مجلس مولود میں ممنوعہ امور

in Tahaffuz, February 2012, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت

مجلس مولود میں ہر اس چیز کو منع کیا جائے گا جو شریعت سے متصادم ہو لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ محافل میلاد ہی کو بند کردیا جائے بلکہ طریقہ کار یہ ہونا چاہئے کہ جو منکرات شرعیہ نظرآئے، ان کا خاتمہ کردیا جائے لیکن محافل مولود کا سلسلہ جاری رہے جیسا کہ کعبۃ اﷲ میں بتوں کے ہونے کی وجہ سے وہاں پر عبادت کرنے کو منع نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس برائی (یعنی بتوں) کو دور کردیا گیا۔ لہذا اگر کسی جگہ خلاف شرع بات نظر آئے تو آپ اس کی روک تھام کے لئے مناسب اقدام کریں مثلا:
1۔ کسی جگہ میوزک کے ذریعے مجلس مولود سجائی گئی ہو تو اس کو منع کیا جائے گا اور اگر ایسا کرنا ناممکن یا مشکل ہو تو وہاں جانے سے گریز فرمائیں۔
2۔ اسی طرح عورتوں کی اتنی آواز سے پڑھنا کہ اجنبی مردوںتک آواز پہنچے منع ہے
3۔ مجلس مولود میں اتنی تاخیر کرنا کہ نماز کا وقت ہی جاتا رہے ناجائز و حرام  ہے، ہاں اگر نماز باجماعت کا اہتمام ہو تو حرج نہیں ہے۔
4۔ مولود بیان کرنے کے لئے داڑھی منڈے غیر عالم نام نہاد اسکالرز کو ہرگز نہ لائیں بلکہ کوئی باعمل عالم دین مستند واقعات مولود بیان کرے۔
5۔ اسی طرح کفار و مشرکین سے مولود شریف کے لئے رقم یا چندہ لینا منع ہے
6۔ ایسے راستے میں مجلس مولود کرنا جوکہ عوام الناس کی عام آمدورفت کے لئے استعمال ہوتا ہو، اس کو رکاوٹ کھڑی کرکے محفل مولود کرنا مکروہ تحریمی ہے کہ حقوق العباد کا معاملہ ہے
7۔ اتنی بلند آواز سے مجلس مولود کرنا کہ ضرورت سے زائد ہو، مناسب نہیں ہے کہ اس کی تیز آواز کی وجہ سے گھروں میں بیمار لوگ، بچے، بوڑھے اور کاروباری لوگ جن کو صبح دفتر جانا ہوتا ہے، ان کے آرام میں خلل واقع ہوتا ہے۔ اس معاملہ کا خاص خیال رکھا جائے کہ حقوق العبادکے معاملے میں بروز قیامت پوچھ گچھ ہوگی۔
8۔ جس وقت مولود شریف پڑھا جائے تو حاضرین و سامعین کو متوجہ ہوکر اور دھیان سے سننا چاہئے تاکہ سرکارﷺ کا ذکر خیر ہو اور ہماری توجہ نہ ہو اور ہم اپنے عمل سے بے اعتنائی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہوں، یہ مناسب نہیں۔