پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں نوجوانوں کی تعددا اڑھائی کروڑ ہے، ان کی عمر 17 سے 23 سال کے درمیان ہے۔ ان میں سے صرف چار فیصد کالج جاتے ہیں جبکہ 96 فیصد اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں اور ان چار فیصد میں سے 70 فیصد آرٹس جبکہ 30 فیصد سائنس کا مضمون رکھتے ہیں۔ڈگری ہولڈرز سے 38 فیصد بے روزگار ہیں اور 45 فیصد جن کی نوکریاں ہیں لیکن ان کی آمدن ان کے اخراجات سے 70 فیصد کم ہے اور لمحہ فکریہ ہمارے چالیس لاکھ افراد دوسرے ممالک میں نوکریاں کررہے ہیں اور بدقسمتی کہ دوسرے ممالک میں نوکری کی تلاش میں نوجوانوں کی تعداد 68 فیصد ہے۔ وطن عزیز کے نونہال بچوں کا اسکول میں اندراج صرف 40 فیصد ہے۔ یہ حال ہے ہمارے وطن عزیز کے نوجوان نسل کا۔

قارئین کرام! آپ بخوبی جانتے ہیں کہ نوجوان اپنے ملک کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ ملک کو سنوارنے، نکھارنے اور پرامن ماحول بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔جس ملک کے نوجوان نسل جتنی پڑھی لکھی ہوگی، وہ ملک اسی قدر ترقی کرے گا۔ جس ملک کا نوجوان طبقہ جتنا زندہ دل ہوگا، زندہ ضمیر ہوگا۔ اس ملک کی قوم اس قدر خوددار ہوگی۔ جوانی میں انسان کے پاس شعور، دانش جیسی نعمتوں کے ساتھ ترقی اور کامیابی کے بہت سے مواقع بھی ہوتے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر ایک نوجوان نہ صرف اپنی ذات، خاندان، معاشرے بلکہ ملک کے لئے بھی باعث فخر بن سکتا ہے۔ بااخلاق، باصلاحیت اور تعلیم یافتہ نوجوان اپنے ملک کا نام روشن کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کا نام تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھا ہوتا ہے۔ جوانی اﷲ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہمیں اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ جوانی بامقصد گزارنی چاہئے۔

یاد رکھئے! قیامت کے روز اس نعمت کے متعلق سوال ہوگا۔ جیسا کہ پیغمبر اسلامﷺ کا فرمان عالیشان ہے کہ قیامت کے روز ہر آدمی سے چار سوالات ہوں گے۔

(1) مال کہاں سے کمایا

(2) کہاں خرچ کیا

(3) اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا

(4) اپنی جوانی کیسے گزاری

جوانی کی عبادت اﷲ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ جوانی کے ایک سجدے کو بڑھاپے کے 70 سجدوں پر فوقیت دی گئی ہے۔ جوانی کے دور کو بامقصد بنانے کے لئے اس کے ارتقائی منازل طے کرنے کے لئے علم بنیادی شے ہے۔ مگر ہمارے بہت سے نوجوان دور تعلیم میں آنی والی مشکلات سے اکثر ہمت ہار جاتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ گھریلو معاملات، بے روزگاری، بری صحبت، گروپ بندی، مستقبل سے لاپرواہی، غربت اور مہنگائی وغیرہ۔

دینی علوم حاصل کرنے والوں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ بہت سے طالب علم صرف اس لئے تعلیم ترک کردیتے ہیں کہ وہاں کا ماحول، رہائش، کھانے پینے کا نظام ان کے معیار کا نہیں ہوتا یا پھر معیاری نہیں ہوتا۔ چونکہ ان طالب علموں کو 24 گھنٹے مدرسے میں رہنا ہوتا ہے تو وہاں آنے جانے کی پابندیاں ان کو دشوار محسوس ہوتی ہیں اور کبھی بیماریاں تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں اور خاص طور پر بنیادی وجہ غربت ہی ہے۔ میں ان تمام نوجوانوں سی اتنا کہنا چاہوں گا کہ زندگی کے ہر موڑ پر مشکلات اور بڑے بڑے مصائب آتے ہیں۔ مردانگی تب ہے جب ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا جائے۔ ماشاء اﷲ ہر نوجوان کے اندر اﷲ تعالیٰ نے یہ صلاحیت ودیعت فرمائی ہے، صرف اسے بروئے کار لانا ہے۔ شاعر مشرق نے کیا خوب کہا ہے:

یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہی مردوں کی شمشیریں

علم حاصل کرنے آپ نہ صرف اپنے ملک کی بلکہ اپنے مذہب کی نمائندگی کرسکتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہی ملک کے نظام بہتر طریقے سے چلا سکتا ہے۔ مانا کہ مسائل ذیادہ ہیں اور وسائل کم، دن بدن مہنگائی، غربت، کرپشن اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دل برداشتہ ہوکر بیٹھ جائیں۔ آخر زندگی تو گزارنی ہے نا!

یاد رکھیں! اگر آپ غریب باپ کے ہاں پیدا ہوئے اس میں آپ کا قصور نہیں۔ ہاں اگر آپ اس غربت سے مرجاتے ہیں۔ یہ آپ کا قصور ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو محنت اور کوشش کی جو سکت عطا فرمائی تھی، فائدہ کیوں نہیں اٹھایا۔ بہت سے F.A.، B.A.، M.A. کی ڈگریوں والے صرف اس وجہ سے بے روزگار ہیں کہ نوکری ان کی تعلیم کے مطابق نہیں۔ کیا تعلیم نوکری کے حصول کیلئے حاصل کی جاتی ہے۔ تعلیم تو انسان کو شعور یا اچھے برے کی تمیز، انسانیت کے حقوق اور اﷲ اور اس کے رسولﷺ کی معرفت سکھاتی ہے۔

اے وطن عزیز کے نوجوان نسل! اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنا ایک مقصد بناکر اور منزل متعین کرکے اس کے مطابق کوشش کریں۔ ہمیشہ پرامید رہیں۔ عظیم لوگوں کی سیرت کا مطالعہ کرتے رہیں جیسا کہ فاتح اسلام محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی نے دنیا کی عظیم ہستی پیغمبر اسلامﷺ کی سیرت مقدسہ کو اپنا کر ایک ناقابل فراموش کامیابی حاصل کی۔

اپنی کامیابی کے لئے ہر نماز کے بعد دعا ضرور بالضرور کریں کہ دعائیں مومن کا ہتھیار ہوتی ہیں۔ مایوسی گناہ ہے، ہمیشہ پراعتماد رہیں۔ بقول اقبال

تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اسی روز وشب میں الجھ کر نہ رہ جا

کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں