ڈاکٹر طاہر القادری گمراہی کی آخری حدوں کو پھلانگ گیا

in Tahaffuz, December 2011-January 2012, استاذ العلماء پیر محمد افضل قادری, متفرقا ت

ڈاکٹر طاہر القادری نے 1985ء میں محض مغرب زدہ عورتوں میں مقبولیت حاصل کرنے کی غرض سے (جیسا کہ انہوں نے ایک مجلس میں اعتراف بھی کیا تھا) احادیث صریحہ اور اجماع ائمہ اربعہ کے خلاف ’’عورت کی دیت (خون بہا) کو مرد کے برابر قرار دیا‘‘ تو ڈاکٹر موصوف کے استاذ غزالی زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے رسالے ’’اسلام میں عورت کی دیت‘‘ میں ڈاکٹر موصوف کے اس نظریہ کو صراط مستقیم سے انحراف اور قرآنی احکام کو مسخ کرنے کی سعی مذموم قرار دیا۔ جبکہ ڈاکٹر موصوف کے دوسرے استاذ، استاذ العلماء حضرت مولانا عطاء محمد بندیالوی گولڑوی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے دیت کے موضوع پر مطبوعہ رسالے میں ڈاکٹر موصوف کی تکفیر کی۔
پھر ڈاکٹر موصوف نے (نوائے وقت 8 جون 1989ء کے مطابق) اثناء عشری شیعہ کے مسلمہ پیشوا خمینی ایران کے ماتمی اجلاس میں سیاہ چوغہ پہن کر شرکت کی اور کہا ’’امام خمینی تاریخ اسلام کے شجاع اور جری مردان حق میں سے تھے، جن کا جینا علی رضی اﷲ عنہ اور مرنا حسین رضی اﷲ عنہ کی طرح ہے۔ خمینی سے محبت کا تقاضا ہے ہر بچہ خمینی بن جائے‘‘ حالانکہ اہل علم سے مخفی نہیں کہ خمینی عقائد میں اثناء عشری ملا باقر مجلسی کا پیروکار تھا اور ملا باقر مجلسی نے اپنی کتب میں ام المومنین حضرت عائشہ اور ام المومنین حضرت حفصہ رضی اﷲ عنہما کی شان اقدس میں انتہائی غلیظ تبرے بکے ہیں اور تین چار صحابہ کرام کو چھوڑ کر حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اﷲ عنہم سمیت تمام صحابہ کو کافر و مرتد قرار دیا ہے۔ اسی طرح قرآن پاک کو گھڑا ہوا قرار دے کر اسلام کی بنیاد ختم کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔
پھر ڈاکٹر موصوف نے برطانیہ میں دیوبندی فرقہ کے ایک عالم کے پیچھے نماز پڑھی اور علماء دیوبند کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے جواز کا فتویٰ دیا جبکہ حرمین شریفین کے تین درجن اور پاک و ہند کے تین سو اکابر علماء نے حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ میں انتہائی گستاخانہ عقائد کی بناء پر اکابر علماء دیوبند اور ان عقائد میں ان کے متبعین کو کافر و مرتد قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر موصوف نے اپنے خطابات میں یہودی و نصاریٰ کو بھی Believers یعنی مومنین قرار دیا اور منہاج القرآن کی مسجد میں انہیں عبادت کرنے کی کھلی اجازت بخشی اور اپنی کتب ’’اسلام اور تصور اعتدال و توازن‘‘ اور فرقہ واریت کا خاتمہ کیونکر ممکن ہے‘‘ میں شیعہ سنی اور سنی وہابی اختلاف کو فروعی قرار دے کر سب فرقوں کو اصول میں مسلمان قرار دیا تو مرکز اہلسنت بریلی شریف کے چشم و چراغ مفتی اسلام حضرت مولانا علامہ محمد اختر رضا خان دامت برکاتہم العالیہ نے ڈاکٹر موصوف کے کافر و مرتد ہونے کا فتویٰ جاری کیا۔
ڈاکٹر موصوف یک مشت داڑھی سنت رسول جوکہ واجب شرعی کا درجہ رکھتی ہے، کے بارے میں بھی الحاد کا شکار ہوچکا ہے، اپنی یک مشت داڑھی بھی صحیح بخاری میں موجود حدیث نبوی ’’وفرواللحی یعنی تم داڑھیاں بڑھائو‘‘ کی مخالفت کرتے ہوئے منڈوا کر چھوٹی کرادی ہے اور منہاج سینٹروں کے اندر بھی داڑھی کترے امام و خطیب مقرر کئے ہوئے ہیں جو مسلمانوں کی نمازوں کو برباد کررہے ہیں کیونکہ یک مشت داڑھی سے کم داڑھی والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے جس کا لوٹانا واجب ہے (فتاویٰ رضویہ)
اور اب یکم اکتوبر 2011ء کو اڈیالہ جیل راولپنڈی میں پرویز علی شاہ نامی جج کی طرف سے محافظ قانون ناموس رسالت اور دور حاضر کے غازی اعظم حضرت ملک محمد ممتاز قادری دامت برکاتہم العالیہ کو دوہری سزائے موت کے فیصلے سے صرف 6 روز قبل 25 ستمبر 2011ء کو ARY پر ایک پرویز جاوید میر نامی قادیانی کو انٹرویو دیتے ہوئے امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستان کے علماء و مشائخ کے نظریات کے علی الرغم درج ذیل تین شیطانی نکات پر زور دے کر کفر نوازی کی انتہا کردی اور پاکستان میں جاری تحریک تحفظ ناموس رسالت کے خلاف کھلی جارحیت کا ارتکاب کیا۔
ڈاکٹر موصوف کے تین شیطانی نکات
1۔ اگر کوئی فی الواقعہ گستاخ رسول ہو تو اسے قتل کرنے والا مجرم ہے اور اس کی سزا ’’سزائے موت‘‘ ہے۔
2۔ سابق گورنر سلمان تاثیر گستاخ رسول نہیں تھا۔
3۔ ممتاز قادری قاتل ہے اور اس جرم کی سزا ’’سزائے موت‘‘ ہے۔
ڈاکٹر موصوف کا پہلا شیطانی نکتہ کہ گستاخ رسول کو قتل کرنے والے کی سزا ’’سزائے موت‘‘ ہے
یہ تینوں نکات شیطانی ہیں لیکن پہلا نکتہ انتہائی خوفناک ہے کیونکہ اس کی رو سے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ اور دیگر وہ صحابہ کرام جنہوں نے گستاخان رسول کو ماورائے عدالت محض جذبات ایمانی کی بنیاد پر قتل کردیا تھا، مجرم اور سزائے موت کے حق دار ٹھہرتے ہیں (العیاذ باﷲ من ذالک) جبکہ حضرت رسول اکرمﷺ نے ان تمام مواقع پر ان خونوں کو رائیگاں قرار دیا اور ان غازیان اسلام کو نہ مجرم قرار دیا اور نہ قصاص و دیت کا حکم صادر فرمایا۔ دیکھئے چند مندرجہ ذیل احادیث نبویہ:
٭… حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ فرمایا کہ ہمیں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہما نے بتایا کہ ایک نابینا کی ام ولد (ایسی لونڈی جس سے اولاد پیدا ہوجائے) تھی جونبیﷺ کی گستاخی کرتی تھی اور آپﷺ کے بارے میں توہین آمیز باتیں کرتی تھیں۔ وہ (نابینا صحابی) اسے منع کرتے تو باز نہ آتی، اسے ڈانٹتے تو وہ ڈانٹ کو قبول نہ کرتی۔ چنانچہ ایک رات وہ نبیﷺ کی شان اقدس میں گستاخیاں کرنے لگی تو انہوں نے چھرا لے کر اس کے پیٹ میں گھونپ دیااور نبیﷺ کو یہ واقعہ بتایا گیا تو نبیﷺ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: میں تمہیں اﷲ کی قسم دیتا ہوں کہ جس شخص نے بھی یہ کام کیا ہے میرا اس پر جو حق ہے وہ کھڑا ہوجائے تو نابیناصحابی کھڑے ہوگئے، لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے، گرتے پڑتے (آگے آئے) حتی کہ نبیﷺ کے پاس بیٹھ گئے اور عرض کیا۔ میں اس کا قاتل ہوں۔ یہ آپﷺ کی گستاخیاں کرتی تھیں۔ میں اسے منع کرتا تھا تو باز نہیں آتی تھی اور میں اسے ڈانٹا تھا، یہ ڈانٹ ڈپٹ کی پرواہ نہیں کرتی تھی اور میرے اس سے دو بیٹے ہیں جو موتیوں کی مانند ہیں اور وہ میری رفیقہ حیات تھی۔ گزشتہ رات آپﷺ کی گستاخیاں اور توہین آمیز باتیں کرنے لگی تو میں نے چھرا لے کر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور میں نے چھرے کوخوب زور سے دبایا حتی کہ میں نے اسے قتل کردیا تو نبیﷺ نے فرمایا: خبردار! گواہ بن جائو کہ اس عورت کا خون رائیگاں ہے (یعنی اس کا قتل جرم نہیں اور اس میں قصاص و دیت بھی نہیں)
(سنن ابو دائود، کتاب الحدود، باب فیمن سب النبیﷺ الرقم 4361، المستدرک للحاکم جلد 5 ص 272، الرقم 8210، سنن نسائی باب الحکم فیمن سب النبیﷺ، الرقم 4075)
ہکذا اقضی لمن لم یرض بقضاء اﷲ و رسولہ
ترجمہ: جو شخص اﷲ اور اس کے رسولﷺ کا فیصلہ نہیں مانتا میں اس طرح اس کا فیصلہ کرتا ہوں۔
چنانچہ رسول اکرمﷺ نے اس قتل کو بھی رائیگاں قرار دیا اور اس واقعہ سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ گستاخ رسولﷺ کو اگر کوئی مسلمان غیرت اسلامی کی بنیاد پر قتل کردے تو یہ جرم نہیں بلکہ سنت صحابہ عظام ہے جس کی تائید و توثیق اﷲ تعالیٰ اور رسول اکرمﷺ نے فرمائی ہے۔
نیز ڈاکٹر موصوف نے اپنی کتاب ’’تحفظ ناموس رسالت‘‘ کے صفحہ 264 تا 270 پر انتہائی تائیدی انداز میں اس واقعہ کو بڑی شرح وبسط سے بیان کیا ہے جس سے بڑی آسانی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی کتاب میں بیان کردہ نظریات کو بری طرح ذبح کرکے اعداء اسلام کا مشن پورا کررہے ہیں۔
ڈاکٹر موصوف کا دوسرا شیطانی نکتہ: سلمان تاثیر گستاخ رسول نہیں تھا
اس سلسلہ میں حقائق یہ ہیں:
1… سلمان تاثیر قادیانی تھا یا کم از کم قادیانیوں کو مسلمان قرار دیا تھا جیسا کہ جنگ 11 جنوری 2011ء کے مطابق سلمان تاثیر کی بیٹی شہر بانو نے بیان دیا کہ ان کے والد احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے سخت خلاف تھے لہذا اس گھر کی گواہی کی بنیاد پر سلمان تاثیر کافر و مرتد اور گستاخ رسول تھا کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو کافر و مرتد قرار دینے کی وجوہ میں ایک یہ بھی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت ہونے کے ساتھ ساتھ بدترین گستاخ انبیاء بھی تھا۔
2… 17 ستمبر 2009ء کو اکثر قومی اخبارات میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا یہ بیان سائع ہوا کہ وہ قانون توہین رسالت 295/C کو نہیں مانتا اور یہ کہ اس قانون کو ختم کردینا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ قانون توہین رسالت قرآن و حدیث کے صریح دلائل پر مبنی ہے لہذا سلمان تاثیر اس بیان کی بناء پر اور پھر اس پر اصرار کرنے کی بناء پر کافر ومرتد ٹھہرا۔
3… 7 اکتوبر2009 ء کو عالمی تنظیم اہلسنت کے نائب امیر صاحبزادہ سید مختار اشرف رضوی سرپرست اعلیٰ جامعہ حزب الاحناف لاہور نے میری اور لاہور کے درجنوں علماء کی معیت میں تھانہ رسول لائن لاہور میں سلمان تاثیر کے اس کافرانہ بیان کے خلاف FIR درج کرنے کی درخواست جمع کروائی اور چند دن بعد عالمی تنظیم اہلسنت کے زیر اہتمام داتا دربار لاہور سے وزیراعلیٰ ہائوس تک احتجاجی جلوس نکالا گیا اور وزیراعلیٰ ہائوس کے سامنے دھرنا دے کر سلمان تاثیر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا لیکن افسوس کہ مرکزی اور صوبائی حکومت نے کوئی کارروائی نہ کی۔
4… آسیہ نامی عیسائی خاتون کو گستاخ رسول ثابت ہونے پر سیشن جج ننکانہ صاحب نے سزائے موت کا حکم دیا تو سلمان تاثیر شیخوپورہ جیل میں پہنچ گیا۔ گستاخ رسول آسیہ سے اظہار ہمدردی کیا۔ صدر کے نام معافی کی درخواست پر دستخط کرائے اور وعدہ کیا کہ وہ صدر پاکستان سے سزا ضرور معاف کروائے گا اور گستاخ رسول آسیہ جس کا جرم ثابت ہوچکا تھا اور عدالت سے سزا کا حکم ہوچکا تھا، کو مظلوم قرار دیا وغیرہ وغیرہ۔
5… یکم نومبر 2009ء کو ٹی وی پر کہا: قانون ناموس رسالت ’’کالا قانون‘‘ ہے۔ یہ ظالمانہ قانون ہے ہم اس کالے قوانین کو نہیں مانتے (العیاذ باﷲ من ذالک)
6… 3 نومبر کو پریس کلب لاہور کے سامنے عالمی تنظیم اہلسنت کے زیر اہتمام زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تو میں نے فتویٰ دیا کہ سلمان تاثیر نے قانون توہین رسالت 295/C کو جوکہ کتاب و سنت سے ماخوذ ہے، کالا اور ظالمانہ کہاہے، لہذا یہ شرعاً کافر و مرتد ہے اور واجب القتل ہے اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب سے بھی اپیل کی کہ وہ ازخود نوٹس لیں، لیکن افسوس کہ عدالت عظمی نے کوئی اقدام نہ اٹھایا۔
7… چند روز بعد نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے پارلیمنٹ ہائوس تک احتجاجی جلوس نکالا گیا اور صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کافر و مرتد سلمان تاثیر کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹا کر اس کے خلاف قانونی کارروائی کے احکام کریں لیکن افسوس کہ ایک نہ سنی گئی۔
8… چنانچہ 4 جنوری 2011ء کو سلمان تاثیر کو اپنے سیکورٹی گارڈ ملک محمد ممتاز قادری نے اپنے خالص دینی جذبات کی بنیاد پر کافر و مرتد و گستاخ رسول اور امت مسلمہ کے دینی جذبات کو بار بار شدید مجروح کرنے والے اور شریعت مصطفی کا کھلا مذاق اڑانے والے سلمان تاثیر کو واصل جہنم کرکے سنت فاوق اعظم رضی اﷲ عنہ کو زندہ کردیا۔ فجزاہ اﷲ تعالیٰ عن حبیبہ و رسولہ ﷺ احسن الجزاء
ڈاکٹر موصوف کا تیسرا شیطانی نکتہ: ممتاز قادری قاتل ہے اور اس کے جرم کی سزا ’’سزائے موت‘‘ ہے
پاکستان کی مختلف ایجنسیوں نے محافظ قانون ناموس رسالت غازی ملک ممتاز قادری پر بدترین تشدد کیا لیکن غازی ملک ممتاز قادری کاایک ہی موقف رہا ’’میں نے ایک مرتد و گستاخ رسول کو مار کر اﷲ تعالیٰ اور اس کی رسول اکرمﷺ کی رضا حاصل کی ہے اور میں نے کسی بے گناہ کو قتل نہیں کیا بلکہ سنت فاروق اعظم کے مطابق ایک مرتد کو مارا ہے‘‘ نیز نوائے وقت 2 اکتوبر 2011ء کے مطابق کورٹ نے حضرت غازی ملک محمد ممتاز قادری کے خلاف فیصلہ ان الفاظ میں سنایا ’’آپ نے جو کام کیا ہے، وہ اسلام کی رو سے ٹھیک ہے، مگر ملکی قانون میں آپ کو دفعہ (302 ت پ) کے تحت سزائے موت اور دو لاکھ جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے‘‘ جس سے واضح ہے کہ غازی صاحب کے اقدام کو پاکستان کی کورٹ نے بھی اسلامی قرار دیا ہے۔
لہذا الحمدﷲ! درج بالا وضاحتوں کے بعد روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے دور حاضر کے غازی اعظم، غازی اسلام، محافظ قانون ناموس رسالت کو محض مردار دنیا کے حصول کے لئے قاتل کہا ہے اور غازی اسلام کے لئے سزائے موت تجویز کرکے قرآن و سنت کی صریح مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سابقہ مذہب کو بھی بری طرح ذبح کیاہے۔