اعلیٰ حضرت قدس سرہ حاسدوں کے نرغے میں

in Tahaffuz, January 2011, شخصیات, مولانا اختر شاہ جہان پوری

انگریز تجارت کی غرض سے آئے لیکن ہندوستان کو سونے کی چڑیا دیکھ کر پاؤں پھیلانے شروع کردیئے۔ جب آہستہ آہستہ بہت سے علاقوں پر قبضہ کرلیا تو سلطان حیدر علی والی میسور اور مرہٹوں نے مقابلہ شروع کردیا۔ انگریز عیاروں نے کئی راجے اور نواب گانٹھ لئے۔ حیدر علی کے بعد اس کا فرزند سلطان ٹیپو شہید بھی اپنے باپ کا سچا جانشین ثابت ہوا۔

جب اسلام کا یہ مایہ ناز سپوت بھی سرنگا پٹم کے قلعے میں محصور ہوکر آخری دم تک انگریزوں سے لڑتا ہوا جام شہادت نوش کرگیا۔ تو مسلمانان ہند کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا کیونکہ ان کی امیدوں کے چراغ کی سحر ہوگئی تھی۔

برطانوی اچھی طرح جانتے تھے کہ ہندوستان کے اندر مسلمان ہی وہ بیدار اور زندہ دل قوم ہے جو کسی وقت بھی انہیں آرام سے حکومت نہ کرنے دے گی۔ سلطان ٹیپو شہید اور بہادر شاہ ظفر کے انجام سے مسلمانوں کی ملکی اور سیاسی طاقت کا ہندوستان میں تقریبا خاتمہ ہوگیا۔ باقی رہ گئے صرف عوام جن کا مذہبی جوش بھی زبردست خطرہ نظر آتا تھا۔ چنانچہ اسی جوش کو سرد کرنے کے لئے ان مکاروں نے کرائے کے مولوی اور صوفی تلاش کرنے شروع کئے۔ جوئندہ یابندہ اور پھر پیسے سے کون سا کام نہیں بن پڑتا؟ کٹھ ملاؤں کی پوری کھیپ ہاتھ آگئی۔ ان کرائے کے مولویوں نے اسلام کاحلیہ مسخ کرنا شروع کیا اور تفریق بین المسلمین کا کام سرانجام دے کر گورنمنٹ برطانیہ کا حق ادا کیا۔

کرائے کے مولویوں نے کسی طرح سے مسلمانوں پر کفر وشرک کی توپ داغی اور کسی طرف سے اکثرکار ہائے خیر پر بدعت کے گولوں کی دھواں دھار بارش شروع کردی۔ ایک سمت سے نئی نبوت کی آوازیں آنے لگیں اور ساتھ ہی کنواری بتول اور ان کے فرزند یعنی اﷲ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ رسول حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مغلظات سے نوازا جارہا تھا۔ ایک اور گوشے سے شش مثل کے نغمے بلند ہورہے تھے کہ چھ آدم، چھ نوح، چھ ابراہیم، چھ موسیٰ اور چھ محمد علیہم الصلوٰۃ و السلام ہیں۔ نیز خاتم النبیین کا مطلب آخری نبی نہیں ہے بلکہ سب سے اعلیٰ شان اور بالذات والانبی ہے۔ خاتم النبیین کے بعد ہزاروں نبی اور بھی آجائیں تو خاتمیت میں کوئی فرق نہیں آتا۔

ایک طرف یہ نان اڑائی جارہی تھی کہ خدا تعالیٰ جھوٹ بول سکتا، بلکہ بولتا کسی ساری مخلوق کے مجموعی جھوٹ سے بھی زیادہ بولتا ہے۔ کیونکہ اس کی قدرت بندوں سے کم نہیں ہے بلکہ وہ ہرچیز پر قادر اور بے پناہ قدرت والا ہے۔ نیز نبی کریمﷺ سے شیطان مردود کا علم زیادہ ہے۔ میلاد کنہیا کے سانگ کی طرح فرضی خرافات بلکہ قابل لوم و حرام و فسق ہے۔

انبیائے کرام کے لئے علم غیب کے حصول کو کفر وشرک بتایا جارہا تھا حالانکہ نبوت کے معنی ہی ’’غیب دانی‘‘ ہے۔ دوسری طرف تقلید شخصی کو شرک بتاکر نوصدیوں کے مسلمانوں کو کافر و مشرک قرار دیا جارہا تھا۔

ایک مدرسے سے آواز آرہی تھی کہ نبی کریمﷺ کا پاک علم، بچوں، پاگلوں اور جانوروں جیسا ہے۔ اپنی نبوت کے کلمے پڑھوائے جارہے تھے۔ یوپی کے مرکز میں یوں تان اڑ رہی تھی کہ جنت و دوزخ اور حشرونشر کی باتیں ملاؤں کی ایجاد ہیں۔ معجزہ اور کرامت کوئی چیز نہیں۔ قرآن کو موجودہ انجیل پر کوئی فوقیت نہیں۔ جنات اور ملائکہ انسانی قوتوں کے ہی نام ہیں۔ معراج اور شق القمر بناوٹی باتیں ہیں۔ انگریزوں کا ذبیحہ بلکہ گردن مروڑی ہوئی مرغی بلکہ سور کے علاوہ ہر چیز کھانا جائز ہے۔ انگریز خدا کی طرف سے آمر ہیں۔ ان کا باغی خدا کا باغی اور اسلام سے خارج ہے۔ ندوہ میں اسلام کی کچھڑی بنائی جارہی تھی، جٹادھاری نئے گل کھلا جارہا تھا۔ تحریک خلافت عجیب بولی بول رہی تھی اور صلح کلیت والے گلے ملا کر یہ راگ الاپ رہے تھے۔

ہندو مسلم سکھ عیسائی آپس میں ہیں بھائی بھائی

بھائی کو بھائی پیارا، ایسا ہوگا چلن ہمارا

پنڈت دیانند سرسوتی نے اسلام کے بعض اصول لئے اور ہندو مت کو آسان کرکے آریہ مذہب کرکے ترویج شروع کردی تو کتنے ہی مسلمان کفروارتداد کے سمندر کی لہروں کی نذر ہوگئے۔ غرض یہ کہ بے دینی کا دور آنے لگا۔ مقدس مذہب اسلام کے کتنے ہی خانہ ساز اسلام بن گئے۔ مسلمان آپس میں دست و گریبان ہونے لگے۔ بھائی بھائی کا مذہب ایک نہ رہا۔ باپ اور بیٹے مختلف الخیال ہوگئے۔

جب بے دینی کا یہ سیلاب امنڈ آرہا تھا۔ اس وقت ضرورت تھی کہ کسی طرح سے اس کا رخ پھیر ڈالا جائے۔ آخرکار ایک ایسا مرد مجاہد آیا۔ کہاں؟ بریلی شہر میں۔ کون؟ مجدد مائتہ حاضرہ اعلیٰ حضرت عبدالمصطفےٰ مولانا احمد رضا خان بریلوی۔ کب؟ جنگ آزادی سے تقریبا ایک سال پہلے 14 جون 1854ء بمطابق 10 شوال 1272ھ میں۔ تاریخ ولادت اس آیت سے نکلتی ہے۔

اولءٰک کتب فی قلوبہم الایمان وایدہ بروح منہ

اسلام کا یہ مایہ ناز فرزند امت محمدیہ کا درخشاں ستارہ، غوث اعظم کا پیارا، امام اعظم کی آنکھوں کا تارا، سنیت کا دلارا، حنفیت کا سہارا، چودھویں صدی میں اسلام کی کشتی کا کھیون ہارا آیا اور اس شان سے آیا کہ تقریبا چودہ سال کی عمر میں تمام علوم دینیہ و عقلیہ میں درجہ کمال حاصل کرکے مسند افتا پر رونق افروز ہوا۔ اسلام اور مسلمانوں کی حالت دیکھی تو دل تڑپ اٹھا۔ انگریزی مولویوں کی کار گزاریوں پر غیرت ایمانی میں جوش آیا پھر کیا تھا سب کی تردید کی ہر ایک کی مکاریوں اور عیاریوں کا کافی و شافی رد کیا کہ موافق کو گنجائش افزائش اور مخالف کو محال دم زون نہ رہی۔ غرض یہ کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی کر دکھایا جسے دیکھ کر بے ساختہ زبان پر آہی جاتا کہ

ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم

جس سمت آگئے ہو سکیّ بٹھا دیئے ہیں

آپ کی تصانیف تقریبا پچاس علوم و فنون پر مشتمل ہیں۔ جن کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز ہے۔ وہ بھی اس درجے کی کہ جس موضوع پر قلم اٹھایا، گنجائش باقی نہ چھوڑی۔ اہل علم کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو صدیوں میں اتنا جامع اور وسیع النظر عالم کوئی نہیں ہوا۔ مصنفات کو دیکھئے تو علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اﷲ علیہ کے بعد اس درجے کا صاحب تصانیف کثیرہ کوئی نہیں ہوا۔ آپ کی تصانیف ایسی نہیں کہ کسی جگہ کوئی تقریر کی اور چھپوا کر ایک کتاب شمار کرلی۔ یا کسی کتاب کا ترجمہ کرکے اپنی تصانیف میں ایک کی گنتی اور بڑھالی بلکہ سب مستقل تصانیف ہیں۔

آیئے آپ کو اعلیٰ حضرت بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کی چند تصانیف سے متعارف کروں۔ اعلیٰ حضرت نے لاکھوں فتوے لکھے، مگر سب کو نقل نہ کیا گیا جو نقل کئے گئے ان کے مجموعے کا نام ’’العطایا النبویۃ فی الفتاویٰ الرضویۃ‘‘

اس کی جہازی سائز کی بارہ جلدیں ہیں۔ ہر جلد میں تقریبا ایک ہزار صفحات ہیں۔ ہر فتوے میں دلائل کا سمندر موجزن ہے۔ قرآن و حدیث، فقہ، منطق اور کلام میں آپ کی نظر اتنی گہری اور وسیع تھی کہ مخالفین کو بھی اس سے استفادہ کے بغیر چارہ نہیں۔ ندوۃ العلماء والے مخالف ہونے کے باوجود خود فتاویٰ رضویہ استفادہ کے لئے چھپواتے ہیں۔

سچے خدا پر جھوٹ کی تہمت رکھنے والوں کے رد میں ’’سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح‘‘ ایک عظیم رسالہ تحریر فرمایا جس نے مخالفین کے دم توڑ دیئے، قلم نچھوڑ دیئے حتی کہ کسی میں اس وقت سے آج تک جرأت نہ ہوئی کہ اس رسالے کا جواب لکھے یا اس موضوع پر منہ کھولے۔ اس رسالے میں تیس نصوص، پچیس دلائل، دس حجتیں، اور پورے دو سو تازیانے ہیں جس کی روشنی میں خدا کو جھوٹا بتانے والے پر اٹھتر وجہ سے لزوم کفر ثابت کیا ہے۔

دوسری کفریہ عبارتوں کی آپ سالہا سال تک تردید کرتے رہے مگر جب کسی فہمائش اور عدد کا کوئی ایسا اثر نہ پڑا کہ وہ ان سے رجوع کریں تو مجبورا 1320ھ میں آپ نے ’’المعتمد المستند‘‘ لکھ کر حکم تکفیر جاری کیا اور اس کا خلاصہ کرکے معہ ان اصل کتابوں کے جن میں بے ہودہ عبارتیں تھیں، علمائے حرمین کی خدمت میں پیش کیا۔ ان سب نے آپ کی تصدیق کی اور تقریظیں لکھیں۔ جن کے مجموعے کا نام ’’حسام الحرمین علی منحر الکفر والمبین‘‘ ہے۔ اس کے شروع میں تہمید ایمانی بھی شامل فرمائی جو علی وجہ الکمال ایمان افروز اور کفر سوز ہے۔

جب حسام الحرمین پر بعض لوگوں نے بہتان دھرنے شروع کئے، تو اس کو علمائے ہندکی خدمت میں پیش کردیا۔ انہوں نے تصدیق کی اور تقاریظ ثبت فرمائیں۔ ان دو سو ارسٹھ تقریظوں کے مجموعے کا نام ’’الصوارم الہندیۃ‘‘ ہے۔ شرک و کفر کی توپ کے جواب میں ’’الکوکبۃ الشہابیۃ‘‘ اور ’’سل السیوف الہندیہ‘‘ وغیرہ رسائل تحریر فرمائے۔ بعض خرافات کی بناء پر ستر بلکہ زائد وجوہات سے لزوم کفر ثابت کرکے مسلمانوں کو ان خرافات سے اجتناب کرنے کی نصیحت فرمائی۔

سماع موتیٰ کے منکرین کے رد میں ’’حیات الموات‘‘ رسالہ تحریر فرمایا۔ جس میں ساڑھے چار سو نصوص سے اس امر کوثابت فرمایا کہ مردے خواہ مسلمان ہوں یا کافر سب سنتے ہیں اور بزرگ بعد وصال امداد بھی کرسکتے ہیں، بلکہ کرتے ہیں۔ شفاعت کے منکرین کے رد میں ’’اسماء الاربعین‘‘ اور سرور کونین و مکانﷺ کے سایہ ثابت کرنے والوں کی صغریٰ شکنی کے لئے ’’نفی الفی ء‘‘ اور قمر التمام وغیرہ رسالے تحریر فرمائے بعض لوگوں نے انگوٹھے چومنے کے مسئلے کو بدعت اور ناجائز بتایا تو ’’منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین‘‘ کے نام سے آپ نے ایک مبسوط اصول حدیث پر بحث فرمائی۔ جس کی وجہ سے کسی مخالف کے لئے گنجائش نہ رہی کہ اس مسئلے پر منہ کھولے۔

’’یارسول اﷲ‘‘ کہنے پر کفروشرک کا فتویٰ جڑنے والوں کی فہمائش کے لئے:

انوار الانبیاہ فی حل ندآء یارسول اﷲ رسالہ تحریر فرمایا اور ثابت کیا کہ منکرین کے مسلمہ بزرگ بھی یارسول اﷲ کہا کرتے تھے۔

مسئلہ علم غیب پر قلم اٹھایا تو دریا بہادیئے۔ دلائل کا ایک بحر زخار ’’مالی الحبیب فی علوم الغیب‘‘ کے نام سے جمع کردیا جس میں ادلہ ثلاثہ کی فراوانی، حجتوں کی مثل دریا روانی اور فن مناظرہ کی جولانی تھی۔ اس طوالت کو دیکھ کر ’’اللؤلؤ المکنون فی علم البشیر ما کان ومایکون‘‘کے نام سے تلخیص فرمائی جس میں صرف وہی دلائل جمع کئے جن سے ثابت تھا کہ جواب تک ہو اور آئندہ قیامت تک ہوگا۔ وہ سب کچھ اور اس سے زائد جتنا اﷲ تبارک و تعالیٰ نے چاہا اپنے محبوب کو بتادیا ہے۔

متقدمین و متاخرین کا یہی مسلک ہے۔ جب بعض حضرات نے کچھ حرکت مذبوحی دکھائی اور جن آیات میں علم بالاستقلال اور جمیع معلومات الٰہیہ کی مخلوق کے لئے نفی ہے ان سے استناد شروع کردیا کہ اپنوں میں بھرم بنارہے گا تو آپ ’’خالص الاعتقاد‘‘ اور ’’انآء المصطفی‘‘ تحریر فرما کر ان شبہات کا بھی ازالہ کردیا اور منکرین کو سوائے خاموشی چارہ نہ رہا۔

جب آپ 1323ھ میں دوبارہ حج بیت اﷲ کے لئے گئے تو شیخ صالح کمال رحمتہ اﷲ علیہ نے چند سوال متعلقہ بہ علم غیب آپ کی خدمت میں پیش کئے۔ مرجع العلماء اور مرکز دائرہ تحقیق ہونے کی بناء پر سوال آپ کی خدمت میں جواب کے لئے پیش کئے گئے تھے۔ کیونکہ علمائے حرمین آپ کی علمیت اور بعض نادر تصانیف سے بہرہ ور ہوچکے تھے جن میں ایک سوال شاہ سلامت اﷲ رامپوری علیہ الرحمہ کے بارے میں بھی تھا جو بعض بدخواہوں نے عائد کیا تھا۔ آپ نے مختلف نشستوں کے اندر بخار ہونے کے باوجود ساڑھے آٹھ گھنٹے کی قلیل مدت میں وہ جواب دیا کہ مخالفین و منکرین کے تیور الٹ گئے۔ رسالہ ’’الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ‘‘ شریف علیٰ پاشا کے دربار میں برملاپڑھا گیا۔ علمائے حرمین نے اس پر تقاریظ لکھنا اپنی سعادت مندی سمجھا۔ غرض یہ کہ ایک جہاں موید تھا۔ آپ کی علمیت ہر خاص و عام پر ظاہر ہوگئی۔ بہت سے علمائے حرمین شریفین نے آپ سے بیعت کی اجازتیں لیں اور سندیں حاصل کیں۔ آپ کا اس درجہ اعزاز کیا کہ آج تک کسی غیر عرب کو اس مقدس سرزمین میں حاصل نہیں ہوا۔ ذالک فضل اﷲ یوتیہ من یشآء

نوٹ کے بارے میں علمائے مکہ کو چند باتوں میں خلجان تھا کوئی قطعی فیصلہ نہ ہونے پاتا تھا۔ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں نوٹ سے متعلق بارہ سوال کئے گئے آپ نے ’’کفل الفقیہ الفاہم‘‘ کے نام سے ایسا کافی و شافی ووافی جواب دیا کہ علماء مکہ مکرمہ انگشت بدنداں رہ گئے۔ انہوں نے اس رسالہ پر بھی دھوم دھام سے تقریظیں لکھیں اور بزبان حال گویا ہوئے۔

ایں سعادت بزور بازو نیست

تانہ بخشند خدائے بخشندہ

بعض لوگ مرشد کے لئے تعظیمی سجدہ جائز بتانے لگے تھے اور شریعت و طریقت میں تفرقہ بتاتے تھے ان کے رد میں ’’الزبدۃ الزکیہ‘‘ اور ’’مقال عرفاء‘‘ وغیرہ رسالے لکھ کر جٹادھاری اور اس کے جملہ کاسہ لیسوں کی سرکوبی فرمائی۔ یہ فتنہ بھی ہمیشہ کے لئے دبا دیا اور واضح فرمایا کہ شریعت وطریقت جدا جدا نہیں ہیں۔

بعض لوگ سرور کون و مکانﷺ کے سید المرسلمین ہونے کے منکر تھے، ان کے رد میں ایک رسالہ ’’تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین‘‘ کے نام سے تحریر فرمایا اور بے شمار آیات و احادیث سے اس امر کو ثابت کیا۔

تقلید شخصی کے منکرین اور ائمہ کرام پر طعن کرنے والوں کی فہمائش کے لئے ’’الفضل الموہبی‘‘ النہی الاکید، صفآئح اللجین، السھم لشہابی وغیرہ رسائل تحریر فرمائے۔

بعض پنشن یافتہ مولویوں نے اپنے آقاؤں کے اشارے پر کہنا شروع کردیا کہ انبیائے کرام بھی ہماری طرح ہی مجبور ہوتے ہیں۔ وہ دنیاوی زندگی میں یا بعد وصال کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ نہ کسی کے کام آسکتے ہیں جو انہیں بااختیار وباتصرف مانتا اسے کافر، مشرک اور گردن زنی قرار دیتے۔ مجدد مأتہ حاضرہ نے اس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اور رسالہ مبارکہ ’’الامن والعلیٰ لناعتی المصطفی بدافع البلآء‘‘ تحریر فرمایا جس میں ساٹھ آیتوں اور تقریبا تین سو احادیث سے انبیائے کرام اور اولیائے عظام کے اختیارات اور تصرفات کو ثابت فرمایا ہے اور منکرین کے منہ پر کانٹے دار لگام لگائی ہے۔

نبی کریمﷺ کے اختیارات کو ایک علیحدہ رسالے میں تفصیلا بھی بیان کیا اور بے شمار نصوص کے دریا بہائے ہیں۔ اس بے مثل رسالے کا نام سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوریٰ ہے۔ ایک دوسرا مبسوط رسالہ ’’اجلال جبریل‘‘ کے نام سے تحریر کیا جس میں بے شمار نصوص کے ذریعے ثابت فرمایا کہ تمام نوریوں کا سردار جبریل امین بھی نبی کریمﷺ کا خادم ہے۔

گردش زمین کے قائلوں کے رد میں نزول آیات فرقان، الکلمہ الملھمۃ اور فوزمبین وغیرہ رسالے تحریر فرمائے۔

نبی نبوت کے راگ الاپنے والوں کی تواضع کے لئے ایک مستقل رسالہ ’’قہر الدیان‘‘ کے نام سے جاری فرمایا اور تردید میں چند مستقل کتابیں بھی لکھیں۔

ندوہ کی کچھڑی کے خلاف جہاں کفر و اسلام شیروشکر نظر آتے تھے، ایک مفصل فتویٰ تحریر فرمایا اور اسے علمائے حرمین کی خدمت میں پیش کیا تو ان سب نے متفقہ طور پر ان لوگوں کے عقائد کی تردید کی اور انہیں زبردست فتنہ قرار دیا۔ فتاویٰ کا نام ’’فتاویٰ الحرمین برجف ندوۃ المبین‘‘ ہے۔

غرض یہ کہ آپ نے مناظرہ ومباحثہ اور تحریر وتقریر کے ذریعے ہر فتنے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور سرکوبی فرمائی۔

ہاں آریوں سے مناظرہ کرنے میں صدرالافاضل مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی رحمتہ اﷲ علیہ کو کافی و وافی دیکھ کر (جنہوں نے رام چند دہلوی اور پنڈت گوپی چند وغیرہ کا ناطقہ بند کررکھا تھا) ان کی تردید میں چند کتابیں تحریر کردینے پر اکتفا فرمایا۔ قرآن کریم کا اردو ترجمہ کنزالایمان کے نام سے لکھا جو اسم باسمیٰ اور جمیع اردو تراجم سے اعلیٰ ہے۔

آپ کا نعتیہ کلام ’’حدائق بخشش‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ دراصل قرآن و حدیث کی اپنے الفاظ میں ترجمانی کی ہے جس میں عشق و محبت کے دریا جھلکتے ہیں۔ ادب و تعظیم کے پھول مہکتے ہیں۔ علم و عرفان کے غنچے چٹکتے ہیں۔ قرآن و حدیث کے موتی چمکتے ہیں۔ جسے دیکھ کر ماننا پڑتا ہے کہ نعت گوئی کے میدان میں ہندوستان کے اندر آپ کا کوئی ہمسر نہیں۔

یہی کہتی ہے بلبل باغ جناں کہ رضا کی طرح کوئی سحر بیاں

نہیں ہند میں واصف شاہ ہدیٰ مجھے شوخی طبع رضا کی قسم

علم توقیت میں آپ اس درجہ کمال پر تھے کہ وقت سورج اور رات کے تارے دیکھ کر گھڑی ملالیاکرتے اور ایک منٹ کا بھی فرق نہ نکلتا تھا۔ آپ کے شاگرد رشید مولانا ظفر الدین صاحب بہاری گیارہ سو باون طریقوں سے مربع کا نقش بھرلیا کرتے تھے اور ان کا بیان ہے کہ اعلیٰ حضرت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ دو ہزار تین سو طریقوں سے بھرنا جانتے تھے حالانکہ ننانوے فیصد علماء دس بیس طریقوں سے آگے نہیں جانتے۔

ان کے علاوہ فاضل بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ نے تفسیر، حدیث، فقہ، اصول حدیث، اصول فقہ، منطق، کلام تصوف، سلوک، تاریخ، سیر، مناقب، ریاضی، ہندسہ، جبر و مقابلہ، زیجات، ہیئت، نجوم، جفر، ارثماطیقی، لوگارثم، تعبیر ورفاق توقیت، تکسیر، ادب، معافی، عروض، نحو، لغت، اذکار اور علم مثلث وغیرہ غرض یہ کہ پچاس علوم میں کتابیں لکھیں۔ ہر فتنہ باز کا ڈٹ کرمقابلہ کیا اور دین برحق کی کماحقہ پاسبانی فرمائی۔

آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ اور کلام کی اکثر بڑی بڑی کتابوں پر عربی حاشیئے لکھے۔ اعلیٰ حضرت کے حواشی بھی مستقل تصانیف سے کم نہیں۔ ان میں وہ رموز و نکات ودیعت فرمائے کہ بڑی سے بڑی شروح میں بھی شاذونادر ہی ملتے ہیں۔ ذیل میں چند کتابوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔ جن کے حواشی لکھے:

1: بیضاوی، 2: عنایت القاضی، 3: معالم التنزیل، 4: اتقان، 5: خازن، 6: الدرالمنثور، 7: صحیح بخاری، 8: صحیح مسلم، 9: ترمذی، 10: نسائی، 11: ابن ماجہ، 12: تیسیر، 13: تقریب، 14: مسند امام اعظم، 15: کتاب الحج، 16: کتاب الآثار، 17: مسند امام احمد بن حنبل، 18: طحاوی، 19: دارمی، 20: خصائص کبریٰ، 21: کنزالایمان، 22: ترغیب و ترہیب، 23: کتاب الاسماء والصفات، 24: القول البدیع، 25: نیل الاوطاء، 26: المقاصد الحسنہ، 27: اللالی المصنوعہ، 28: موضوعات کبیر، 29: الاصابۃ یا فی معرفتہ الصحابۃ، 30: تذکرۃ الحفاظ، 31: عمدۃ القاری، 32: فتح الباری، 33: ارشاد الساری، 34: نصب الرایۃ، 35: جمع الوسائل، 36: فیض القدیر شرح جامع صغیر، 37: مرقات المفاتیح، 38: اشعۃ اللمعات، 39: بحارالانوار، 40: فتح المغیث، 41: میزان الاعتدال، 42: العلل المتناہیہ، 43: تہذیب التہذیب، 44: خلاصہ تہذیب اعمال، 45: شرح فقہ اکبر، 46: خیالی علیٰ شرح العقائد، 47: عقائد عضدیہ، 48: شرح موافق، 49: شرح مقاصد، 50: مسامرہ و مسائرہ، 51: التفرقہ بین الاسلام والزندقہ، 52: الیوقیت والجواہر، 53: مفتاح السعادہ، 54: تحفۃ الاخوان، 55: الصواعق المحرقہ، 56: میزان الشریعہ، 57: ہدایہ آخرین، 58: ہدایہ فتح القدیر، 59: عنایہ حلبی، 60: الجوہر النیرہ، 61: مراقی الفلاح، 62: مجمع الانہر، 63: جامع الفصولین، 64: جامع الرموز، 65: بحرالرائق، 66: غنیۃ المستملی، 67: کتاب الانوار، 68: رسائل شامی، 69: فتح المعین، 70: الاعلام بقواطع الاسلام، 71: شفاء الاسقام، 72: طحاوی علی الدرالمختار، 73: فتاویٰ عالمگیر، 74: فتاویٰ حاشیہ، 75: فتاویٰ سراجیہ، 76: خلاصۃ الفتاویٰ، 77: فتاویٰ خیریہ، 78: عقود الدرر، 79: فتاویٰ حدیثیہ، 80: فتاویٰ بزازیہ، 81: فتاویٰ زرینیہ، 82: فتاویٰ غیاثیہ، 83: فتاویٰ عزیزیہ (فارسی)

بخوف طوالت یہاں صرف تراسی کتب کا حوالہ دیا ہے۔ اگرچہ اور بھی بے شمار ہیں، منکرین و متعصبین بھی ذرا ایک لمحہ کے لئے تعصب سے ہٹ کر غور کریں تو تفسیر، حدیث، فقہ اور علوم کی کیا ہر بڑی سے بڑی اور معتبر سے معتبر کتاب پر اعلیٰ حضرت رحمہ اﷲ نے حاشیہ نہیں لکھا۔ اور وہ بھی اس درجے کے کہ آج کل کے مدعیان علم و دانش انہیں پڑھنے اور سمجھنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے۔ اگرچہ پیش خویش آسمان علم کے شش و قمر ہی کیوں نہ بنتے ہوں باوجود اس کے اعلیٰ حضرت پر اعتراض کرنا مشغلہ بنالیا ہے کہ معاندین شرق سے غرب اور عجم سے عرب تک کے مل کر اپنی اپنی پوری جماعتوں کے اتنے اور اس درجے کے عربی حواشی دکھا سکتے ہیں؟ صرف عناد کی بناء پر اعتراض کئے جاتے ہیں جو فضول ہیں۔ آسمان کی طرف تھوکنے سے تھوک اپنے ہی منہ پر آتا ہے۔

اعلیٰ حضرت کی علمیت کا اندازہ کرنا ہے تو ان کی تصانیف اور علمائے حرمین طیبین سے کیجئے۔

آنکھ والا ترے جوبن کا تماشا دیکھے

دیدۂ نور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے