قرآن حکیم اتحاد و یگانگت کی تعلیم دیتاہے جو باہمی حسن سلوک میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ بدی کا بدلہ نیکی سے دیا جائے۔
ادفع بالتی ہی احسن السیئتہ
سب سے اچھی بھلائی سے برائی کو رفع کرو
لیکن جب تک ’’سعادت حقیقی‘’ حاصل نہ ہو‘ حسن سلوک کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ خواہشات کا اﷲ اور اس کے رسول کریمﷺ کے احکام کے تابع ہونا‘ سعادت حقیقی ہے کہ اسی سے نوع انسانی کی بہتری وابستہ ہے۔ سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ افکار و اعمال کے اس انبوہ کثیر میں کس کس فکر وعمل کواپنایا جائے اور کس کس کو رد کردیا جائے… جمیل و قبیح‘ خوب و ناخوب‘ اچھے اور برے اس طرح آپس میں گھل مل گئے ہیں کہ علیحدہ کرنا عقل کے بس کی بات نہیں۔ ہاں وحی اس مشکل کو حل کرسکتی ہے‘ ملت کی حیات اجتماعیہ کا دارومدار اسی حسن انتخاب پرہے۔
اس میں شک نہیں کہ نیکی و سعادت کا حصول حیات انسانی کے اعلیٰ مقاصد میں سے ایک مقصد عظیم ہے۔ اس لئے یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ خود زندگی بھی بامقصد ہے یا نہیں… اگر یہ بے مقصد ہے تو وہ تمام مقاصد جن کا انحصار اس بے مقصد شے پرہے‘ خودبخود بے حقیقت اور بے معنی بن کر رہ جاتے ہیں۔
قرآن حکیم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی بے مقصد نہیں ‘ گو بعض ملحدین اور فلاسفر نے اس کو بے معنی کہا ہے۔ لیکن قرآن حکیم کا ارشاد ہے۔
افحسبتم انما خلقنٰکم عباثاو انکم الینا لاترجعون
’’تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں‘‘
بے شک جس نے انسان کو بنایا ہے وہی یہ بتا سکتا ہے کہ انسان بامقصد ہے‘ بے مقصد نہین
یہ اک بات کہ آدم ہے صاحب مقصود
ہزار گونہ فروغ و ہزار گونہ فراغ
مقصدیت کا علم ہوجانے کے بعد خوبخود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ مقصد ہے کیا جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر اقبال نے اس پوشیدہ مقصد کی عظمت و بلندی کا اس طرح ذکر کیا ہے۔
مقصدے مثل سحر تابندۂ
ماسوائے را آتش سوزندۂ
مقصدے از آسماں بالا ترے
دل ربائے‘ دل ستانے‘ دل برے
باطل دیرینہ را غارت گرے
فتنہ در جیبے سراپا محشرے (۳)
اور قرآن حکیم نے اس مقصد کی اس طرح وضاحت فرمائی ہے۔
خلق الموت والحیوٰۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا …۴
’’موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو‘ تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے‘‘
گویا ہمارے حسن عمل کی آزمائش ہے… ہم نیک کام کرنے اور نیک کاموں کا حکم دینے کیلئے پیدا کئے گئے ہیں۔ دوسری جگہ اس حسن عمل کو عبادت سے تعبیر کیا گیا۔ چنانچہ فرمایاگیا۔
وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون…۵
’’اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں‘‘
یہ عبادت و اطاعت‘ عبادت گاہوں تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانی زندگی پر محیط ہے… ظاہری اور باطنی زندگی… سعادت کا تعلق انسانی جسم سے نہیں بلکہ اس کی روح سے وابستہ ہے…اسی لئے ڈاکٹر اقبال نے کہا ہے۔
وہ شئے کچھ اور ہے‘ کہتی ہیں جان پاک جسے
یہ رنگ و نم‘ یہ لہو‘ آب و خاک کی ہے بیشی
یہی ’’شئے لطیف‘‘ جب جلا پاتی ہے تو سعادت کاظہور ہوتا ہے… حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ نے اپنی تصنیف ’’احیاء العلوم‘‘ میں اس کیفیت کا اس طرح ذکر فرمایا ہے۔
’’نفس کی ایک ایسی کیفیت اور ہیئت راسخ جس کی وجہ سے بغیر غوروفکر بسہولت نفس سے اعمال صادر ہوسکیں۔اگر وہ ہیئت اس طرح قائم ہے کہ اس سے عقل کی نظرمیں اعمال حسنہ صادر ہوتے ہیں تو اس کا نام ’’خلق حسن‘‘ ہے اور اگر غیر محمود اور مذموم افعال صادر ہوتے ہیں تو اس کو ’’خلق سئیہ‘‘ کہتے ہیں۔
قرآن حکیم نے انسانی نفس کی تین حالتوں کا ذکر کیاہے۔ پہلی حالت کو ’’امارہ‘‘ سے تعبیر کیاہے۔
ان النفس لامارۃ بالسوٓء
’’اور اس جان کی قسم جو اپنے اوپر ملامت کرے‘‘
یہ نفس کی وہ کیفیت ہے جو ارتکاب گناہ کے ساتھ ساتھ انسان کو نادم و شرمسار رکھتی ہے… اس کا دل بدی پرمطمئن نہیں رہتا‘ بلکہ پشیمانی کی وجہ سے ایک بے چینی سی رہتی ہے… نیکی و بدی کی اس نفسیاتی کشمکش کو مرزا غالب نے یوں بیان کیا ہے…
ایمان مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے تو کلیسا مرے آگے
اور حفیظ جالندھری نے نفس انسانی کی اس خاص کیفیت میں پشیمانی اور رب العزت کے عفوودرگزر کا نقشہ کس موثر انداز سے کھینچا ہے۔
پشیمانیاں ہیں گناہوں پہ لیکن
بڑے ہی مرے کی پشیمانیاں ہیں
اس پشیمانی کی جیتی جاگتی تصویر مشہور اردو شاعر جگر مراد آبادی ہیں… ان کو اﷲ نے توبہ کی توفیق عطا فرمائی اور پھر شراب و کباب سے ایسے پھرے کہ کبھی اس طرف رخ نہ کیا… احساس جرم کے ساتھ کس حسرت سے فریاد کرتے ہیں۔
اے رحمت تمام مری ہر خطا معاف!
میں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیا
تیسری حالت کو ’’مطمئنہ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے… اس منزل پر پہنچ کر بدی کا تصور میں بھی کھٹکا نہیں رہتا اور نیکی و سعادت انسان کی رگ و پے میں سرایت کرجاتی ہے‘ وہ تمام خواہشات پر اﷲ کی توفیق سے اختیار حاصل کرلیتا ہے اور خواہشات نفسانی کے ہاتھوں بے اختیاری کی کیفیت ختم ہوجاتی ہے… اس کا ہر ہر عمل احکام الٰہیہ کے تابع ہوجاتا ہے… ڈاکٹر اقبال نے اس کیفیت کو ان اشعار میں بڑے موثر پیرایہ میں بیان کیاہے۔
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اﷲ کی برہان
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
فطرت کا سرود ازلی اس کے شب و روز
آہنگ میں یکتا صفت سورۂ رحمن
اسی کیفیت کو قرآن حکیم نے اس انداز سے بیان فرمایا ہے…
یاایتھا النفس المطمئنۃ O ارجعی الیٰ ربک راضیۃ مرضیۃ O فادخلی فی عبٰدی وادخلی جنتی O
’’اے اطمینان والی جان اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تم اس سے راضی ہو‘ وہ تجھ سے راضی پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ‘‘
یہ وہ منزل ہے جہاں پہنچ کر وہ اطمینان قلب میسر آتا ہے کہ موت بھی خوشگوار و دل نواز معلوم ہونے لگتی ہے… ڈاکٹر اقبال نے اس شعر میں نفس مطمئنہ کی ایک جھلک دکھائی ہے۔
نشان مرد مومن باتو گویم
چو مرگ آید تبسم بر لب اوست
’’میں تجھے مرد مومن کی نشانی بتاتا ہوں جب موت آتی ہے تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے‘‘
حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی مشہور تصنیف ’’حجتہ اﷲ البالغہ‘‘ میں نفس کی اس کیفیت کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔
’’انسان میں ایک بڑا کمال پوشیدہ ہے جس کا تقاضا اس کی صورت نوعیہ کرتی ہے۔ وہ عظیم المثال کمال ’’سعادت حقیقی‘‘ ہے جس کی تعریف یہ کی جاسکتی ہے کہ خواہشات کا ’’عقل کل‘‘ کے زیر اثر ہوجانا اور تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ سعادت بغیر عبادت متصور نہیں ہوسکتی‘‘
عبادت اور تعلق باﷲ کے بغیر ایک قسم کی سعادت کا حصول ممکن تو ہے مگر وہ سعادت ہی نہیں‘ چنانچہ شیفٹسبری‘ نوعیت خیر پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے…
’’کسی شے کی اچھائی کوئی ایسا وصف نہیں ہوتا جو محض اس سے متعلق ہو‘ بلکہ اس کا تعلق ایک وسیع تر جسم یا نظام کی نسبت سے ہوتا ہے جس میں وہ شے پائی جاتی ہے۔ کسی نظام کا حصہ خاص اس وقت اچھا کہلائے گا جب یہ اس میں موزوں اور مناسب ہوگا اور اچھائی کا جہاں تک تعلق ہے نوع انسان کی فلاح و خیر کسی ایک فرد کی فلاح و خیر سے بہتر و بالاتر ہے۔ پس نیکی و سعادت کی تعریف یہ ہوگی کہ ایسے تاثرات کا رجحان جوکل نوع انسانی کے لئے مفید ہوتے ہیں اور براہ راست خیر کو مقصود بناتے ہیں۔‘‘
یہی فلسفی آگے چل کر لکھتا ہے…
’’فلاح عام‘ خطاء و ثواب کے لئے آخری اور قطعی معیار ہے‘‘
اسی لئے جب حضور اکرمﷺ کے بارے میں قرآن حکیم یہ فرماتا ہے۔
ومآ ارسلنٰک الا رحمۃ للعٰلمین O
’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہانوں کے لئے‘‘
تو اس کا مقصود یہی ہے کہ نیکی و بدی کی تمیز کے لئے جو انسان کامل بھیجا گیا ہے‘ اس کے سامنے محض فرد کی فلاح نہیں بلکہ نوع انسانی کی فلاح ہے اسی لئے وہ رحمت عالم ہے۔
شیفٹسبری نے جو یہ کہا ہے کہ ’’فلاح عام خطاء و ثواب کا معیا رہے‘‘ تو اس میں شک نہیں کہ معیار یہی ہے‘ لیکن اگر عقل کی روشنی میں اس کاتعین کیا گیاتو ہزار نشیب و فراز سے دوچار ہونا پڑے گا اور عین ممکن ہے کہ ہم بھنور میں پھنس کر رہ جائیں‘ کیونکہ فلاح کی حقیقت سمجھنے سے عقل عاری ہے پھر فلاح عام کا اندازہ تو بہت ہی مشکل ہے۔
(۲)
بے شک عقل سے انکار ایک بڑی حقیقت سے انکار ہے لیکن عقل کا اپنا دائرہ ہے‘ اس سے بلند تر جانا یا اپنی حدود سے تجاوز کرنا اس کے بس کی بات نہیں… وحی اور وجدان کے مقابلے میں عقل بہت سست رفتار ہے… اس کی سست رفتاری کا اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ وحی کی روشنی میں جو حقائق چودہ سو برس پہلے واشگاف کئے گئے تھے‘ عقل نے ایک زمانہ گزر جانے کے بعد اب ان حقائق کی تعبیر وتشریح کی ہے۔ بلکہ ابتداء میں تو انکار ہی کرتی رہی اور عقلیت پرستوں نے اس کے انکار کو حرف آخر تسلیم کرکے کتاب اﷲ کی دوراز کار تاویلات شروع کردیں۔ لیکن وقت گزر جانے کے بعد وہی سچ اور صحیح ثابت ہوا جو قرآن حکیم نے فرمایا تھا۔ اس قدر انکشافات کے باوجود بعض حقائق عقل کے لئے اب تک عقدہ لاینحل بنے ہوئے ہیں حالانکہ ان کا حل بھی وحی پیش کررہی ہے۔
نوع انسان کو برق رفتار رہبر کی ضرورت ہے… حیات مستعار‘ بہت مختصر ہے اور اسی میں سب کچھ کرنا ہے… خارزار حیات سے منزل مقصود تک پہنچنا ہے… عقل اپنی حدود سے باہر پیشوائی کے لئے تیار نہیں‘ وہ خود رہرو ہے‘ رہبر نہیں بن سکتی‘ ہمیں وحی کے سہارے عقل سے آگے قدم بڑھانا ہے۔
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغ راہ ہے‘ منزل نہیں ہے
اور حیات انسانی کا یہ ایک المیہ ہے کہ ’’چراغ راہ‘‘ کو ’’منزل‘’ سمجھ لیا گیا ہے اور منزل کی تلاش چھوڑ دی‘ حالانکہ منزل ماورائے عقل ہے… عقل وہاںکے ہنگاموں سے قطعاً ناآشنا ہے۔
درون خانہ ہنگامے ہیںکیا کیا
چراغ رہ گزر کو کیا خبر ہے؟
یہی وہ ہنگامے ہیں‘ اگر ان تک رسائی ہوجائے تو انسان کوپیش آنے والے اعمال و افکار کی ساری گتھیاں سلجھ جائیں اور حسین و قبیح‘ خوب و ناخوب‘ پسندیدہ وناپسندیدہ سب آشکار ہوجائے…
ڈاکٹر محمد اقبال نے باوجود اپنی فکری بلندیوں کے ’’سعادت حقیقی‘‘ کی دریافت کے لئے عقل کو بے اثر قرار دیا ہے اور وحی کی اہمیت کی طرف اس طرح متوجہ کیا ہے۔
عقل بے مایہ امامت کے سزاوار نہیں
راہبر ہو ظن و تخمین تو زبوں کار حیات
فکر بے نور ترا‘ جذب عمل بے بنیاد
سخت مشکل ہے کہ روشن ہو شب تار حیات
خوب و ناخوب عمل کی ہو گرہ وا کیوں کر
گر حیات آپ نہ ہو شارح اسرار حیات
بلاشبہ نیکی اور بدی سے کماحقہ واقفیت کے لئے ایسا علم ضروری ہے جو تمام شکوک و شبہات سے بالاتر ہو۔ اسی لئے جب خداوند کریم نے قرآن حکیم کا تعارف فرمایا تو اس انداز سے۔
ذلک الکتٰب لاریب فیہ
’’وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں
لیکن یہ حقیقت ہے کہ یقین کی پہلی منزل شک ہی ہے‘ ہم شک سے یقین کی طرف سفر کرتے ہیں۔ پھر یقین کے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے روز روشن کی طرح حقائق کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں مگر قرآن حکیم کا عالم ہی کچھ اور ہے‘ یہاں یقین ہی یقین ہے۔
یقین کے کئی درجات ہیں‘ پہلا درجہ علم الیقین ہے۔ یعنی کسی سے سن کر یا پڑھ کر حقائق سے واقف ہونا‘ دوسرا درجہ عین الیقین ہے‘ یعنی خود دیکھ کر حقائق کو جاننا‘ تیسرا درجہ حق الیقین ہے‘ یعنی جن حقائق کو سنا‘ پڑھا اور دیکھا تھا‘ ان کے وجود کو خود محسوس کرنا… پہلے دو درجوں میں شک و شبہ کی گنجائش ہے… بسا اوقات ہم جو کچھ سنتے یا پڑھتے ہیں‘ وہ غلط ثابت ہوتا ہے‘ اور یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ بھی غلط ثابت ہوتا ہے‘ لیکن حق الیقین‘ یقین کی وہ خاص کیفیت ہے جو شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ یہ کیفیت وحی کے طفیل حاصل ہوسکتی ہے… اس نے ہم کو ’’حقیقت سعادت‘‘ سے باخبر کیا ہے… یقین‘ نوع انسانی کی حیات اجتماعیہ میں بمنزلہ روح کے ہے۔ اگر یہ میسر نہیں تو ملت ایک جسم بے جان کی طرح ہے‘ اسی لئے ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا۔
یقین مثل خلیل آتش نشینی
یقین اﷲ مستی خود گزینی
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)