وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون
اور نہیں پیدا فرمایا میں نے جن و انس کو مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں (جمال القرآن)
یعنی انسان کا باطن بقعہ نور رب بنتا ہے جب اسے عرفان الٰہی نصیب ہو اور یہ دولت تب تک حاصل نہیں ہوتی جب تک انسان اپنی خواہشات قربان کرتے ہوئے اور شہوات سے اعراض برت کر اس کے احکام کی تعمیل میں سرتاپا تصویر عمل نہیں بن جاتا۔ خالق کائنات نے جہاں انسان کے حسن ظاہری کو بام عروج تک پہنچانے کے لئے ان گنت نعمتیں پیدا فرمائیں اور ان کے استعمال کا اختیار انسان کو ودعیت فرمایا تو ساتھ ہی یہ بھی ارشاد فرمایا:
لئن شکرتم لاازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید
اگر تم پہلے احسانات پر شکر کرو تو میں مزید اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی (تو جان لو) یقینا میرا عذاب شدید ہے (جمال القرآن)
پھر شکران نعمت کے لئے انسان کو اس رزمگاہ حیات میں کامیابی کے ساتھ منازل قرب طے کرانے کے لئے اسے اپنی جانب سے چند عبادات کا مکلف بنادیا۔ نتیجتاً جو کوئی اس نظام پر عمل کرتے ہوئے اپنی حیات مستعار کے شب و روز بسر کرتا رہے گا تو وہ بالیقین کامیابی کی منزل سے ہمکنار ہوگا۔ ان عبادات میں سے کچھ فرائض ہیں اور کچھ واجبات۔ بعض کا تعلق انسان کی ذات سے ہے اور بعض کا مال ہے۔ جو عبادات بدن سے متعلق ہیں وہ بدنیہ کہلاتی ہیں اور جن کا تعلق مال سے ہے وہ مالیہ کہلاتی ہیں۔ علاوہ ازیں رب کائنات نے انسان کو مقام انسانیت کی رفعتوں اور بلندیوں پر فائز کرنے کے لئے اپنی ہی جناب سے دی ہوئی نعمتوں کو اپنے راستے پر خرچ کرنے کی بار بار ترغیب دی۔ ارشاد فرمایا۔
لن تنالو البر حتی تنفقوا مما تحبون‘ وما تنفقوا من شئی فان اﷲ بہ علیم
ہرگز نہ پاسکو گے تم کامل نیکی (کا رتبہ) جب تک خرچ نہ کرو (راہ خدا میں) ان چیزوں سے جن کو تم عزیز رکھتے ہو اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو بلاشبہ اﷲ تعالیٰ اسے جانتا ہے (جمال القرآن)
گویا مختلف انداز میں یہ باور کرایا گیا اور انسانی ذہن میں یہ راسخ کیا گیا کہ اس کے پاس جو کچھ بھی ہے اس کا حقیقی مالک اﷲ تعالیٰ ہے اور یہ اس کا محافظ ہے۔ وہ سب عارضی اور فانی ہے دوام اور بقاء صرف اسے ہی حاصل ہے جو اﷲ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے اس کے رستے میں خرچ ہوجائے۔ لہذا حضور نبی کریمﷺ نے یہی سبق انتہائی حکیمانہ انداز میں اپنے صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کو یاد کرایا۔
حضرت مطرف اپنے باپ حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے ذکر کرتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ  کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضورﷺ فرما رہے تھے۔
الھٰکم التکاثر
تمہیں مال کی کثرت نے غافل کردیا ہے۔
