو اہلحدیث ہونے کا ہے مگر سوال و تحریر عین خلاف حدیث نہ تو موصوف (اہل حدیث مولوی عبدالماجد) کو یہ علم ہے کہ اہلسنت و جماعت (بریلوی) کا عقیدہ در بیان علم غیب مصطفیﷺ کیا ہے اور نہ یہ علم ہے کہ جس دلیل سے وہ علم غیب کی نفی کرنا چاہتے ہیں۔ دراصل وہ نفی علم غیب کی دلیل نہیں بلکہ اثبات علم غیب کی دلیل ہے۔ قبل اس کے کہ ہم ان اعتراضات کے جوابات نقل کریں۔ پہلے واضح طور پر عقیدہ اہلسنت کا مختصر تعارف لکھ دیتے ہیں تاکہ جواب میں آسانی ہو۔ حضرت امام اہلسنت بریلوی محدث اعظم مولانا امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں ’’قرآن عظیم تھوڑا تھوڑا کرکے 23 سال میں نازل ہوا۔ جتنا قرآن اترتا گیا‘ حضورﷺ پر غیب روشن ہوتا گیا۔ جب قرآن عظیم پورا نازل ہوچکا تو روز اول سے روز آخر تک کا جمیع ماکان و ما یکون کا علم محیط حضورﷺ کو حاصل ہوگیا۔ تمام نزول قرآن سے پہلے اگر کوئی واقعہ کسی حکمت الٰہیہ کے سبب منکشف نہ ہوا تو احاطہ علم اقدس کا منافی نہیں۔ معہذا زمانہ افک میں حضورﷺ نے سکوت فرمایا جس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضورﷺ کو علم نہ تھا۔ الخ بلفظہ فتاویٰ رضویہ ج 29 ص 108
اور علم غیب مصطفیﷺ کی نفی میں جو دلائل مخالفین کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں‘ ان کے بارے میں امام اہلسنت محدث بریلوی فرماتے ہیں۔
اول: وہ آیت قطعی الدلالۃ یا ایسی ہی حدیث متواتر ہو۔
دوم: واقعہ تمامی نزول قرآن کے بعد کا ہو
سوم: اس دلیل سے راسا عدم حضور علم ثابت ہوکہ مخالف مستدل ہے اور محل ذہول میں اس پر جزم محال اور وہ منافی حصول علم نہیں بلکہ اس کا مثبت و مقتضی ہے۔
چہارم: صراحتاً نفی علم کرے ورنہ بہت علوم کا اظہار مصلحت نہیں ہوتا اور واﷲ اعلم یا خدا جانے کے سوا کوئی نہیں جانتا‘ ایسی جگہ قطع طمع جواب کے لئے بھی ہوتا ہے‘ اور نفی حقیقت زاتیہ نفی عطائیہ کو مستلزم نہیں۔ الخ فتاویٰ رضوی ج 29ص 513
علم الٰہی اور علم نبویﷺ کی تفریق میں فرماتے ہیں۔
1۔ علم ذاتی اﷲ عزوجل سے خاص ہے اس کے غیر کے لئے محال ہے جو اس میں سے کوئی چیز اگرچہ ایک ذرہ سے بھی کمتر سے کمتر گیر خدا کے لئے مانے وہ یقینا کافر و مشرک ہے۔
2۔ غیر متناہی بالفعل کو شامل ہونا صرف علم الٰہی کے لئے ہے
3۔ کسی مخلوق کا معلومات الٰہیہ کو بتفصیل نام محیط ہوجانا شرع سے بھی محال ہے۔ اور عقل سے بھی بلکہ اگر تمام اہل عالم اگلے پچھلوں سب کے جملہ علوم جمع کئے جائیں تو ان کو علوم الٰہیہ سے وہ نسبت نہ ہوگی‘ جو ایک بوند کے دس لاکھ حصوں سے ایک حصے کو دس لاکھ سمندروں سے۔
