انشاء اﷲ فتح ہماری ہوگی

in Tahaffuz, January 2011, حا مد میر, متفرقا ت

لبرل فاشسٹوں کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے کو ہمیشہ انسانی حقوق کے نام پر آگے بڑھاتے ہیں۔ جہاں انْہیں قائد اعظم ، اور علامہ اقبال ، کا نام استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئے وہاں وہ کوئی شرم محسوس نہیں کرتے اور جہاں انہیں قائداعظم، کا کوئی ارشاد یا اقبال ، کا کوئی شعر اپنے ایجنڈے سے متصادم نظر آئے وہاں وہ ان دو بزرگوں کو مسترد کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ’’خودی‘‘ نام کی ایک تنظیم نے انتہا پسندی کے خلاف ایک بیٹھک کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر ’’خودی‘‘ والوں نے اقبال، اور قائداعظم ، کے ارشادات پرمبنی کچھ بینرز اور پوسٹرز بھی آویزاں کررکھے تھے۔ اس خاکسار کو بہت حیرت ہوئی جب ایک خاتون نے اس تقریب کے منتظمین سے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے یہاں اقبال ، اور قائداعظم، کی تعلیمات کواْجاگر کیوں کیا ہے کیوں کہ یہ دونوں تو سیکولر نہیں بلکہ اسلام پسند ہیں۔ موصوفہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ایک استاد کی صاحبزادی ہیں اور ایک این جی او سے وابستہ ہیں۔ انْہیں اپنی رائے رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے لیکن وہ اور اْن کے نظریاتی ہمنوا اپنی رائے کے اظہار نہیں بلکہ دوسروں پراپنی رائے ٹھونسنے پر یقین رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لبرل فاشسٹ اور مذہبی ڈاکٹر ایمن الظواہری کی ایک کتاب کا اردو ترجمہ سامنے آیا ہے جس کا نام ’’سپیدہ سحر اور ٹمٹماتا چراغ‘‘ ہے۔ اس کتاب میں انْہوں نے پاکستان کے آئین اور جمہوریت کو کفر قرار دیا ہے بلکہ پاکستان کے وجود کو بھی کسی عالمی کھیل تماشے کا حصہ قرار دے دیا ہے۔ ڈاکٹر ایمن الظواہری کہتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کا آئین اور قانون غیر اسلامی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں کئی لبرل فاشسٹوں کو یہ اعتراض ہے کہ پاکستان کو ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کیوں کہا جاتا ہے‘ پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت پر کلمہ طیبہ کیوں لکھا گیا ہے‘ صدر اور وزیراعظم کا مسلمان ہونا لازمی آئینی تقاضا کیوں ہے‘ آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم کیوں قرار دیا گیا ہے اور توہین رسالت کی سزا موت کیوں ہے؟ غور کیا جائے تو لبرل فاشسٹ اور مذہبی انتہا پسند دونوں ہی آئین اور جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے ‘ دونوں میں اعتدال پسندی اور برداشت کی کمی نظر آتی ہے اور دونوں اقلیت میں ہونے کے باوجود اکثریت کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں۔

توہین رسالت کی سزا کا معاملہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں اور پارلیمنٹ نے طے کردیا ہے۔ لیکن وقفے وقفے سے کچھ غیر ملکی طاقتیں اس معاملے میں مداخلت کرتی رہتی ہیں۔ امریکہ اور بعض مغربی ممالک ماضی میں کھل کر توہین رسالت کی سزا سے متعلق قانون 295 سی کو ختم کرنے یا تبدیل کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں غیر ملکی سفیروں کا ایک وفد اس وقت کے وزیر قانون رضا حیات ہراج سے ملا اور اس قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ رضا حیات ہراج نے غیر ملکی سفیروں سے صاف صاف کہا کہ توہین رسالت کی سزا موت ہے‘ یہ سزا ختم نہیں ہوسکتی۔ سفیر صاحبان مایوس ہوکر واپس لوٹ گئے۔اب صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست اور پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے 295سی کو کالا قانون قرار دے دیا ہے۔ قومی اسمبلی کے کچھ اقلیتی ارکان نے اس قانون کو غیر مسلموں کی جان و مال کے لئے خطرہ قرار دے دیا ہے تاہم اس صورت حال میں وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے دینی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک وہ وزیر قانون ہیں توہین رسالت کا قانون تبدیل نہیں ہوسکتا۔

بابر اعوان سے لاکھ اختلاف لیکن اس معاملے میں اْن کا موقف غیر لچکدار اور پاکستانی عوام کی اکثریت کے حقوق کی پاسداری کے مترادف ہے۔ پاکستان میں غیر مسلموں کے حقوق کا خیال رکھنا ہم سب کا فرض ہے لیکن اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ ہم اپنے پیارے نبی کی شان میں گستاخی کی کھلی اجازت دے دیں۔ مسیحی ‘ ہندو‘ سکھ اور دیگر غیر مسلم بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ 295سی پر مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھیں اور توہین رسالت کے معاملے کو اپنے حقوق کی جنگ نہ بنائیں البتہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اقدامات واقعی ضروری ہیں۔ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والوں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے اور اس سلسلے میں مجھے اپنے قابل احترام بزرگ جناب آئی اے رحمان کے خیالات سے مکمل اتفاق ہے کہ صرف اْس شخص کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے جس نے واقعی جان بجھ کر توہین رسالت کا ارتکاب کیا ہو۔

برادرم ارشاد احمد عارف صاحب نے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کی کتاب ’’ چاہِ یوسف سے صدا‘‘ کے صفحہ 140 کے حوالے سے لکھا ہے کہ 1990ء میں وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کرنا چاہتے تھے لیکن اْس وقت کی اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو نے اس قانون میں ترمیم کا راستہ روکنے کے لئے بھرپور کوشش کی۔ بے نظر بھٹو صاحبہ نے محمد خان جونیجو‘غلام مصطفیٰ جتوئی اور اعجاز الحق کی مدد سے اس ترمیم کا راستہ روکا۔ جناب یوسف رضاگیلانی سے گزارش ہے کہ اپنی کتاب کا صفحہ 140 صدر آصف علی زرداری کو بھی پڑھ کر سنادیں اور مناسب سمجھیں تو اس قانون کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی غیر ملکی شخصیات کو بھی یہ بتادیں کہ توہین رسالت کے قانون کو چھیڑنے سے پاکستان میں انتہا پسندی بڑھے گی‘ لوگ آئین اور جمہوریت سے متنفر ہوجائیں گے اس لئے آپ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ ستم ظریفی دیکھیئے کہ فرانس‘ جرمنی‘ آسٹریا‘ سوئٹزرلینڈ‘ ہالینڈ اور اسرائیل سمیت کئی ممالک میں ہولوکاسٹ یعنی دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے قتل عام کی کہانیوں کو غلط قرار دینا ایک جرم ہے لیکن مسلمانوں کے ملک میں اْن کے نبی پاک کی توہین کو جرم قرار دیا جائے تو انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار تلملانے لگتے ہیں۔

وہ خواتین و حضرات جو ننکانہ صاحب کی ایک عدالت کی طرف سے ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو دی جانے والی سزائے موت کو غلط سمجھتے ہیں وہ ہائی کورٹ سے رجو ع کریں کیوں کہ عدالت نے بھی اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد لاہور ہائی کورٹ کی توثیق کے بعد کیا جائے۔ سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دیا ہے۔اْن سے گزارش ہے کہ وہ آسیہ بی بی کی بے گناہی کے ثبوت اور گواہ میڈیا کے سامنے لائیں اور اْس کے خاوند سے پوچھیں کہ مقدمے کی سماعت کے دوران اْس نے اپنی بیوی کے حق میں گواہی کیوں نہ دی؟آسیہ بی بی کے نام پر 295سی کے خاتمے کی کوششوں کے پیچھے دراصل وہ طاقتیں ہیں جو صدام حسین کو پھانسی پرلٹکانا معیوب نہیں سمجھتیں لیکن توہین رسالت کے ذریعہ لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے سلمان رشدی کے خلاف فلم بن جائے تو اْس پر پابندی لگادیتی ہیں۔ صدام حسین کو سزائے موت دنیا درست ہے تو توہین رسالت کے مجرم کو سزائے موت دینے سے آپ کو کیا تکلیف ہے؟ آج مجھے مفتی ڈاکٹر سرفراز نعیمی بہت یاد آرہے ہیں۔ وہ 295سی کے بہت بڑے حامی تھے۔ مشرف دور میں توہین رسالت کے خلاف تحریک میں جیل چلے گئے تھے اور زرداری دور میں خودکش حملوں کی مخالفت پر طالبان کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ لبرل فاشسٹ اور مذہبی انتہا پسند دونوں اْن سے نفرت کرتے تھے۔ آج پاکستانی قوم کو ان دونوں کا مقابلہ کرنا ہے انشاء اﷲ ہم ان دونوں کو شکست دیں گے۔