انسان کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال۔ اے انسان تیرے مال میں ترا حصہ کچھ نہیں بجز اس کے جو تم نے کھالیا اور ختم کردیا یا پہن لیا اور اسے پرانا کردیا‘ یا صدقہ کردیا اور آخرت کے لئے بطور زاد بھیج دیا۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ جانے والا ہے۔ اور لوگوں کے لئے چھوڑنے والا ہے۔ چنانچہ رب کریم کے وہ محبوب بندے جو اس حقیقت سے آشنا ہوتے ہیں کہ سب کچھ رب کریم کا عطا کردہ ہے تو جب وہ اپنے ہی دیئے سے اپنے ہی راستے میں خرچ کرنے کا ارشاد فرماتا ہے تو اگر سارا مال بھی خرچ کردینے سے اس کی خوشنودی اور رضا حاصل ہوجائے تو یقینا یہ سعادت مندی ہے۔
عبادات مالیہ میں سے ایک عظیم عبادت قربانی ہے جو صاحب استطاعت افراد پر ہر سال مخصوص ایام اور اوقات میں واجب ہے۔ یہ فی الحقیقت رب کریم کے پیارے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یاد ہے جب آپ نے مسلسل تین راتیں عالم خواب میں قربانی کا حکم پاکر اپنی جان سے عزیز لخت جگر حضرت اسماعیل ذبیح اﷲ علیہ السلام کے پھول کی پتی سے نازک اور ریشم سے نرم گلے پر اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں چھری رکھ دی تھی اور اس قربانی کے سبب رضائے الٰہی کی حدوں کو چھو کر ملائکہ کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا اور یہ واضح کردیا کہ ابراہیم کا دل اپنے رب کے سوا کسی کا مسکن نہیں۔ وہ محبت الٰہی سے معمور ہے۔ کسی اور کی محبت اس پر غالب نہیں۔ اسکے تمام تر جذبات محبت خداوندی کے تابع ہیں۔ رب کریم کو یہ ادا پسند آئی اور اپنے پیارے خلیل کی اس قربانی کو اپنی بارگاہ عالیہ میں شرف قبولیت عطا فرما کر جبرائیل امین کو جنت سے دنبہ لے جانے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اور اسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح کرایا۔ پھر رب کریم نے اس سنت ابراہیم کو ہمیشہ کے لئے باقی رکھا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ’’اور ہر امت کے لئے ہم نے مقرر فرمائی ایک قربانی تاکہ وہ ذکر کریں اﷲ تعالیٰ کے اسم (پاک) ان بے زبان جانوروں پر ذبح کرتے وقت جو اﷲ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائے ہیں (جمال القرآن)
پھر ہر دور میں قربانی کا یہ سلسلہ چلتا رہا حتی کہ زمانہ جاہلیت میں بھی قربانی کا رواج رہا۔ مگر ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ جانور ذبح کرنے کے بعد خون کعبہ معظمہ کی دیواروں سے لگا دیتے اور گوشت بتوں کے سامنے اکھٹا کردیتے تھے۔ بعد ازاں جب حضور نبی رحمت خاتم المرسلینﷺ کا تاج سجائے مبعوث ہوئے تو خالق کائنات نے قربانی کاحکم باقی رکھتے ہوئے فرمایا۔
فصل لربک وانہر
پس آپ نماز پڑھا کریں اور اپنے رب کے لئے قربانی دیں (اسی کی خاطر)
اور ساتھ ہی زمانہ جاہلیت کی اس ناپسندیدہ رسم کو جڑ سے اکھیڑنے کیلئے ارشاد فرمایا۔
لن ینال اﷲ لمومھا ولا دماء ماولکن ینالہ التقویٰ منکم (جمال القرآن سورہ حج ۳۷)
ترجمہ: نہیں پہنچتا اﷲ تعالیٰ کو ان کے گوشت اور نہ ان کے خون البتہ پہنچتا ہے اس کے حضور تک تقویٰ تمہاری طرف سے۔
یعنی رب کریم کو ان جانوروں کے گوشت اور خون کی قطعا ضرورت نہیں۔ وہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کس قدر خوف الٰہی اور تقویٰ موجود ہے۔ اطاعت و فرمانبرداری کے کتنے جذبات موجزن ہیں۔
آقا دوجہاںﷺ اپنی حیات طیبہ میں مسلسل قربانی کرتے رہے اور صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کو بھی اس کی عظمت و اہمیت سے آگاہ فرمایا۔ لہذا اب آپﷺ کی امت کے لئے قربانی دینا سنت ابراہیمی بھی ہے اور سنت مصطفیٰﷺ بھی۔
قربانی کی تعریف
کتب فقہ میں قربانی کے لئے لفظ اضحیہ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے۔ لغت میں اضحیہ ہہر اس جانور کا نام ہے جسے قربانی کے دن ذبح کیا جاتا ہے۔ اس کی جمع اضاحی ہے۔ اصطلاح شرع میں اضحیہ سے مراد مخصوص وقت میں جانور کو ذبح کرنا ہے۔
قربانی کا حکم
حضرت امام طحاوی نے ذکر فرمایا ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کے نزدیک قربانی دینا واجب ہے۔ اور صاحبین کے نزدیک قربانی دینا سنت موکدہ ہے (حاشیہ کنز الدقائق کتاب الاضحیہ)
قربانی کی اہمیت
قربانی کی اہمیت محتاج بیان نہیں۔ لیکن اپنے محبوب آقاﷺ کا ارشاد ملاحظہ فرمایئے۔
حضرت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں۔ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کے دن آدمی کا کوئی عمل اﷲ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں۔ بے شک قیامت کے دن وہ جانور اپنے سینگوں بالوں اور کھروں کے ساتھ حاضر ہوگا۔ خون زمین پر گرنے سے قبل وہ رب کریم کی بارگاہ میں مقام قبول پر پہنچ جاتا ہے۔ پس تم خوش دلی کے ساتھ عمل کرو (یہ حدیث حسن غریب ہے) حوالہ ترمذی باب ماجاء فی فصل الاضحیہ جلد ۱ ص ۲۷۵)
وجوب کی بنیادی شرائط
قربانی کے وجوب کے لئے بنیادی طور پر چار شرائط کا ہونا ضروری ہے۔
1۔ آزاد ہونا
2۔ مسلمان ہونا
3۔ مقیم ہونا
4۔ خوشحال ہونا
مذکورہ بالا شرائط کا قربانی کے مکمل وقت کو محیط ہونا ضروری نہیں۔ بلکہ وقت کے کسی حصہ میں ان شرائط کاپایا جانا قربانی کے وجوب کے لئے کافی ہے۔ مثلا ایک شخص قربانی کے پہلے دن کافر تھا۔ دوسرے دن مسلمان ہوگیا‘ مسافر تھا مقیم ہوگیا۔ فقیر تھا دوسرے دن کہیں سے دولت ملی خوشحال ہوگیا تو اس پر قربانی واجب ہوگئی۔ بشرطیکہ دیگر شرائط پائی جائیں۔ (عالمگیری)
مسائل قربانی
اگر آدمی کے پاس نصاب موجود ہو‘ مگر اس کے ذمہ لوگوں کا اتنا قرض واجب الادا ہو کہ ادا کرنے سے نصاب باقی نہ رہے‘ یا اس کے پاس نصاب کا کچھ حصہ موجود ہو اور باقی لوگوں کو بطور قرض دے رکھا ہو لیکن قربانی کے ایام گزرنے تک وہ واپس نہ ملے تو ہر دو صورت میں قربانی واجب نہ ہوگی (عالمگیری)
اگر آدمی پہلے صاحب نصاب ہو مگر قربانی کا دن آنے تک وہ باقی نہ رہا بلکہ اس کا سامان چوری ہونے یا جل جانے یا کسی اور وجہ سے نقصان ہونے کے سبب نصاب سے کم ہوگیا تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی (الجوہرۃ نیرۃ)
صاحب نصاب نے قربانی کا جانور خرید رکھا تھا مگر قربانی کا دن آنے سے پہلے وہ گم ہوگیا اور ساتھ ہی وہ شخص نصاب کا مالک بھی نہ رہا تو اس پر نیا جانور خرید کر قربانی دینا لازم نہیں۔ بلکہ اگر وہ جانور مل بھی جائے مگر اس کے باوجود وہ صاحب نصاب باقی نہ رہے تو اس پر یہ قربانی واجب نہیں (عالمگیری)
قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے۔ لہذا کسی نے قربانی کی جگہ زندہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کردی تو یہ جائز نہیں۔ واجب ذمہ سے ساقط نہیں ہوگا۔ اس لئے قربانی کے دنوں میں جانور ذبح کرنے سے ہی واجب الادا ہوگا۔
وہ مقامات جہاں عید کی نماز ادا کی جاتی ہے‘ چاہے وہ شہر ہو یا دیہات‘ ان میں عید کی نماز ادا ہونے کے بعد ہی قربانی ہوسکتی ہے۔ عید کی نماز سے پہلے قربانی کرنا جائز نہیں۔ اور جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی‘ وہاں طلوع آفتاب کے بعد قربانی کرنا درست نہیں (ہدایہ ‘ عالمگیری)
اگر کسی نے عید کی نماز کے بعد مگر خطبہ سے پہلے قربانی کی تو اس صورت میں قربانی ہوجائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔
قربانی کا جانور کیسا ہونا چاہئے
بنیادی طور پر جن جانوروں کی قربانی دی جاسکتی ہے وہ تین ہیں۔ اونٹ‘ گائے اور بکری۔ پھر بھیڑ بکری کے ضمن میں اور بھینس گائے کے ضمن میں داخل ہے۔ اس لئے کہ یہ ایک دوسرے کے ہم جنس ہیں۔
عمر کے اعتبار سے اونٹ کی عمر پانچ سال یا زیادہ گائے کی عمر دو سال یا اس سے زیادہ اور بکری کی عمر ایک سال سے یا اس سے زائد ہونا ضروری ہے۔ اگر ان جانوروں کی عمر اس سے کم ہوگی تو قربانی جائز نہیں ہوگی۔ البتہ ایسا دنبہ جس کی عمر ایک سال سے کم ہو مگر چھ ماہ یا اس سے زائد ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ اتنا موٹا ہو کہ دور سے ایک سال کا دکھائی دے (ہدایہ‘ در مختار‘ الجوہرہ)
مذکورہ جانوروں میں بکری‘ بھیڑ اور دنبہ صرف ایک آدمی بطور قربانی دے سکتا ہے۔ جبکہ گائے‘ بیل‘ بھینس اور اونٹ کی قربانی میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔ شرکت کی صورت (اجتماعی قربانی) میں یہ لازم ہے کہ جانور کا گوشت وزن کے ساتھ سات حصوں میں برابر برابر تقسیم کیا جائے۔ اندازے سے گوشت کی تقسیم جائز نہیں اور یہ تصور بھی درست نہیں کہ کمی بیشی ایک دوسرے کو معاف کردیا جائے (ہمیشہ تول کر ہی گوشت آپس میں تقسیم کیا جائے) کیونکہ یہ شریعت کا حق ہے۔ لہذا اسے معاف کرنے کا اختیار شرکاء کو حاصل نہیں (الجوہرہ نیرہ‘ در مختار)
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں۔
1۔ ایسا کانا جانور جس کا کاناپن ظاہر ہو
2۔ ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو
3۔ ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو
4۔ اتنا کمزور جس کی ہڈیوں میں مغز باقی نہ رہے۔
(امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے) … (ہدایہ‘ النہایہ)
1۔ مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور مکمل طور پر عیب سے پاک اور خالی ہو۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو معمولی عیب کے ہوتے ہوئے قربانی درست ہوگی اور اگر عیب کی مقدار زیادہ ہو تو پھر قربانی جائز نہیں ہوگی مثلا چاہئے کہ قربانی کے جانور کے تمام اعضاء سلامت ہوں۔ آنکھ‘ کان‘ سینگ‘ ناک‘ دانت اور دم وغیرہ۔ اگر یہ تمام اعضاء اپنی جگہ پر درست ہوں تو جانور مکمل ہے اور اس کی قربانی عند الشرع صحیح ہوگی۔ اور اگر اعضاء میں سے کسی میں کوئی نقص ہو تو وہ عیب ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے عیب کے ہوتے ہوئے قربانی درست ہوگی۔ تو اگر جانور کی آنکھ میں بھینگا پن موجود ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر جانور کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہو یا بالکل اندھا اور نابینا ہو تو پھر اس کی قربانی جائز نہیں۔
2۔ اگر جانور کے دونوں کان یا ایک کان پیدائشی طورپر نہیں تو اس کی قربانی جائز نہیں اور اگرکان موجود ہوں مگر نسبتا چھوٹے ہوں قربانی جائز ہے۔ اسی طرح اگر جانور کی دم یا لاٹ ابتداء موجود ہی نہ ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں اور اگر موجود ہو مگر نسبتا مقدار میں کم ہو تو جائز ہے۔ اور اگر کسی جانور کے کان‘ دم اور لاٹ کٹے ہوئے ہوں تو اگر ان کی تہائی یا اس سے کم مقدار کٹی ہوئی ہے تو ان کی قربانی درست ہے اور اگر تہائی سے زیادہ مقدارمیں کٹی ہوئی ہو تو پھر قربانی جائز نہیں (ہدایہ ‘ الجوہرۃ النیرۃ)
3۔ اگر جانور ایسا ہو جس کے سینگ پیدائشی طورپر نہ ہوں‘ یا سینگ تو ہوں مگر اوپر سے ان کا غلاف ٹوٹ جائے تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے اور اگر سینگ اندر سے ہڈی کے جوڑ تک ٹوٹ جائے تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں (در مختار‘ عالمگیری)
4۔ اگر جانور کی ناک کٹی ہوئی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔
5۔ اگر جانور میں لنگڑا پن ہو اور اس قدر ہو کہ وہ اپنا پائوں زمین پر نہ رکھ سکے اور پائوں سے چل کر قربان گاہ تک نہ جاسکے تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔
6۔ اسی طرح اگر کسی جانور کے دانت ٹوٹ جائیں یا نکل جائیں‘ اگر اتنے دانت باقی ہوں جن سے وہ آسانی سے چارہ کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اور اتنی مقدار میں دانت باقی نہ ہوں تو پھر قربانی جائز نہیں (البنایہ‘ الجوہرۃ النیرۃ)
7۔ اگر جانور خارش زدہ ہو‘ مگر خارش کے اثرات صرف جلد تک محدود ہوں اور وہ جانور اچھا موٹا تازہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر اس کے اثرات گوشت تک پہنچ جائیں اور جانور اتنا کمزور ہوجائے کہ اس کی ہڈیوں میں مغز باقی نہ رہے تو پھر قربانی جائز نہیں (البنایہ‘ الجوہرۃ النیرۃ)
8۔ اگر جانور خصی ہو یا اس سے دودھ نہ اترتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے بشرطیکہ اس کے دودھ کے تھن سلامت ہوں۔ یا پھر گائے‘ بھینس کا ایک تھن خشک ہو اور تین سلامت ہوں تو اس صورت میں قربانی جائز ہے اور اگر بکری کا ایک تھن‘ اور گائے بھینس کے دو دو تھن خشک ہوجائیں تو پھر ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں (در مختار‘ عالمگیری)
9۔ اگر جانور کو ذبح کرنے کے وقت اچھلنے کودنے کے سبب کوئی عیب لاحق ہوگیا۔ تو یہ عیب اس کے لئے مضر نہیں۔ اس کی قربانی صحیح ہوگی (در مختار‘ البنایہ)
نوٹ: قربانی صرف تین دن ہے‘ چوتھے دن کی قربانی ناجائز ہے۔ حضورﷺ ‘ صحابہ کرام‘ تابعین‘ تبع تابعین ‘ اولیاء کرام اور آج تک لوگ صرف تین دن قربانی کرتے چلے آرہے ہیں۔ اسی پر اجماع امت ہے۔ چوتھے دن قربانی کرنا دین میں بدعت اور فتنہ ہے لہذا مسلمانوں کو اس فتنے سے بچنا چاہئے۔