شیطانی وسوسے اور ان کا علاج وغلط فہمی کا ازالہ

in Tahaffuz, February 2012, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت

وسوسہ نمبر 1:
اسلام میں صرف دو ہی عیدیں ہیں تیسری عید کا تصور نہیں ہونا چاہئے
علاج نمبر 1: اسلام نے ہر جمعہ کو عید کا دن قرار دیا ہے (بخاری شریف)
علاج نمبر 2 امام قسطلانی، شارح بخاری علیہ الرحمہ (متوفی 923ھ) فرماتے ہیں کہ ’’اﷲ تعالیٰ اس شخص کو سلامت رکھے جس نے میلاد کے مہینے کی راتوں کو عید کی طرح منایا‘‘ (المواہب اللدنیہ ج 1، ص 148)
وسوسہ نمبر 2:
ولادت کے خوشی نہیں وفات کا غم منانا چاہئے
علاج: حضور اکرمﷺ نے تین دن سے زیادہ سوگ منانے سے منع فرمایا۔ سوائے اس عورت کے جس کا شوہر انتقال کرجائے (بخاری شریف ، جلد 2ص 804، مسلم شریف ، جلد 1، ص 486)
وسوسہ نمبر 3
اگر چراغاں پر خرچ ہوجائے گا تو غریبوں
کی امداد بند ہوجائے گی؟
علاج: جو لوگ غریبوں کی مدد کرتے ہیں وہ میلاد النبیﷺ کی خوشی میں پہلے سے بڑھ کر غریبوں کی امداد کرتے ہیں۔ کوئی شخص آج تک ایسا نہیں پایا گیا جس نے کسی غریب کو یہ کہا ہو کہ میں چراغاں پر پیسے خرچ کررہا ہوں لہذا تمہاری مدد اس ماہ نہیں کروں گا
غلط تاثر
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی تحقیق کے مطابق 8 ربیع الاول کو میلاد النبیﷺ منانا چاہئے
حقیقت کا اظہار
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ یوم ولادت مصطفیﷺ کے بارے میں 7 اقوال (2,8,10,12,17,18,22) تحریر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ جمہور علماء ومحققین کے نزدیک 12 ربیع الاول ہی ولادت کا دن ہے۔ بلاد اسلامیہ میں 12 ربیع الاول کو ہی میلاد منایا جاتا ہے (فتاویٰ رضویہ)
خدارا امت مسلمہ کے حال پر رحم کیجئے اور شیطانی وسوسوں کو عام کرنے سے گریز کیجئے
غلط فہمی کا ازالہ
ہر سال ربیع الاول شریف میں یہ میسج (messege)کیا جاتا ہے کہ حضورﷺ و صحابہ علیہم الرضوان نے میلاد نہیں منایا ہے وغیرہ
اصلاح کی نیت اور اظہار حقیقت
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند صفحہ 190 (دارالاشاعت کراچی)
مسئلہ: (سوال) بعد نماز عیدین یا بعد خطبہ دعا مانگنا نبیﷺ سے اور ان کے صحابہ و تابعین علیہم الرضوان سے منقول نہیں اور اگر ان حضرات نے کبھی دعا مانگی ہوتی تو ضرور نقل کی جاتی لہذا بالفرض اتباع دعا نہ مانگنا دعا مانگنے سے بہتر ہے ایسی حالت میں ہم لوگوں کے لئے واجب العمل کیاہے۔
پیارے بھائیو!
غور کریں سوال کرنے والا نبی پاکﷺ و صحابہ علیہم الرضوان کے عمل سے دلیل مانگ رہا ہے اور جواب میں یہ کن کے نام تحریر کررہے ہیں۔ ملاحظہ فرمایئے۔
الجواب: ہمارے حضرات اکابر مثل حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور حضرت مولانا قاسم صاحب نانوتوی اور دیگر حضرات اساتذہ مثل حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب صدر مدرس سابق مدرسہ ہذا دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا محمود حسن صاحب صدر مدرس مدرسہ ہذا (دارالعلوم دیوبند) وغیرہم کا یہی معمول رہا ہے کہ بعد عیدین کے بھی مثل تمام نمازوں کے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے تھے۔
سبحان اﷲ غور فرمائیں
اگر صحابہ و تابعین علیہم الرضوان کے عمل سے دلیل ہوتی تو ضرور پیش کرتے کہ عید کی نماز کے بعد ان حضرات قدسیہ علیہم الرضوان نے دعا مانگی ہے
دعوت فکر غور فرمائیں
حضورﷺ اور صحابہ علیہم الرضوان کے زمانے میں کئی عیدیں آئی ہیں۔ انہوں نے کبھی بعد نماز عید و بعد خطبہ دعا نہیں مانگی۔ انتہائی معذرت کے ساتھ کیا آپ حضرات کو صحابہ علیہم الرضوان سے بڑھ کر دعا کا جذبہ نصیب ہوا، ہرگز ہرگز نہیں۔
اب اس سوال کا جواب کیا ہوگا سوا اس کے جو فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں آگے تحریر ہے۔ احادیث سے بھی نمازوں کے بعد دعا مانگنا ثابت ہے۔ اس میں عیدین کی نماز بھی داخل ہے۔ (محض اس وجہ سے کہ عیدین کے بعد دعا کا ذکر نہیں ہے دعا کا نہ ہونا معلوم نہیں ہوتا)
خوب بہت خوب! جب اکابرین دیوبند کے لئے اصول مان لیا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زندگی میں ذکر نہیں پھر بھی جائز تو میلاد پاک کے لئے بھی یہی اصول مان لیا جائے کہ تلاوت قرآن اور حضور نبی کریمﷺ کا ذکر چونکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے اور محفل میلاد میں بھی یہی ہوتا ہے لہذا آپ کے اصول کے مطابق مستحب اور مستحسن ہے۔
خدارا! لوگوں کو غلط میسج کے ذریعے پریشان کرنے کے بجائے آپ خود بھی تعظیم مصطفےﷺ کے نور سے منور ہوجایئے تاکہ قیامت کے دن کی شرمندگی سے محفوظ رہ سکیں۔
خبردار! خبردار! … بجلی چوری، میوزیکل آلات کا استعمال، دیگر غیر شرعی کام ہر محفل اور ہر موقع پر ناجائز ہیں۔