نفرت کے دو سوداگر
14 مئی 2008ء کو اسرائیلی ریاست کے قیام کے ساٹھ سال مکمل ہوگئے‘ سنگھ پریوار کے محبوب ترین ملک اسرائیل میں اس وقت جشن کا سلسلہ جاری ہے‘ اس جشن کو ’’جشن جنگ آزادی‘’ کا نام دیا گیا ہے لیکن مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ان ساٹھ سالوں کو کس نام سے یاد کیا جائے‘ گناہ کے ساٹھ سال کہیں یا نسل کشی کے ساٹھ سال‘ بربریت کے ساٹھ برس قرار دیں یا حقوق انسانی کی پامالی کے ساٹھ برس۔ میرا خیال یہ ہے کہ جو بھی کہہ لیا جائے بالکل درست اور عین مناسب ہے۔ یہ وہی جنگ آزادی تھی جس میں ہونے والی نسل کشی کے متعلق اسرائیلی مورخ ’’بینی مورس‘‘ نے نہایت بے شرمی کے ساتھ لکھا ہے کہ اس میں سات لاکھ فلسطینیوں کا قتل عام ضروری تھا۔ کیونکہ تاریخ میں بسا اوقات ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نسل کشی کا جواز فراہم ہوجاتا ہے اور ایسی ہی دہشت گرد ریاست کے جشن آزادی کے ’’سنہری موقع‘‘ پر اسرائیل حاضری کے دوران امریکہ کے صدر ذی وقار‘ حقوق انسانی کے علمبردار جارج واکر بش نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کی خوب ثنا خوانی کی اور فرمایا کہ اسرائیل کا قیام دراصل بائبل کی پیشگوئی کی تکمیل اور ابراہیم و موسیٰ اور دائود (علیہم السلام) سے کئے گئے رب تعالیٰ کے ایک وعدے یعنی اولاد اسرائیل کے وطن کا تحفظ ہے۔
اس وقت ہمیں قضیہ اسرائیل اور فلسطین سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اسرائیل کا تذکرہ صرف اس مناسبت سے آگیا کہ اسرائیل اور سنگھ پریوار میں چند باتیں مشترک ہیں‘ دونوں ہی نفرت کے سوداگر ہیں۔ وہاں صیہونی نظریہ سرگرم عمل ہے تو یہاں ہندو ازم کے احیاء کا۔ وہ فلسطینیوں کے دشمن ہیں تو یہ ہندوستانی مسلمانوں کے اور یہ دونوں ہی اسلام اور مسلمانوں کو اپنے وجود کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔
خمیر میں نفرت
ہندو مت کے احیاء کی نمائندہ سب سے قدیم تنظیم آر ایس ایس ہے جو اکثری طور پر اعلیٰ طبقات کے ان ہندوئوں پر مشتمل ہے جن کا تعلق ہندوستان کے شہروں میں رہنے والے متوسط گھرانے سے ہے‘ اس تنظیم نے اپنے روز اول سے ہی نفرت کی کاشت کی ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو بگاڑا ہے اور اس ملک کی جمہوری فضا کو زہر آلود کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کا وجود اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا‘ ہمیشہ مسلمانوں کو مشکوک نظر سے دیکھتی ہے گویا یہ کہہ لیا جائے کہ اس کی پوری تاریخ ہی نفرت کی داستان سے بھری ہوئی ہے۔
نفرت سے بھری اس تاریخ سے اگر کوئی مسلمان پردہ ہٹانے کی کوشش کرے تو شاید مشتبہ قرار دے دیا جائے لیکن ہم یہاں ایسے ملک کے مورخ کی شہادت پیش کریں گے جو آر ایس ایس کا فیورٹ ملک ہے اور جس ملک کے مورخ کی شہادت ناقابل تردید ہوگی۔ آرنٹ شانی حیفہ یونیورسٹی اسرائیل کے ڈپارٹمنٹ آف ایشین اسٹیڈیز میں لیکچرار ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات اور قتل عام کے واقعات میں سنگھ پریوار کے رول سے متعلق ۲۱۵ صفحات پر مشتمل ان کی ایک کتاب کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے Communalism, caste and Hindu Nationalism the Voilence in Gujrat اس کتاب میں انہوں نے ہندوستان میں ہوئے مسلم کش فسادات‘ اس کے درپردہ عوامل اور پھر اس میں سنگھ پریوار کے رول کا علمی انداز میں بڑی گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ ہندوستان میں ذات پات کی سیاست سے ہندو قومیت کے جذبات کو فروغ ملا ہے (کتاب پر مکمل تبصرہ ملاحظہ کرنے کے لئے دیکھئے اے جی نورانی کا مقابلہ Origins of Harted‘ فرنٹ لائن شمارہ ۲۳ مئی ۲۰۰۸) اور ان کے اس موقف کی تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے کہ ۱۹۹۰ء میں جب وی پی سنگھ نے منڈل کمیشن کی رپورٹ کو عملی جامہ پہنانے کی بات کہی تو اس کے ردعمل میں ایڈوانی نے رتھ یاترا شروع کی اور مسلم مخالف ایجنڈوں اور ہندو قومیت کی اساس پر ہندوئوں کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ یوں ہی گجرات میں ہونے والا ۱۹۸۵ء کا حادثہ جو درحقیقت ذات برادری کا تنازعہ تھا‘ حیرت انگیز انداز میں فرقہ وارانہ تشدد میں اسی لئے بدل گیا تھا کہ اس وقت ہندو قومیت کا سہارا لے کر بھڑکتے ہوئے ذات پات کے جذبات کو مسلم مخالف جذبات میں تبدیل کردیا گیا اور اسی لئے ماہرین کا ماننا ہے کہ ہندو قومیت کا نعرہ دراصل اس بے چینی اور اضطراب کو چھاپنے کی کوشش تھی جو نچلی ذاتوں پر ان کی کمزور پڑتی گرفت کی بناء پر پیدا ہوا تھا۔
کمیونزم اور ہندو شناخت جسے ہم ایتھنو ہندو ازم کا نام بھی دے سکتے ہیں‘ ایک ایسا فینومنا ہے جس نے ۱۹۸۰ء کی دہائی سے زور پکڑنا شروع کیا اور پھر آہستہ آہستہ پورا ملک اس کی گرفت میں چلا گیا۔ اسی مسئلے کو اچھال کر ۹۳۔۱۹۹۲ء میں ممبئی کے مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور ۲۰۰۲ء میں گجرات کے مسلمانوں کا نسلی صفایا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے علاوہ اور دوسرے صوبوں میں بھی انہی جذبات کا سہارا لے کر مسلم کشی کے واقعات انجام دیئے گئے۔ ایسے حالات میں ریاستی حکومتوں کا یہ فرض تھا کہ وہ مسلمانوں کی حفاظت کے لئے ٹھوس اقدامات کرتیں اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے مضبوط منصوبے بناتیں لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ کبھی تو اس طرح کے حادثات کو روکنے میں دلچسپی نہ دکھا کر اور کبھی ان واقعات کی انجام دہی میں سرگرم حصہ داری کے ذریعہ اس بات کا ثبوت فراہم کیا گیا کہ سخت گیر ہندو ذہنیت اعلیٰ حکومتی طبقے پر بھی اثرانداز ہے۔ بسا اوقات فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے والے ہندوئوں کی قیادت خود پولیس نے کی۔ پولیٹیکل وائے لینس اینڈ دی پولیس ان انڈیا کے مصنف کے ایس سو برامنیم نے اترپردیش پولیس آفیسر وی بھوتی نارائن رائے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ۱۹۳۱ء سے لے کر ۱۹۹۳ء تک دس ہندو مسلم فسادات میں پولیس نے غیر جانبدار قانون نافذ کرنے والی جماعت کے طور پر کام نہیں کیا بلکہ ایک ہندو فوج کے طور پر کام کیا اور آج کل تو صورتحال بہت زیادہ بگڑ چکی ہے۔ آئے روز ہونے والے فیک پولیس انکائونٹر کے واقعات اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور پولیس اسکینڈل کی دوسری خبروں نے پولیس کے حوالے سے لوگوں کے اعتبار کو ہی متزلزل کردیاہے اور اب یہ حقیقت طشت از بام ہوچکی ہے کہ ہندو کا تو دائرہ اثر صرف اعلیٰ حکومتی طبقے تک ہی محدود نہیں بلکہ قانون کے محافظوں تک پھیلا ہوا ہے اور مسلم کش فسادات میں وہ ہی رول ادا کرتے ہیں جو سنگھ پریوار انہیں ڈکٹیٹ کرتا ہے۔
ہندوستانی سماج کو خطرہ
اس وقت آر ایس ایس کی ایک سیاسی ونگ بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک میں فتح کے نشے میں چور ہے اور سنگھ پریوار کی ذہنیت رکھنے والے لوگوں نے ایک بار پھر سے نفرت کا بازار گرم کررکھا ہے۔ ہندو قومیت کو اچھالا جارہا ہے۔ اشتعال انگیزی کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کوآمادہ تشدد ہونے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ لیکن انداز اس بار مختلف ہے‘ اس مرتبہ ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیاہے۔ ریڈف میسج ڈاٹ کام‘ یوٹیوب اور اس جیسے دوسرے میسج بورڈ پرایسے میسج بھیجے جارہے ہیں جو مذہبی منافرت پھیلانے والے اور مسلمانوں کے خلاف ہندو جذبات بھڑکانے والے ہیں اور جو پیغمبر انسانیت رحمت عالمﷺ کی شان اقدس میں گستاخی والے کلمات پر مشتمل ہیں۔ ریڈف ڈاٹ کام کو بھیجے گئے ایک میسج میں لکھا ہے ’’ہم متحد ہوکر دنیا پر حکومت کرسکتے ہیں۔ اگر ہندوستان کے سارے ہندو متحد ہوجائیںتو ہم ۲۰۱۲ء تک آسانی کے ساتھ دنیا کے سپرپاور اور حاکم بن سکتے ہیں‘‘ ایک دوسرے میسج میں لکھا ہے ’’ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے اس لئے ہندوستانی جھنڈے کا رنگ صرف زعفرانی اور سفید ہونا چاہئے‘‘ گجرات میں کامیابی کے بعد نریندر مودی کے خطاب سے متعلق یوٹیوب کو ۵۲ ہزار پیغامات موصول ہوئے تھے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس کے ایک پیغام میں لکھا ہے ’’مسلمان کیوں دہشت گرد ہیں‘‘ وہ کیوں مجرمانہ کردار کے حامل ہیں؟ وہ ہر جگہ اپنے سماج پر بوجھ ہیں ہمیں ان کو ہندوستان سے بھگا دینا چاہئے‘‘ دوسرے میسج میں لکھا ہے ’’ہندوستان میں غربت اور جرائم کے بنیادی طور پر ذمہ دار اسلام اور مسلمان ہیں‘‘ یوٹیوب کے ایک میسج میں تو سرکار ابدقرارﷺ کی شان میں ایسی ہرزہ سرائی کی گئی ہے کہ ان کو قید تحریر میں لانا دشوار ہے۔ (دیکھئے تہلکہ شمارہ ۷ جون ۲۰۰۸)
دعوت فکر
آخر کون ہیں جو اس طرح کے میسج لکھتے اور ان کو عام کرتے ہیں۔ ذہن و فکر پر ذرا زور ڈالیں تو واضح ہوجائے گا کہ یہ ہندوئوں کا انگریزی داں متوسط طبقہ ہے جو ہندوتو کا دلدادہ اور پوری دنیا میں ہندوتو کے غلبے کا خواہاں ہے‘ انہیں ہندوستانی قومیت سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ ہندو قومیت ان کے ماتھے کا جھومر اور ہندو شناخت ان کا تمغہ امتیاز ہے۔ ان کے کچھ بے ہودہ میسج کو ہم باتھ روم کی بکواس کہہ کر خارج کرسکتے ہیں لیکن وہ میسج جن میں استدلال‘ عقلیت اور تاریخ کا سہارا لیا گیا ہے ‘ انہیں ہم یکسر نظرانداز نہیں کرسکتے بلکہ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہندوستان میں عقلیت پسندوں کا بھی ایک طبقہ فاسشت ہے اور یہ طبقہ ہندوستان میں اتنا ہی سرگرم عمل ہے جتنا کہ صیہونی طبقہ اسرائیل میں۔
اب اس طرح کے میسج پر اطلاع پانے کے بعد اگر مسلمان بھڑک جائیں اور پرتشدد واقعات رونما ہوجائیں تو فورا مسلمانوں پر یہ الزام لگا دیا جائے گا کہ ان کے یہاں رواداری نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ یہ ہمیشہ دہشت پھیلانے کے لئے تیار بیٹھے رہتے ہیں اور یہ کہا جائے گا کہ مذہب اسلام میں ہی کچھ ایسی باتیں ہیں جن کی بناء پر مسلمان فورا اشتعال انگیزی پر اترآتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی نہ جانے کیسی کیسی دل آزار باتیں کہی جائیںگی‘ لیکن اس حقیقت کو مدنظر رکھنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہوگا کہ ردعمل میں ہونے والے تشدد سے زیادہ وہ دانستہ عمل قابل مذمت ہے جس نے تشدد بھڑکانے کا کام کیا ہے۔ ویسے بھی تشدد کے لئے صرف اسلحہ کا ہی استعال ضروری نہیں ہے بلکہ سافٹ ویئر کے اس دور میں سافٹ ویئر لینس بھی اپنے عروج پر ہے۔ کھلے ذہن کے ساتھ اگر اس مسئلے پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی کہ مسلمان نہ تو نفرت کی تجارت کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو اس کی اجازت دیتے ہیں‘ ان کا مذہب انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ دوسرے مذاہب کے ’’مذہبی رہنمائوں‘‘ کے متعلق دشنام طرازی کریں یا ان کے رسوم و روایات کا مذاق اڑائیں اور نہ ہی اس کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی مقدس ہستیوں کے تعلق سے گستاخانہ تحریر و تقریر چپ چاپ پڑھتے اور سنتے رہیں۔
اسلام وہ مقدس مذہب ہے جس نے قبیلوں میں بٹی عرب قوم کو اخوت کی لڑی میں پرودیا۔ مسلمان جہاں گئے انہوں نے اخوت و رواداری کا پیغام عام کیا‘ اسلام کا پیغام جہاں بھی پہنچا اس نے دلوں کو مسخر کرلیا۔ لوگ بلا کسی مزاحمت کے اس کے دامن کرم سے وابستہ ہوتے چلے گئے۔ خصوصیت کے ساتھ ہندوستان کے ہندو مسلمانوں پر عدم رواداری کا الزام کسی بھی طرح نہیں لگا سکتے کیونکہ صوفیاء کرام کے دامن عافطت میں اتنی پنہائی تھی کہ لوگ بلا تفریق مذہب و ملت ان کے دامن میں آکر پناہ لیا کرتے تھے۔ اس مقدس جماعت سے لوگوں کی گرویدگی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے بعض امراء اور علماء کے رویہ سے دلبرداشتہ ہوکر دہلی چھوڑنے کا ارادہ فرمالیا۔ خبر ملنے پر عوام کا ایک جم غفیر اکھٹا ہوگیا اور آپ کی جدائی کے صدمے سے بلک بلک کر رونے لگا۔ آخرکار حضرت خواجہ کو ان کے حال زار پر رحم آگیا اور آپ نے اپنا ارادہ  ترک فرمادیا اور پھر ہمیشہ کے لئے دہلی کے ہی ہوکر رہ گئے۔ لوگوں کی عقیدت کا یہی حال ہندوستان کے دوسرے صوفیاء کرام کے ساتھ بھی رہا اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان ان نفوس قدسیہ کے عہد عروج میں محبت و الفت کا لالہ زار بنا رہا۔
آخری بات
گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ یہاں نفرت کی سوداگری کا کوئی مستقبل نہیں ہے لیکن ایسے وقت میں جبکہ ساری دنیا دہشت گردی اور دہشت گرد طاقتوں کے خلاف صف آراء ہے‘ ہندو مذہب کے علمبردار ان دہشت گردوں سے ہندوستان کے سیکولر ڈھانچے کو سخت خطرہ لاحق ہے۔ ان کا حلقہ اثر روز بروز بڑھتا جارہا ہے‘ نوجوان ہندوئوں کو فکری طور پر یرغمال بنایا جارہا ہے‘ لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہندوستانی دانشور‘ سیکولر ازم کے علمبرداران اور تمام محبان وطن آگے آئیں اور نفرت کے ان تاجروں‘ افتراق و انتشار کے ان سوداگروں سے ہندوستانی عوام کو بچانے کی کوشش کریں اور حکومت کو بھی چاہئے کہ ملک میں رونما ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں اکثریتی طبقے کے بعض افراد کی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے ہوش کے ناخن لے اور ایسی طاقتوں کی پیش قدمی روکنے میں اتنی ہی دلچسپی دکھائے جتنی سیمی کے سلسلے میں دکھائی ہے تاکہ بقائے باہم کی فضا قائم ہو۔ محبت و الفت کی باد بہاری چلے اور سارے ہندوستانی باہم مل جل کر ملک کی تعمیر و ترقی میں رول ادا کریں اور پھر چڑھتے سورج کی طرح فرقہ پرستوں پر یہ بات واضح ہوجائے کہ مسلمانوں کو علیحدہ کرکے دیکھا جانے والا ہندوستان کے درخشندہ مستقبل کا ہر خواب محض خواب پریشاں ہے۔ سماج کا ہر طبقہ سکون و اطمینان کے ساتھ  زندگی گزارے اور پھر ایک دوسرے کو سمجھنے کے مواقع فراہم ہوں‘ دوریاں سمٹیں اور لوگ مذہب اسلام کے غیر جانبدار مطالعے کی جانب مائل ہوں اور مجھے امید ہے کہ اگر ایسا ہوا اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے تعصب کی عینک اتار کر‘ ذہن و فکر کے دریچے وا کرکے اسلام کے مطالعے کی کوشش کی تو انہیں اسلامی تعلیمات میں زندگی گزارنے کے ایسے ابدی اور آفاقی اصول نظر آئیں گے کہ وہ اپنے آپ کو اسلام کے دامن رحمت سے وابستہ کرنے میں فرحت و انبساط محسوس کریں گے اور پھروہ خود مذہب اسلام کی نصرت و حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