اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری کے اساتذہ کرام

in Tahaffuz, December 2008, متفرقا ت, نسیم اختر امجدی

امام احمد رضا قادری محدث بریلوی (متوفی ۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱) چودہویں  صدی کے وہ عظیم عالم اور دنیائے اسلام کے نامور مفتی ہیں جنہوں نے ساری زندگی عقائد اسلامیہ کے تحفظ اور سنت کی اشاعت میں گزاری۔ ذیل میں اسی عظیم جلیل فقیہ و محدث اسلام کے ان اساتذہ کرام کا تذکرہ کیاجارہا ہے جن کی بارگاہ میں آپ نے زانوائے تلمذ تہہ کرکے رفعت و سربلندی حاصل کی۔
حضرت مولانا نقی علی خان بریلوی
حضرت مولانا نقی علی خان بریلوی ۱۲۴۶ھ/۱۸۳۰ء میں بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آبائو اجداد قندھار (افغانستان) کے معزز قبیلہ بڑھیج کے پٹھان تھے۔
آپ نے تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کی تعلیم اپنے والد ماجد مولانا رضا علی خان ہی سے حاصل کی تحصیل علوم کے بعد اپنے والد ماجدکی مسند افتا ء کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔
آپ حضرت مولانا عبدالقادر بدایونی رحمتہ اﷲ علیہ (م ۱۳۱۹ھ) کی معیت میں ۱۲۹۴ھ میں مارہرہ شریف ضلع ایٹہ یوپی حاضر ہوکر حضرت سید شاہ آل رسول قادری برکاتی قدس سرہ سے بیعت ہوئے اور تمام سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل کی۔ ۱۲۹۵ھ میں حج بیت اﷲ کے لئے تشریف لے گئے۔ مکہ مکرمہ میں مفتی شافعیہ سید احمد بن ذینی دحلان مکی قدس سرہ سے مکرر سند حدیث کی اجازت لی۔
آپ کے اخلاق و عادات بہت عمدہ تھے۔ پوری زندگی عشق رسولﷺ اور اتباع سنت میں گزاری۔ اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ دوسروں کو بھی یہی تلقین کرتے تھے۔ سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت کرتے‘ قبلہ کی طرف کبھی پائوں نہ کرتے اور نہ احتراما کبھی قبلہ کی طرف تھوکتے تھے۔ غرباء و مساکین اور طلبہ کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آتے تھے اور اکثر ان کی مالی مدد بھی کرتے تھے۔ علماء و طلباء کا بہت احترام کرتے تھے۔ ان کے آنے پر بہت خوش ہوتے تھے‘ انتہائی خوش مزاج اور بااخلاق تھے۔ غرور وتکبر نام کو نہ تھا۔ خدام اور ملازمین سے بہت خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔ خدا کی رضا کے لئے خدمت دین آپ کا مشغلہ تھا۔ کسی غرض یا ذاتی مفاد کا معمولی شائبہ بھی نہ تھا۔
آپ کے مشہور تلامذہ میں مندرجہ ذیل حضرات کا نام بطور خاص ذکر کئے جانے کے قابل ہے۔
(۱) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں
(۲) مولانا حسن رضا خاں
(۳) مولانا برکات احمد بریلوی
(۴) مولانا ہدایت رسول لکھنؤی
(۵) مفتی حافظ بخش آٹولوی
(۶) مولانا حشمت اﷲ خاں
(۷) مولانا سید امیر احمد بریلوی
(۸) مولانا حکیم عبدالصمد
۳۰ ذی قعدہ ۱۲۹۷ھ کو اپنے عہد کے یہ جید عالم دین خالق حقیقی سے جاملے۔
مولاناحکیم مرزا غلام قادر بیگ بریلوی
حضرت مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ لکھنوی رحمتہ اﷲ علیہ یکم محرم الحرام ۱۲۴۳ھ/۱۲۷۷ء کو محلہ جھوائی ٹولہ لکھنؤ (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد نے لکھنؤ سے ترک سکونت کرکے بریلی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔
آپ کا خاندان نسلا ایرانی یا ترکستانی مغل نہیں ہے بلکہ مرزا اور بیگ کے خطابات اعزازی و شاہان مغلیہ کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت خواجہ عبداﷲ احرار علیہ الرحمہ سے ملتا ہے۔ حضرت احرار رحمتہ اﷲ علیہ نسلا فاروقی تھے۔ اس طرح آپ کا سلسلہ نسب حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے ملتا ہے۔
مولانا مرزا غلام قادر بیگ اور امام احمد رضا بریلوی کے والد ماجد مولانا نقی علی خاں کے درمیان بڑے دیرینہ تعلقات تھے۔ اس لئے مولانا مرزا غلام قادر بیگ نے امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کی تعلیم اپنے ذمہ لے لی تھی۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے ابتدائی کتابیں میزان‘ منشعب وغیرہ انہیں سے پڑھیں۔ آپ کا وصال یکم محرم الحرام ۱۳۶۳ھ/ ۱۸ اکتوبر ۹۱۷ء کو نوے سال کی عمر میں ہوا اور محلہ باقر گنج واقع حسین باغ بریلی میں دفن ہوئے۔
مولانا عبدالعلی خان رام پوری
مولانا عبدالعلی خان رام پور‘ یوپی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مولوی حیدر علی ٹونکی غیر مقلد سے حاصل کی پھر مفتی شرف الدین رام پوری (المتوفی ۱۲۲۸ھ) ملا عبدالرحیم خاں اور مولوی رفیع اور حکیم صادق علی دہلوی سے طب پڑھی‘ مولانا فضل حق خیرآبادی سے رام پور میں حاشیہ قدیمہ پڑھا‘ علوم حکمیہ سے خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔
نہایت منکسر المزاج اور خلیق تھے۔ رسالہ قوشجیہ پر فارسی میں حاشیہ لکھا جو مطبع سرور قیصری رام پور میں طبع ہوا۔ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے تقریبا ۱۳۹۰ھ میں رام میں حاضر ہوکر آپ سے شرح چغمینی کے چند اسباق پڑھے۔آپ کا وصال ۱۳۰۳ھ میں ہوا۔
حضرت مخدوم شاہ آل رسول قادری مارہروی
حضرت سید شاہ آل رسول مارہروی قدس سرہ تیرہویں صدی ہجری کے اکابر اولیاء اﷲ سے تھے۔ آپ کی ولادت باسعادت ۱۲۰۹ھ میں ماہرہ ضلع ایٹہ (یوپی) میں ہوئی۔ آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد سید شاہ آل برکات ستھرے میاں قدس سرہ (م ۱۲۸۱ھ) کے آغوش شفقت میں ہوئی۔ آپ نے علوم دینیہ کی تحصیل حضرت عین الحق شاہ عبدالمجید بدایونی علیہ الرحمہ (م ۱۲۶۳ھ) مولانا شاہ سلاست اﷲ کشفی بدایونی (م ۱۲۸۱ھ) حضرت شاہ نورالحق رزاق فرنگی محلی لکنھوی علیہ الرحمہ (۱۲۶۳ھ) ملا عبدالواسع رحمتہ اﷲ علیہ سے کی۔
۱۲۶۶ھ میں مخدوم شیخ العالم عبدالحق رودولوی قدس سرہ (م ۸۷۰) کے عرس مبارک کے موقع پر مشاہیر علماء و مشائخ کی موجودگی میں دستار بندی ہوئی۔ اسی سال حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی علیہ الرحمہ (م ۱۲۳۵) کے ارشاد پر سراج الہند حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ (۱۲۳۹ھ) کے درس حدیث میں شریک ہوئے۔صحاح ستہ کا دورہ کرنے کے بعد حضرت محدث دہلوی قدس سرہ سے علویہ منامیہ کی اجازت اور احادیث و مصافحات کی اجازتیں پائیں۔
امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ ۵ جمادی الاول ۱۲۹۴ھ کو اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خاں علیہ الرحمہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر شرف بیعت سے مشرف ہوئے۔ ان سے آپ نے قرأت‘ تصوف‘ اخلاق‘ اسماء الرجال‘ تاریخ ‘ لغت‘ ادب اور حدیث وغیرہ کی اجازت لی اور مجلس بیعت میں ہی خلافت سے سرفراز کردیئے گئے۔
حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی
حضرت مولانا سید ابوالحسین نوری رحمتہ اﷲ علیہ ۱۹ شوال۱۲۵۵ھ بروز پنج شنبہ مارہرہ شریف میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم شاہ محمد سعید عثمانی بدایونی (م ۷۷ھ) مولانا فضل اﷲ جالیسری (م ۱۲۸۳ھ) مولانا نور احمد عثمانی بدایونی (م ۱۳۰۱ھ) مولانا ہدایت علی بریلوی (م ۱۳۲۲ھ) سے حاصل کی۔ ۱۲ ربیع الاول ۱۲۲۷ھ کو دادا بزرگوار حضرت سید شاہ آل رسول مارہروی قدس سرہ سے بیعت ہوئے اور اجازت مطلقہ سے مشرف ہوئے۔
آپ بہت بڑے شیخ طریقت تھے اور حلقہ بیعت بہت وسیع تھا۔ اصلاح عقیدہ آپ کا خاص مشغلہ تھا۔ امام احمد رضا قادری قدس سرہ کو آپ سے اذکار اور ادب‘ کتب حدیث اور فن تفسیر کی اجازت ہے۔ گیارہ رجب ۱۳۶۴ھ کو وصال فرمایا۔
حضرت شیخ عبدالرحمن سراج مکی قدس سرہ
حضرت علامہ شیخ عبدالرحمن مکہ مکرمہ میں مفتی حنفیہ تھے۔ امام احمد رضا قادری رحمتہ اﷲ علیہ ۱۲۹۵ھ میں پہلے حج کے لئے مکہ مکرمہ حاضر ہوئے توشیخ عبدالرحمن سراج مکی قدس سرہ نے آپ کو تفسیر‘ حدیث‘ فقہ‘ اصول فقہ کی سند سے نوازا اور اپنے سلسلہ طریقت میں اجازت بھی عطا فرمائی۔ شیخ عبدالرحمن سراج مکی قدس سرہ نے جو سند فقہ حنفی امام احمد رضا رحمتہ اﷲ علیہ کو عنایت فرمائی۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ اس سند کے تمام اساتذہ و مشائخ حنفی ہیں۔ ۳۵ واسطوں سے یہ سند حضورﷺ تک پہنچتی ہے۔ حضرت عبدالرحمن سراج کی رحمتہ اﷲ علیہ کا وصال ۱۳۰۱ھ میں مکہ مکرمہ میں ہوا اور جنت المعلی میں دفن ہوئے۔
حضرت سیدی شیخ احمد بن زینی دحلان شافعی مکی
سیدی احمد بن زینی دحلان مکی کی ولادت ۱۲۳۲ھ مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ اپنے وقت کے بہتر مشہور و معروف عالم دین تھے۔ آپ حضرت شیخ عثمان و میاطی رحمتہ اﷲ علیہ سے روایت کرتے تھے۔ امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ نے پہلے حج کے موقع پر آپ سے سند حدیث‘ فقہ و اصول‘ تفسیر اور دیگر علوم میں اجازت پائی۔ آپ نے ۱۳۰۴ھ میں وصال فرمایا اور جنت البقیع مدینہ منورہ میں دفن ہوئے۔
حضرت شیخ حسین بن صالح جمل اللیل شافعی مکی
حضرت شیخ سیدی حسین بن صالح جمل اللیل علوی فاطمی قادری مکی قدس سرہ حرم مکہ میں شافعیہ کے مشہور ترین امام و خطیب تھے۔ آپ عجیب خوش اوقات اور بابرکت بزرگ تھے۔ بلاد عرب میں آپ کا حلقہ ارادت بہت وسیع تھا۔
امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ جب پہلی بار حج بیت اﷲ کے لئے تشریف لے گئے تو ایک دن مقام ابراہیم میں نماز مغرب کے بعد حضرت شیخ حسین بن صالح نے بلا تعارف سابق آپ کا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے کر اپنے دولت کدہ لے گئے اور دیر تک آپ کی پیشانی کوپکڑ کر فرمایا۔
’’بے شک میں اس پیشانی میں اﷲ کا نور پاتا ہوں‘‘
اور تاقیام مکہ معظمہ حاضری کا تقاضا و اصرار فرمایا۔ آپ کو صحاح ستہ اور سلسلہ قادریہ کی اجازت اپنے دست مبارک سے لکھ کر عنایت فرمائی اور فرمایا ’’تمہارا نام ضیاء ادلین احمد ہے۔ اس سند کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں امام بخاری علیہ الرحمہ تک فقط گیارہ واسطے ہیں۔ پھر آپ کو اپنی کتاب ’’الجوہرۃ المضیہ‘‘ سنائی اور فرمایا:
’’اکثر اہل ہند اس سے مستفید نہیں ہوسکتے۔ ایک تو عربی زبان میں ہے۔دوسرے مذہب شافعی میں ہے اور اہل ہند اکثر حنفی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کی تشریح آپ اردو زبان میں کردیں اور اس میں مذہب حنفیہ کی توضیح بھی کردیں‘‘
امام احمد رضا نے آپ کی کتاب ’’الجواہرۃ المضفیہ‘‘ جوکہ مسلک شافعی میں مناسک حج کے بیان پر مشتمل ہے‘ اس کا اردو ترجمہ کیا اور صرف دو دن میں اس کی اردو تشریح تحریر فرمائی اور اس کا تاریخی نام ’’النیرۃ الوضیہ فی شرح الجوہرۃ المضیہ‘‘ رکھا۔ پھر بعد میں تعلیقات و حواشی کا اضافہ فرمایا اور اس کا تاریخی نام ’’الطرۃ الرضیہ علی نیرۃ الوضیہ‘‘ رکھا۔