لفظ دوست کتنا حسین اور کیسا پیارا ہے۔ پیارا کیوں نہ ہو‘ دوستی کے معنی ہی پیار‘ محبت کے ہیں۔ یہ لفظ فارسی کے مصدر ’’دوسیدن‘‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی یار‘ آشنا‘ محبوب‘ جان پہچان والا اور مددگار کے ہوتے ہیں… یاری‘ دوستی کے چرچے تو آج بھی عام ہیں۔
جان پہچان بھی اپنی جگہ خوب… لیکن آشنائی کی بات ہی کچھ اور ہے
دو عالم سے بیگانہ کرتی ہے دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
اور لذت آشنائی کی لطف اندوزی ہی سے دوستی کی صحیح قدروقیمت کا اندازہ ہوتا ہے لیکن بقول
’’غالب اپنی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں لوگ‘‘
چنانچہ جسے دیکھو‘ دوستی کا دم بھرتا نظر آتا ہے… لیکن کسی کو دوست کہہ کر پکارنا تو آسان ہے… مگر دوستی نبھانا آسان نہیں… دوستی کی خاطر بہت کچھ پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں… جگر مراد آبادی جیسا قوی جگر بھی اس معاملہ میں اپنی شکست کا اعتراف کرتا نظرآتا ہے۔
اے دل رضائے غیر ہے شرط رضائے دوست
زنہار ہم سے یہ بوجھ اٹھایا نہ جائے گا
دوستی سراسر قربانی‘ ایثار اور امتحان و آزمائش کا نام ہے کہیں‘ نارنمرود میں چھلانگ لگا کر اور کہیں میدان کربلا میں گردن کٹا کر حق دوستی ادا کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ…
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
حضرت خلیل اﷲ سچے دوست کا اشارہ پاتے ہی نار نمرود میں کود پڑتے ہیں… لہذا دوستی میں یہ ہوتا چلا آتا ہے۔ کہ اپنی مرضی کو دوست کی مرضی کے تابع کرنا پڑتا ہے۔ بقول شاعر
سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے
اور سر وہی خم کرسکتا ہے جو تسلیم و رضا کا پیکر ہو… چنانچہ دعویٰ دوستی تو سبھی کرتے ہیں… مگر حق دوستی ادا کرنا
’’ایں شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے؟؟
بہرحال جذبہ دوستی ایک ایسا جذبہ صادق ہے جس کے تحت خوشی‘ خوشی اپنی تمام آرزوئوں اور تمام تمنائوں کو دوست کی مرضی پر قربان کردیتا ہے… دوست کی محبت کا غلبہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ دوست کا عیب بھی ہنر معلوم ہوتا ہے… یہاں تک کہ دوست کی ہر شے محبوب لگنے لگتی ہے… اور ہر شے میں دوست کی محبت بھری خوشبو محسوس ہوتی ہے…
’’غالب … ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست‘‘
یہی وجہ ہے کہ براہ راست جس شے کا بھی تعلق دوست سے ہوتا ہے وہ اس سے پیار کرتا ہے۔ کہاوت مشہور ہے ’’لیلیٰ کا کتا بھی مجنوں کو پیارا ہوتا ہے‘‘
یوں تو دوستی کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن قرآن شریف تک سے دوستی کی اہمیت و افادیت ثابت ہے۔ مزید یہ کہ دوستی کے بارے میں حضورﷺ کے واضح ارشادات موجود ہیں چنانچہ حضورﷺ فرماتے ہیں۔
المنہ مع من احب (یعنی آدمی قیامت میں اسی کے ساتھ ہوگا جس سے اسے محبت ہوگی‘‘ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان جن سے دنیا میں محبت کرتا ہے آخرت میں بھی انہی دوستوں کے ساتھ اس کا حشر ہوگا… ایک اور مقام پر فرماتے ہیں۔
المرء علی دین خلیلہ فلنظر احدکم من یخالل (یعنی انسان وہی دین اور راستہ رکھتا ہے جو اس کے دوست رکھتے ہیں) (ابو دائود بیہقی)
مندرجہ بالا ارشادات کی روشنی میں دوستی کی اہمیت بخوبی واضح ہوجاتی ہے… کہ دوستی انسان کے دین و مذہب پر بھی اثر انداز ہوا کرتی ہے۔ لہذا ہر آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے چنانچہ اسی کے ساتھ اس کاحشر بھی ہوگا۔
ان ارشادات کے پیش نظر جہاں دوستی کی اہمیت و افادیت کے پہلو نمایاں ہوتے ہیں‘ وہیں دوستی کے مضر اثرات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے… یعنی برے دوستوں کے ساتھ ساتھ بدمذہب یا بدعقیدہ لوگوں کی دوستی میں بھی سراسر نقصان اور خسارا ہے۔ لہذا جس طرح کفار و منافقین کی دوستی مضر اور ناجائز ہے۔ اسی طرح گستاخان رسولﷺ‘ شاتمان صحابہ اور دشمنان بزرگان دین سے دوستی رکھنا نہایت مضر اور نادرست و ناجائز ہے۔
جیسا کہ حضور پاکﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔
مثل الجلیس الصالح والسوء کحامل المسک ونافع الکبیر(بخاری و مسلم)
بدکردار کی ہم نشینی سے جان و مال اور ایمان کا نقصان ہوتاہے جبکہ نیک آدمی کی صحبت سے دین و دنیا کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔
اسی لئے دوستی جیسے اہم معاملے میں ہر انسان کو کرنا چاہئے کہ اسے کن لوگوں کی دوستی اختیار کرنے سے دین و دنیا کابھلا ہوگا۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔
یاایھا الذین امنوا اتقوا اﷲ وکونو مع الصادقین (پ ۱۱ سورہ توبہ)
ترجمہ: اے ایمان والو! اﷲ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجائو‘‘
سچ فرمایا ہے
دوست آں باشد کہ گیرد دست دوست
در پریشاں حالی و درماندگی
یعنی سچا دوست وہ ہے جو مصیبت کے وقت دوست کی مدد کرے
A friend in need is a friend in deed
چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے۔
والمومنون المومنات بعضھم اولیآء بعض (پ ۱۵ سورہ توبہ)
ترجمہ: اور بعض مومن آدمی اور مومنہ عورتیں بعض کے (دین و دنیا) میں مددگار ہوتے ہیں)
ایک اور مقام پر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
انما ولیکم اﷲ و رسولہ الذین آمنو (پ ۱۱ سورہ مائدہ)
ترجمہ: سوائے اس کے نہیں کہ دوست یا مددگار تمہارا اﷲ تعالیٰ ہے اور رسولؐ اس کا اور جو لوگ ایمان لائے)
آیت مبارک صاف طورپر بیان کررہی ہے کہ اﷲ جل شانہ اور اس کے رسول کریمﷺ اور ایمانداروں کے علاوہ دنیا میں کوئی سچا دوست نہیں جو کسی مصیبت یا آڑے وقت پر مدد کرسکے بقول شاعر
سیاہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے
کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا رہتاہے انسان سے
انسان جب ہر طرف سے مایوس ہوجاتا ہے تو ایسے وقت میں اﷲ اور اس کا رسولﷺ اور مومنوں کی دوستی کام آتی ہے۔ حضور پاکﷺ فرماتے ہیں۔
قیامت کے دن آپس میں فی سبیل اﷲ محبت اور دوستی رکھنے والوں کو اﷲ تعالیٰ تمام مخلوقات کے سامنے ارشاد فرمائے گا۔
این المتحابون بجلال الیوم اطلھم فی ظلی یوم لا ظل الا ظلی (مسلم عن ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ)
ترجمہ: آپس میں صرف میری وجہ سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں آج کے دن ان کو میں اپنے سایہ رحمت (عرش) میں جگہ دوں گا کیونکہ سوائے میرے سائے کے آج کہیں سایہ نہیں‘‘ (مسلم عن ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ)
اور فرمایا کہ ’’ایک شخص نے اپنے مسلمان بھائی سے فی سبیل اﷲ ملنے کا ارادہ کیا۔ اﷲ تعالیٰ نے ایک فرشتہ اس کے راستے میں بٹھا دیا۔ اس نے اس آدمی سے پوچھا کہ آپ کہاں جارہے ہیں۔ اس نے جواب دیا۔ اس بستی میں ایک مسلمان بھائی سے ملنے جارہاہوں۔ فرشتے نے کہا کیا؟ اس آدمی پر آپ کا کوئی حق (قرض) ہے جسے لینے جارہے ہو؟ کہا! نہیں صرف رضائے الٰہی کے لئے ملاقات مقصود ہے۔ فرشتے نے کہا کہ میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا فرشتہ ہوں اور تجھے خوشخبری دینے آیا ہوں۔
بان اﷲ قذاحبک کما احبتہ فیہ (مسلم ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ)
ترجمہ: جس طرح تو اس آدمی سے محبت کرتا ہے اسی طرح اﷲ تعالیٰ تجھ سے محبت کرتا ہے۔
حضورﷺ نے حضرت ابی ذر رضی اﷲ عنہ سے فرمایا … اے ابی ذر‘ ایمان کی کونی سی دستاویز زیادہ مضبوط ہے۔ حضرت ابی ذر رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا… اﷲ اور اس کا رسولﷺ زیادہ جانتا ہے۔ ارشاد فرمایا:
’’خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنا اور دوست رکھنا‘‘
بخاری ‘ مسلم شریف میں حضرت ابن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضور پاکﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ اس شخص کے لئے کیا فرماتے ہیںجو علماء و صلحاء سے محبت رکھتا ہے لیکن ان کی صحبت یا علم و عمل کو نہیں پہنچ سکا۔ ارشاد فرمایا۔
المزء مامن احب یعنی وہ آدمی اس کے ساتھ ہے جس کو دوست رکھتا ہے
اسی طرح ایک شخص نے جناب رسالت مآبﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا۔
حضورﷺ قیامت کب قائم ہوگی؟ آپ نے فرمایا… تو نے قیامت کے لئے کیا نیک عمل کئے ہیں… اس نے عرض کیا… میں اﷲ تعالیٰ اور اس کے محبوبﷺ کو دوست رکھتا ہوں… آپﷺ نے فرمایا … انت مع من احببت… (بخاری و مسلم عن حضرت انس رضی اﷲ عنہ)
محبت آدمی رکھتا ہے جس سے
قیامت میں وہ ہوگا ساتھ اس کے
حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسلمان ہونے کے بعد اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا جتنا اس کلمے کو سن کر وہ خوش ہوئے… حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا قول ہے کہ … دنیا داروں کی دوستی معمولی بات سے ختم ہوجاتی ہے’ دنیا پرست دنیاوی نقطہ نگاہ سے دوستی رکھتا ہے ذرا مفاد کو ٹھیس لگنے پر رخ بدل دیتا ہے… سچ ہے کسی نے خوب کہا ہے
کیا ذرا سی بات تھی برسوں کے یارانے گئے
ہاں مگر کچھ لوگ تو یوں جانے پہچانے گئے
ظاہر ہے دنیاوی یاری دوستی خود غرضی کی حد تک ہوتی ہے شاعر کہتا ہے
سب یار یہاں ہیں مطلب کے
دنیا میں کسی کا کوئی نہیں
دنیاوی دوستی کی حقیقت تو یہ ہے کہ…
دھوکا فریب اور دغا کے سوا ہمیں
ملتا نہیں جہاں میں کچھ انعام دوستی ندیم
دنیا پرستی کے بجائے اگر خلوص و محبت کی دوستی اختیار کی جائے تو دنیا بھی حقیقت میں دین نظر آئے مگر خلوص تب پیدا ہوسکتا ہے جبکہ… خالص اﷲ کے لئے دوستی اختیار کی جائے۔
اصغر گولڑوی فرماتے ہیں…
جو ہو للہیت تو دین بن جاتی ہے یہ دنیا
اگر اغراض شامل ہوں تو دین بدتر ز دنیا
چنانچہ آج کل کی دوستی اکثر نفسانی خواہشات کا سبب ہوتی ہے… محبت نفسانی جو حسی خواہشوں اور نفسانی لذتوں کے سبب ہوتی ہے جس کا مقصد… لذات نفسانی کی تسکین ہے۔ اس قسم کے جذبات رکھنے والے لوگ لذت نفس کی تکمیل کے لئے دوستی اور محبت کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں… جدھر تسکین نفس کے ساماں ہوتے نظر آئے ادھر ہی تیزی سے دوستی کی پینگیں بڑھنی شروع ہوجاتی ہیں۔ دوستی و محبت کے جال پھیلائے جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ کہیں محبت کے راگ آلاپے جاتے ہیں تو کہیں دوستی کے دم بھرے جاتے ہیں‘ دن کا سکون رات کا آرام تج دیا جاتا ہے۔ جب دیکھو محبوب کی یاد میں گم ہیں… وقتی طور پر اس قسم کی خود فریبی اور جذباتیت پر حقیقی محبت کا گمان ہونے لگتا ہے… مگر جہاں خواہش نفس پوری ہونی اور نفس کی پیاس بجھی… دوستی و محبت کا خمار از خود اتر جاتا ہے… جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے دوستی کے جذبات میںکمی واقع ہوتی چلی جاتی ہے… رفتہ رفتہ جذبات دوستی سرد مہری اختیار کرلیتے ہیں… آخرکار ایک دوست دوسرے دوست کو شاکی کی نظروں سے دیکھنے لگتا ہے… یہاں تک کہ شکوہ شکایت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ بقول شاعر…
جب تلک مطلب رہا کیسی خوشامد میں رہے
کیسی نظریں پھیر لیں مطلب نکل جانے کے بعد
چنانچہ ایسی دوستی جس میں خلوص وللہیت نہ ہو‘ دین و دنیا میں خسارے کی دوستی ہوتی ہے۔ لہذا سچی دوستی… حقیقی اور قلبی دوستی ہوا کرتی ہے… جو صرف دنیا ہی میں سودمند نہیں بلکہ آخرت میں بھی کام آنے والی ہے… اور وہ دوستی صرف نیکوکاروں کی بے غرض اور خالصا لوجہ اﷲ دوستی ہوتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
الا خلاء یومئد بغضھم لبعض عدوا الا المتقین (پ ۲۵سورہ زخرف)
ترجمہ : اس دن (کفر اور معصیت کے) تمام دوست آپس میں دشمن ہوجائیں گے مگر پرہیزگار لوگ ایک دوسرے کے دوست و ہمدرد ہوں گے… پرودگار عالم اپنے صالح بندوں کی دلجوئی کے لئے فرمائے گا۔
یٰعباد ولاخوف علیکم الیوم ولانتم تحزنون (پ ۲۵ سورہ زخرف)
ترجمہ : اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم کو کوئی خوف ہے‘ اور نہ تم رنج کروگے‘‘
تفسیر حسینی میں لکھا ہے کہ اس دن کافر جن کی دوستی کفر اور معصیت پر اعانت کے واسطے تھی‘ آپس میں دشمن ہوجائیں گے بلکہ یلعن بعضھم بعضا کے ارشاد بموجب ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔
لیکن مومنین جن کی دوستی ایک دوسرے سے اﷲ تعالیٰ کی رضا اور فرمابرداری کے واسطے تھی اس (قیامت) دنن بھی دوست ہوں گے۔ جیسا کہ اﷲ پاک کا ارشاد۔
والمومنون والمومنت بعضہم اولیآء بعض (پ ۱۵ سورہ توبہ)
ترجمہ: اور بعض مومن مرد اور مومنہ عورتیں بعض کے (دین و دنیا) میں بھی دوست و مدگار ہوتے ہیں۔
سمجھے تو کوئی مرتبہ دوستی ندیم