حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, December 2008, د ر خشا ں ستا ر ے

بابا فرید رحمۃ اﷲ علیہ کی عجیب حالت تھی۔ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ آپ کو سینے سے لگائے ہوئے فرما رہے تھے ’’فرید! ہم تو خانماں برباد ہیں‘ نہ ہماری کوئی ملکیت ہے اور نہ کوئی جاگیر‘ بس سوزنہاں کی ایک میراث ہے جس نے ہمیں جلا کر خاکستر کردیا ہے۔ ایک چنگاری تیری نذر بھی کئے دیتا ہوں کہ اس چنگاری کے بغیر درویش‘ درویش نہیں ہوتا‘ نیکیوں اور عبادتوں کا سوداگر بن جاتا ہے۔ بس اب جاکہ تیری منزل بہت دور ہے۔ اﷲ تیرے قدموں کو استقامت بخشے اور تیرے سر پر ہمیشہ اس کی رحمت سایہ فگن رہے۔ اگر کبھی تجھے یہ جاں سوختہ یاد آئے تو اس کے حق میں بھی دعائے خیر کرنا کہ یہ آگ بجھنے نہ پائے۔ یہاں تک کہ تمام اعضاء دل ‘ دماغ اور روح جل کر خاک ہوجائیں… اور پھر یہ خاک کوچہ یار میں بکھر جائے اور اسے تیز ہوائیں در بدر اڑاتی پھریں‘‘ اتنا کہہ کر حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ زمین پر بیٹھ گئے۔
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تاریک غار سے نکل آئے مگر اس طرح کہ آپ کے قدم تھکے تھکے تھے اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ سے بچھڑنے کا بہت غم تھا مگر مجبور تھے کہ ابھی آپ کی منزل بہت دور تھی۔
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے بدخشاں کو خیرباد کہا اور چشت کی طرف روانہ ہوگئے۔ یہ وہی مقام ہے جس کی نسبت سے سلسلہ چشتیہ کے روضہ مبارک کی زیارت کی حضرت خواجہ ابو یوسف چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کا شمار سلسلہ چشتی کے نامور بزرگوں میں ہوتا ہے۔ اگر ہم اس موقع پر مختصراً پیران چشت کا شجرہ بیان کردیں تو یقیناً قارئین کی معلومات میں ایک گرانقدر اضافہ ہوگا۔
٭…٭…٭
سلسلہ چشتیہ کاآغاز امیر المومنین حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہوتا ہے۔ مشہور روایات کے مطابق حضرت علی کرم اﷲ وجہ نے حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو خرقہ خلافت عطا کیا۔ حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو برصغیر پاک و ہند کے بیشتر لوگ محض ایک صوفی بزرگ کی حیثیت سے جانتے ہیں مگر جن کی نگاہیں تاریخ آشنا ہیں وہ اس راز سے بھی واقف ہیں کہ حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ ایک عظیم محدث تھے اور درجہ امامت پر اس طرح فائز تھے کہ امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت امام مالک رحمتہ اﷲ علیہ بھی آپ کا بہت احترام کرتے تھے۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو تمام اولیائے کرام کے درمیان یہ شرف خاص حاصل ہے کہ آپ کی والدہ محترمہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہما کی کنیز تھیں بچپن میں جب حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کی مادر گرامی کسی کام میں مصروف ہوتیں اور آپ رونے لگتے تو ام المومنین آپ کو گود میں اٹھا کر اپنا دودھ پلادیتیں۔ حضرت امام نووی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔
’’حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کے کلام میں جو غیر معمولی وضاحت اور حکمت پائی جاتی ہے‘ وہ سب اسی مقدس شیرخوارگی کا صدقہ تھا‘‘
حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے تعلق سے دوسری ازواج مطہرات کے گھروں میں بھی آنے جانے کا موقع ملتا تھا۔ ولادت کے بعد جب آپ کو امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کیا تو مسلمانوں کے عظیم و جلیل خلیفہ نے بے اختیار فرمایا ’’یہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ اس کا نام حسن رکھو‘‘
حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو ایک سو بیس صحابہ کرام کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل تھا۔
ام المومنین حضرت سلمہ رضی اﷲ عنہا نے آپ کی تربیت کی اور ہمیشہ یہی دعا کرتی رہیں ’’اے اﷲ! حسن کو دنیا کا رہنما بنادے‘‘
حضرت امام حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کی زندگی میں ایسے بے شمار واقعات پیش آئے جو تاریخ کے اوراق پر نقش ہوکر رہ گئے ہیں۔ ایک بار حضرت امام حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کی مجلس درس آراستہ تھی۔ آپ نہایت شیریں اور پرجوش لہجے میں معرفت کے رموز و اسرار بیان فرما رہے تھے کہ اچانک حاضرین مجلس پر سکتہ طاری ہوگیا۔ حجاج بن یوسف اپنے سپاہیوں اور شمشیر بے نیام کے ساتھ حضرت امام حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کے مکتب میں داخل ہوا۔ اس ستم پیشہ اور جفا کار انسان کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں پتھرا گئیں اور سانسیں رکتی ہوئی سی محسوس ہونے لگیں۔ بیشتر حاضرین مجلس حجاج بن یوسف کے خوف سے کھڑے ہوگئے اور سوچنے لگے کہ آج حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کا امتحان ہے۔ وہ حجاج کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوئے ہیں یا درس میں مشغول رہتے ہیں۔ لوگ اپنے اپنے ذہن کے مطابق سوچتے رہے مگر حضرت امام حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ نے والی عراق کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا کہ آپ کے سامنے دنیا کا سفاک ترین انسان کھڑا ہے۔ بالاخر جب حضرت امام حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کا وعظ ختم ہوگیا تو حجاج بن یوسف نے پکار کر کہا۔
’’اگر تم کسی مرد خدا سے ملنا چاہتے ہو تو حسن رحمتہ اﷲ علیہ کا چہرہ دیکھ لو‘‘
حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے تربیت یافتہ یہی وہ حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ ہیں جن سے سلسلہ چشتیہ کو دنیا میں فروغ حاصل ہوا۔ آپ نے زندگی بھر دولت و اقتدار کی نفی کی اور پھر 4 محرم 111ھ کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
جب حضرت امام حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ دنیا سے رخصت ہونے لگے تو آپ نے حضرت شیخ عبدالواحد بن زید رحمتہ اﷲ علیہ کو خرقہ خلافت عطا کرتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ اس عظیم امانت کی حفاظت کرنا ورنہ بروز حشر اﷲ کے سامنے بڑے شرمسار ہوگے۔ واضح رہے کہ یہ وہ شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ نہیں ہیں جن سے بدخشاں کے ایک تاریک غار میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے ملاقات کی تھی۔
حضرت  شیخ عبدالواحد بن زید رحمتہ اﷲ علیہ 177ھ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ آپ نے اس عالم خاکی کو الوداع کہا تو سلسلہ چشتیہ کی یہ امانت حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اﷲ علیہ کو منتقل ہوگئی۔
حضرت فضیل بن عیاض کو یہ شرف بھی ہاصل ہے کہ آپ فقہ میں امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ کے شاگرد تھے۔ روایت ہے کہ آپ اپنے عہد شباب میں رہزنوں اور قزاقوں کے سردار تھے۔ پھر جب ہدایت غیبی نصیب ہوئی تو اولیاء کی سرداری کے منصب پر فائز ہوئے۔ خلفیہ ہارون رشید آپ کے بارے میں کہا کرتا تھا:
حقیقتاً بادشاہ تو فضیل بن عیاض رحمتہ اﷲ علیہ ہیں‘‘
پھر 187ھ میں یہ شہنشاہ معرفت زیر خاک سوگیا مگر جانے سے پہلے خرقہ خلافت حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ اﷲ علیہ کو منتقل ہوگئے۔
حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ اﷲ علیہ بلخ کے حکمران تھے مگر جب آتش عشق نے آپ کے دل و دماغ کو جلا ڈالا تو تخت و تاج چھوڑ کر قصر شاہی سے یہ کہتے ہوئے نکل آئے ’’اے اﷲ! میں حاضر ہوں۔ اے اﷲ! میں حاضر ہوں‘‘
بے شمار دلوں کا میل دھوکر اور لاتعداد ذہنوں کی کثافت دور کرکے حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ اﷲ علیہ  265ھ یا 267ھ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ وفات سے چند روز پہلے آپ نے حضرت حذیقہ مرعشی رحمتہ اﷲ علیہ کو خرقہ خلافت پہنایا اور نہایت پرسوز لہجے میں تلقین فرمائی۔
