نئی صدی میں دعوت و تبلیغ کے لئے ہم کتنے حساس ہیں ؟

in Tahaffuz, December 2008, ڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی, متفرقا ت

اسلام ایک دعوتی دین ہے‘ جو سب کے لئے ہے اور سدا کے لئے ہے۔ ایک ایسے دین میں دعوت و تبلیغ کا فرائض کی فہرست میں سب سے اوپر ہونا بالکل فطری بات ہے۔ اسلام اکیلا ایسا دین ہے جو اپنی دعوت میں زمان و مکان سے ماورا‘ رنگ و نسل سے بلند اور لسانی و اقلیمی حدود و قیود سے پوری طرح آزاد ہے۔ وہ ہر انسان کو اس کے خالق و مالک کی طرف بلاتا ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب‘ قدیم ہوں یا معاصر‘ یا تو غیر دعوتی ہیں یا پھر ان کی دعوت نسلی‘ لسانی یا جغرافیائی حدود میں مقید ہے۔ بدھ ازم برہمنیت کی تعدیت اور ظلم کے ردعمل میں پیدا ہونے والی ایک تحریک ہے جو ایک مستقل مذہب کے لئے ضروری عناصر سے خالی ہے اور رہی عیسائیت تو وہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصریحات کے مطابق صرف بنو اسرائیل کے لئے تھی‘ جسے ان کے متبعین نے ان کی تعلیمات کے برخلاف عالمی بنانے کی کوشش کی ہے۔ صرف اسلام ہے جو عالمی و دائمی پیغام کا حامل ہے۔ اسی لئے اس کے لانے والے رسولﷺ رحمتہ للعالمین کا تاج اور للعالمین نذیرا کی قبائے زیبا پہنا کر بھیجا گیا ہے اور انہیں بعثت کے بعد جو پہلا حکم دیا گیا ہے وہ دعوت و تبلیغ کا تھا۔ اے محبوب! ڈرانا شروع کیجئے ’’قم بانذر‘‘ (المدثر ۲) اور اپنے اعزاء کو ڈرایئے ’’وانذر عشیرتک الاقربین‘‘ (الشعراء ۲۱۴)  اے رسول! جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کیجئے ’’یاایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک‘‘ (المائدہ ۶۷) اپنے رب کی طرف دعوت دیجئے ’’ادع الی سبیل ربک‘‘ (النحل ۱۲۵)
دعوت وتبلیغ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا مطالبہ حسب استعداد و علم ہر ایک سے ہے ’’فلیبلغ الشاہد الغائب‘‘ (متفق علیہ) اور جس کے پاس جوہے اس سے اسی دعوت و تبلیغ مطلوب ہے ’’بلغوا عنی ولو آیۃ‘‘ (صحیح البخاری) دعوت و تبلیغ کی فرضیت پر صحابہ کرام اور ائمہ اسلام کا اجماع ہے۔ البتہ فرضیت کی نوع کو لے کر اہل علم میں اختلاف ہے۔ کسی نے فرض عین مانا ہے تو کسی نے فرض کفایہ قرار دیا ہے۔ فرض کفایہ ماننے والے آیت کریمہ ’’ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر‘ویامرون بالمعروف وینہون عن المنکر‘ واولٰئک ہم المفلحون‘‘ (آل عمران ۱۰۴) میں وارد کلمہ ’’من‘‘ کو تبعیضیہ مانتے ہوئے استدلال کرتے ہیں کہ دعوت و تبلیغ کا مطالبہ صرف مسلمانوں کے ایک گروہ سے ہے نہ کہ سب سے۔ بہت سے علماء مفسرین نے اس موقف کو اختیار کیا ہے۔ اس کی تائید میں اور بھی دلائل ہیں جبکہ فرض عین ماننے والے ’’من‘‘ کو بیانیہ قرار دیتے ہیں‘ ان کے نزدیک دعوت و تبلیغ امت کے ہر مکلف فرد سے مطلوب ہے۔ امام رازی نے تفسیر کبیر میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ اس کی تائید مذکورہ بالا دونوں احادیث سے بھی ہوتی ہے‘ بلکہ خود اسی آیت کے آخری فقرے سے اس کی توثیق ہوتی ہے جس میں الامر بالمعروف والنہی عن المنکر کرنے والوں میں کامیابی کو محصور کیا گیا ہے‘ جس کا واضح مطلب ہے کہ دعوت و تبلیغ سبھی سے مطلوب ہے۔ ایک دوسری آیت میں صاف طور پر امت محمدیہ کی ’’خیریت‘‘ کو دعوت و تبلیغ کے ساتھ مشروط کردیاگیاہے۔ ’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس‘‘ تامروں بالمعروف وتنہون عن المنکر‘‘ (آل عمران ۱۱۰) علماء کی رائے میں اختلاف کا سبب نصوص کا ظاہری تعارض ہے۔ اور ان میں توفیق و جمع کی ایک صورت یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کا فریضہ دو سطحی ہے‘ یہ فرض عین بھی ہے اور کفائی بھی‘ چونکہ یہ حسب استطاعت و صلاحیت امت کی ہر فرد سے مطلوب ہے لہذا اس حیثیت سے یہ فرض عین ہے اور امت یا اولی الامر یا اس کے نائبین سے یہ بھی مطالبہ  ہے کہ وہ دعوت و تبلیغ کے کام کے لئے ماہرین و مخصصین کی ایسی جماعت تیار کریں جو ہر اعتبار سے اعلیٰ ترین استعداد کی حامل ہوں اور اس حیثیت سے یہ عمل فرض کفائی ہے۔
دعوت و تبلیغ کی اہمیت کو اس بے پناہ اجر وثواب سے بھی سمجھا جاسکتا ہے‘ جو اس کے لئے مقرر کیا گیاہے‘ صرف ایک آدمی کی ہدایت سرخ اونٹوں (حمر النعم) (صحیح البخاری) بلکہ پورا نظام شمسی (مما طلعت علیہ الشمس) (المستدرک علی الصحیحین) ملنے سے بہتر ہے۔
۲۔ دعوت و تبلیغ انسان کے فکر و سلوک میں ہمہ جہتی تغیر پیدا کرنے کا نام ہے۔ جو سیدی محبوب الٰہی کے لفظوں میں ’’اسلام صحیح‘‘ ہے۔ اس کی حاجت ہر ایک کو ہے اور ہمیشہ ہے‘ مسلم ہو یا غیر مسلم‘ نیک ہویا بد‘ لہذا دعوت و تبلیغ کا تعلق بھی سبھی سے ہے۔ آج ہماری تبلیغی مساعی صرف مسلمانوں میں محصور ہوکر رہ گئی ہیں۔ غیر مسلموں میں دعوت و تبلیغ ہمارے دعوتی ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے۔ بلکہ اگر ہم ہندوستانی و جماعتی تناظر میں دیکھیں تو مسلمانوں میں بھی ہماری دعوت و تبلیغ کا ماحاصل مردوں کے لئے ایصال ثواب اور زندوں کے لئے دعا و تعویذ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ہماری پژمردگی ومہجوری‘ پستی و مقہوری اور میدان حیات سے ہماری دوری کے جملہ اسباب میں ایک یہ بھی ہے کہ ہم اس جلیل القدر فریضے سے بیگانگی برت رہے ہیں۔ اگر ہم اﷲ کے دین کی مدد کریں گے تو وہ ہماری مدد فرمائے گا‘ یہ اس کا وعدہ ہے (ان تنصر اﷲ ینصرکم) (سورہ محمد ۷)
چونکہ ایک غیر مسلم میں اصلا فکر و عقیدے کی تبدیلی مطلوب ہوتی ہے اور ایک مسلمان میں عموما سلوک و عمل کی اصلاح درکار ہوتی ہے لہذا مقصدیت کے اس اختلاف کے پیش نظر دونوں کے منہج‘ مواد اور پیشکش میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔ مثلا اگر ہم کسی اہل کتاب کو دعوت دیں گے تو ابتداء میں اسلام کی عالم گیریت‘ رسول اکرمﷺ کی رحمتہ للعالمینی‘ قرآن میں وارد انبیائے کرام کے ذکر اور ان کے احترام و توقیر کے سلسلے میں اسلامی احکام وغیرہ کو موضوع بنائیں گے اور آسمانی مذاہب کے مشترکہ فکری و تاریخی عناصر کو زیر گفتگو لائیں گے۔
