۱۲۱۔ الذین اتینھم الکتٰب یتلونہ حق تلاوتہ، اولٰئک یومون بہ، ومن یکفربہ فاولٰئک ہم الخٰسرونO

۱۲۲۔ یٰبنی اسرآئیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم وانی فضلتکم علی العٰلمین O

۱۲۳۔ واتقوایوما لا تجزی نفس عن نفس شیئا ولا یقبل منہا عدل ولا تنفعہا شفاعۃ ولا ہم ینصرون O

جن کو دی ہم نے کتاب، تلاوت کیا کریں جو اس کی تلاوت کا حق ہے۔ وہی مانے اسے، اور جو انکار کردے اس کا ،تو وہی خسارے والے ہیں

اے اولاد یعقوب یاد کرو میری نعمت کو، جو انعام فرمایا میں نے تم پر اور بے شک میں نے ہی بڑھا دیا تھا تم کو، زمانہ بھر پر

اور ڈرو اس دن کو کہ نہ بدلہ ہو کوئی کسی ناکس کا کچھ اور نہ قبول کی جائے کسی ناکس کی رشوت اور نہ کام آئے کسی ناکس کوئی سفارش اور نہ وہ مدد دیئے جائیں

  ان یہودیوں اور عیسائیوں میں سے وہ (جن کو دی) تھی (ہم نے کتاب) اور وہ عادی تھے کہ (تلاوت کیا کریں) اس کتاب کی بغیر کسی حرف کو بدلے ہوئے (جواس) کتاب (کی تلاوت کا حق ہے) کہ ایک زیر، زبر نہ بدلنے پائے اور ایک حرف ادھر سے ادھر نہ ہونے پائے۔ کسی لفظ میں کاٹ چھانٹ نہ کی جائے۔ جیسے عبداﷲ ابن سلام اور وہ چالیس اہل سفینہ جو جعفر ابن ابی طالب کی سرکردگی میں حاضر دربار نبویﷺ ہوئے تھے۔ جن میں بتیس حبشہ کے تھے اور آٹھ شام کے راہب تھے۔ جن میں بحیرا راہب بھی تھے (وہی) لوگ ہیں جو اپنے اس رویہ کے بدولت (مانیں اسے اور جو) اس چال کا نہیں ہے اور (انکار کردے اس کا) (تو) تمہارا کیا بگڑا؟ (وہی) خود (خسارہ والے ہیں) توریت جاننے والا جو پیغمبر اسلام پر ایمان لایا، کیونکہ توریت میں ان کا بیان ہے اور ان پر ایمان لانے کا حکم ہے اور مسلمان کے لئے تو ظاہر ہے کہ جو قرآن کریم کی تلاوت کا حق ادا کرے اور بغیر کسی ہیر پھیر کے تم کو اسی طرح مانے جس شان کے ساتھ تمہیں قرآن میں ماننے کا حق ہے تو وہی سچے مسلمان ہیں اور جو تمہارے ماننے میں کچھ بھی بے دلی، مردہ دلی اور تنگ نظری سے کام لے، تو اسی کا اس میں خسارہ ہے۔

(اے) مدینہ میں رہنے والے (اولاد یعقوب) تم سن چکے کہ تمہارے مورثوں پر ہمارے کیسے کیسے احسانات ہوئے اور وہ کیسی کیسی غداریاں کرتے رہے۔ اب پھر ان سب کا خلاصہ اور نچوڑ مختصر طور پر یاد رکھنے کے لئے، آخر میں سن لو کہ (یاد) کیا (کرو میری) ہر اس (نعمت)ے کو (جو انعام فرمایا) تھا (میں نے تم) لوگوں کے مورثوں (پر) (اور) یاد رکھو کہ (بے شک میں نے) ہی (بڑھا) چڑھا (دیا تھا تم) لوگوں کے مورثوں (کو) ان کے (زمانہ بھر پر)

(اور) اس نصیحت کو نہ فراموش کرنا کہ (ڈرو اس) قیامت کے (دن کو) ایسا نہ کہ (نہ بدلہ کوئی) ناکس (کسی ناکس کا کچھ) بھی کہ کوئی بھی کافر کسی بھی کافر کا عوض ہوسکے (اور نہ قبول کیا جائے) قیامت کے دن (کسی ناکس) کافر (کی) کوئی (رشوت) کہ مال دے کر جان بچا سکے (اور نہ کام آسکے کسی ناکس) کافر (کے کوئی) اور کسی کی بھی (سفارش اور نہ وہ) ناکس کافر کسی قسم کی (مدد دیئے جائیں) لہذا اے یہودیو! جب تک اپنے کفر سے باز آکر اسلام کو قبول نہ کرو گے، بالکل امید نہ رکھو کہ کسی صورت سے بھی آخرت کے عذاب سے نجات پاسکو گے۔