بیداری اہلسنت کانفرنس زوایہ فکر ونظر

in Tahaffuz, May 2010, متفرقا ت

انجمن ضیاء طیبہ کے زیر اہتمام بروز اتوار بعد نماز مغرب بتاریخ 04-04-10 ہوٹل الحرمین ٹاور صدر کراچی میں ’’بیداری اہلسنت کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس کی صدارت عالمی مبلغ تصوف پیر طریقت حضرت علامہ خواجہ غلام قطب الدین فریدی صاحب مدظلہ العالی (سجادہ نشین گڑھی شریف‘ خانپور) نے فرمائی۔ اس کانفرنس کا ایجنڈا یہ تھا۔
ایجنڈا
1۔ بیداری اہلسنت کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں؟
2۔ مایوسی کے جمود کو پاش پاش کرنے کے عزائم کے لئے توانائی کیسے فراہم کی جائے؟
3۔ خانقاہوں اور درس گاہوں کو فعال کرنے اور باہم مربوط کرکے مسلک حقہ اہلسنت و جماعت کو کیسے مضبوط کیا جائے
4۔ ابلاغیات کے جملہ ذرائع سے بدعقیدگی اپنی فتنہ سامانیوں سے مسلح حملہ آور ہے‘ اس کا تدارک کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں؟
اس ایجنڈے کو مدنظر رکھ کر ملک پاکستان کے مشہور و معروف علماء کرام اور اسکالرز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اہم تجاویز پیش کیں۔اس کانفرنس سے جن شخصیات نے خطاب فرمایا۔ ان کے نام یہ ہیں۔
حضرت سید عبدالقادر شاہ صاحب‘ پیر کمال میاں سلطانی‘ علامہ شعیب قادری‘ علامہ عزیز الحق قادری‘ صاحبزادہ اسد احمد مجددی‘ علامہ سید راشد علی قادری‘ سید محمد رفیق شاہ‘ محمد حسین لاکھانی صاحب‘ محترم عبدالصمد گاڈت‘ پروفیسر دلاور نوری‘ پروفیسر آصف علیمی‘ سید آسی ختم علی شاہ صاحب‘ علامہ یونس شاکر صاحب‘ علامہ ابرار احمد رحمانی‘ شیخ الحدیث علامہ حنیف رضوی صاحب‘ علامہ انوار احمد امجدی اور اختتامی کلمات سربراہ انجمن ضیاء طیبہ محترم المقام سید اﷲ رکھا شاہ صاحب نے فرمائے۔
کانفرنس میں پیش کی جانے والی متفقہ تجاویزات
1۔ سیاست شجر ممنوعہ نہیں
2۔ نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
3۔ مدارس میں رائج قدیم علوم و فنون کی تعلیم ترک کی جائے
4۔ مساجد کو روزگار کا ذریعہ نہ بنایا جائے
5۔ مرکزی دارالافتاء اور مرکزی دارالتصنیف قائم کیا جائے
6۔ مربوط کوششیں کی جائیں
7۔ اہلسنت کی تعریف کا تعین اعلیٰ حضرت محدث بریلی علیہ الرحمہ کے فتاویٰ کی روشنی میں کیا جائے
8۔ مسلک حق اہلسنت کے تشخص کو اجاگر کیا جائے
9۔ چالیس سے زائد سنی اراکین اسمبلی کی اہلسنت کے لئے کیا خدمات ہیں؟
10۔ کام کو جاری رکھنا ہے‘ چاہے کوئی شریک ہو یا نہ ہو
11۔ علم و آگہی بہت ضروری ہے
12۔ ہمارا نعرہ غیر سیاسی نہیں ہونا چاہئے
13۔ قیادت احتساب سے بالاتر نہیں
14۔ مرکزی پالیسی انسٹی ٹیوٹ آف اسٹیڈیز کا قیام
15۔ مذہبی جماعت کے علاوہ بھی اگر کوئی کسی دوسری جماعت سے بھی تعلق ہو مگر سنی ہے تو بے شک وہ ہمارا بھائی ہے
16۔ ایک مرکزی قائد ہو
17۔ قائد نچلی سطح پر نائبین میں قیادت کی اہلیت پیدا کریں
18۔ روحانیت کے لئے تعلیمات تصوف کو عام کریں
19۔ انفرادی شناخت کو اجتماعیت کی تشکیل میں بدل دینے کی کوشش کریں
20۔ ایک پیغام‘ ایک ہی پلیٹ فارم
21۔ مدارس کے طلباء کی ذہنی استعداد کو بڑھانے کے لئے تعلیمی رسائل ماہوار شائع کئے جائیں
22۔ رابطہ کے فقدان کے باعث مدارس اہلسنت کی انفرادی کاوشیں منظر عام پر نہیں آئیں
23۔ خانقاہوں کے ساتھ درس گاہوں کا قیام علماء کی سرپرستی میں ضروری ہے
24۔ فکر امام احمد رضا کی بنیاد پر اہلسنت کے تشخص کو اجاگر کیا جائے
25۔ علم حدیث وتفسیر کے ماہرین کے ساتھ معقولات کے ماہرین بھی ہوں
26۔ کامیابی کا مدار مدارس و خانقاہوں اور مساجد کے مربوط کرنے میں ہے