’’حذیقہ! میں تجھے جو لباس پہنا رہاہوں وہ بہت حساس اور نازک ہے۔ ریاکاری کے پتھر سے شیشے کی اس قباء کو محفوظ رکھنا‘ ورنہ ایک کنکری سے یہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائے گا۔ اسے غلاظت سے بچانا کہ ساری دنیا گناہوں کا تالاب ہے جس کا پانی گلی گلی اور کوچہ کوچہ  بہہ رہا ہے۔ بہت احتیاط سے قدم اٹھانا کہ اس کثیف پانی کی ایک چھینٹ پورے لباس کو داغدار کردے گی‘‘
حضرت حذیقہ کا خاندانی نام خواجہ سدید الدین تھا۔ آپ مرعش کے رہنے والے تھے جوشام کے قریب ایک آباد شہر ہے۔ اسی شہر کی نسبت سے آپ مرعشی کہلاتے ہیں۔ حضرت حذیقہ نے سات سال کی عمر میں نہ صرف قرآن کریم حفظ کرلیا تھا بلکہ ساتوں مشہور قراتوں میں بھی مہارت حاصل کرلی تھی۔ آپ کا طریقہ تھا کہ جس درویش سے بھی ملاقات کرتے اس سے اپنے حق میں دعائے خیر کراتے۔ حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت حذیقہ مرعشی رحمتہ اﷲ علیہ کو بچپن میں ایک بار دیکھا تھا۔
حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ کو دیکھتے ہی فرمایا تھا ’’حذیقہ! مرد خدا ہیں اور جوان ہوکر بہت سے لوگوں کو منزل مقصود تک پہنچائیں گے‘‘
حضرت حذیقہ مرعشی نے پیران چشت کا خرقہ حضرت ہبیرہ بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو منتقل کیا اور عالم خاکی سے عالم بالا کی طرف تشریف لے گئے۔ حضرت ہبیرہ بصری رحمتہ اﷲ علیہ نہایت عالم و فاضل بزرگ تھے۔ آپ کو ’’ناصر شریعت‘‘ اور ’’امام طریقت‘‘ کے لاب سے یاد کیا جاتا تھا۔
حضرت ہبیرہ بصری رحمتہ اﷲ علیہ نے سلسلہ چشتیہ کی یہ امانت حضرت شیخ محشاد علو دینوری رحمتہ اﷲ علیہ کے سپرد کی اور سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔
حضرت شیخ محشاد رحمتہ اﷲ علیہ ایک امیروکبیر خاندان سے تعلق رکھتے تھے مگر جب آپ درویشی کی طرف راغب ہوئے تو ساری دولت محتاجوں میں تقسیم کردی۔ یہاں تک کہ اپنے افطار کے لئے بھی کوئی چیز باقی نہ رہنے دی۔ تمام سرمایہ لٹا دینے کے بعد حضرت شیخ نے دست دعا دراز کیا اور نہایت رقت آمیز لہجے میں عرض کرنے لگے۔
’’اے اﷲ! میرے اور تیرے درمیان جو ہلاک کردینے والی شئے حائل تھی‘ میں نے اسے راستے سے ہٹادیا۔ اب مجھے تیری رضا کے سوا کچھ نہیں چاہئے‘‘
14 محرم 299ھ کو معرفت کا یہ آفتاب ضیاء بار بجھ گیا مگر غروب ہونے سے پہلے حضرت شیخ محشاد رحمتہ اﷲ علیہ نے پیران چشت سے حاصل کردہ روشنی حضرت ابو اسحاق چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کو منتقل کردی۔
حضرت ابو اسحاق چشتی رحمتہ اﷲ علیہ شام کے رہنے والے تھے اور یہ پہلے بزرگ ہیں کہ جن کے نام کے ساتھ ’’چشتی‘‘ کا لفظ نظر آتاہے۔ چشت خراسان ک یایک مشہور قصبے کا نام ہے۔ اس قصبے میں کچھ بزرگان دین نے روحانی تربیت کا ایک بڑا مرکز قائم کیا تھا جسے بعد میں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی اور وہ روحانی نظام اسی مقام کی نسبت سے ’’چشتیہ‘‘ کہلانے لگا۔
حضرت ابو اسحاق چشتی رحمتہ اﷲ علیہ نے وصال سے پہلے حضرت ابو احمد چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کو خلافت عطا کرتے ہوئے فرمایا ’’ابو احمد! مخلوق خدا بیمار ہے اس کی مسیحائی کرو‘‘
حضرت ابو احمد چشتی رحمتہ اﷲ علیہ 355ھ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت شیخ ابو محمد چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کو پیران چشت کی امانت منتقل کی۔
حضرت شیخ محمد چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کے بعد حضرت ابو یوسف چشتی رحمتہ اﷲ علیہ اس روحانی خاندان کے وارث قرار پائے۔ آپ نے 459ھ میں وفات پائی۔
حضرت ابو یوسف چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کے روحانی وارث حضرت حاجی شریف زندنی رحمتہ اﷲ علیہ تھے۔ حضرت حاجی شریف زندنی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت خواجہ عثمان ہرونی رحمتہ اﷲ علیہ کی تربیت فرمائی۔ حضرت خواجہ عثمان ہرونی رحمتہ اﷲ علیہ کی بارگاہ جلال سے وہ خورشید معرفت طلوع ہوا جس کی روشنی سے پوری سرزمین ہند جگمگا اٹھی۔ وہ مرد باصفا حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اﷲ علیہ ہیں جن کے آستانے پر ایک لاکھ سے زیادہ سرکش راجپوت خم ہوئے۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں