حکمران اور احتساب

in Tahaffuz, December 2008, شہزاد اقبال, متفرقا ت

اﷲ تعالیٰ نے اس کائنات کی بنیاد انصاف پر قائم کی اور یہ انصاف ہی اب تک اس کائنات کے وجود کا ثبوت ہے۔ اگر فرشتوں کو یہ حکم دے دیاجائے کہ وہ اپنے اپنے کاموں میں کمی بیشی کرلیں تو اس کائنات اور اس میں رہنے والی ہر چیز اپنے مرکز سے ہٹ جائے اور پھر وہ عمل وقوع پذیر ہوجائے جسے ہم قیامت کہتے ہیں۔
اسلام دین فطرت ہے جس میں جوابدہی ایک نہایت اہم عنصر ہے اور یہ جواب دہی ہر انسان کے لئے ہے خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم‘ مرد ہوں یا خواتین‘ بوڑھے ہوں یا جوان‘ سیاہ فام ہوں یا سفید فارم‘ امیر ہوں یاغریب‘ حکمران ہوں یا عوام‘ سب سے ان کے امور کے متعلق پوچھا جائے گا۔ ہم میں سے ہر کوئی راعی ہے اور ہر کسی سے اس کی رعیت کے متعلق استفسار ہوگا۔ لہذا کسی کو بھی یہ استثناء حاصل نہیں کہ وہ جواب دہی کے مرحلے سے بچ جائے۔ جواب وہی اسلام کا خاصہ ہے یہی اسے ممتاز کرتا ہے اور انسان کو غلط کاموں سے روکتا ہے۔
جہاں تک حکمرانوں و صاحب اقتدار افراد کی جوابدہی اور ان کے احتساب کا تعلق ہے تو عربوں میں ایک مقولہ خاصا مشہور ہے کہ عوام حکمرانوںکو دیکھتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں لہذا اگر حکمران اچھے ہوں گے‘ سلاطین بہتر ہوں گے تو اس کا اثر رعایا پر بھی ہوگا۔ وہ بھی اپنے آپ کو بہتر کریں گے اور اگر حکمرانوں کی اخلاقی حالت خراب ہوگی تو رعایا بھی اخلاقی حوالے سے گری ہوئی ہوگی۔ لہذا یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں اچھائی اور برائی کے اثرات اوپر سے نیچے منتقل ہوتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ حکمرانوں نے اپنے اخلاق کی وجہ سے اپنی قوم کی تقدیربدل دی۔ لیکن جب ہم قبل از اسلام کے انسانی معاشروں پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں پر بادشاہت اور موروثیت کا ایک ایسا نظام قائم تھا جس میں حکمرانوں کو جوابدہ نہیں ہونا پڑتا تھا۔ بادشاہ عقل کل ہوتا۔ اس سے کوئی برائی سرزد نہیں ہوتی تھی۔ وہ مقدس گائے تھا جہاں پر ایک کے بعد دوسرا بھی انہی ’’خاصیتوں‘‘ کے ساتھ جلوہ گر ہوتا لہذا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ معاشرے زوال کاشکار ہونے لگے اور جب مضبوط عقائد اور معاشروں کو موقع ملا تو اس نے وہاں کے باسیوں کے دلوں میں گھر کرلیااور انصاف کا بول بالا ہونے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ:
’’پہلی قومیں اسی وجہ سے تباہ ہوگئی تھیں کہ جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی‘ کوئی امیر جرم کرتا تو اسے معاف کردیا جاتا اور جب کوئی غریب جرم کرتا تو اسے سخت سے سخت سزا دی جاتی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ خدا کی قسم! اگر محمدﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اﷲ عنہا بھی چوری کرتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیئے جائیں گے‘‘
یہ وہ قانون کی حاکمیت ہے‘ مساوات اور انصاف ہے جس سے اسلام کا بول بالا ہوا‘ دین حنیف کی ترویج واشاعت ہوئی۔ لاکھوں کروڑوں انسانوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لایا گیا۔ جن میں کوئی تمیز نہیں‘ انسانوں میں ماسوائے تقویٰ کے یہاں محمودوایاز ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں اور ایک ہی خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔ لیکن جب اس فلسفہ انصاف‘ عدل اور احتساب میں بگاڑ آیا تو انسانی معاشرے پھر سے حیوانی دور کی طرف لوٹ آئے۔ جہاںصرف اور صرف طاقت کا سکہ چلتا ہے طاقت ہی خدا کا روپ دھار لیتی ہے۔ بقول شاعر:
تم سے پہلے بھی جو اک شخص یہاں تخت نشین تھا
اس کو بھی خدا ہونے کا اتنا ہی یقین تھا
حضور رحمت عالمﷺ کی رحلت کے بعد جب خلفائے راشدین کا دور شروع ہوا تو اس میں بھی عدل و انصاف‘ قانون کی حاکمیت اور جواب دہی خلافت کے لازمی اجزاء تھے۔ خلفاء نے اپنے آپ کو عوام کے سامنے پیش کیا۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب خلافت کا بار اٹھایا تو صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اگر ان سے کوئی خطا ہوجائے تو انہیں بتادیاجائے‘ روک دیا جائے۔
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا عدل و انصاف اور خوف خدا مشہور ہے۔ آپ ہمیشہ بغیر رعایت کے بے لاگ انصاف فرماتے رہے۔ فاتح مصر عمرو بن العاص کے بیٹے عبداﷲ کو (جس نے کسی شخص کو بلاوجہ مارا تھا) آپ نے اس کے باپ کے سامنے کوڑے لگوائے مگر کسی کو حوصلہ نہ پڑا کہ کچھ مخالفت کرسکے۔ فاتح شام حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کیا۔ فاتح ایران سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے جواب طلبی کی۔ خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی معزولی کے بعد آپ نے شام کے ایک سفر میں ایک مجمع میں اپنی بریت بیان کی تو ایک شخص نے آپ کے سامنے یہ کہہ دیا۔
’’اے عمر! خدا کی قسم تونے انصاف نہیں کیا‘ رسول اﷲﷺ کے عامل کو معزول کیا اور رسول اﷲﷺ کی تلوار کو نیام میں ڈال دیا‘ تونے قطع رحم کیا اور اپنے برادر عم زاد پر حسد کھایا‘‘
آپ نے جواب میں صرف اتنا کہا’’تمہیں اپنے بھائی کی حمایت میں غصہ آگیا‘‘
اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ جب کسی کو کسی صوبے یا شہر کا والی مقرر کرتے تھے تو پہلے اس کی جائیداد اور اندوختہ کا حساب لے لیتے تھے اور جب وہ اپنے منصب سے الگ ہوتے یا ان کے متعلق دوران تقرر اگر ان کو یہ علم ہوجاتا کہ ان کے پاس غیر معمولی دولت جمع ہوگئی ہے تو وہ اس کا محاسبہ کرتے اور پوچھتے کہ یہ دولت تمہارے پاس کہاں سے آئی؟ اس احتساب سے بڑے بڑے صحابی محفوظ نہ تھے۔ اور اگر ان میں سے کسی کی غلطی پکڑی جاتی تو ان کی باقاعدہ تادیب ہوتی تھی اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتتے تھے۔ خلیفہ دوم ایک کتے کے بھوکا پیاسا ہونے پر بھی خود کو قابل مواخذہ سمجھتے تھے۔ یہی حضرت عمر رضی اﷲ عنہ تھے کہ ایک موقع پر لوگوں نے ان سے پوچھا کہ ہمیں تو مال غنیمت میں ایک چادر ملی تو آپ نے کس طرح شلوار قمیص بنالی۔ خلیفہ دوم کو اس مسئلے پر بھی جوابدہ ہونا پڑا۔ فرمایا کہ مجھے میرے بیٹے ابن عمر نے اپنی چادر دی‘ یوں اپنی اور اس کی چادر ملا کر جوڑا بنالیا۔
خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کو ایک معاملے میں قاضی شریح کے سامنے پیش ہونا پڑا تو قاضی نے خلیفہ کے لئے نرم لب و لہجہ اپنایا جس کا حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے برا منایا۔ یہ اور اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں جس میں مسلم حکمرانوں نے خود کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا اور الزامات لگنے کی صورت میں قاضی کے سامنے غیر مشروط طور پر پیش ہوئے۔
اب اگر ہم معاصر دنیا میں بننے والی واحد اسلامی نظریاتی مملکت پاکستان کی طرف دیکھیں جسے اسلام کا قلعہ بھی کہا جاتا ہے کہ 18 اگست 2008ء کو ایک حکمران اقتدار سے علیحدہ ہوئے مگر انہیں جس محفوظ راستے کے ذریعے صدر مملکت کے عہدے سے ہٹایا گیا‘ اس پر اہل دانش اور صائب الرائے افراد کے شدید تحفظات ہیں۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کل تک کرسی سے الگ نہیں ہورہے تھے اور ان کی آخری تقریر میں بھی آخر دم تک معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ آیا وہ مستعفی ہونے جارہے ہیں یا پھر اسمبلیوں کو تحلیل کرکے حکومت کو برطرف کرنے والے ہیں۔ آج وہ صدر مشرف سے جناب مشرف بن گئے ہیں لیکن وہ پاکستان کے صدور میں خاصے متنازعہ ہیں۔ ان کے 9 سال کے دور حکومت میں جو پالیسیاں بنیں اور جس طرح کے اقدامات کئے گئے اس نے ان کی ذات پر بہت سے سوالیہ نشانات چھوڑ دیئے۔ ان کے مخالفین بہت زیادہ ہیں‘ حمایتی بہت کم۔ ان پر جو الزامات لگائے جاتے رہے ہیں‘ ان میں کارگل کا ایڈونچر‘ شریف برادران کی گرفتاری‘ جلا وطنی‘ آصف علی زرداری‘ سید یوسف رضا گیلانی‘جاویدہاشمی اور سردار اختر مینگل سمیت متعدد سیاستدانوں کی گرفتاری‘ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ‘ روشن اور آزاد خیالی کی غلط پالیسی‘ رقص و سرور اور جشن کلچر کو پروان چڑھانا‘ فراڈ ریفرنڈم کا انعقاد‘ طالبان کا ساتھ چھوڑ کر افغان پالیسی سے یوٹرن لینا‘ خودکش حملوں کا تحفہ‘ امن وامان کی خراب صورتحال‘ بھارت اور اسرائیل نوازی‘ یہودیوں سے تعلقات استوار کرنا‘ اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف محاذ کھولنا‘ سردار اکبر بگٹی کی ہلاکت‘ بلوچستان آپریشن‘ وانا آپریشن‘ سوات آپریشن‘ حدود اﷲ میں ترامیم ‘میڈیا پرپابندی‘ مقبول عام پروگراموں کو بند کرانا‘ معروف اینکر پرسنز کو ٹی وی پر آنے سے روکنا‘ چیف جسٹس کی برطرفی‘ وکلاء برادری پر تشدد‘ گرفتاری‘ نظر بندی‘ 12 مئی کے سانحہ پر اپنی طاقت کا اظہار کرنا‘ 2 مرتبہ آئین معطل کرنا‘ میراتھن کلچر کی سرپرستی‘ ڈاکٹر شازیہ‘ مختاراں مائی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسی مظلوم خواتین کی حمایت نہ کرنا‘ مغربی سرحدوں پر سیکورٹی فورسز کی بے انتہا شہادتوں پر بھی خارجہ پالیسی پر ڈٹے رہنا ‘ طالبان اور القاعدہ کے نام پر ہم وطنوں کو امریکہ کے حوالے کرنا‘ مشتبہ افراد اور مخالفین کو ایجنسیوں کے ہاتھوں اٹھوانا‘ فوجی وردی وعدے کے مطابق نہ اتارنا‘ سترہویں ترمیم کے ذریعے غیر جمہوری اقدامات کو جائز کرانا‘ مہنگائی میں ہوشربا اضافہ اور اس پر مضحکہ خیز بیانات دینا‘ خودکشیوں کا بڑھنا‘ جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو عوام کے سامنے معافی مانگنے پر مجبور کرنا‘ ان کی نظربندی‘ اتحادی فوج کولاجسٹک سپورٹ دینا‘ چینی اور آٹے کا بحران قرضوں کے حجم میں 40 ارب ڈالر تک کا اضافہ‘ اسٹاک ایکسچینج اور اسٹیل مل جیسے اسکینڈل پر خاموشی‘ توانائی بحران‘ اسلامی نصاب کے بتدریج خاتمے کی کوشش اور ق لیگ کے سیاسی جلسوں میں باوردی شرکت کرنا شامل ہے۔
جنرل (ر) پرویز مشرف ان تمام الزامات اور حکومت کی تیار کردہ چارج شیٹ کو غلط قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی 18 اگست کی تقریر میں اس حوالے سے کہا تھا۔
’’مواخذہ اور چارج شیٹ دیناپارلیمنٹ کا حق ہے اور اس کا جواب دینا میرا بھی حق ہے۔ مجھے اپنے آپ پر یقین ہے اور اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ ہے کہ کوئی بھی چارج شیٹ میرے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتی۔ کوئی ایک الزام بھی میرے خلاف ثابت نہیں ہوسکتا۔ مجھے اتنا اپنے آپ پر بھروسہ ہے کیونکہ میں نے اپنی ذات کے لئے کبھی کچھ نہیں کیا جو کچھ میں نے کیا وہ Pakistan Comes First ‘ سب سے پہلے پاکستان‘ اس نظریہ اور سوچ اور انداز کے ساتھ کیا۔ عوام خاص طورپر غریب عوام ان کا درد ہمیشہ دل میں رکھا۔ ہر فیصلہ مشاورت سے کیا۔ تمام فریقین کو اعتماد میں لیا۔ ہر فیصلے میں پیچیدہ ترین فیصلہ‘ خطرناک ترین فیصلہ اس میں پورے اعتماد کے ساتھ عوام کو کہتا ہوں کہ تمام فریقین کواعتماد میںلیا اور یہ بات میری سنیں اور مانیں۔ وہ ’’اسٹیک ہولڈر‘ فوجی ہوں‘ فوجیوں کو اعتماد میں لیا۔ سیاستدان ہوں‘ سیاستدانوں کو اعتماد میں لیا۔ بیورو کریٹس‘ سول سرونٹس ہوں ان کو اعتماد میں لیا۔ سول سوسائٹی کے ارکان کو اعتماد میں لیا۔ بلا کر ان سے مشورہ کیا‘ علماء کو اعتماد میں لیا‘ جس بھی معاملے میں ان کا تعلق تھا تو تمام فریقین وک جو بھی معاملے سے متعلقہ تھے‘ ان سے ہمیشہ مشاورت کی اور پھر فیصلوں پرپہنچے تو مجھے پورا یقین ہے کہ یہ جو چارج شیٹ ہے‘ اس کی مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔ کیونکہ کوئی ایک بھی الزام میرے خلاف ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے‘‘
جنرل (ر) پرویز مشرف اپنے 9 سالہ دور کو نہایت کامیاب قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جس وقت اقتدار سنبھالا اس وقت پاکستان ناکام ریاست بننے کے قریب تھا۔ ہم نے اس عرصے میں معیشت کو مستحکم کیا۔ زرمبادلہ میں اضافہ کیا‘ غیر ملکی قرضوں کی لعنت سے چھٹکارا پایا۔ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا‘ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے جس سے فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا‘ غربت کی سطح 34 فیصد سے کم کرکے 24 فیصد پر لائے‘ لوگوں کی خوشحالی کا پیمانہ ان کے ہاتھ میں موبائل فون اور موٹر سائیکل آنے سے بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ سابق صدر کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں توانائی کا بحران نہیں تھا۔ ہمارے دور میں میڈیا کو آزادی ملی۔ مختلف چینل کھلے‘ نئی سڑکیں بنیں‘ مواصلات اور ٹیلی کمیونیکیشن کا جال بچھا‘ گوادر پورٹ بنی‘ ڈیم تعمیر ہوئے‘ نئے ڈیموں کا افتتاح کیا گیا‘ نہروں کو پختہ کیا گیا‘ رینی کنال اور تھل کنال کی تعمیر ہورہی ہے‘ موبائل انڈسٹری کو ترقی ملی‘ ہوٹل سازی اور فنی اور واکیشنل تعلیم کو فروغ ملا‘ اعلیٰ تعلیم اور پی ایچ ڈی اسکالرز میں اضافہ ہوا‘ صحت کے شعبے پر بھرپور توجہ دی گئی۔ صاف پانی کے پلانٹ لگائے گئے۔ خواتین کو معاشرے میں جائز مقام دیا۔ انہیں اسمبلیوں میں بھرپور نمائندگی دی۔ پارکس میں اضافہ کیا اور ان کی حالت بہتر بنائی۔ مزار قائد کے گرد خوبصورت باغ تعمیر کیاگیا۔ لاہور میں باب پاکستان کا منصوبہ بنایا۔ ایئرپورٹس بنائے‘ مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کروایا۔ ملک کو پسماندگی سے نکالا‘ دہشت گردی کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا‘ اور پاکستان کے سیاسی دنگل میں مفاہمت کی کوشش کی گئی‘ لہذا الزامات اور اس کے دفاع میں کہے گئے جوابات کا سلسلہ اگر دیکھا جائے تو یہ خاصا طویل پیچیدہ اور گھمبیر ہے۔ لہذا دیکھنا چاہئے کہ ان الزامات کو سچ اور غلط کیسے ثابت کیا جائے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے خود ہی تقریر میں کہا تھا کہ میں اپنے مستقبل کو قوم اور عوام کے ہاتھوں میں چھوڑتا ہوں انہیں فیصلہ کرنے دیں اور انہیں انصاف کرنے دیں۔ اگر وہ یہ نہ بھی کہتے تو یہ معاشرتی انصاف کا تقاضا ہے کہ انہیں کمرہ عدالت میں پیش کیا جائے خواہ وہ عدالت سپریم کورٹ ہو‘ ہائی کورٹ ہو یا پھر کوئی خصوصی ٹریبونل‘ ان کاٹرائل بہرحال ہونا چاہئے۔
ہمارے ہاں  یہ ایک بہت غلط روش پروان چڑھ چکی ہے کہ اقتدار میں آنے والے افراد سابق صاحب اقتدار سیاسی افراد کے خلاف مقدمات قائم کرلیتے ہیں۔ انہیں جیلوں میں بند کردیتے ہیں یا پھر وہ جلاوطن کردیئے جاتے ہیں لیکن جب معاملہ آمروں کا آتا ہے تو انہیں محفوظ راستہ فراہم کردیا جاتا ہے۔ 1973ء کا آئین توڑنے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے کو کہاگیاہے اور سخت ترین سزا تجویز کی گئی ہے لیکن ہم نے اپنے دو سابق آمروں سے اس متعلق کچھ نہیں پوچھا کیونکہ نظریہ ضرورت نے باقی تمام حق نظریوں کو باطل قرار دیا اور آمریت کی غلط بنیادوں پر اٹھان ہوئی جس سے ہمارے ہاں سیاستدانوں‘ جاگیرداروں‘ سرمایہ داروں‘ اشرافیہ عسکری اداروں‘ بیورو کریسی اور بعض پیشہ ور اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک معقول تعداد نے آمریت کا ساتھ دیا جس سے آمریتوں نے سیاسی حکومتوں سے زیادہ عرصہ تک ملک پر حکومت کی اور جمہوریت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ قوم آج بھی ریٹائرڈ جنرل اور ان کے حواریوں‘ مشیروں‘ وزیروں اور دوستوں سے 9 سالہ سیاہ دور کا حساب مانگ رہی ہے۔ وکلاء برادری اور ان کے نمائندے بیرسٹر اعتزاز احسن کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ پرویز مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لانا ایک خطرناک رجحان ہے۔ برطانوی ہائی کمشنر مارک گرانٹ نے یہ ڈیل کرواکے پاکستان کے قانون کی دھجیاں بکھیر دی  اگر یہ برطانیہ ہوتا تو یہ کسی فرد واحد کو کبھی قانون سے بالاتر قرار نہ دیتے۔ لیکن پاکستان آکر انہوں نے آئین شکن شخص کو قانون سے مستثنیٰ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ قوم کو شکوہ امریکہ سے بھی ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت کا پرچم بلند کرنے والے ملک کی سفیر اینی پیٹرسن نے حالیہ دنوں اور مہینوں میں پاکستان کے معاملات میں بے انتہا مداخلت کی اور ہمارے ایک دوست ملک کو اس میں ملوث کیا جس نے محفوظ راستے کی ڈیل میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ شاید اس ملک کی مجبوری بھی تھی کہ امریکہ نے پاکستانی مسلمانوں کی نفسیات سمجھتے ہوئے اس کے کاندھے پر رکھ کر بندوق چلائی مگر ہمیں یہ کندھا فراہم کرنے کی پالیسی بھلی بھی نہیں لگی۔ علامہ اقبال نے شاید اسی موقع کے حوالے سے ہی کہا تھا کہ
یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تو
مجھ کو تو گلا تجھ سے ہے یورپ سے نہیں