۳۔ یہ عنوان درحقیقت ایک بڑے علمی مذاکرے کا موضوع بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دعوت و تبلیغ کے تقاضے آج بھی غالبا وہ ہیں جو ہر دور میں رہے ہیں‘ البتہ ایک جوہری تبدیلی یہ آئی ہے کہ آج مواد کے مقابلے میں پیشکش کو کہیں زیادہ اہمیت حاصل ہوگئی ہے اور اس چیز کو زندگی کے تمام شعبوں میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ ان تقاضوں میں کچھ نظری ہیں تو کچھ عملی‘ اول الذکر میں علمی‘ نفسیاتی اور معاشرتی تقاضے شامل ہیں۔
ایک داعی کے لئے علم سب سے بڑی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں اسے اپنے علم کی پیشکش پر خاطر خواہ قدرت بھی چاہئے۔
نفسیاتی تقاضے میں سرفہرست یہ ہے کہ اﷲ و رسول پر کامل ایمان ہو اور اپنے اسلام پر فخر و اعتزاز ہو۔ مزید یہ کہ وہ صبر و اخلاص اور جرات سے متصف ہو‘ لوگوں میں گھلنے ملنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور مدعوین کے احوال اور ان کے ماحول سے خوب واقف ہو۔
معاشرتی تقاضا اوصاف کی ایک طویل فہرست پر مشتمل ہے جن میں سب سے نمایاں یہ ہے کہ وہ خلوت و جلوت میں اسلامی زندگی گزارتا ہو اور صدق و صفائ‘ جودوسخائ‘ زہد وتواضع اور عفو وکرم جیسے اخلاق عالیہ سے آراستہ ہو۔
عملی تقاضا یہ ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ اور وسائل دعوت تبلیغ کے استعمال کی صلاحیت رکھتا ہو مثلا اگر وہ تقریر و خطاب کو دعوت و تبلیغ کا ذریعہ بناتا ہے تو اسے زبان و بیان پر قدرت‘ اسالیب خطاب کی معرفت اور ایک اچھے خطیب کی صفاتو ممیزات سے واقفیت ہونی چاہئے۔ اس کے لئے عقل کو متوجہ کرنے والے دلائل اور دل کو متاثر کرنے والا انداز چاہئے اور اسے انسانی نفسیات سے خاطر خواہ باخبر ہونا چاہئے۔ عملی تقاضے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ داعی کو حسب امکان اپنے چہرے مہرے‘ حرکات و سکنات اور لباس و انداز میں دلکش وباوقار ہونا چاہئے۔
دعوت و تبلیغ کے باب میں اس کا اسلوب سب سے اہم ہے۔ ہمارے یہاں خانقاہی نظام کے خاتمے کے ساتھ دعوت و تبلیغ کا اسلوب بھی کبریت احمر ہوگیا ہے۔ اہل سنت کی سربلندی کے لئے‘ فکری و عملی دہشت گرد جماعتوں نے دعوت کے عمل کو گزشتہ سو برسوں میں جو نقصان پہنچایا ہے‘ اس کی تلافی کے لئے اور دعوت و تبلیغ کے عمل کو ازسرنو شروع کرنے کے لئے خانقاہی نظام کی استواری اور ’’درگاہیت‘‘ سے چھٹکارا پانا ازبس ضروری ہے‘ کیونکہ یہ وہ باڑھ ہے جو اپنا کھیت کھا رہی ہے بلکہ کھا چکی ہے۔ موجودہ خانقاہوں کے ہر اس فرد کو جو دل میں درمندی اور نگاہوں میں بلندی رکھتا ہے ‘ کسی سوزوزیاں یا لومتہ لائم کی پرواہ کئے بغیر اس کام کے لئے آگے آنا چاہئے اور صحیح طور پر یہی حضرات اس کارگرانبار کوانجام دے سکتے ہیں۔
