اسلام اور نفسیاتی مسائل کا حل

in Tahaffuz, December 2008, آپ کے مسا ئل کا شر عی حل, ڈاکٹر محمد مالک

دین اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر مبنی ہے۔ قرآنی تعلیمات ہوں یا سیرت طیبہ کے مہکتے پھول۔ یہ تعمیر سیرت‘ تشکیل ذات اور تشکیل معاشرہ کا بہترین علاج ہیں۔ حسن سلوک‘ صلہ رحمی‘ عدل و انصاف‘ معاشیات‘ سیاسیات‘ نفسیات اور طب غرضیکہ زندگی کے ہر شعبہ میں تعلیمات رسولﷺ ہمہ پہلو خیروبرکت کی حامل ہیں۔ یقینا انسانوں کو ان کے تمام مسائل و جملہ امراض سے نجات‘ جسم اور روح کی شفا بخشی اسوۂ رسولﷺ کے بغیر ممکن نہیں۔ جسمانی صحت و توانائی‘ ذہنی طہارت و لطافت‘ روحانی بالیدگی و پاکیزی‘ ارادوں اور نیتوں کی اصلاح اور کردار کی عظمت و بلندی اسوۂ حسنہ کے لازمی ثمرات ہیں جن کی ہر زمانہ میں ضرورت رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے۔ لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوۃ حسنہ (ترجمہ کنز الایمان شریف: بے شک تمہیں رسول اﷲ کی پیروی بہتر ہے)
آج افراط و تفریط کے دور میں نفسیاتی امراض بڑھ رہے ہیں اور پورا معاشرہ ان کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے نازک حالات میں صرف دین اسلام ہی وہ حیات بخش نظریہ ہے جو انسانیت کے ہر قسم کے مسائل و مشکلات کا شافیو کافی حل پیش کرتا ہے اور روحانی انقلاب کے ذریعے فلاح انسانیت (بالخصوص ذہنی بیماریوں) کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔ علماء ملت نے ہر دو ر میں اس ضمن میں رہنمائی فرمائی ہے اور دور آخر‘ بیسویں صدی ہجری میں عبقری وقت امام احمد رضا محدث بریلی علیہ الرحمہ کی شخصیت اور ان کے علمی ورثہ میں زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کے لئے واضح اصول ملتے ہیں‘ ان میں نفسیاتی مسائل بھی شامل ہیں۔ چونکہ یہ مضمون علم نفسیات سے متعلق ہے اس لئے ہم نفسیات (Psychology) کی اجمالی گفتگو اسوۂ رسولﷺ کی روشنی میں دور حاضر میں بڑھتے ہوئے نفسیاتی مسائل کا حل پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
علم نفسیات (Psychology):
علم نفسیات ایک سائنس ہے جو انسانی فطرت سے متعلق ذہنی اعمال کا مطالعہ کرتا ہے‘ شعوری یا لاشعوری‘ طبعی یا غیر طبعی‘ انفرادی یا اجتماعی‘ مذہبی و سیاسی‘ ادبی و تعلیمی‘ معاشرتی و اقتصادی غرضیکہ ہر قسم کے اعمال کے مطالعہ کا منظم طریقہ علم نفسیات کہلاتاہے۔
نفسیاتی امراض کی اقسام:
آج کل چونکہ نفسیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں اس لئے معاشرہ میں عام مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
(1)  Neuroses
(2) Psychoses
Neuroses میں ٹینشن‘ Anxiety‘ ڈپریشن‘ OCD‘ Panic Attakcs‘ Phobias اور Conversion Reaction شامل ہیں اور Psychoses میں Schizophrenia اور Hypomania/Mania اہم بیماریاں ہیں۔
نفسیاتی عارضوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے
علم نفسیات کا تعلق انسانی سوچ‘ تفکر‘ عادات و اطوار و کردار سے ہے۔ نفسیات کا علم چند ایسی انسانی خصلتوں‘ و جبلتوں کی نشاندہی کرتا ہے جو انسانی شخصیت میں بگاڑ کا باعث بنتی ہے اور مستقبل میں ذہنی خرابیوں اور نفسیاتی امراض کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرتی ہے مثلا بغض‘ حسد‘ کینہ‘ غصہ‘ غیبت‘ بہتان تراشی اور جاسوسی وغیرہ۔ دین اسلام نے جہاں ایسی خرابی کی نشاندہی کی وہاں اس کا حل پیش کرتے ہوئے بتادیا کہ یہ شیطانی وسواس انسانی شخصیت میں منفی اثرات پید اکرکے نفسیاتی بیماریوں کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ علم جنین کی تحقیق کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ خرابیاں Genes-Chromosomes کے ذریعے بڑوں سے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں جو دیمک کی طرح نسل انسانی میں بگاڑ کا باعث بنتی جاتی ہیں۔ دین اسلام نے نہ صرف ہر ایسی خرابیوں سے بچنے کی تاکید کی ہے بلکہ فرمودات رسولﷺ کی روشنی میں اس کا شافی حل بھی بیان فرمایا ہے جس کی جدید نفسیات آج بھی احسان مند ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں جس میں نفسیاتی بیماریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
Anxiety Neuroses & Depression and relative disorder, Fear Comples, Guilt Complex, Inferiority Complex, Emotions, Behaviour & Personality Formation
حضور اقدسﷺ کو (اﷲ علیم و خبیر نے ہر اس علم سے نوازا ہے جس سے دنیا و آخرت میں انسان اور انسانیت کی فلاح و اصلاح وابستہ ہے۔ اس لئے آپ کو) انسانی ذہن‘ اس کی فزیالوجی اور بگڑجانے پر پتھالوجی پر کامل دسترس تھی۔ آپﷺ نے آئندہ کے لئے عملی نفسیات کو سمجھنے کا موقع فراہم کردیا جو آنے والی نسلوں کے لئے ہمیشہ مشعل راہ ہے۔ رسول پاکﷺ کی سیرت طیبہ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ آپ نے ذہنی خلجان پیدا کرنے والی تمام جبلتوں پر پوری توجہ دی ہے اور علاج کے وہ رہنما اصول بیان فرمائے ہیں جن کو عملی نفسیات کے ماہرین نے اپناکر غلبہ اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرلیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک شخص نے رحمت عالمﷺ سے پوچھا غیبت کیا ہے؟ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ تو کسی کے بارے میں کسی چیز کا اس کی عدم موجودگی میں ذکر ایسے انداز میں کرے کہ اگر اس شخص کے سامنے کیا جائے تو اسے برا لگے۔ سائل نے پوچھا یارسول اﷲﷺ اگر حقیقت ہو تو! پھر آپﷺ نے فرمایا اگر تونے باطل کہا وہ بہتان ہوجائے گا۔ (امام مالک) یعنی بہتان اور غیبت دونوں خرابیوں سے بچنے کی تاکید فرمائی گئی کیونکہ اس سے منفی سوچ پیدا ہوتی ہے اور انسانی شخصیت متاثر ہوتی ہے۔ جسے علم نفسیات کی رو سے بگاڑ کہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں عالمی مبلغ حضرت مولانا محمد الیاس قادری رضوی دامت برکاتہم کا کتابچہ ’’غیبت کی تباہ کاریاں‘‘ لائق مطالعہ ہے۔
{Phobic Anxiety:
فتح مکہ کے موقع پر فرمایا ’’جائو آج تم سے کوئی بدلہ نہ لیا جائے گا اور تم سب آزاد ہو‘‘ اﷲ اکبر! انسانی جان کو امان اور قدرومنزلت پہلی مرتبہ رسول کریمﷺ نے عطا فرمائی۔ جس سے لوگوں کو ذہنی کرب‘ فکری الجھنوں اور پریشانیوں سے نجات ملی۔
Inferiority Complex:
خطبہ حجتہ الوداع میں احساس کمتری کا حل ملاحظہ فرمایئے۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا ’’یعنی کوئی شخص احساس کمتری میں مبتلا نہ ہو کہ دوسرے سے کمتر ہے۔ رنگ و نسل کی وجہ سے کسی دوسرے پر ممتاز حیثیت نہیں رکھتا۔ اﷲ کے ہاں برتری کا معیار کردار و تقویٰ ہے‘‘ (مفہوم)
ڈپریشن:
رسول کریمﷺ نے فرمایا ’’دنیا کی ہوس رنج وغم میں مبتلا کردیتی ہے اور خودسری دل کو ٹیڑھا کردیتی ہیں‘‘ ایک حدیث پاک میں آتا ہے ’’اللھم نصف الہزم‘‘ ترجمہ : یعنی غمگین رہنے سے جلد بڑھاپا آتا ہے۔ مادہ پرستی کے اس تصور حیات نے انسان سے ہر قسم کا امن و سکون چھین لیا ہے۔ خودغرضی‘ حرص و لالچ‘ بغض و کینہ‘ دھوکہ دہی او منفی سوچ نے انسانی شخصیت کو مجروح کیا ہے جن سے Anxiety اور ڈپریشن میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا واحد حل رسول کریمﷺ کی پیروی میں ہے اور عملی زندگی کے حوالے سے دنیا و آخرت کی بہترین ضمانت آپﷺ کا اسوہ حسنہ ہے۔ جدید سائنس کے مطابق دو مادے (Norepinephrine & Scrotonin)  ڈپریشن میں اہم رول ادا کرتے ہیں جس سے انسانی شخصیت اجاگر ہوتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نفسیاتی بیماریوں کی شرح بڑھ رہی ہے اور یہی حال رہا تو آئندہ سالوں میں نفسیاتی بیماریاں سرفہرست ہوگی۔
غصہ:
غصہ انسانی جبلت میں موجود ہے جس سے انسانی صحت و شخصیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ حدیث پاک میں ہے ’’یعنی غصہ آئے تو بیٹھ جائے‘ اگر زیادہ غصہ آئے تو لیٹ جائے‘‘ اس حدیث مبارکہ میں غصے کا فوری نفسیاتی علاج بتایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غصہ میں خاص قسم کے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو انسانی افعال میں تبدیلی لاتے ہیں اور اس کو کنٹرول کرنے میں (System-Sympathetic & Parasympathetic System Antonomic Nervous) بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور دماغ کے اہم حصے (Cerebral Cortex, Limic System and Reticular Formation HHypothalamus) اہم کام سر انجام دیتے ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ غصے کا فوری علاج بیٹھ جانے اور لیٹ جانے سے Body Changes کے ساتھ Neurotransmitters میں ٹھہرائو پیدا ہوتا ہے جس میں (1) Physilogical Change (2) Motivational Behaviour (3) Emotion Evolution میں اعتدال آنا شروع ہوجاتا ہے اور غصہ ٹھنڈا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
جدید ریسرچ:
Emotions:
Emotion is a moved or stirred up state of the individual. Emotion is hard term to define, when we speak of emotion, we usually refer to:
A: Subjective feeling
B: The Physiological bases of emotion
C: The effect of emotion on Perception, thinking and behavior.
D: The motivational Properties of Certain emotion.
E: The ways emotions are shown in language, facial expression and gestures.
The Pattern of bodily activity in a number of emotion are controlled by the limbic system and hypothalamus of brain. The arousual state that accompanies many emotions is regulated by the ascending reticular activating system (ARAS) of the brain stem. In emotions, the sympathetic system causes the discharge of the hormones epinephrine (adrenaline) and nor epinephrine (noradrenalin) while other part of the autonomic nervous system, called the parasympathetic system tends to be active when we are calm and relaxed.
Theories of Emotion:
1.    James Lange theory of Emotion (Feeling and Physical) (1842-1910)
2.    Connon Bard Theory of Emotion (Feeling and Cognitive) (1927)
3.    Schachter Singer Theory of Emotion (The interpretation of bodily arosal) (1962)
4.    Cognitive theory of Emotion.
5.    Plutchik’s theory of Emotion.
6.    Mc Dougall’s theory of Emotion
یعنی جب انسان غصے میں ہوتا ہے تو Sympathetic part اہم رول ادا کرتا ہے۔ اس لئے حدیث مبارکہ کی رو سے غصہ کی حالت میں بیٹھ جانے یا لیٹ جانے سے دل کی دھڑکن میں کمی آجاتی ہے۔ بلڈ پریشر نارمل ہوجاتا ہے۔ Endocrine Screetion اعتدال پر آنا شروع کردیتے ہیں۔ یقینا Parasympathetic Part اہم رول ادا کرتا ہے۔جس کی وجہ سے انسان Relaxation محسوس کرتا ہے۔ بلاشبہ فرمان نبویﷺ سچا ہے۔ جس کی تائیدآج جدید میڈیکل سائنس نے کردی ہے۔
Human Behaviour & Personality Formation
حدیث نبویﷺ ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا ’’مومن کے میزان میں خوش خلقی سے زیادہ وزنی چیز کوئی نہ ہوگی‘‘ حدیث نبویﷺ ہے ’’حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا ’’فحاشی اور بدگوئی تمہاری شخصیت کو خراب کرے گی اور حیاء اسے تزئین و آرائش دے گی‘‘ پہلی حدیث پاک میں Human Behaviour کی طرف اشارہ ہے۔ اور دوسری حدیث پارک تعمیر شخصیت سے متعلق ہے۔ واضح رہے کہ تعمیر شخصیت کے حوالے سے فرمودات اعلیٰ حضرت امام احمدرضا بریلوی علیہ الرحمہ اسوہ حسنہ کی روشنی میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں جس میں نفس قلب اور روح کا ذکر کیا گیا ہے۔ بحوالہ (امام احمدرضا اور نظریہ شخصیت۔ ڈاکٹر محمد مالک‘ امام احمد رضا اور سگمنڈ فرائیڈ کی افکار کا تقابلی جائزہ The revivalist of the 20th Century۔ ڈاکٹر محمد مالک)
بچوں کی نفسیات:
بحیثیت ماہر تعلیم بچوں کی نفسیات سے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی ایک فکر انگیز تحریر ملاحظہ ہو جو تعمیر سیرت میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ جلد دہم میں فرماتے ہیں ’’پڑھانے لکھانے میں رفق و نرمی رکھے۔ موقع پر چشم نمائی تنبیہ تحدید کرے مگر ہرگز کو سنا نہ دے کہ اس وقت کا کوسنا ان کے لئے سبب اصلاح نہ ہوگا بلکہ اور زیادہ فساد کا اندیشہ ہے‘ مارے تو منہ پر نہ مارے‘ اکثر اوقات تحدید و تخویف پر قانع رہے‘ کوڑا قمچی اس کے پیش نظر رکھے کہ دل میں رعب رہے۔ زمانہ تعلیم میں ایک وقت کھیلنے کے لئے بھی دے کہ طبیعت نشاط پر باقی رہے۔ مگر زنہار زنہار! بری صحبت میں نہ بیٹھنے دے کہ یار بد مار بد سے بدتر ہے‘‘
’’ہرگز ہرگز بہار دانش‘ مینار بازار‘ مثنوی غنیمت وغیرہ کتب عشقیہ و غزلیات فسقیہ دیکھنے نہ دے کہ نرم لکڑی جدھر جھکائے جھک جاتی ہے‘‘
نفسیاتی علاج
نفسیاتی بیماریوں کا علاج پیچیدہ‘ سخت محنت طلب اور وقت طلب مسئلہ ہے جس میں مریضوں کابنیادی محرکات کو معلوم کرنا‘ مریض میں خود اعتمادی بحال کرنا اور سکون مہیا کرنا ہے جو صرف نفسیاتی علاج ہی سے حاصل ہوتا ہے۔
نفسیاتی علاج رسول عربیﷺ کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ رسول عربیﷺ سب سے پہلے مریض کا ہال پوچھتے‘ علامات سنتے اور تسلی اور اطمینان سے فرماتے ’’طہور انشاء اﷲ‘‘ اﷲ تعالیٰ بہتری فرمانے والا ہے۔
نفسیاتی علاج کی اہمیت
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ نفسیاتی علاج کی بنیادی اہمیت یہ ہے۔
1۔ سب سے پہلے مریض کی تنہائی دور ہوتی ہے۔
2۔ مریض کو ذہن کے اندر چھپی ہوئی کیفیتیں اور تکلیفیں بیان کرنے کا موقع ملتا ہے۔
3۔ مریض کی حوصلہ افزائی سے اس کو سکون محسوس کرتا ہے اور امید کی کرن دکھائی دیتی ہے۔
رسول عربیﷺ کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کے سنہری اصولوں کو بنیاد سمجھتے ہوئے ماہرین نفسیات نے نفسیاتی علاج کے جدید طریقے ایجاد کئے ہیں مثلا:
Interpersonal Psychotherapy
Congnitive Behavior Theraphy
Psychodynamic Psychotherapy
Humanistic Psychotherapy
Gestalt Therapy
Aversion Therapy
Ellis’s Rational-Emotive Therapy
Family Therapy-Group Therapy
فرمان نبویﷺ ہے۔ انت الرفیق واﷲ الطبیب۔ ترجمہ: تمہارا کام مریض کو اطمینان دلانا ہے‘ علاج خدا کرے گا۔ Applied Mental Health کے اصولوں

کی بنیاد اسی حدیث مبارکہ پر صادق آتی ہے۔ جس سے مریضوں کو نفسیاتی طور پر حوصلہ ہوتا ہے اور کافی حد تک تکلیف دور ہوجاتی ہے۔ رسول عربیِﷺ نے فرمایا ’’ہر مسلمان کے لئے لازمی ہے کہ جب اس کا مسلمان بھائی بیمار ہو تو اس کی عیادت کو جائے‘‘
ابن ماجہ شریف کی روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ’’اذا دخلتم علی المریض فنفسو الہ فی الااجل‘‘ جب تم کسی مریض کے پاس جائو تو اس کی اجل کو مہلت دو یعنی مریض کو امید دلائو اور حوصلہ دو۔ دین اسلام کی رفعت شان ملاحظہ فرمایئے رسول عربیﷺ نے فرمایا ’’اﷲ نے جس قدر مرض پیدا کئے ہیں ان تمام کے لئے شفاء بھی پیدا کی ہے۔ یعنی ہر مرض کا علاج موجود ہے‘‘ ذہنی صحت کا تصور جدید سائنسی خطوط پر بیسویں صدی میں نظر آتا ہے۔ لیکن اسلام نے چودہ سو سال قبل فرمادیا ہے۔ الا بذکر اﷲ تطمئن القلوب ترجمہ : سن لو اﷲ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے (کنزالایمان)
ہمارا دین جس قدر نیک نفسی اور عدل و شرافت پر زور دیتا ہے ہم مسلمان اتنا ہی برعکس چل رہے ہیں۔ آج بھی اسوہ رسولﷺ کے سنہری اصول تعمیر شخصیت اور دیگر نفسیاتی مسائل میں مینارۂ نور ہیں جنہیں اپناکر ہم جسمانی فوائد اور روحانی سکون حاصل کرسکتے ہیں۔