آج ملک کی اشرافیہ اور اس کے بعض کردار دانستہ اور غیر دانستہ طور پر جنرل (ر) پرویز مشرف کے ٹرائل اور احتساب پر پردہ ڈالنے کے لئے ملک کے نئے صدر‘ ججوں کی بحالی اور اقتصادی حالت درست کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ حکمران اتحاد میں بھی حال ہی میں سابق ہونے والے آمر کی جوابدہی سے متعلق اختلاف ہے۔ مسلم لیگ ق کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین سید نے گزشٹہ روز ایک ٹی وی مذاکرے میں کہا کہ پرویز مشرف اب ماضی کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان کو چھوڑ دیں اور آگے کی فکر کریں۔ ہمارے نبی حضور اکرمﷺ نے تو فتح مکہ پر دشمنوں کو معاف کردیا تو ہم ایسا کیوں نہیں کرتے۔ (ق) لیگ جو‘ اب بھی سابق آمر کی پالیسیوں کو جائز قرار دے رہی ہے ان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ بعض عمل حضورﷺ کا خاصہ ہیں اور ان کا یہ عمل غیر مسلموں کی تالیف قلب کے لئے تھا جبکہ حضورﷺ نے تو خود اپنے آپ کو آخری ایام میں عوامی محاسبہ کے لئے پیش کیا کہ جس کو کچھ لینا ہے وہ لے لے‘ جس سے زیادتی ہوئی وہ آگے آئے تو صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین میں سے حضرت عکاشہ رضی اﷲ عنہ اٹھے اور فرمایا کہ فلاں جنگ میں فلاں موقع پر آپﷺ نے مجھے چھڑی / کوڑا مارا تھا‘ میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں‘ تو حضورﷺ نے وہ چھڑی/ کوڑا منگوانے کے لئے حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ کو اپنی بیٹی حضرت فاطمتہ الزہراء رضی اﷲ عنہا کے گھر بھیجا۔ جب دختر رسولﷺ کو علم ہوا کہ ایک صحابی رسولﷺ اپنے بدلے کی خاطر میرے ضعیف باپ پر جو پیغمبر بھی ہیں‘ کو چھڑی / کوڑا مارنے والا ہے‘ تو انہوں نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہما کو بھیج دیا کہ وہ ان کو مار کر اپنا بدلہ لے لے۔ لیکن حضرت عکاشہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ مجھے نبیﷺ نے مارا تھا‘ میں نبیﷺ سے ہی بدلہ لوں گا۔ چھڑی/ کوڑا ان کے ہاتھ میں تھما دیاگیا۔ حضورﷺ نے فرمایا‘ لو بدلہ لے لو۔ حضرت عکاشہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ نہیں ایسے نہیں آپ نے میری ننگی پیٹھ پر

چھڑی / کوڑا مارا تھا۔ آپﷺ نے پشت مبارک سے قمیض اٹھائی تو حضرت عکاشہ رضی اﷲ عنہ نے چھڑی / کوڑا پھینک کر شدت جذبات‘ احترام اور محبت سے آپﷺ کی کمر مبارک کا بوسہ لیا کہ مجھ میں آپ کو مارنے کی مجال کہاں۔ لہذا امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اور خلفائے راشدین رضی اﷲ عنہم نے اپنے آپ کو عوامی محاسبے کے لئے پیش کیا اور اس وقت پیش کیا جب ان کے پاس طاقت تھی‘ تو مسلم دنیا‘ پاکستان کے حکمران اور ان کے پیادے اپنے آپ کو محاسبے اور جواب دہی کیلئے کیوں پیش نہیں کرتے۔
ایک اعتراض یہ کیاجاتا ہے کہ کس کے سامنے پیش ہوں‘ یہاں انصاف کرنے والے حقیقی ادارے نہیں‘ یہ کوئی عذر نہیں‘ چاہے جیسے بھی ادارے ہوں‘  صاحب اقتدار افراد کو انصاف لینے اور ان کا احتساب کرنے کے لئے عدالتیں آباد ہونی چاہئیں۔ الزام خواہ فرد واحد کا ہو‘ اجتماع کا یا پورے معاشرے کا‘ اس کو ثابت کرنے کیلئے منصف کے پاس آنا چاہئے‘ وگرنہ دوسری صورت میں عوام خود احتساب کرتے ہیں جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جن معاشروں اور جن قوموں میں انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک جوابدہی کا عمل جاری رہاصرف انہی قوموں نے ترقی کی‘ عروج حاصل کیا‘ ناانصافیاں اور مخصوص افراد کو نوازنے والی قومیں صرف پستی کی جانب سفر کرتی ہیں اور بے انصافی اور عدل کے بغیر قائم معاشروں کو تاریخ بھی فراموش کردیتی ہے۔