جشن عیدمیلاد النبی منانا جائز ہے مفتی اعظم مصر مفتی جامعہ ازہر کا فتویٰ

in Tahaffuz, February 2012, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت, مولانا محمد عثمان برکاتی

اے لوگو! علم والوں سے پوچھو! کہ تمہیں علم نہیں۔ ہمیں موصول ہونے والی درخواست نمبر ۹۴۳ سال ۲۰۰۶ء جولہ حافظ غلام انور کی جانب سے کی گئی ہے۔ اس سوال کے ضمن میں ہے کہ ’’محفل میلاد النبیﷺ منانے کا شرعی حکم کیا ہے؟‘‘
جواب: میلاد النبیﷺ تمام تاریخ انسانیت کے لئے رحمت الٰہی کا ایک بہت بڑا سرچشمہ ہے۔ بے شک قرآن کریم نے نبی کریمﷺ کے وجود کو رحمتہ للعالمین سے تعبیر فرمایاہے۔ یہ رحمت کسی خاص معاملے تک محدود نہیں بلکہ تمام انسانیت کی تربیت، پاکیزگی، صراط مستقیم کی جانب ہدایت اور ان کی مادی اور روحانی زندگی کے برتائو تک شامل ہیں۔ اسی طرح سے اس رحمت کا اختصار صرف اہل زمان تک نہیں بلکہ یہ رحمت تمام زمانوں کو گھیرے ہوئے ہے۔
وآخرین منہم لما یلحقوا بہم (سورہ جمعہ، آیت ۳)
’’اور ان میں سے اوروں کو پاک کرتے ہیں اور علم عطا فرماتے ہیں جو ان اگلوں سے نہ ملے‘‘
سید کونین، خاتم الانبیاء و المرسلین، نبی رحمت، غوث الاممتہ سیدنا محمدﷺ کے ذکر کی محفل قائم کرنا افضل اعمال اور قرب خداوندی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس لئے کہ یہ محفل میلاد خوشی اور محبت نبیﷺ کے نتیجے میں منعقد کی جاتی ہے اور محبت رسولﷺ ایمان کی اصل سے ہے۔ صحیح حدیث میں مروی ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب ترین نہ ہوجائوں‘‘ (بخاری)
ابن رجب فرماتے ہین کہ محبت رسولﷺ اصل ایمان سے ہے۔ یہی محبت اﷲ عزوجل کی محبت سے ملانے والی ہے اور اﷲ عزوجل نے اس محبت کو اپنی محبت کے ساتھ مالیا ہے اور جو طبعی محبت والی باتوں سے جیسے رشتہ دار، مال اور ملک وغیرہ کی محبت کو اﷲ اور اس کے رسول کی محبت پر مقدم کرے، اس کے لئے وعید ہے۔
قل ان کان ابائوکم وابنائوکم واخوانکم وازواجکم و عشیرتکم واموال، اقترفتموہا وتجارۃ تخشون کسادہا و مسکن ترضونہا احب الیکم من اﷲ ورسولہ وجہاد فی سبیلہ فتربصوا حتیٰ یاتی اﷲ بامرہ (سورہ توبہ، آیت ۲۴)
ترجمہ: تم فرمائو اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مالک اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہاری پسند کے مکان یہ چیزیں اﷲ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اﷲ اپنا حکم لائے۔
جب حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے رسول نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں عرض کی ’’یارسول اﷲﷺ! حقیقت یہ ہے کہ آپ دنیا کی ہر شے سے مجھے زیادہ محبوب ہیں، سوائے اپنے نفس کے‘‘ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’یہ کافی نہیں، اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے (بلکہ) یہاں تک کہ میں تمہاری تمہاری جان سے بھی محبوب تر ہوجائوں‘‘ تو حضرت عمر نے عرض کی ’’یہ کہ بے شک اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں‘‘ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اے عمر اب (ایمان کے تقاضے پورے ہوئے)
خیر البشر کی ولادت کی خوشی منانے پر جب اﷲ تعالیٰ ابولہب کے عذاب میں تخفیف فرمادیتا ہے حالانکہ وہ تو اﷲ اور اس کے رسول کا کیسا منکر، نافرمان اور باغی تھا۔ وہ اس طرح سے کہ نار جہنم میں اسے بروز پیر ہتھیلی کے گڑھے سے پلایا جانا مقرر ہوا۔ اس بات پر کہ اس نے اپنی کنیز ثوبیہ کو آزاد کیا جب اس کنیزہ نے آپﷺ کی ولادت کی خوشخبری سجائی جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے تو مومنوں کے لئے میلاد النبیﷺ اور کائنات میں آپﷺ کے نور کے پھیلنے کی خوشیاں منانے پر رب العزت کی جزاء کے متعلق کیا سوچ سکتے ہیں۔
رسول اﷲﷺ نے خد بنفس نفیس اپنی میلاد شریف پر ہمارے لئے شکر ادا کرنا مسنون فرمادیا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آپﷺ پیر کے دن روزہ رکھتے اور فرماتے ’’میں اس دن پیدا ہوا (امام مسلم نے حضرت ابوقتادہ سے روایت کیا) تو یہ نبی کریمﷺ کی جانب سے اپنی ذات شریفہ اور امت پر اﷲ عزوجل کے احسان عظیم کا شکر ہے کہ اب امت کو یہی مصطفویہ پر اﷲ عزوجل کی جناب میں شکر ادا کرنے کا ہراچھا انداز اپنائیں۔ کھانا کھلانا، نعتیہ کلام پیش کرنا، اجتماع ذکر منعقد کرنا، روزے رکھنا، نوافل ادا کرنا، یہ سب شکر ادا کرنے کی مختلف صورتیں ہیں ’’ہر برتن اسی سے چھلکتا ہے جو اس میں ہے‘‘
صالحی نے اپنے سیرت نبوی پر عظیم الشان دیوان سبل الہدیٰ والرشاد فی ہدی خیر العباد میں اپنے زمانے کے ایک بزرگ کا یہ واقعہ ذکر کیا ہے کہ ’’وہ خواب میں نبی کریمﷺ کے دیدار سے مشرف ہوئے تو جناب اقدس میں شکایت پیش کی کہ بعض اپنے آپ کو عالم کہنے والے میلاد شریف کی محفل کو بدعت کہتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو ہماری خوشیاں مناتے ہیں ہم ان سے خوش ہیں‘‘