بہرکیف دعوت و تبلیغ کے قرآنی اسلوب کے بعض اہم نکات یوں ہیں۔
(۱) قول حسن (بھلی بات) وقولو للناس حسنا (البقرہ ۸۳)
(۲) گفتگو و خطاب میں لینت و نرمی فقولا لہ قولا لینا (طہ ۴۴) واضح رہے کہ اس آیت کریمہ میں حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو جس مدعو سے نرم گفتگو کرنے کو کہا جارہا ہے‘ وہ فرعون جیسا باغی و طاغی ہے جکہ آج کے اصحاب منبر و محراب عام کافر تو کجا مسلمانوں کو بھی اس کا مستحق نہیں سمجھتے۔
(۳) بصیرت و دانائی قل ہذہ سبیلی ادعوالی اﷲ علی بصیرۃ انا من اتبعنی (یوسف ۱۰۸)
(۴) حکیمانہ پیشکش
(۵) ناصحانہ انداز و لب و لہجہ
(۶) جدال حسن (بشرط ضرورت) اور موخر الذکر تینوں نکات کی جامع یہ معروف آیت کریمہ ہے ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ و الموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ہی احسن (النحل ۱۲۵)
(۷) تالیف قلب‘ اس میں قال حال اور مال تینوں وسائل شامل ہیں۔
(۸) تیسیر و تبشیر‘ داعی کی پیشکش میں دین سہل اور آسان ہونا چاہئے‘ اس کا انداز ڈرانے والا‘ نفرت پیدا کرنے والا‘ یا مایوس کرنے والا نہیں ہونا چاہئے‘ بلکہ مدعو کے لئے امید و خوشی کے دروازے وا کرنے والا ہونا چاہئے۔ داعی اعظمﷺ کا فرمان ہے بعثتم میسرین (کتب الصحاح) اور یسرو ولاتعسروا وبشروا ولاتنفروا (صحیح بخاری)
(۹) اہم سے آغاز
(۱۰) فرعیات پر اساسیات کی تقدیم۔ تلک عشرۃ کاملہ
یہاں نامناسب نہ ہوگا اگر دعوت و تبلیغ کے نبوی اسلوب کا ایک نمونہ پیش کردیا جائے جو مذکورہ بالا بیشتر نکات کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ امام احمد ابن حنبل حضرت ابی امامتہ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ایک نوجوان نبی کریمﷺ کے پاس حاضر ہوا اور بولا کہ یارسول اﷲ! مجھے زنا کرنے کی اجازت دیجئے‘ یہ سن کر لوگ اس پر چڑھ دوڑے اور اسے ڈانٹنے اور خاموش کرنے لگے۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے میرے قریب کرو‘ تو وہ آپ کے قریب ہوا۔ آپ نے اس سے فرمایا : کیا یہ چیز اپنے ماں کے ساتھ پسند کروگے؟ وہ بولا: ہرگز نہیں یارسول اﷲ! اﷲ مجھے آپ پر فدا کرے تو آ پنے فرمایا: لوگ بھی اپنی مائوں کے ساتھ پسند نہیں کرتے ہیں۔ بعد ازیں اﷲ کے رسولﷺ نے بیٹی‘ بہن‘ خالہ اور پھوپھی کے حوالے سے یہی سوال کیا۔ اس نے ہر بار پہلے جیسا ہی جواب دیا اور ہر بار نبی رحمتﷺ نے اسے یاد دلایا کہ سارے لوگ اسے پسند نہیں کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ نے اپنے دست مبارک اس کے اوپر رکھا اوراس کے لئے دعا فرمائی: اے اﷲ! اس کے گناہوں کو معاف فرما‘ اس کے دل کو پاکیزگی عطا کر اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما‘ اس کے بعد اسے زنا کا خیال بھی نہیں رہا‘‘ (مسند احمد : ۲۲۲۶۵)
بعض روایت میں ہے کہ اس کے بعد اس نوجوان کے لئے زنا سے زیادہ کوئی شے نفرت انگیز نہیں رہی۔ اس سلسلے میں مسجد میں پیشاب کرنے والے اعرابی کے ساتھ نبی اکرمﷺ کے ہادیانہ اور داعیانہ سلوک کے واقعہ کو بھی ذکر کیا جاسکتا ہے جس کی تخریج امام بخاری‘ ترمذی اور ابودائود وغیرہ نے حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے کی ہے۔ ان واقعوں میں ان حضرات کے لئے درس عبرت ہے جو مختلف فیہ مستحباب کو لے کر لوگوں کوزجروتوبیخ اور تضلیل و تذلیل کو اپنے فرائض منصبی کا حصہ سمجھتے ہیں۔
تقاضا و اسلوب کے بعد اگر ہم دعوت و تبلیغ کے طریق ووسائل کو دیکھیں تو ہمارے سامنے ان وسائل کی ایک لمبی فہرست آتی ہے۔ ان میں کچھ قدیم ہیں‘کچھ جدید اور کچھ جدید ترین‘ ہمیں ان سب ذرائع کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے تقریر‘ مراسلت‘ تصنیف‘ درس و تدریس‘ لیکچر‘ سیمینار‘ کانفرنس‘ اخبار‘ میگزین‘ ریڈیو‘ ویڈیو‘ ٹیلی ویژن‘ سیٹلائٹ چینل‘ فون‘ ایس ایم ایس‘ سی ڈی اور انٹرنیٹ وغیرہ۔ جدید ذرائع ابلاغ میں امکانات و مشکلات اور منافع و محظورات سب ہیں۔ بلکہ حق یہ ہے کہ یہ سارے پہلو کم و بیش ابلاغ کے ہر ذریعے میں ہوتے ہیں۔البتہ جدید وسائل چونکہ غیر معمولی انتشار‘ سرعت اور تاثیر سے متصف ہیں لہذا ان کے محظورات زیادہ نمایاں ہوجاتے ہیں‘ لیکن ان کی یہی صفات دعوت و تبلیغ کے لئے ان کے استعمال  کی دعوت بھی دیتی ہے۔
ان وسائل کی اہمیت‘ قیمت اور ضرورت کے پورے اعتراف کے ساتھ عرض ہے کہ یہ سب مل کر افادیت میں اس ایک وسیلے کا مقابلہ نہیں کرسکتے جسے صوفیائے کرام نے رحمت عالمﷺ کی پیروی میں اختیار کیا اور وہ وسیلہ ہے خدمت خلق۔ جسے صوفیہ نے روحانی عمل کا سب سے اعلیٰ مظہر گردانا ہے‘ جسے حضرت محبوب الٰہی نے متعدی عبادت فرمایا ہے اور دوسری تمام عبادتوں پر فوقیت دی ہے (فوائد الفوائد) جس کے حوالے سے خواجہ خواجگان فرماتے ہیں کہ حقیقی عبادت ’’درماندگاں را فریاد رسیدن‘ وحاجت بیچارگاں روا کردن و گرسناں راسیر گردانیدن‘‘ (سیر الاولیائ) خدمت خلق‘ دعوت وتبلیغ کا ایسا وسیلہ اور طریقہ ہے جو اکیسویں صدی میں بھی اتنا ہی کارگر و مفید ہے جتنا آج سے لے کر چودہ سو برس پہلے تک کبھی بھی تھا۔
۴۔ دنیا کا ہر دعوتی مذہب ’’تضیق مخرج‘‘ اور ’’توسیع مدخل‘‘ کے طریقے پر عمل کرتا ہے۔ یعنی مذہب سے باہر نکلنے کے راستے کو تنگ کرتا ہے اور اس میں داخلے کے راستے کو کشادہ کرتا ہے۔ صرف ایک ہم ہیں کہ نکالنے کے لئے بڑے بڑے گیٹ رکھتے ہیں جبکہ داخل کرنے کیلئے ہمارے پاس کوئی روشن دان بھی نہیں ہے۔ اس ضمن میں عملا ہماری صورتحال تو یہودیت اور برہمنیت وغیرہ غیر دعوتی مذاہب سے بھی خراب ہے‘ جو اگر کسی کو اپنے میں شامل نہیں کرتے تو کسی کو نکالتے بھی نہیں ہیں۔
عالم اسلام میں عموما اور ہندوستان میں خصوصا مدرسہ کبھی بھی عوام اور مدعو اقوام سے جڑا نہیں تھا اور نہ ہی ہمارے مدرسی نظام میں دعوت و تبلیغ کی تعلیم و تربیت کے لئے کوئی جگہ تھی۔ یہ کام خانقاہیں کرتی تھیں جن کے کھنڈروں پر آج ایک ایسا نظام قائم ہے جس کے لئے لفظ ’’درگاہیت‘‘ کو بطور اصطلاح استعمال کیا جاسکتا ہے‘ جہاں ساری توجہ مدعو کے دل کے بجائے اس کی جیب پر ہوتی ہے۔ عجیب المیہ ہے کہ اہل درگاہ جو مدعو اقوام کے ربط میں ہیں‘ انہیں تحریر و تقریر نہیں آتی اور اہل مدرسہ جنہیں تحریر و تقریر آتی ہے تو وہ ان کے ربط میں نہیں ہیں۔ ان دونوں کے درمیان ایک ’’برزخ‘‘ بھی ہے‘ یہ حضرات مدعو اقوام کے ربط میں بھی ہیں اور ان کے لئے فلاح نصف دارین کا کام بھی کررہے ہیں۔ انہیں تحریر و تقریر کی بھی شدبد ہے لیکن ان کی تحریر و تقریر کا موضوع خواہ کچھ بھی ہو‘ مقصد صرف دنیا ہے۔ یعنی انہوں نے آخرت کو یا کم ازکم موضوع آخرت کو مزرع الدنیا بنا رکھا ہے اور اس طرح یہ تینوں طبقات یا تو دعوت و تبلیغ کی مقصدیت سے ہم آہنگ نہیں ہیں یا اس کے لئے ضروری استعداد سے خالی ہیں۔ یہ عام صورتحال ہے الا ماشاء اﷲ‘ لہذا جو چیز ہمارے فکر و خیال سے غائب ہو‘ اسے ہماری تحریر و تقریر میں تلاش کرنا ہی عبث و بے معنی ہے۔
۵۔ سب سے ضروری عمل اور اولین ضرورت یہ ہے کہ خانقاہی نظام کو برپا کیا جائے اور اسے ’’درگاہیت‘‘ کے خس و خاشاک سے پاک کیا جائے۔ حقیقی تصوف کا اجراء کیا جائے اور اسے کرامات کی دھند سے باہر نکالا جائے۔ موجودہ ضرورت کے پیش نظر مشائخ کی فتویٰ بازی اور اساتذہ کی مشخیت پر قدغن لگایا جائے تاکہ ہر دو اپنے اپنے کام کی طرف پوری توجہ دے سکیں۔ قدیم درگاہوں کی اصلاح اور جدید و زیر تعمیر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ مدارس جو محض علم اختلاف کا مرکز بن گئے ہیں ان میں دردمندی اور دلسوزی پیدا کرنے والے علوم جیسے تصوف‘ اخلاق اور زہد رقاق وغیرہ کو شامل نصاب کیا جائے۔ تعلیم گاہوں میں دعوت و تبلیغ کو بطور مستقل مضمون کے پڑھایا جائے جس میں دعوت و تبلیغ کی تاریخ‘ اس کی اہمیت و ضرورت‘ اس کا اسلوب و منہج‘ اس کے وسائل و ذرائع اور اس پر مرتب ہونے والے اجروثواب کو تفصیل سے بیان کیا جائے۔ جب تک صحیح خانقاہی نظام کا احیاء نہیں ہوتا یعنی جب تک عملی تربیت گاہیں دستیاب نہیں ہوتیں تو قدیم صوفیہ اور ان کی خانقاہوں کی مساعی کو نظری طور پر پڑھایا جائے۔ اس ضمن میں حضرت محبوب الٰہی کی خانقاہ شریف کو نمونے اور ماڈل کے طور پر پیش نظر رکھا جاسکتا ہے۔
یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ یہ متروک و مہجور موضوع ہمیں یاد آیا ہے‘ اگر آج دعوت و تبلیغ کا موضع ہماری فکر وسوچ کا حصہ بنا ہے تو ان شاء اﷲ کل یہ ہمارے عمل کا بھی حصہ بنے گا‘ اس لئے کہ فکر ہی ہر عمل کی بنیادہے۔