علامہ اقبال اور عشق رسول ﷺ

in Tahaffuz, December 2011-January 2012, متفرقا ت

فلسفہ کی گہرائی اور خدا شناسی
علامہ اقبال علیہ الرحمہ کا مدار فکر اور معیار تمدن ہمیشہ اسوہ حسنہ رہا۔ ان کا کاسۂ سرعلم سے پر رہا اور کاسہ دل عشق سے معمور رہا۔ علم وہ نہیں جو سوز دماغ ہے بلکہ جوسوز جگر ہے اور عشق وہ نہیں جو بوالہوسوں کاشعار ہے بلکہ جو یزداں شکار ہے۔ علم سے انہوں نے راستہ معلوم کیا اور عشق سے منزل کو پایا۔ بیکن نے سچ کہا ہے کہ فلسفے کا تھوڑا علم انسان کو خدا سے بیزار اور گہرا علم خدا کا پرستار بنادیتا ہے اور اقبال علیہ الرحمہ بلاشبہ فلاسفے کے گہرے عالم تھے۔ وہ اتنی گہرائی میں اتر کر عشق رسول کے موتی چن کر باہرلائے اور انہیں اپنے دامن میں سجاکر پوری دنیا کو دعوت نظارہ دی اور بڑی بلند آہنگی اور خود اعتمادی سے کہا۔ اے منطق و کلام کے متوالو! اس کلام کو پڑھو جو امی نبیﷺ پر اترا ہے۔ شاید تمہارا کام بن جائے۔ اے افلاطون اور ارسطو کے شیدائیوں! ان کی بارگاہ میں پہنچ کر کچھ سیکھو جن کے ہاتھوں نے تختی کو چھوا اور نہ ان کی انگلیوں نے کبھی قلم پکڑا۔ لیکن لوح و قلم کے سارے رازان پر منکشف ہوگئے۔
(روزنامہ نوائے وقت 21 اپریل 1994)
علامہ اقبال… جن کا سرمایہ ہستی تھی فقط عشق رسولﷺ صاحبزادہ خورشید گیلانی)
والدین کی تربیت
اقبال علیہ الرحمہ کو عشق رسولﷺ اپنے والد سے ورثہ میں ملا تھا۔ شیخ نور محمد نے جب بھی اقبال کو کچھ سمجھانا ہوتا یا تنبیہ کرنا ہوتی تو وہ قرآن پاک کے حوالے سے یا حضورﷺ کی سیرت یا تعلیمات کے حوالے سے کرتے۔ علامہ محمد اقبال کے والد محترم شیخ نور محمد رحمتہ اﷲ علیہ کے عشق مصطفی کی کیفیت کا ایک واقعہ علامہ اقبال علیہ الرحمہ کے حوالے سے فقیر سید وحید الدین نے یوں تحریر کیا ہے۔
’’مثنوی رموز بے خودی میں علامہ نے اپنے لڑکپن کا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک سائل بھیک مانگتا اور صدا لگاتا ہوا ان کے دروازے پر آیا۔ یہ گدائے مبرم یعنی اڑیل فقیر تھا۔ دروازے سے ٹلنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ اس کے بار بار چیخ چیخ کر صدا لگانے پر علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے طیش میں آکر اسے مارا۔ علامہ کے والد اس حرکت پر بہت آزردہ اور کبیدہ خاطر ہوئے اور دل گرفتہ ہوکر بیٹے سے کہا کہ ’’قیامت کے دن جب خیرالرسل کی امت سرکارﷺ کے حضور جمع ہوگی تو یہ گدائے دردمند تمہارے اس برتائو کے خلاف حضور رسالت مآبﷺ سے فریاد کرے گا‘‘
علامہ کے والد ماجد اپنے ریش سفید کا واسطہ دے کر بیٹے کو کہتے ہیں کہ مجھے میرے آقا و مولیٰﷺ کے حضور یوں رسوا نہ کرو۔ تم چمن محمدیﷺ کی ایک کلی ہو، وہی اخلاق اپنائو جو حضورﷺ کو پسند ہے۔
فقیر وحید الدین لکھتے ہیں کہ شیخ نور محمد علیہ الرحمہ کے حسن تربیت کا یہ اعجاز تھا کہ جب علامہ اقبال قرآن کی آیت اور حدیث رسول سنتے تھے تو فورا ’’گردن بہ طاعت نہادن‘‘ کی تصویر بن جاتے تھے (روزگار فقیر جلد دوم، ص 152)
کوہِ احد پر لرزہ طاری ہوگیا
سید نذیر نیازی کی روایت ہے کہ ’’ایک مرتبہ ایک صاحب نے علامہ اقبال کے سامنے بڑے اچنبھے کے ساتھ اس حدیث کا ذکر کیا کہ رسولﷺ اصحاب ثلاثہ کے ساتھ احد تشریف رکھتے تھے۔ اتنے میں احد لرزنے لگا اور حضورﷺ نے فرمایا ’’ٹھہر جا، تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دوشہیدوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اس پر پہاڑ ساکن ہوگیا‘‘ علامہ اقبال نے حدیث سنتے ہی کہا ’’اس میں اچھنبے کی کون سی بات ہے؟ میں اس کو استعارہ ومجاز نہیں، بالکل ایک مادی حقیقت سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک اس کے لئے کسی تاویل کی حاجت نہیں۔ اگر تم حقائق سے آگاہ ہوتے تو تمہیں معلوم ہوتا کہ ایک نبی کے نیچے مادے کے بڑے سے بڑے تودے بھی لرز اٹھتے ہیں۔ مجازی طور پر نہیں، واقعی لرز اٹھتے ہیں‘‘ (اقبال کامل ص 64 اور جوہر اقبال ص 38)
نور بصیرت کا راز
ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ رسول مقبولﷺ کا دیدار کیسے ہوسکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا ’’پہلے حضورﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرو اور اپنی زندگی کو اسی میں ڈھالو اور پھر اپنے آپ کو دیکھو۔ یہی ان کا دیدار ہے۔ کسی نے پوچھاکہ آپ کو اتنی بصیرت کیسے حاصل ہوئی۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا کہ اکثر اوقات رسول کریمﷺ پر درود بھیجتا رہتا ہوں۔ اب تک ایک کروڑ مرتبہ درود شریف کا ورد کیا ہے۔
آپ کے صاحبزادہ ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں کہ میں نے اماں جان کی موت پر بھی انہیں روتے نہیں دیکھا مگر قرآن سنتے وقت یا رسول اکرمﷺ کا نام زبان پر آتے ہی ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے۔ 1933ء میں ایک نوجوان نے حکیم الامت سے اس بارے میں استفسار کیا کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے تھے آنحضرتﷺ جب چلتے تھے تو درخت تعظیم سے جھک جاتے۔ اس کا کیا مفہوم ہے؟ کیونکہ یہ بات ماورائے فطرت معلوم ہوتی ہے۔ علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے جواب دیا کہ تمہارا ذہن مختلف راستے پر منتقل ہوگیاہے۔ تم الجھ کر رہ گئے ہو۔ قدرت کے مظاہرے اور درختوں کے جھکنے میں بھائی یہ واقعہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا عشق بتاتا ہے۔ کہ ان کی آنکھ یہ دیکھتی ہے ’’اگر تمہیں عمر رضی اﷲ عنہ کی آنکھ نصیب ہو تو تم بھی دیکھو گے کہ دنیا ان کے سامنے جھک رہی ہے‘‘ (ماہنامہ فکر ونظر مارچ 1979ء رسالت مآب اور اقبال… رحیم بخش شاہیں)
ما ترا جوئیم و تو از دیدہ دور
نے غلط، ماکور و تو اندر حضور
علامہ اقبال
ہم آپ کو ڈھونڈتے ہیں اور آپ ہماری آنکھوں سے دور ہیں
نہیں یہ بات نہیں، آپ سامنے ہیں، مگر ہم اندھے ہیں
برکات کا نزول
علامہ اقبال علیہ الرحمہ سید غلام میراں شاہ کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’خدا تعالیٰ! آپ کو اس امر کی توفیق دے کہ آپ اپنی قوت، ہمت، اثر و رسوخ اور دولت و عظمت کو حقائق اسلام کی نشرواشاعت میں صرف کریں‘‘
ان کو ایک اور خط میں لکھتے ہیں:
’’میں آپ کے وجود کو غنیمت سمجھتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا اخلاص اور وہ محبت جو آپ کو حضور رسالتﷺ سے ہے۔ آپ کے خاندان پر بہت بڑی برکات کے نزول کے باعث ہوگی‘‘
اسم اعظم
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اسلام کی خدمت وہی کرسکتا ہے جو عشق محمدیﷺ سے سرشار ہو اور جس کو حضورﷺ کی ذات اور تعلیمات پر پورا پورا یقین ہو۔ شیخ اعجاز احمد (علامہ اقبال کے بھتیجے) کہتے ہیں کہ مجھے میری پھوپھی (ہمشیرہ اقبال) نے بتایا کہ میاں جی کو اسم اعظم معلوم ہے اور انہوں نے اسے اقبال کو بتادیا ہے۔ علامہ اقبال لاہور سے سیالکوٹ تشریف لائے تو ایک روز اعجاز صاحب نے ان کے پائوں دباتے ہوئے پوچھا۔ میں نے سنا ہے کہ میاں جی نے آپ کو اسم اعظم بتادیا ہے۔ فرمایا یہ بات تم میاں جی سے ہی پوچھنا۔ چنانچہ ایک دن اعجاز صاحب نے میاں جی سے اسم اعظم کے بارے میں دریافت کیا۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا مشکلوں کو آسان کرتی ہے۔ اس لئے دعا ہی اعظم ہے۔ پھر فرمایا۔ قرآن کریم میں آیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی بہت سی اچھی صفات ہیں جس کے ذریعے سے اس سے دعائیں کرنی چاہئیں۔ مثلا صحت کے لئے یاشافی، رزق کے لئے یارزاق، اسی طرح اﷲ تعالیٰ کے دوسرے صفاتی نام پکارنے سے مشکلیں حل ہوتی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ الفاظ صرف زبان سے ہی نہیں، دل سے بھی نکلیں اور دل اﷲ تعالیٰ کی صفت پر یقین بھی رکھتا ہو۔ اس کے بعد کہا کہ قبولیت دعا کے لئے ایک نسخہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہر دعا سے پہلے اور بعد حضور سرور کائناتﷺ پر درود بھیجیں۔ کیونکہ درود سے بڑھ کر اور کوئی اسم اعظم نہیں اور تمہارے چچا کو میں نے اسی ’’اسم اعظم‘‘ کی تلقین کی ہے‘‘ (ماہنامہ کوثر نونمبر 1988ء اقبال کیسے بنتا ہے، ص 13-14)
خدا چاہتا ہے اور رضائے محمدﷺ
’’غالبا 1929ء کا واقعہ ہے کہ انجمن اسلامیہ سیالکوٹ کا سالانہ جلسہ تھا۔ علامہ اقبال اس جلسے کے صدر تھے۔ جلسے میں کسی خوش الحان نعت خواں نے مولانا احمد رضا صاحب کی ایک نظم شروع کردی۔ ایک مصرعہ یہ تھا۔
خدا کی رضا چاہتے ہیں دوعالم    خدا چاہتا ہے رضائے محمدﷺ
نظم کے بعد علامہ اقبال اپنی صدارتی تقریر کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور تجالاً ذیل کے دو شعر ارشاد فرمائے۔
تماشہ تو دیکھو کہ دوزخ کی آتش
لگائے خدا اور بجھائے محمدﷺ
تعجب تو یہ ہے کہ فردوسِ اعلیٰ
بنائے خدا اور بسائے محمدﷺ
(نوادر اقبال، سرسید بک ڈپو علی گڑھ، ص 25)
(بحوالہ راجہ رشید محمود اقبال و احمد رضا 1977ء ص 33)
قیمتی آنسو
ڈاکٹر محمد اقبال علیہ الرحمہ کی زندگی کا سب سے زیادہ ممتاز، محبوب اور قابل قدر وصف جذبہ عشق رسولﷺ ہے۔ اس کا اظہار ان کی چشم نمناک اور دیدہ تر سے ہوتا تھا کہ جہاں کسی نے حضورﷺ کا نام نامی ان کے سامنے لیا، ان پر جذبات کی شدت اور رقت طاری ہوجاتی تھی اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہوگئے۔ رسول اکرمﷺ کا نام آتے یا آپﷺ کا ذکر چھڑتے ہی علامہ اقبال علیہ الرحمہ پر وارفتگی طاری ہوجاتی۔ رسول اکرمﷺ کی محبت میں علامہ اقبال علیہ الرحمہ کے احباب نے انہیں بارہا آنسو بہاتے دیکھا تھا۔ فقیر سید وحید الدین لکھتے ہیں ’’میں نے ڈاکٹر صاحب کی صحبتوں میں عشق رسولﷺ کے جو مناظر دیکھے ہیں ان کا لفظوں میں پوری طرح اظہار بہت مشکل ہے۔ وہ کیفیتیں بس محسوس کرنے کی تھیں)
(فقیر سید وحید الدین، روزگار فقیر جلد اول، ص 94)
چشم نمناک
فقیر صاحب لکھتے ہیں ’’ڈاکٹر صاحب کا دل عشق رسولﷺ نے گداز کررکھا تھا۔ زندگی کے آخری زمانے میں تو یہ کیفیت اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ ہچکی بندھ جاتی تھی۔ آواز بھرا جاتی تھی۔ اور وہ کئی کئی منٹ مکمل سکوت اختیار کرلیتے تھے تاکہ اپنے جذبات پر قابو پاسکیں اور گفتگو جاری رکھ سکیں‘‘
(فقیر سید وحید الدین، روزگار فقیر جلد اول، ص94)
آنسوئوں کی زبانی
فقیر سید وحید الدین لکھتے ہیں:
’’جب ڈاکٹر صاحب رائونڈٹیبل کانفرنس سے واپس آئے تو والد صاحب مرحوم ان سے ملنے گئے۔ بڑی مدت بعد ایک دوسرے سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس لئے بڑے تپاک سے ملے اور ڈاکٹر صاحب سے ان کے سفر کے تجربات کے متعلق گفتگو ہونے لگی۔ والد صاحب مرحوم نے اثنائے گفتگو کہا ’’اقبال اگر تم یورپ ہوآئے، مصر اور فلسطین کی بھی سیر کی تو کیا اچھا ہوتا کہ واپسی پر روضۂ اطہر کی زیارت سے بھی آنکھیں نورانی کرلیتے‘‘ یہ سنتے ہی ڈاکٹر صاحب کی حالت دگرگوں ہوگئی۔ چہرے پر زردی چھا گئی اور آنکھں سے آنسو بہنے لگے۔ چند لمحے تک یہی کیفیت رہی۔ پھر کہنے لگے فقیر! میں کس منہ سے روضہ اطہر پر حاضر ہوتا‘‘
مرزا جلال الدین بیرسٹر کہتے ہیں
’’حضرت علامہ علیہ الرحمہ کی طبیعت کا سوزوگداز عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا اور عشق رسولﷺ میں ان کی سرشاری اور استغراق کے درجے پر جا پہنچا۔ آخر میں تو یہ حال ہوگیا تھا کہ ذرا حضورﷺ کا نام کسی کی زبان پر آیا اور آپ کی آنکھیں پرنم ہوگئیں۔ اسی طرح آپ کو فریضہ حج کی ادائیگی اور روضہ مبارک کی زیارت کی شدید آرزو تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتی جاتی تھی۔ آخر زمانے میں بیماریوں اور ضعف کی وجہ سے چلنا پھرنا مشکل ہوگیا تھا۔ مگر اس وقت بھی یہی لگن تھی کہ شاید طاقت عود کر آئے اور مجھے یہ مقدس سفر نصیب ہوجائے‘‘
(جلال الدین بیرسٹر ملفوظات اقبال)
عید میلاد النبیﷺ
1926ء میں لاہور میں عید میلاد النبیﷺ کے جلسے کی صدارت کرتے ہوئے علامہ اقبال نے جذبہ تقلید اور جذبہ عمل قائم رکھنے کے تین طریقے بتائے۔ پہلا طریقہ درود سلام ہے جو مسلمان کی زندگی کا جزولاینفک ہے۔ دوسرا طریق اجتماعی ہے کہ مسلمان کثیر تعداد میں جمع ہوں اور کوئی حضور آقائے دوجہاںﷺ کے سوانح حیات بیان کرے اور ’’تیسرا طریقہ اگرچہ مشکل ہے لیکن بہرحال اس کا بیان کرنا نہایت ضروری ہے وہ طریقہ یہ ہے کہ یاد رسول اس کثرت اور ایسے انداز میں کی جائے کہ انسان کا قلب نبوت کے مختلف پہلوئوں کا خود مظہر ہوجائے یعنی آج سے تیرہ سو سال پہلے جو کیفیت حضور سرور کائناتﷺ کے وجود مقدس سے پیدا ہوتی تھی، وہ آج ہمارے قلوب کے اندر پیدا ہوجائے‘‘
(آثار اقبال مرتبہ غلام دستگیر رشید، ص306، ماہنامہ صوفی منڈی بہاء الدین، اکتوبر 1926)
(بحوالہ راجہ رشید محمد و اقبال و احمد رضا ص 60-61)
معراج النبیﷺ
لیفٹیننٹ کرنل خواجہ عبدالرشید اپنے مضمون ’’علامہ اقبال کا تصور انسان کامل‘‘ میں کہتے ہیں
اقبال نے اپنے لیکچروں میں ایک شعر نقل کیا ہے
موسیٰ زہوش رفت بیک جلوۂ صفات
توعینِ ذات می نگرمی درتبسمی
اس شعر میں ’’صفات‘‘ اور ’’ذات‘‘ کے الفاظ غور طلب ہیں۔ یہ کیا مقام تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے خود حضور سرور کونین محمد رسولﷺ سے فرمایا کہ آ میرے محبوب! میں تجھے اپنا آپ دکھائوں… جہاں رسول کریمﷺ کو دیگر انبیاء پر بہت سی فضیلتیں ہیں، وہاں یہ دو سب سے اہم ہیں ٭ خاتمیت ٭معراج
(بصیر کراچی، عید میلاد النبی ایڈیشن مئی 1972ء ص 39)
(اور آخرت میں مقام محمود اور شفاعت کبریٰ (مرتب)
نبوت کے اجزاء
سید نذیر نیازی کے نام خط میں انہوں نے لکھا:
’’ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر یہ دعویٰ کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزاء نبوت کے موجود ہیں یعنی یہ کہ مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل۔ مسیلمہ کذاب کو اسی بناء پر قتل کیا گیا تھا‘‘
(انوار اقبال مرتبہ بشیر احمد ڈار، ص 45-46)
نعتیہ اشعار بقائے دوام
شاعر مشرق کو حضورﷺ سے غیر معمولی وابستگی کا ثمر یوں عطا ہوا کہ ان کے نعتیہ اشعار بقائے دوام حاصل کرگئے۔ زمانہ صدیوں کی مسافتیں طے کرتا رہے گامگر اقبال علیہ الرحمہ کے نعتیہ کلام کی آب و تاب میں کمی رونما نہیں ہوگی۔ بلکہ ہر آنے والا دور اس سے فیض یاب ہوتے ہوئے فخر محسوس کیا کرے گا۔ مروجہ اسلوب میں باقاعدہ نعت گوئی نہ کرنے کے باوجود بھی علامہ اقبال علیہ الرحمہ توصیف مصطفیﷺ میں اتنا کچھ کہہ گئے ہیں کہ زمانے بھر کے نعتیہ دوادین سے ان کے نعتیہ اشعار کا مقام و مرتبہ اولیٰ تر ہے۔ کیونکہ انہوں نے کوئی بھی نعتیہ کلام نعت برائے نعت کے حوالے سے نہیں لکھا۔ بلکہ ان کی نعت مفاہیم ومضامین کاعزوم بے کنار اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ نئے سے نیا پیغام، نئی سے نئی تجلی، غرضیکہ تجلیات نعت کی فراوانی نے ان کی نعت کو عالمگیریت عطا کردی ہے۔
(پروفیسر محمد اکرم رضا، علامہ اقبال، گلزار نعت میں، کاروان نعت ص 163)
دیدار نبیﷺ
حضور نبی کریمﷺ کے دیدار سے مشرف ہونے کی علامہ محمد اقبال رحمتہ اﷲ علیہ نے بہت عمدہ اور دلچسپ تفسیر و توجیہ کی ہے۔ علامہ فرماتے ہیں کہ اتباع رسول اور تقلید نبوی میں ڈوب جانے کا نام ہی دیدار رسول ہے۔ دنیا میں ایسے زندگی بسر کرو جیسے رسول پاکﷺ کا اسوہ حسنہ تم کو تلقین کرتا ہے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کو جن و انس سب میں مقبولیت حاصل ہوجائے گی۔ آپ کی سنت کی پیروی میں ڈوب کر خود شناسی حاصل کرو۔ یہی آپ کا دیدار ہے۔
(اقبال اور محبت رسول، ڈاکٹر محمد طاہر فاروقی)
روئے تو ایمان من قرآن من
جلوۂ داری دریغ از جان من
علامہ اقبال
آپ کا چہرہ ہی میرا ایمان اور میرا قرآن ہے
آپ اپنے دیدار سے مجھے کیوں محروم رکھتے ہیں
ختم نبوت
ختم نبوت کے عقیدے پر گفتگو میں انہوں نے فرمایا کہ ’’ختم نبوت کے عقیدے کی ثقافتی قدروقیمت یہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے ہمیشہ کے لئے اعلان فرمادیا کہ آئندہ کسی انسان کے ذہن پر کسی انسان کی حکومت نہیں ہوگی۔ میرے بعد کوئی شخص دوسروں سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری بات کو بلاچوں و چرا تسلیم کرلو۔ ختم نبوت ایسا عقیدہ ہے جس کی بدولت انسانی علم کے دائرے کو وسعت نصیب ہوگئی۔
(ملفوظات اقبال، یوسف سلیم چشتی)
جواب شکوہ
شمع رسالت کے اس پروانے نے بارگاہ الٰہی میں جب ’’شکوہ‘‘ پیش کیا اور مسلمان کی حالت زار کی نشاندہی کی تو کس عقیدت اور محبت سے مقام رسول کو خدا کی جانب سے بطور ’’جواب شکوہ‘‘ متعین کیا:
کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
(ماہنامہ کاروان قمر، مارچ 2010ء ص 25)
فیضان رسالت
علامہ اقبال علیہ الرحمہ خطابت میں فرماتے ہیں:
’’پیغمبر اسلامﷺ کی ذات گرامی کی حیثیت دنیائے قدیم و جدید کے درمیان ایک واسطہ کی ہے۔ بااعتبار اپنے سرچشمہ وحی کے آپ کا تعلق دنیائے قدیم سے ہے۔ لیکن بااعتبار اس کی روح کے دنیائے جدید سے۔ یہ آپ ہی کا وجود ہے کہ زندگی پر علم و حکمت کے وہ تازہ سرچشمے منکشف ہوئے جو آئندہ رخ کے عین مطابق تھے‘‘
’’میرا عقیدہ ہے کہ نبی کریمﷺ زندہ ہیں اور اس زمانے کے لوگ بھی اسی طرح مستفیض ہوسکتے ہیں جس طرح صحابہ کے زمانے میں ہوا کرتے تھے‘‘
(ماہنامہ کاروان قمر، مارچ 2010، ص 24)
مقام حضرت بلال رضی اﷲ عنہ
یہ سب عزت و عظمت عشق نبی کے صدقے میں ان کو حاصل ہوئی تھی اور دنیا میں روزانہ پانچ وقت اذان کی آواز بلند ہوتی ہے۔ حضرت بلال رضی اﷲ عنہ جنتی ہیں۔ جب نبی کریمﷺ معراج پر تشریف لے گئے تو آپ کو جنت میں ایک طرف سے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی تو محسن اعظم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں پوچھا تو جواب آیا کہ یہ آپ کے موذن حضرت بلال رضی اﷲ عنہ ہیں۔ سبحان اﷲ
(ذکر رسولﷺ، ڈاکٹر حمید یزدانی)
اقبال کس کے عشق کا یہ فیض عام ہے
رومی فنا ہوا حبشی کو دوام ہے
روحانی غذا
1931ء میں بیرون موچی دروازہ میلاد النبیﷺ پر ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، تقریر مولانا سید احمد سعید کاظمی کی اور صدارت حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمہ کی تھی۔ اس جلسہ کی کیفیت اور حضرت علامہ علیہ الرحمہ کے عشق رسول کریمﷺ کی کہانی مولانا کاظمی کی زبانی سنئے، فرماتے ہیں:
’’علامہ اقبال علیہ الرحمہ کے دل میں حضور نبی کریمﷺ کی ذات مقدس کی عظمت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ یہ حسن اتفاق تھا کہ 1931 ’’دارالعلوم نعمانیہ لاہور‘‘ کے مدرس کی حیثیت سے میں ایک جلسہ میلاد النبیﷺ میں شرکت کے لئے گیا۔ اس جلسہ کا اہتمام بیرون موچی دروازہ کیا گیا تھا۔ علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ کا تعارف مجھ سے کرایا گیا۔ میں نے ’’محمد رسول اﷲﷺ‘‘ پر سیر حاصل تقریر کی۔
دوران جلسہ وہ اس قدر روئے کہ ہر دیکھنے والا یہ محسوس کررہا تھا کہ علامہ اقبال علیہ الرحمہ نبی کریمﷺ کی محبت میں مخمور تھے۔ جلسے کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں آج روحانی غذا میسر کی ہے۔ علامہ اقبال علیہ الرحمہ ذی علم تو تھے مگر حضور نبی کریمﷺ کی ذات مقدس کی عظمت ان کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ ایک سچے مسلمان تھے۔ ان کی شاعری میں خالصتاً اسلام کا رنگ جھلکتا تھا۔
(روزنامہ امروز 24 فروری 1982، مضمون سید محمد عبداﷲ قادری، بحوالہ ماہنامہ جہان رضا اپریل 2010ئ)
اتباع
اسی رطح ’’اسرار خودی‘‘ میں عشق رسول کے سلسلے میں انہوں نے بایزید بسطامی رحمتہ اﷲ علیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ سنت کے بے حدپابند تھے اور انہوں نے خربوزہ صرف اس لئے نہ دکھایا کہ انہیں معلوم نہ ہوسکا کہ آنحضڑتﷺ اس پھل کو کبھی کھایا یا نہیں اور اگر کھایا تو کس طرح۔ یہ بات یاد رہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اﷲ علیہ کے علامہ ’’بسطام‘‘ میں خربوزہ بڑی وافر مقدار میں ہوتا ہے۔
کامل بسطام در تقلید فرد
اجتناب از خوردن خربوزہ کرد
(ماہنامہ کاروان قمر مارچ 2010ئ)
بسطام کا مرد کامل نسبت رسول میں بے مثال تھا۔ حتی کہ اتباع رسول مقبولﷺ میں خربوزہ کھانے سے اجتناب کرتا تھا۔
گل صد برگ
ڈاکٹر صاحب ’’اسرارورموز‘‘ میں فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی مثال گل صد برگ کی سی ہے کہ گو اس میں سو پنکھڑیاں ہیں مگر سب ایک اصل سے وابستہ ہیں اور میں تمہیں کیا بتائوں کہ آپ کی محبت کیا چیز ہے۔ یہ محبت تو وہ ہے جو بے جان چیزوں کوبھی آپ کے لئے بے قرار رکھتی ہے۔ چنانچہ منبر کی خشک لکڑی بھی آپ کی جدائی میں ایسے زار و قطار اور بلند آواز سے روئی تھی کہ سننے والے ششدر رہ گئے۔ مسلمانوں کا وجود آپ کے جلوئوں سے روشن ہے اور آپ کے قدموں کی خاک ایسی مقدس اور بلند رتبہ ہے کہ اس سے طور جنم لیتے ہیں۔ سبحان اﷲ خاک طیبہ! یہاں کی خاک دونوں عالم سے بہتر اور بڑھ کر ہی۔
مٹی صاحب ایمان
آپﷺ نے فرمایا:
’’میرے جسم میں استعمال ہونے والی خاک کو اس شہر مدینہ (مدینہ منورہ) کی خاک کا وہ حصہ ہونے کا شرف حاصل ہے جہاں میری آخری آرام گاہ ہے اور اسی طرح آپﷺ نے ایک دفعہ فرمایا جس اﷲ کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے اس کی قسم مدینہ منوہ کی مٹی بھی صاحب ایمان ہے‘‘
چنانچہ علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے بھی خوب فرمایا (نقوش سیر نمبر9)
خاک طیبہ از دو عالم خوش تر اسب
اے خنک شہرے کہ آنجا دلبراست
ترجمہ: طیبہ کی خاک دونوں جہانوں سے بہتر ہے۔ اے (دل) کی ٹھنڈک شہر کہ وہاں محبوب ہے۔
زندہ واپس نہیں آئیں گے
میر غلام بھیک نیرنگ تحریر فرماتے ہیں۔
’’اقبال کا قلبی تعلق حضور سرور کائناتﷺ کی ذات قدسی صفات سے اس قدر نازک تھا کہ حضورﷺ کا ذکر آتے ہی ان کی حالت دگرگوں ہوجاتی تھی۔ اگرچہ وہ فورا ضبط کرلیتے تھے۔ چونکہ میں بارہا ان کی یہ کیفیت دیکھ چکا تھا۔ اس لئے میں نے ان کے سامنے کچھ نہیں کہا۔ مگر خاص لوگوں سے بطور راز ضرور کہا کہ یہ اگر حضور پاکﷺ کے مرقد پر حاضر ہوں گے تو زندہ واپس نہیں آئیں گے۔ وہیں جاں بحق ہوجائیں گے، میرا اندازہ یہی تھا۔ اﷲ بہتر جانتا ہے‘‘
(سید عبدالرشید فاضل، اقبال اور عشق رسالت مآبﷺ، ص 51-52)
آخری خواہش
’’چراغ سحری بجھا چاہتا ہوں۔ تمنا ہے کہ مرنے سے پہلے قرآن حکیم سے متعلق اپنے افکار  قلمبند کرجائوں۔ جو تھوڑی سی ہمت و طاقت ابھی مجھ میں باقی ہے اسے اسی خدمت کے لئے وقف کرنا چاہتا ہوں تاکہ قیامت کے دن آپ کے جد امجد (حضور نبی کریمﷺ) کی زیارت مجھے اس اطمینان خاطر کے ساتھ میسر ہو کہ اس عظیم الشان دین کی جو حضورﷺ نے ہم تک پہنچایا کوئی خدمت بجالایا‘‘
وہ عشق رسولﷺ کے تقاضوں سے اچھی طرح واقف تھے، وہ اس دین کی خدمت بجالانے کو حضورﷺ کا وسیلہ سمجھتے تھے۔
تو اے مولا طیبہ آپ میری چارہ سازی کر
میری دانش ہے افرنگی، میرا ایمان ہے زناری
آخری عمر میں ان کا حال یہ تھا کہ وہ قرآن حکیم اور مثنوی مولانا روم علیہ الرحمہ کے علاوہ ہر قسم کا مطالعہ چھوڑ بیٹھے تھے۔ حکیم محمد حسن عرشی کے نام لکھتے ہیں ’’آپ اسلام اور اس کے حقائق کے لذت آشنا ہیں۔ مثنوی رومی کے پڑھنے سے اگر قلب میں گرمی شوق پیدا ہوجائے تو اور کیا چاہئے۔ شوق خود مرشد ہے۔ میں ایک مدت سے مطالعہ کتب ترک کرچکا ہوں۔ اگر کبھی کچھ پڑھتا ہوں تو صرف قرآن یا مثنوی رومی‘‘
(ماہنامہ فکر و نظر اسلام آباد اپریل 1986، اقبال کے خطوط کے چند نظریاتی پہلو)
یم عشق کشتی من یم عشق ساحل من
نہ غم سفینہ دارم نہ سر کرانہ دارم
شر رے فشاں و لیکن شر رے کہ دانسوزد
کہ ہنوز نو نیازم غم آشیانہ دارم
علامہ اقبال
دریائے عشق ہی میری کشتی ہے، دریائے عشق ہی میرا ساحل ہے
نہ مجھے سفینے کا غم ہے اور نہ ہی کنارے کی خواہش ہے مجھے پر اپنی
محبت کی چنگاری ڈالیئے، مگر ایسی نہیں جو مجھے بالکل ہی جلادے
میں نو نیاز عشق ہوں، میرے اندر ابھی تک آشیانے سے وابستگی باقی ہے
خوشنودی رسولﷺ
1931ء میں علامہ اقبال دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن گئے تو راستہ میں اسکندریہ (مصر) کے جہاں مصر کے دیگر علماء شخصیات کے ساتھ سید محمد قاضی ابوالعزام نے استقبال کیا اور پھر شام کو اپنے صاحبزادوں کے ساتھ علامہ کی قیام گاہ پر ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ علامہ نے کہا: میں خود زیارت کے لئے حاضر ہوجاتا۔ آپ کیوں تشریف لائے؟ قاضی ابوالعزم نے کہا کہ خواجہ دوجہاں کا ارشاد ہے: جس نے دین سے تمسک کیا اس کی زیارت کو جائو گے تو مجھے خوشی ہوگی لہذا ارشاد نبویﷺ کے مطابق چلا آیا ہوں کہ میرے آقا خوش ہوں۔ علامہ نے سنا تو بے تاب ہوگئے اور انہیں ایک چپ سی لگ گئی۔ سید قاضی ابو العزم نصیحتیں کرتے رہے اور علامہ سنتے رہے۔ جب وہ واپس ہوئے تو علامہ دیر تک روئے اور فرمایا : ایسا زمانہ آگیا ہے کہ لوگ مجھ جیسے گنہ گار کو متمسک بالدین جان کر خواجہ دوجہاںﷺ کے ارشاد کی اتباع میں حضورﷺ کی خوشنودی کے لئے ملنے آتے ہیں۔ اتنا کہہ کر پھر روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔
(ماہنامہ کاروان قرم، مارچ 2010ء ص 33)
حج بیت اﷲ کی آرزو
علامہ اقبال علیہ الرحمہ کو روضہ رسول کی زیارت کا بے حد شوق تھا۔ ان ہی کوایک خط میں لکھتے ہیں ’’حج بیت اﷲ کی آرزو تو گزشتہ دو تین برس سے میرے دل میں ہے۔ خدا تعالیٰ ہر پہلو سے استطاعت عطا فرمائے تو مزید برکت کا باعث ہو، چند روز ہوئے سر اکبر حیدری وزیراعظم حیدرآباد کا خط مجھے ولایت سے آیا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ حج بیت اﷲ تمہاری معیت میں نصیب ہو تو بڑی خوشی کی بات ہے لیکن درویشوں کے قافلے میں جو لذت و راحت ہے وہ امیروں کی معیت میں کیونکر نصیب ہوسکتی ہے‘‘
وفات سے ایک سال پہلے بھی ان کے دل میں یہ خواہش موجزن تھی۔ سرراس مسعود کے نام جو ان کے جگری دوست تھے، لکھتے ہیں:
’’امسال دربار حضورﷺ میں حاضری کا قصد تھا۔ مگر بعض موانع پیش آگئے۔ انشاء اﷲ امید ہے کہ سال (آئندہ) حج بھی کروں گا اور دربار رسالت میں حاضری بھی دوں گا۔ اور وہاں سے ایک ایسا تحفہ لائوں گا کہ مسلمانان ہند یاد رکھیں گے‘‘ (10 جنوری 1937ئ)
(ماہنامہ فکر و نظر اسلام آباد 1986، اقبال کے خطوط کے چند نظریاتی پہلو… کیپٹن محمد حامد)
مرد مومن
سلطان دوعالمﷺ سے غیر معمولی محبت اور عشق و عقیدت نے انہیں تاریخ اسلام کا مرد مومن بنادیا۔ وہ مرد مومن کہ جس کی عظمتوں کو وقت آخر انہوں نے یوں سلام کیا تھا۔
نشان مرد مومن باتو گویم
چو مرگ آید تبسم برلب اوست
اور پھر اقبال علیہ الرحمہ کی وہ رباعی جو انہوں نے اپنے وصال سے چند منٹ پیشتر کہی۔ یہ وہ وقت تھا کہ سانس بھی رک رک کر چل رہا تھا۔ بعض اوقات آنکھوں کے اشارے اور ہاتھ کی جنبش سے کچھ سمجھاتے تھے۔
راجہ حسن اختر صاحب کا بیان ہے کہ علامہ مرحوم نے انتقال سے تقریبا دس منٹ قبل اپنا حسب ذیل قطعہ کہہ کر وقت آجانے کا اعلان کردیا تھا۔
سرودِ رفتہ باز آید کہ ناید؟
نسیمے از حجاز آید کہ ناید
سرآمد روزگارے ایں فقیرے
دگر دانائے راز آید کہ ناید
(پروفیسر محمد اکرم رضا، علامہ محمد اقبال گلزار نعت میں، کارواں نعت ص 163)
ترجمہ: سرزمین حجاز سے آنے والی خوبصورت اور زندگی بخش ہوا کہ جھونکے ختم ہونے کو ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آئندہ اس طرح کی ٹھنڈی اور فرحت افزا ہوا چلے گی یا نہیں۔ ایک مرد حق آگاہ کی زندگی کا پیالہ لبریز ہوچکا ہے اس قدر دور اندیش انسان مسلمانوں میں پھر کبھی پیدا ہوگا یا نہیں۔