حجۃ الاسلام کی سیرت کے چند گوشے

in Tahaffuz, May 2010, حافظ محمد نبیل احمد عطاری رضوی, شخصیات

احقر العباد کو استاذی وسیدی حضرت علامہ مولانا مفتی عارف محمود خان قادری عطاری مدظلہ العالی کی نظر شفقت کی وجہ سے حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کی ذات بابرکات پر کچھ تحریر کرنے کا شرف حاصل ہورہا ہے۔ حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کے متعلق مختصراً تحریر کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ زندگی کا ہر پہلو کچھ نہ کچھ زینت قرطاس کرسکوں
تعارف حجتہ الاسلام
آپ علیہ الرحمہ چودھویں صدی کے مجدد اعظم مجدد دین و ملت پروانہ شمع رسالت الشاہ الحاج الحافظ القادری احمد رضا خان علیہ الرحمہ المنان المعروف اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے فرزند اکبر ہیں۔ ولادت باسعادت‘ حجتہ الاسلام حضرت علامہ مولانا حامد رضا خان علیہ الرحمہ الرحمہ‘ آپ ماہ ربیع النور شریف 1292ھ بمطابق 1875ء محلہ سوداگران بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نام نامی اسم گرامی محمد رکھا گیا اور اسی نام پر عقیقہ ہوا‘ مگر عرفاً بلانے کے لئے حامد رضا رکھا گیا۔ اس طرح آپ کا پورا نام محمد حامد رضا ہوا چونکہ آپ 1292ھ میں پیدا ہوئے اور اسم محمد کے اعداد بھی 92 ہیں لہذا علم ابجد کے اعتبار سے آپ کا تاریخی نام محمد ہوا۔
آپ علیہ الرحمہ کے القابات
آپ علیہ الرحمہ کو مختلف القابات دیئے گئے جن میں سے حجتہ الاسلام‘ شیخ الانام ‘ جمال الاولیائ… آپ کے القابات ہیں۔ بیعت شریف و خلافت شریف‘ حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کو بیعت و خلافت کا شرف نور العارفین حضرت سیدنا ابوالحسنین احمد نوری علیہ الرحمہ سے حاصل ہوئی۔
درس و تدریس
آپ علیہ الرحمہ نے جملہ علوم و فنون اپنے والد گرامی سیدی ومرشدی اعلیٰ حضرت سے حاصل کئے اور درس کے وقت آپ کے بعض سوال اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو اتنے پسند آتے کہ کتاب پر قال الوارالاعز لکھ کر سوال و جواب رقم فرمادیتے اور اعلیٰ حضرت ان سے بہت محبت کرتے اور ان پر بڑا ناز کرتے اور کیوں نہ کرتے کہ ایسا لائق و فائق عالم و فاضل‘ ادیب و خطیب دیندار و پارسا‘ حسین و جمیل بیٹا اﷲ عزوجل کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے اور قسمت والوں کو ہی ملتا ہے اور حضرت موصوف ہر لحاظ سے اعلیٰ حضرت کے جانشین تھے۔
حج و زیارت
حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کو زندگی میں دو بار حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپ علیہ الرحمہ نے پہلا حج اپنے والد گرامی حضرت علامہ الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے ساتھ 1323ھ میں کیا اور دوسرے حج و زیارت کا شرف 1324ھ میں حاصل ہوا۔ آپ علیہ الرحمہ جب پہلی بار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے ہمراہ تشریف لے گئے تو آپ کا مدینہ منورہ کے جید عالم دین عبدالقادر طرابلسی شامی سے مکالمہ ہوا جس کا تذکرہ اعلیٰ حضرت نے ملفوظات میں فرمایا اور وہاں آپ علیہ الرحمہ کو مکہ مکرمہ میں شیخ العالی علامہ محمد سعید بالبصیل اور مدینہ منورہ میں حضرت علامہ سید احمد برزنجی کے درس میں شرکت کا موقع ملا تو علماء کرام نے آپ کو سندیں عطا کیں۔ آپ بھی اپنے والد ماجد کی طرح مدینہ طیبہ کی حاضری کیلئے بے تاب رہتے تھے اور سرکار ابد قرار ﷺکی بارگاہ میں اپنی بے قراری کا اظہار یوں کیا۔
اب تو مدینے لے بلا‘گنبد سبز دے دکھا
حامد و مصطفی تیرے ہند میں ہیں غلام دو
اس مقطع میں جہاں زیارت مدینہ طیبہ کی بے تابی کا اظہار ہورہا ہے وہیں اپنے برادر اصغر مفتی اعظم ہند مصطفی رضا خان علیہ الرحمہ سے غایت درجہ محبت اور ساتھ میں ان کے لئے حاضری مدینہ کی تمنا کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ حجتہ الاسلام حامد رضا خان علیہ الرحمہ مظہر اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ ہر لحاظ سے اپنے والد گرامی کے جانشین اور ان کی ہر تحریک ہر کام میں مددگار و معاون رہے یہاں تک کہ تصدیقات حسام الحرمین اور المولتہ المکیہ سے لے کر وہابیوں‘ دیوبندیوں‘ ندویوں کے رد اور ان کی سرکوبی نیز بدایونیوں اور فرنگی محلی کے تعاقب تک ہر موڑ پراپنے والد گرامی کا ساتھ دیا۔ اعلیٰ حضرت آپ پر اس قدر نازواعتماد تھا کہ ایک دفعہ اعلیٰ حضرت کو پوکھپریرا کے ایک جلسہ میں مولانا عبدالرحمن صاحب نے دعوت دی مگر اعلیٰ حضرت مصروفیت کی بناء پر خود تو نہ جاپائے تو آپ نے اپنے فرزند اکبر کو ایک رقعہ لکھ کر دیا اور اس دعوت پر بھیج دیا۔ اس رقعہ میں تحریر تھا ’’اگرچہ میں اپنی مصروفیت کی بناء پر حاضری سے معذور ہوں مگر حامد رضا کو بھیج رہا ہوں اور یہ میرے قائم مقام ہیں۔ ان کو حامد رضا نہیں احمد رضا ہی کیا جائے‘‘ اور ایسا کیوں نہ انہیں کے لئے اعلیٰ حضرت نے فرمایا‘ شعر‘
حامد منی انا من حامد… حمد سے ہمد کماتے یہ ہیں
اور اعلیٰ حضرت کا سلسلہ نسب انہی سے بڑھا کیونکہ مفتی اعظم ہند مصطفی رضا خان صاحب کے فرزند بچپن میں ہی فوت ہوگئے تھے۔
علمی و تبلیغی کارنامے
جانشین اعلیٰ حضرت حجتہ الاسلام حامد رضا خان علیہ الرحمہ بلند پایہ خطیب اور مایہ ناز ادیب بڑے عالم و فاضل تھے۔ دین کی تبلیغ و اشاعت ناموس رسالت کی حفاظت کی خاطر اپنی تمام عمر صرف کردی اور یہی حق و سچ ہے کہ آپ دین متین کی خدمت کے لئے ہی زندہ رہے اور ساری عمر اسی خدمت میں گزار دی۔ آپ علیہ الرحمہ نے دین کی اشاعت کی خاطر قصبہ قصبہ شہر شہر سفر کیا۔ سیاستدانوں اور گستاخان رسولﷺ سے مناظرہ کئے اور ان کو دندان شکن جواب دیئے اور ہر جہت سے باطل و گمراہ فرقوں کا رد اور انسداد کیا۔ آپ کی خدمات دین سے ایک بہت ہی مشہور خدمت جس کا جواب آج تک ان گمراہوں اور دشمنان اعلیٰ حضرت سے نہ بن سکا اور وہ خدمت و حقیقت اور آپ کے علم و فضل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میری مراد مناظرہ لاہور جوکہ لاہور کی جامع مسجد وزیر خان میں رکھا گیاتھا۔ حضرت قبلہ حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کو ملت اسلامیہ کے منتشر ہونے کا بہت افسوس و رنج تھا اور آپ کے دل کی تمنا تھی کہ کسی طریقے ملت اسلامیہ متحد ہوجائے آپ اسی مقصد کے لئے 15 شوال المکرم 1352 بمطابق 1934ء میں لاہور تشریف لائے کیونکہ لاہور میں مسلک حق اہلسنت و جماعت بریلوی اور دیوبند مذہب کے سربرآوردہ حضرات کی ایک میٹنگ رکھی گئی تھی جوکہ بعد میں مناظرے کی صورت اختیار کرگئی اور دونوں طرف لوگوں کی یہ خواہش تھی کہ مسئلہ بذریعہ گفتگو حل ہوجائے اور اتفاق و اتحاد ہوجائے اور حق بات واضح ہوجائے۔ پھر مناظرہ کی ٹھن گئی اور وقت بھی مقرر ہوگیا یعنی 15 شوال 1352ء اہلسنت کی طرف سے مناظر اسلام حجتہ الاسلام مولانا حامد رضا خان علیہ الرحمہ اور دیوبندیوں کی طرف سے حکیم الامت آف دیوبند اشرف علی تھانوی مقرر ہوئے۔ حجتہ الاسلام اپنی تمام تر مصروفیات چھوڑ کر وقت مقررہ پر لاہور تشریف لے آئے کہ شاید اب یہ لوگ راہ راست پر آجائیں اور مجھ سے بات کرلیں تاکہ مسئلہ حل ہوجائے۔ مگر افسوس صد ہزار افسوس کہ دیوبندیوں کی طرف سے مولوی اشرف علی نہ آئے۔ حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کا یہ ذہن تھا کہ شاید یہ لوگ صرف میرے والد گرامی اعلیٰ حضرت سے ہی ڈرتے اور ان کا نام سن کر تھر تھر کانپتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ مجھ سے بات کرلیں اور مسئلہ حل ہوجائے لیکن دیوبندیوں کو علم تھا کہ شیر کا بچہ بھی شیر ہوتا ہے اور حق حق ہی ہوتا ہے اور یوں دیوبندیوں کی شکست فاش کا اعلان ہوگیا اور اہل سنت و جماعت کا سر فخر سے تاباں ہوگیا۔ اسی مناظرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سید ایوب علی رضوی نے حجتہ الاسلام کی خدمت میں منقبت لکھی جس کے چند اشعار
ہندوستان میں دھوم ہے کس بات کی معلوم ہے
لاہور میں دولھا بنا حامد رضا حامد رضا
سمجھے تھے کیا اور ہوا کیا ارمان دل میں رہ گیا
تیرے ہی سر سہرا رہا حامد رضا حامد رضا
ایوب قصہ مختصر آیا نہ کوئی وقت پر
تیرے مقابل من چلا حامد رضا حامد رضا
اس کے بعد حجتہ الاسلام نے وہیں وزیر خان مسجد میں جو خطبہ دیا وہ بے مثال خطبہ تھا اور سننے والے بڑے بڑے علماء کرام‘ آپ کی فصاحت و بلاغت اور علم و فضل کی جلوہ سامانیاں دیکھ کر دھنگ رہ گئے۔ اسی موقع پر پنجاب کے مسلمانوں نے یہ نعرہ بلند کیا اگر دیوبندی آیا تو چھوڑو‘ ان کے چہرے بھی دیکھ لو اور ان کے چہرے بھی دیکھ لو۔ حق واضح ہوجائے گا کہ کون حق پر ہے۔ حضرت حجتہ الاسلام کواﷲ عزوجل نے بہت حسن و جمال عطا کیا۔ آپ اتنے حسین و جمیل تھے کہ آپ کے چہرہ انور کی طرف نگاہ ٹکتی نہ تھی‘ اسی موقع پر محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ کی زیارت کی اور بیان سنا تو علم دین حاصل کرنے کی خواہش دل میں جوش مارنے لگی اور حجتہ الاسلام کے ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کی اور حجتہ الاسلام نے قبول فرمالیا۔
حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کی ڈاکٹر اقبال شاعر مشرق سے ملاقات
اسی موقع پر حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کی ملاقات ڈاکٹر اقبال صاحب سے ہوئی۔ ڈاکٹر اقبال صاحب کی ملاقات کا حال علامہ تقدس علی خان صاحب نے اپنے مکتوب میں اس وقت تحریر کیا تھا۔ جس کا عکس (دعوت فکر) از مولانا منشاء تابش قصوری مدظلہ ص 53 پر چھپا ہے۔ ڈاکٹر اقبال صاحب کو حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ نے دیوبندیوں کی گستاخانہ عبارات سنائیں تو ڈاکٹر اقبال صاحب حیران و ششدر رہ گئے اور بے ساختہ بول اٹھے ایسی گستاخانہ عبارتیں ہیں ان پر آسمان کیوں نہ ٹوٹ پڑا ان پر تو آسمان ٹوٹ پڑنا چاہئے تھا۔
حجتہ الاسلام اور سیاسی بصیرت
حجتہ الاسلام سیاستدانوں کی چالاکیوں اور چالوں کو خوب جانتے و سمجھتے تھے اور اپنے زمانے کے حال سے پوری طرح سے باخبر تھے۔ مسلمانوں کو سیاست و ریاست کے چنگل سے بچانے کے لئے ہرممکن جدوجہد کرتے تھے اور آپ علماء قائدین جوکہ سیاست کے چنگل میں پھنس چکے تھے ان کو سمجھائے اور حق و قبول نہ کرنے پر نبرد آزمائی پر اتر آئے اور بدمذہب علماء قائدین سے اس معاملے پر ٹکرائو رہتا اور مناظرے تک کرتے۔ ایک واقعہ ملاحظہ ہو۔
ابوالکلام آزاد کانگریسی کی تھرتھراہٹ بریلی شریف میں تحریکی خلافت کے اراکین نے ایک جلسہ رکھا جس میں علماء اہلسنت بھی مدعو تھے۔ اس موقع پر بدمذہبوں سے مناظرے کی ٹھن گئی۔ مخالفین کو ابوالکلام آزاد کی طلیق اللسانی اور زبان آوری پر بڑا ناز تھا‘ ان مخالفین کی طرف سے ابوالکلام اور اہل سنت کی طرف سے حضرت علامہ سید سلیمان اشرف بہاری رحمتہ اﷲ علیہ (جو اس وقت علی گڑھ یونیورسٹی میں شعبہ دینیات کے صدر تھے) مقرر ہوئے اور حجتہ الاسلام اہلسنت کی طرف سے صدر منتخب ہوئے۔ جب مناظرہ شروع ہوا تو علامہ سید سلیمان علیہ الرحمہ نے سوالات کی بوچھاڑ کردی اور حجتہ الاسلام ان کو بیچ بیچ میں ضروری ہدایات کرتے تھے‘ ابوالکلام اور اس کے رفقاء گھبرا اٹھے حتی کہ جس وقت علامہ نے تقریر شروع کی تو ابوالکلام آزاد کو گویا سانپ سونگھ گیا ہو یا گونگے ہوگئے ہوں۔ اس موقع پر ابوالکلام تھر تھر کانپ رہے تھے اور پوری تقریر میںایک لفظ تک نہیں بولے۔ اسی طرح مناظرے کا فیصلہ اہل سنت کے حق میں ہوا۔
پھر اسی طرح ایک مرتبہ ابوالکلام آزاد نے اتراتے ہوئے حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کو عربی زبان میں مناظرہ کرنے کا چیلنج کردیا تو حجتہ الاسلام نے مسکراتے ہوئے مناظرے کا چیلنج قبول کرلیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ شرط بھی لگادی کہ محض عربی نہیں بلکہ بے نقطہ عربی میں مناظرہ ہوگیا۔ یہ سن کر ابوالکلام کے پائوں تلے زمین نکل گئی اور ہکا بکا رہ گیا اور خاموشی میں اپنی عافیت سمجھی اور وہاں سے بھاگ نکل گیا۔ اس واقعہ سے حضرت علامہ حجتہ الاسلام حامد رضا خان علیہ الرحمہ کی عربی میں مہارت اور فصاحت و بلاغت کا بدرجہ اتم اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے مناظروں کے بہت سے واقعات ہیں مگر اختصار کی وجہ سے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔
عربی زبان و ادب پر مہارت
حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ بہت ماہر عربی و ادب تھے حتی کہ آپ کی عربی دانی فصاحت و بلاغت نثر نگاری و شاعری خصوصا عربی زبان پر مہارت کی تعریف علماء عرب نے بھی کی۔ 1324ھ میں حجتہ الاسلام دوسرے حج پر گئے تو عرب کے معروف عربی داں حضرت شیخ سید حسن دباغ اور سید محمد مانکی ترکی نے آپ کی عربی دانی اور قابلیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس طرح اعتراف کیا۔ ’’ہم نے ہندوستان کے اکناف اطراف میں حجتہ الاسلام جیسا فصیح و بلیغ نہیں دیکھا‘ عربی پر اتنی مہارت ہو‘ حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی عربی کتاب الدولۃ المکیہ فی مادۃ العلم الغیبیہ اور اکفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدارہم کی طباعت کے وقت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے حکم پر ان کی تمہیدات عربی زبان میں تحریرفرمادیں۔ جن کو دیکھ کر اعلیٰ حضرت بہت خوش ہوئے اور خوب دعائیں دیں۔
منظومات حجتہ الاسلام
حضور حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ عربی کے زبردست ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ اردو کے بہترین شاعر و ادیب بھی تھے‘ آپ نے حمدو نعت کے علاوہ منقبتیں بھی کہیں مگر افسوس آپ کا دیوان آپ کی حیات میں نہ چھپ سکا۔ جس کی وجہ آپ کے کلام محفوظ نہ رہ سکے‘ اب صرف ایک حمد اور تین نعتیں محفوظ ہیں جن کا صرف مقطع ذکر کرتا ہوں۔ حمد کا مقطع یہ ہے
اﷲ‘ اﷲ ‘ اﷲ‘ اﷲ‘ میں نے مانا کہ حامد گنہ گار ہے‘ معصیت کیش ہے اور خطا کار ہے‘ میرے مولیٰ مگر تو تو غفار ہے‘ کہتی رحمت ہے مجرم ہے لاتقنطوا
نعت کا مقطع: حضور روضہ ہوا جو حاضر اپنی سج دھج پہ ہوگی حامد
خمیدہ سر آنکھیں بند‘لب پر میرے درود و سلام آگیا
دوسرا مقطع: انا من حامد و حامد منی کے جلوئوں سے
بحمداﷲ رضا حامد ہیں اور حامد رضا تم ہو
مقطع: اب تو مدینے جو بلاسبز گنبد دے دیکھا
حامد و مصطفی تیرے ہند میں ہیں غلام دو
تصانیف و تراجم
حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کی متعدد تصانیف و رسائل ہیں مگر جو مشہور ہیں ان میں سے چند یہ ہیں:
1۔ الصارم الربانی علی اشراف القادیانی … یہ آپ علیہ الرحمہ نے مرزا غلام احمد قادیانی مرزائیت کا بانی کے رد میں پورا رسالہ لکھا۔
2۔ سہر الفرار (3) سلامۃ اﷲ لاہل السنتہ من سبیل العناد والفتنہ (4) الا جازات المتینہ لعلماء بکۃ و المدینہ (5) حاشیہ ملا جلال فی المنطق اور الدولۃ المکیہ کا ترجمہ بھی کیا اور اس کے علاوہ آپ کی فقیہی بصیرت پر دال فتاویٰ حامدیہ آپ کی معرکۃ الارا تصنیف ہے‘ آپ نے ساری عمر تقریبا فتویٰ نویسی کی مگر افسوس آپ کے فتاویٰ جات محفوظ نہ کئے گئے۔ اسی لئے آپ کے فتاویٰ کی تعداد نسبتا کم ہے۔ آپ نے کم و بیش 50 سال کا عرصہ فتویٰ نویسی کی ہے۔
فن تاریخ گوئی میں کمال
حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کو آپ والد گرامی اعلیٰ حضرت کی طرح فن تاریخ گوئی میں بہت مہارت حاصل تھی اور فی البدیع تاریخات کہہ دیتے تھے۔ جس کی ایک مثال ذکر کرتا ہوں۔ 1344 ہجری میں مولانا عبدالکریم درس علیہ الرحمہ کا انتقال ہوا تو اس موقع پر آپ نے چند تاریخیں کہیں تاریخ وصال 1344 ہجری
1۔ مولینا القرشی الصدیقی الکرانچوی 1344 ہجری
2۔ رحمتہ اﷲ المولی تعالیٰ پر حمتہ و اسعۃ 1344 ہجری
3۔ الشہداء عندربہم لہم اجرہم و نورہم1344 ہجری
4۔ حضرۃ مولینا وبکل مجد اولینا 1344 ہجری
5۔ ادخلوہا خالدین بہا 1344 ہجری
6۔ نقمۃ الصبد امجانی حامد رضا 1344 ہجری
7۔ النوری الرضوی 1344ہجری
مریدین‘ خلفاء اور تلامذہ
حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کے یوں تو لاکھوں مرید ہیں مگر اب اس دور میں بھی حجتہ الاسلام کے ہزاروں مرید حیات ہیں اور آپ کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ اعلیٰ حضرت آخری عمر میں جو کوئی مرید ہونے کے لئے آتا تو حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ کی طرف بھیج دیتے اور فرماتے حامد رضا کا ہاتھ میرا ہاتھ ہی ہے۔ ہند کے علاقہ جات میں آپ کے متعدد مرید ان علاقوں میں ہیں‘ چتوڑ گڑھ‘ جے پور‘ اودے پور‘ جودھ پور‘ سلطان پور‘ بریلی شریف‘ اطراف‘ کانپور‘ فتح پور‘ بنارس‘ اور صوبہ بہار میں ہیں۔ کراچی اور پاکستان کے اکثر شہروں میں بھی آپ کے مریدین موجود ہیں۔ اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمہ کو جتنی خلافتیں ملی تھیں تمام کی تمام حجتہ الاسلام کو عطا کردی تھیں اور حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں ہی مرید کرتے تھے۔
خلفاء تلامذہ
آپ علیہ الرحمہ کے خلفاء متعدد ہیں جن میں سے چند ذکر کرتا ہوں۔ خلفاء میں سرفہرست مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان قادری بریلوی‘ … اعظم ہند علامہ محمد ابراہیم رضا خان قادری بریلوی‘ علامہ حماد رضا خان بریلوی اور محدث اعظم پاکستان محمد سردار احمد گرداسپوری ثم لائل پوری اور مفسر اعظم پاکستان مفتی عبدالغفور ہزاروی اور اس کے علاوہ اور بہت سے بڑے بڑے جید علمائے کرام اور گدی نشین حضرات آپ کے تلامذہ ہیں۔ حجتہ الاسلام اپنے خلفاء اور تلامذہ میں سے سب سے زیادہ محبت و شفقت محدث اعظم پاکستان رحمتہ اﷲ علیہ پر فرماتے جوکہ میٹرک کے بعد پٹواری تھے۔ جب آپ کی زیارت کی تو آپ کے چہرہ زیبا کو دیکھتے ہی رہ گئے اور آپ کے نورانی چہرے پر فدا ہوگئے اور بریلی شریف ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے قبول فرمالیا اور ساتھ لے گئے اور برسوں اپنی صحبت و خدمت میں رکھ کر ایسی تعلیم و تربیت فرمائی کہ آپ کے مولانا سردار احمد صاحب کو پٹواری کے عہدے سے اٹھا کر محدث اعظم پاکستان بنادیا۔ محدث اعظم پاکستان نے دارالعلوم منظر الاسلام اور دارالعلوم مظہر الاسلام میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان تشریف لے آئے اور لائل پور موجودہ فیصل آباد تشریف لے آئے اور یہاں دارالعلوم رضویہ مظہر الاسلام قائم فرمایا اور تادم آخر وہاں ہی رہے اور دین متین اور مسلک حق اہلسنت و جماعت کا خوب زور و شور سے پرچار کیا۔
کرامات حجتہ الاسلام
حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ باکمال عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب کرامت ولی کامل بھی تھے اور آپ کی چند کرامات لکھ کر محفوظ بھی کی گئی ہیں مگر اختصار کے طور پر ایک ذکر کرتا ہوں۔ بنارس میں آپ علیہ الرحمہ کے تبلیغی دورے بہت ہوا کرتے تھے‘ وہاں ایک ہندو تھا جس کی شادی کو برسوں گزر چکے تھے مگر کوئی اولاد نہیں تھی جب وہ اپنے پنڈتوں اور کروئوں سے مایوس ہوگیا تو آپ علیہ الرحمہ کا چرچا سن کر حاضر خدمت ہوا‘ اولاد کے لئے درخواست کی۔ آپ نے اسے دعوت اسلام دی تو اس نے شرط لگادی کہ اگر بچہ پیدا ہوا تو مسلمان ہوجائوں گا۔ آپ نے اس پر فرمایا ایک نہیں ‘ دو اور نام بھی تجویز فرمادیئے۔ ایک سوال بعد اس غیر مسلم کے گھر بیٹا ہوا اور چند سال کے بعد دوسرا‘ چنانچہ وہ اولاد کی پیدائش کے بعد مشرف بہ اسلام ہونے کے لئے حاضر خدمت ہوا اور مشرف بہ اسلام ہوگیا اور آپ علیہ الرحمہ کا مرید بھی ہوگیا۔
وصال پرملال
حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کا وصال پرملال 17 جمادی الاول 1362 ہجری بمطابق 23 مئی 1943ء دوران نماز عشاء حالت تشہد میں ہوا۔ نماز جنازہ آپ کے تلمیذ ارشد محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ ابوالفضل سردار احمد لائل پوری علیہ الرحمہ نے آپ کی وصیت کے مطابق پڑھائی۔
مزار اقدس
آپ علیہ الرحمہ کا مزار مقدس روضہ اعلیٰ حضرت کے مغرب کی جانب گنبد رضا میں واقع زیارت گاہ خاص و عام ہے۔ آپ کا عرس مبارک ہر سال 17 جمادی الاول کو عرس حامدی کے نام سے ہوتاہے اور جامعہ رضویہ منظر الاسلام کی دستار فضیلت بھی اسی موقع پر ہوتی ہے۔ اﷲ عزوجل آپ کے مزار مقدس پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور آپ کے صدقے مجھ گنہ گار کو عالم باعمل اور دین متین کا سچا مجاہد بنائے۔ آمین