4۔ ہم نہ علم الٰہی سے مساوات مانیں نہ غیر کے لئے علم بالذات جانیں اور عطاء الٰہی سے بھی بعض علم ہی ملنا مانتے ہیں نہ کہ جمیع۔ ( فتاویٰ رضویہ ج 29 ص 236,237)
اور اسی طرح حضرت امام اہلسنت محدث بریلوی علیہ الرحمہ لفظ عالم الغیب کا اطلاق مخلوق پر نہیں کرتے۔ حضرت امام اہلسنت کی عبارت یہ ہے
مگر ہماری تحقیق میں لفظ عالم الغیب کا اطلاق حضرت عزت عز جلالہ کے ساتھ خاص ہے۔ اس سے عرفا علم بالذات متبادر ہے۔ بلفظہ فتاویٰ رضویہ ج 29ص 405
اور مزید رقم فرماتے ہیں۔ مگر عالم الغیب صرف اﷲ عزوجل کو کہا جائے۔ بلفظہ فتاویٰ رضویہ 29ص 405
اتنی سی مختصر تمہید کے بعد گزارش ہے کہ ہم آقا کریمﷺ کے علوم غیبیہ کو تکمیل قرآن مجید کے ساتھ مشروط مانتے ہیں‘ اس لئے کہ قرآن مجید ہی سرچشمہ علوم ہے۔ نزول قرآن کے دور کا کوئی واقعہ ہمارے لئے حجت نہیں اور نہ ہی ہم اس کے جوابدہ ہیں جبکہ موصوف (عبدالماجد) نے جو روایت (حدیث افک) نقل کی ہے۔ وہ نزول قرآن کے دور کی ہے جس کے اصولاً ہم جوابدہ نہیں۔
2۔ خبر واحد ہے کہ جتنے بھی طرق سے ثابت ہے آکر حضرت  ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی اﷲ عنہا سے روایت ہورہی ہے۔ جبکہ خبر واحد باب العقائد میں حجت نہیں ہوتی۔
3۔ اس روایت میں قطعاً اس قسم کے الفاظ نہیں ہیں کہ آقا کریمﷺ نے فرمایا ہو کہ نزول قرآن مجید یعنی آیات سورہ نور سے قبل میں اس واقعہ سے لاعلم تھا۔
4۔ نفی علم غیب کے موضوع میں یہ حدیث مبارکہ قطعی تو کیا بطور اشارۃ النص بھی پیش نہیں ہوسکتی‘ جبکہ ہماری شرط دلیل قطعی الدلالہ کی ہے۔
لہذا اصولا ہم ان اعتراضات کے جوابدہ نہیں ہیں مگر پھر بھی ہم جواب اس لئے دے رہے ہیں کہ آقا کریمﷺ کی ذات مقدسہ تو بہت بڑی ہستی ہے۔ آقا کریمﷺ کی نعلین پاک پر اٹھنے والے اعتراضات کا بھی ہم جواب دیں گے۔ اس طرح آپ (مولوی عبدالماجد اہلحدیث) نے اپنی تحریر میں جا بجا لفظ عالم الغیب لکھا ہے۔ آئندہ کے لئے تصحیح کرلیں کہ ہم لفظ عالم الغیب کے اطلاق کے قائل نہیں ہیں۔
اوراب آتے ہیں جوابی کارروائی پر کہ حدیث افک کے عنوان سے علوم نبویﷺ پر نفی کے حملے کئے گئے ہیں جو کسی بھی طرح ثابت نہیں بلکہ خود مدعیان اہلحدیث کے اصول کے بھی خلاف ہیں۔ ایک طرف تو یہ نعرہ بلند کیا جاتا ہے کہ اہلحدیث کے دو اصول کتاب اﷲ وقول رسول۔ مگر اس بلند بانگ دعوے کے ساتھ جو دلیل پیش کی جاتی ہے۔ اس پر نفی علم غیب پر نہ تو کتاب سے کوئی شہادت پیش کی جاتی ہے نہ ہی قول رسولﷺ سے بلکہ محض اپنی تراشیدہ وخراشیدہ قیاس آرائی ہے اور ایجاد بندہ کے سوا کچھ نہیں۔ اس موقع پر ہمارے چند سوالات ہیں۔
1۔ کیا سورہ نور میں کہیں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے نبیﷺ اس وحی سے قبل آپ کو اس واقعہ کا قطعاً علم نہیں تھا
2۔ حضورﷺ نے کہیں فرمایا کہ آیات سورہ نور کے نزول سے قبل مجھے اس واقعہ کا کچھ علم نہ تھا
3۔ آقا کریمﷺ سے لے کر آئمہ حدیث شارح حدیث حتی کہ دور قریب کے غیر مقلد صاحب تیسیر الباری تک ان اعتراضات سے ناآشنا ہیں ملاحظہ ہو ‘ تیسیر الباری ج 3ص 619تا 628
نہ یہ اعتراضات صاحب فتح الباری علامہ عسقلانی کو سوجھے نہ علامہ بدر الملت والدین حافظ عینی کو سوجھے نہ قسطلانی کو سوجھے۔ نہ نووی صاحب شرح مسلم کو سوجھے‘ اس کا واضح طور پر مطلب یہی ہے کہ یہ بدعت فی العقائد دور حاضرہ اور کچھ ماضی قریب کی ایجاد ہے جس سے اکابرین کا دامن پاک ہے۔ سبحان اﷲ جو قوم قیاس مجتہد کا مذاق اڑاتی تھی۔ آج وہ اپنے قیاس کو بطور حجت پیش کررہی ہے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ حالانکہ علم غیب مصطفویﷺ کا مسئلہ دور حاضرہ کی ایجاد نہیں بلکہ خود آقا کریمﷺ کے دور مبارکہ سے متواتر چلا آرہا ہے۔ تو چودہ سو سالوں میں کوئی تو اس حدیث مبارکہ کو بطور نفی علم غیب مصطفیﷺ پر پیش کرتا لہذا یہ اعتراضات آپ کی جماعت کے خود ساختہ بدعات سے ہیں‘ ہم یہاں واقعہ حدیث افک کو خلاصہ کے طور پر نقل کرنے کے بعد آپ کے خود ساختہ اعتراضات کا محاسبہ نقل کریں گے۔
حضرت سیدہ کائنات صدیقہ ‘ بنت الصدیق ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آقا کریمﷺ کسی سفر کے لئے تشریف لے جاتے تو اپنی ازواج مطہرات کے لئے قرعہ فرماتے کہ کسی کو ساتھ لے جانا ہے قرعہ میں حضرت سیدہ کائنات کا اسم مبارک نکلا۔ آپﷺ ساتھ لے گئے۔ یہ واقعہ غزوہ المصطلق یا المریسیع کا ہے واپسی پر حضرت سیدہ کائنات ام المومنین رفع حاجت کے لئے تشریف لے گئیں‘ ہار مبارک گر گیا اس کو ڈھونڈنے میں کچھ تاخیر ہوگئی واپس تشریف لائیں تو قافلہ جاچکا تھا۔ پیچھے سے حضرت صفوان بن معطل رضی اﷲ عنہ اسلمی ذکوان آئے تو سیدہ کائنات کو بھی لے آئے‘ منافقین نے جب یہ واقعہ سنا تو الزام تراشی کا بازار گرم کردیا۔ ہمارے آقا و مولاﷺ نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین سے مشورہ فرمایا اور نزول وحی سے قبل واضح طور پر یہ اعلان فرمایا۔ فواﷲ ماعلمت علی اہلی الاخیر۔ پس خدا کی قسم میں اپنی اہل مبارکہ کے بارے میں سوائے خیر کے اور کچھ نہیں جانتا۔ بالاخر آیات سورہ نور نازل ہوئیں۔
یہ ہے اس مفصل حدیث مبارکہ کا خلاصہ جسے مولوی (عبدالماجد اہلحدیث) نے بحوالہ مسلم ج 2ص 364 نقل کیا ہے۔ ہمارے محدود علم کے مطابق اس کی تخریج حسب ذیل ہے۔
صحیح بخاری ج 2ص 942‘ ج 2ص 916‘ ج 2ص 955‘ ج 3ص 1055‘ ج 5ص 1999‘ صحیح مسلم ج 2ص 189‘ ج 4ص 2129‘ ج 4ص 2137‘ ابن ماجہ ج 1ص 633‘ ج 2ص 786‘ دارمی ج 2ص 194‘ ج ص 277 ‘ مسند احمد ج 6ص 114‘ ج 6ص 117‘ ج 6ص 269‘ ابن حبان ج 10ص 13‘ ج 16ص 23 ص 50, 66, 84, 92, 105, 123, 124‘ مسند اسحاق بن راہویہ ج 2ص 220,390‘ المنتقی من السنی المسندہ ص 180‘ مسند الشافعی 261‘ شرح معانی الآثار ج 4ص 383‘ المجب من مسند عبد بن حمید 183‘ السنن الکبریٰ للبیہقی ج 10ص 287‘ وغیرہم
اس روایت پر اعتراصات اور جوابات حسب ذیل ہیں
سوال 1: اگر رسول اﷲﷺ کے لئے ماکان و مایکون کا علم رکھنے کا دعویٰ کیا جائے تو پھر سفر سے پہلے بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالنے کی ضرورت پیش نہ آتی کیونکہ آپ کے علم میں ہوتا کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے سفر کرنا ہے۔ آپﷺ اپنے علم کی بناء پر بتادیتے اور باقی بیویاں اﷲ کے بتائے ہوئے علم پر اکتفا کرتیں اور قرعہ کا مطالبہ نہ کرتیں۔
الجواب: سب سے پہلے تو آپ اپنی اس الزام تراشی کو نوٹ کرلیں کہ ’’باقی بیویاں قرعہ کا مطالبہ نہ کرتیں‘‘ یہ کس حدیث سے ثابت ہے کہ امہات المومنین نے قرعہ کا مطالبہ کیا تھا؟ کیا آقا کریمﷺ اگر بغیر قرعہ کے فرما دیتے کہ فلاں زوجہ نے ساتھ چلنا ہے تو معاذ اﷲ وہ امہات المومنین انکار فرمادیتیں؟ اور قرعہ وحی تھا کہ اس پر ایمان لاتیں۔ کاش کہ مولوی صاحب آپ نے قرآن مجید سے اتنا تو پڑھ لیا ہوتا کہ وما ینطق عن الہوی ان ہوالا وحی یوحی۔ کہ میرے آقا مولیٰ کریمﷺ کا قول وفعل وحی مبارک سے ہوتا ہے‘ اس نقطہ سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ ازواج مبارکہ سے عدل و مساوات کیا جائے اور سب کو ساتھ لے جانا مناسب نہ تھا‘ لہذا عدل و مساوات کا درس دیتے ہوئے میرے آقا ومولیٰ کریمﷺ نے قرعہ اندازی فرمائی تاکہ قیامت تک میرے آقاو مولیٰ کریمﷺ کے عدل کا ڈنکا بجتا رہے اور یہ سنت مبارکہ ہوجائے۔ اس کا علم یا عدم علم سے کیا تعلق ہے۔ بہرحال آپ پر ہمارا سوال بدستور قائم ہے کہ کیا امہات المومنین نے قرعہ کا مطالبہ کیا تھا؟ اس کا ثبوت آپ دینے کے پابند ہیں۔    (جاری ہے)