حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, December 2011-January 2012, د ر خشا ں ستا ر ے

’’مولانا! مجھے تو صرف اسلام کے رکن بتایئے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنا سوال دوہرا دیا۔
’’اسلام کے پانچ رکن ہیں‘‘ ملا صاحب کے چہرے پر ناگواری کا رنگ نمایاں ہوا۔ جیسے وہ جبراً اس سوال کا جواب دے رہے ہوں ’’ایک کلمہ، دوسرا نماز، تیسرا روزہ، چوتھا زکوٰۃ اور پانچواں حج‘‘
’’مگر میں نے تو چھٹے رکن کے بارے میں بھی سنا ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا
’’چھٹا رکن کوئی نہیں ہے‘‘ یکایک ملا صاحب بھڑک اٹھے۔ ’’آپ نے جو کچھ سنا ہے، غلط سنا ہے‘‘
’’ایسا ہرگز نہیں ہے۔‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے تحمل کے ساتھ فرمایا ’’میں نے معتبر اہل علم سے سنا ہے کہ اسلام کا چھٹا رکن روٹی ہے‘‘
یہ سن کر مولانا کھڑے ہوگئے اور نہایت تند وتیز لہجے میں حضرت بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرکے کہا ’’اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نصیحت کے بعد ظالم قوم کے پاس نہ بیٹھ (ترجمہ) اسی لئے میں یہاں سے جاتا ہوں‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی کھڑے ہوگئے۔ اور بڑی محبت سے ملا صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا’’ مولانا! اختلاف رائے اپنی جگہ مگر آپ اس طرح ناراض ہوکر تو نہ جائیں‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کچھ دیر تک ملا صاحب کو منانے کی کوشش کرتے رہے مگر وہ درویشوں کو ان کی جہالت کا طعنہ دے کر برا کہتے رہے۔ یہاں تک کہ ملا صاحب نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا اور غیظ و غضب کا مظاہرہ کرتے ہوئے خانقاہ سے چلے گئے۔
ملا صاحب کے چلے جانے کے بعد مریدوں اور خدمت گاروں نے ان کے نازیبا طرز عمل کی شکایت کی تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’مہمان کیسا بھی تندخو ہو مگر مہمان ہی ہوتا ہے۔ درویش پر مہمانوں کی تواضع فرض ہوتی ہے۔ سو ہم نے بھی مولانا کی تواضع کی۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ملا صاحب نے ہماری تواضع قبول نہیں کی۔ خیر! اﷲ ان کا بھلا کرے‘‘
ملا صاحب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ سے اٹھ کر گئے تو پھر واپس نہیں آئے۔ کئی ماہ بعد انہوں نے حج کے سفر کا ارادہ کیا اور پوری تیاری کے ساتھ بیت اﷲ کی زیارت کے لئے ہندوستان سے روانہ ہوئے پھر مکہ معظمہ پہنچ کر حج کی سعادت سے مشرف ہوئے اور سات سال تک وہیں قیام کیا۔
اس کے بعد وطن واپسی کے خیال سے جہاز میں سوار ہوئے۔ موسم صاف اور خوشگوار تھا۔ جہاز بڑی سبک رفتاری کے ساتھ سمندر کی سطح پر چلا جاتا تھا کہ اچانک سخت طوفان آیا اور پورا جہاز تباہ ہوگیا۔ ملا صاحب ایک تختے پر بہتے ہوئے کنارے تک پہنچے۔ پھر پانی سے نکل کر خشکی میں آئے، عجیب ویرانی کا عالم تھا۔ ملا صاحب جہاں اترے تھے وہاں خشک پہاڑوں کا سلسلہ دور تک چلا گیا تھا۔ نہ درخت تھے، نہ گھاس تھی اور نہ پانی کا کوئی چشمہ تھا۔
ملا صاحب تین دن بھوک اور پیاس کی حالت میں پہاڑ کے ایک غار میں بیٹھے رہے۔ اچھے دنوں کو یاد کرکے روتے رہتے۔ پھر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے۔
’’میرے پالنے والے! میں کس عذاب میں پھنس گیا ہوں۔ مجھے اس آفت سے نجات دے‘
تین دن بعد یکایک وہاں ایک شخص آیا جس کے سر پر خوان تھا۔ اس نے آواز لگائی۔
’’میں روٹی فروخت کرتا ہوں۔ یہاں کوئی ضرورت مند ہے؟‘‘
آدم زاد کی آواز سن کر ملا صاحب کی جان میں جان آئی۔ تین دن کے فاقوں نے ملا صاحب کو بہت کمزور کردیا تھا پھر بھی انہوں نے اپنے جسم و جاں کی تمام طاقتیں سمیٹ کر اس اجنبی شخص کو پکارا ’’بھائی! میری طرف آئو! آج اس دنیا میں مجھ سے زیادہ ضرورت مند انسان کوئی دوسرا نہیں‘‘
روٹیاں فروخت کرنے والا غار میں داخل ہوگیا اور ملا صاحب سے مخاطب ہوا
’’آپ کو کتنی روٹیاں درکار ہیں؟‘‘
ملا صاحب نے بڑی حریصانہ نظروں سے اس شخص کی طرف دیکھا اور نہایت عاجزانہ لہجے میں کہنے لگے ’’بھائی! میں ہندوستان کا بہت بڑا عالم ہوں۔ میں نے سات حج کئے ہیں مگر اچانک مجھ پر یہ مصیبت نازل ہوگئی کہ میرا جہاز تباہ ہوگیا۔ میں تین دن سے بھوکا اور پیاسا ہوں‘‘
میرے پاس روٹی بھی ہے اور پانی بھی‘‘ اس شخص نے کہا
’’مگر میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ہے‘‘ اپنی مجبوریوں کا احساس کرکے ملا صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’آپ کی مجبوری یہ ہے کہ روٹی خریدنے کے لئے پیسے نہیں… اور میری مجبوری یہ ہے کہ میں ایک دکاندار ہوں۔ قرض کا کاروبار نہیں کرتا‘‘ اس شخص نے کسی رعایت کے بغیر صاف صاف کہہ دیا۔
ملا صاحب چند لمحوں تک کچھ سوچتے رہے اور پھر اجنبی دکاندار سے بولے ’’کیا تم مسلمان ہو؟‘‘
’’الحمدﷲ! دکاندار نے جواب دیا۔ ’’میں ایک صحیح العقیدہ مسلمان ہوں‘‘
ملا صاحب نے فورا بھوکوں کو کھانا کھلانے کی فضیلت پر وعظ شروع کردیا۔
دکاندار کچھ دیر تک ملا صاحب کی تقریر سنتا رہا۔ پھر بڑی صاف گوئی سے کہنے لگا ’’میں بھوکوں کو کھانا کھلانے کے ثواب سے واقف ہوں مگر فی الحال آپ کو قیمت کے بغیر غذا اور پانی فراہم نہیں کرسکتا‘‘ یہ کہہ کر وہ دکاندار جانے لگا۔
ملا صاحب نے چیخ کر کہا ’’تو کیا بے  رحم مسلمان ہے کہ ایک بے یارومددگار انسان کی مجبوریوں کا مذاق اڑا رہا ہے‘‘
یہ سن کر دکاندار پلٹ آیا اور ملا صاحب کے طنز کا جواب دیتے ہوئے کہنے لگا ’’اگر میں اسی طرح ضرورت مند لوگوں پر رحم کھائوں تو چند روز میں میرا کاروبار ختم ہوجائے گا اور پھر میں خود لوگوں سے رحم کی بھیک مانگنے لگوں گا‘‘
ملا صاحب نئے انداز سے اس کی خوشامد کرنے لگے۔
آخر دکاندار سے کہا ’’چلئے! میں آپ پر رحم کھاتا ہوں۔ آپ مجھے اپنے ساتوں حجوں کا ثواب بخش دیں۔ میں اس کے بدلے میں آپ کو پانی اور روٹی دے دوںگا‘‘
ملا صاحب نے سوچا کہ زبانی طور پر کہہ دینے سے ثواب ختم نہیں ہوتا۔ میرے ساتوں حج برقرار رہیں گے اور مجھے بھوک اور پیاس سے نجات بھی مل جائے گی۔ یہ سوچ کر ملا صاحب نے دکاندار سے کہا ’’میں نے تجھے اپنے ساتوں حجوں کا ثواب دیا‘‘
دکاندار نے خوان ملا صاحب کے سامنے رکھ دیا۔ ملا صاحب نے جی بھر کے کھانا کھایا اور سیر ہوکر پانی پیا۔ پھر جب ہوش و حواس بحال ہوئے تو انہوں نے دکاندار سے پوچھا ’’تم کہاں رہتے ہو اور کیا یہاں کوئی آبادی بھی ہے؟‘‘
’’میں صرف روٹی فروخت کرتا ہوں‘ اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا‘‘ یہ کہہ کر دکاندار نے خالی برتن اٹھائے اور غار سے نکل گیا۔
ملا صاحب اس کے تعاقب میں بھاگے تاکہ کسی آبادی تک پہنچ سکیں… مگر ان کی یہ کوشش رائیگاں گئی۔ دکاندار پہاڑوں کے پیچ و خم میں کہیں غائب ہوگیا۔ ملا صاحب کچھ دیر تک اسے ڈھونڈتے رہے اور پھر اس خیال سے غار سے واپس آگئے کہ کہیں راستہ نہ بھول جائیں اور اس اجنبی علاقے میں کوئی نئی آفت نازل نہ ہوجائے۔
ملا صاحب ایک امید موہوم پر اجنبی کا انتظار کرنے لگے مگر تین دن تک وہ نہیں آیا۔ بھوک اور پیاس کی شدت سے ایک بار پھر ملا صاحب کی حالت غیر ہوگئی۔ آخر چوتھے دن وہی دکاندار سر پر خوان رکھے نمودار ہوا۔ ملا صاحب کسی بھکاری کی مانند اس کے سامنے گڑگڑانے لگے۔
’’آپ تو آج بھی تہی دست اور تہی دامن ہیں‘‘ دکاندار نے ملا صاحب سے کہا
’’میرے روزے باقی ہیں‘‘ ملا صاحب نے رقت آمیز لہجے میں کہا
دکاندار نے انہیں کھانا کھلا دیا اور ملا صاحب کے تمام روزوں کا ثواب لے کر چلا گیا۔
تین دن بعد جب ملا صاحب بھوک اور پیاس کی شدت سے چیخنے لگے تو وہ دکاندار سر پر خوان رکھے غار میں داخل ہوا اور ملا صاحب کی زکوٰۃ کا ثواب لے کر واپس چلا گیا۔
ملا صاحب پھر بھوک اور پیاس کاشکار ہوگئے۔ چوتھے دن وہی شخص اسی انداز سے آیا اور تمام عمر کی نمازوں کے ثواب کے بدلے میں ایک وقت کی روٹی اورپانی دے کر چلا گیا۔
تین دن کے وقفے کے بعد جب پانچویں بار وہ شخص غار میں داخل ہوا تو ملا صاحب اسے دیکھتے ہی چیخ چیخ کر رونے لگے ’’میں اپنی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج تیرے ہاتھوں فروخت کرچکا۔ اب تجھے دینے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے‘‘
’’اب تک آپ نے سارے وعدے زبانی کئے ہیں‘‘ یہ کہہ کر اجنبی شخص نے خوان زمین پر رکھ دیا ’’میں کاغذ، قلم اور دوات لے کر آیا ہوں۔ آپ نے جو کچھ بیچا ہے، اس کی تحریری سند مجھے دے دیجئے‘‘
ملا صاحب نے یہ عبارت کاغذ پر درج کردی ’’میں نے ایک وقت کی روٹی اور پانی کے بدلے میں اس شخص کے ہاتھوں اپنے ساتھوں حجوں کا ثواب فروخت کیا۔ پھر زندگی بھر کے روزوں کا ثواب فروخت کیا۔ پھر ساری عمر کی زکوٰۃ کا ثواب فروخت کیا اور آخر میں تمام نمازوں کا ثواب فروخت کیا… اور آج میں ایک وقت کی روٹی اور پانی کے بدلے میں یہ تحریر لکھ کر دے رہا ہوں‘‘ آخر میں ملا صاحب نے اپنا نام اور مکمل پتا درج کردیا۔
جب دستاویز مکمل ہوگئی تو اجنبی شخص نے خوان ملا صاحب کے سامنے رکھ دیا۔ ملا صاحب کھانے کے دوران یہ سوچ کر مضطرب رہے کہ آج کے بعد اجنبی شخص یہاں نہیں آئے گا۔ پھر چوتھے دن ملنے والی روٹی اور پانی کا آسرا بھی ختم ہوجائے گا۔ یہ خیال ملاصاحب کے لئے نہایت تکلیف دہ تھا۔ ان کے ذہن میں مختلف خیالات ابھر رہے تھے اور وہ اس عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لئے کوئی تدبیر سوچ رہے تھے۔
آخر کھانا ختم ہوا تو ملا صاحب نے ہاتھ جوڑ کر اس اجنبی شخص سے کہا ’’خدا کے واسطے مجھے بتادو کہ تم کون ہو اور کہاں رہتے ہو تاکہ میں تمہارے ساتھ وہاں چلوں اور دو وقت کی روٹی کے لئے محنت مزدوری کروں۔ اب میرے پاس فروخت کرنے کے لئے کچھ باقی نہیں رہا ہے‘‘
دکاندار نے ملا صاحب کا تحریر کردہ کاغذ جیب میں رکھا اور اپنے برتن اٹھا کر جانے لگا۔
ملا صاحب تازہ دم تھے۔ اس لئے انہوں نے سوچا کہ وہ بھاگ کر اجنبی کو پکڑ لیں گے پھر جب وہ دوڑے تو دکاندار بھی بھاگنے لگا۔ کچھ دورجاکر ایک جگہ اجنبی نے ٹھوکر کھائی اور زمین پر گر گیا۔ ملا صاحب پیچھے تھے۔ انہوں نے اس مہلت کو غنیمت جانا اور زیادہ تیز دوڑنے کی کوشش کی مگر اتفاق سے انہوں نے بھی ٹھوکر کھائی اور گر پڑے۔ اجنبی شخص نے برتن سمیٹے اور اس سے پہلے کہ ملاصاحب سنبھلنے کی کوشش کرتے وہ بھاگ کر نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں