امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی شاعری

in Tahaffuz, December 2011-January 2012, شخصیات, مفتی مظفر احمد داتا گنجوی (انڈیا)

امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت قدس سرہ اسلامی تاریخ کی ایک ایسی عظیم شخصیت اور ذات ستودہ صفات ہے جس میں مجددیت کے جملہ اوصاف مجتمع ہیں۔ آپ کی ذات گرامی ہمیشہ ہمیشہ اہل علم و فضل سے خراج عقیدت وصول کرتی رہے گی۔
آپ کی شاعری فنی نقطہ نظر سے معیار کمال کی حامل اور سراسر حمد و نعت و منقبت ہی پر مشتمل ہے۔اس میں شک و شبہ نہیں کہ حمد باری تعالیٰ لکھنا آسان ہے مگر نعت رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم لکھنا آسان نہیں بلکہ ایک دشوار ترین منزل ہے۔ قلم اور جولانی طبع کے تحت اس فن میں قدم قدم پر خطرات کا سامنا ہے۔
وہ ذات کریم جس کی سرکار میں دانستہ و نادانستہ ذرا بھی شعر و ادب کی غلطی ضبط اعمال کا سبب ہو اور احتزام شرع ان کی مدح رفع۔ اس لئے نعت بڑے ہوش و حواس کا کام ہے۔
سیدی امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ بریلی قدس سرہ النوری اس صاحب طرز ادیب، اس پرجوش اہل قلم، اس حق گو حق شناس کا نام ہے جس کا شہرۂ آفاق فرش تا عرش گونجا۔ جس کی دھوم اکناف و اطراف عالم میں لہرائی۔ جن کی حق گوئی نے بدمذہبیت، بے دینیت کے قلعے مسمار کردیئے۔
امام احمد رضا علیہ الرحمہ اس عاشق خیر الانام کا نام ہے جس کی زندگی کی کوئی سانس اس کی حیات کا کوئی لمحہ عشق کی رعنائیوں سے خالی نہیں۔ وہ تا زیست یہی عرض کرتے رہے۔
ٹھوکریں کھاتے پھرو گے ان کے در پر پڑ رہو
قافلہ تو اے رضاؔ اول گیا آخر گیا
مجھے اچھی طرح یاد ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ میرے والد ماجد صوفی شاہ حاجی مولانا منور حسین قدس سرہ (۱۳۹۵ھ) فرمایا کرتے تھے:
’’سیدی اعلیٰ حضرت قدس سرہ کو نعت رسول کریمﷺ کے میدان میں اگر حضرت علامہ جامی کہیں یا امام بوصیری کہہ کر پکاریں یا حسان وقت کہیں تو بے جا نہ ہوگا‘‘
ہم اگر ماضی وحال کا جائزہ لیں اور شعراء کرام کے کلام و سخن کا تجزیہ کریں تو شاذوونادر ہی ایسے صاحبان ملیں گے جن کے کلام و سخن کی پرواز امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی رفعت سخن تک رسائی کرسکے بلکہ کرنا تو علیحدہ بات ہے اکثر کلام رطب و یا بس افراط و تفریط سے ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ حدود شرع سے باہر ہوگا، الا ماشاء اﷲ تعالیٰ۔ مگر اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا کلام مقبول بارگاہ خیرالانام کا کوئی شعر انتہائی کیف و جذبات کے باوجود خلاف شرع ہونا تو اور بات ہے بلکہ قرآن و حدیث و تفسیر کا احترام پیش کرتا ہوا نظر آئے گا اور خود قرآن و حدیث و تفسیر وغیرہ کا ماحصل مفہوم، ترجمہ بالتشریح ہوگا۔ آپ کا نعتیہ کلام افراط و تفریط کے عیوب سے پاک اور تخیل کی روا روی سے مبرا ہے۔ احترام شرع میں آپ بہت ہی سخت تھے۔ خود فرماتے ہیں:
ہوں اپنے کلام سے نہایت محظوظ
بیجا سے ہے المنتہ ﷲ محفوظ
قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھی
یعنی رہے احکام شریعت ملحوظ
نعت گوئی کو کمال تک پہنچانا آپ ہی کا کمال تھا۔ خود فرماتے ہیں:
جو کہے شعر و پاس شرع دونوں کا حسن کیونکر آئے
لا اسے پیش جلوۂ زمزۂ رضا کہ یوں
آپ کے کلام میں تمثیلات و تشبیہات، اشارات و کنایات، احکامات، حکایات اور استعارات کا استعمال ہوتا ہے جس کے باعث آپ کا کلام ایک رجز آفریں کیفیت اختیار کرتا جاتا ہے۔
رخ دن ہے یا مہر سما؟ یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شب زلف یا مشک ختا؟ یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
بلبل نے گل ان کو کہا قمری نے سرد جاں فزا
حیرت نے جھنجھلا کر کہا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
اور پھر سلاست و لطافت کا مقام آتا ہے تو سلاست و لطافت آپ کے آستانہ کرم کی باندی نظر آتی ہے اور اس پر محبت وا لفت کی فراوانی قابل صد رشک جاں نوازی پیدا کرتی ہے۔ فرماتے ہیں:
پل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
جبریل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو
کانٹا میرے جگر سے غم روزگار کا
یوں کھینچ لیجئے کہ جگر کو خبر نہ ہو
’’حدائق بخشش‘‘ آپ کے نعتیہ کلام کا مجموعہ ہے اور ایک ایسی متاع بے بہا ہے جس پر اردو کی نعتیہ شاعری ہمیشہ فخر کرے گی بلکہ یوں کہئے کہ آپ کے نعتیہ کلام نے اردو شاعری کو زبان بخشی۔ شوخیٔ طبع کے باوجود آپ نے بڑی احتیاط سے عروس سخن کو ان تمام زیورات سے آراستہ و پیراستہ فرمایا جو نعت گوئی کے تقدس و احترام کے ساتھ اس کے حسن و جمال کو چار چاندلگاتے ہیں۔ می گویند
یہی کہتی ہے بلبل باغ جناں کہ رضا کی طرح کوئی سحر بیاں
نہیں ہند میں واصف شاہ ہدیٰ مجھے شوخ طبع رضا کی قسم
بلاشک و شبہ امام احمد رضا ایک وہبی شاعر تھے۔ فنکاری و حسن آفرینی کے لئے موزونی طبع ازحد ضروری ہے۔ یہ محض فیض الٰہی و مصطفائی ہے۔ آپ کو زبان و بیان پر ملکہ حاصل تھا۔ عربی و فارسی میں مہارت کے ساتھ ساتھ مقامی زبانوں کا ستھرا شعور رکھتے تھے۔ زبان کی صفائی و شستگی و برجستگی اور سہل ممتنع وغیرہ کی مثالیں آپ کے کلام میں ملتی ہیں۔ کلامکی سنجیدگی لب و لہجہ کی بلندآہنگی، طنطنہ اور زور اس میدان میں بے مثل و بے مثال استادی کی دلیل ہے۔ ایک نعت سرکار ابد قرارﷺ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
رشک قمر ہوں رنگ رخ آفتاب ہوں
ذرہ تیرا جو اے شہ گردوں جناب ہوں
در نجف ہوں گوہر پاک خوش آب ہوں
یعنی تراب رہ گزر بوتراب ہوں
دل بستہ بے قرار جگر چاک اشکبار
غنچہ ہوں گل ہوں براق تپاں ہوں سحاب ہوں
حضور خواجہ بدر و حنین سید الکونینﷺ کے جسم پاک کے سایہ نہ ہونے کی بہت ساری شاعرانہ توجیہیں بیان کی جارہی ہیں مگر امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے جس حسین انداز کے ساتھ سرکار اقدسﷺ کی بارگاہ میں عرض کیا ہے وہ اپنا جواب آپ ہے۔ لکھتے ہیں:
تو ہے سایہ نور کا، ہر عضو ٹکڑا نور کا
سایہ کا سایہ نہ ہوتا ہے، نہ سایہ نور کا
مجھے کہنے دیجئے کہ امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ نے نعتیہ کلام کے ذریعہ ہمیں ایک مزاج دیا کہ سیرت نبوی، فضائل مصطفویﷺ کی عظمت قلب مومن میں جاگزین ہوجائے۔
اے امام احمد رضا علیہ الرحمہ تیری عظمت کو سلام! تونے بنی نوع انسان کو شریعت و طریقت اور عظمت محبوبﷺ کے وہ چھلکتے ہوئے جام عطا کئے ہیں جس کا خمار ہمیشہ ہمیشہ باقی اور جاری و ساری رہے گا۔
مجدد برحق سیدی امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ القوی لکھتے ہیں:
گنہ گاروں کو ہاتف سے نوید خوش مالی ہے
مبارک ہو شفاعت کے لئے احمد سا والی ہے
مطلع کے مصرع اولیٰ میں امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے لفظ ’’ہاتف‘‘ استعمال فرمایا ہے جس کے معنی ہیں جس کی آواز سنائی دے اور دکھائی نہ دے۔
’’المنجد‘‘ (عربی ص 853) کے ترجمہ مصباح اللغات کے صفحہ 610 سمعت یہتف ہاتفا جب کہ تم آواز سنو اور کوئی دکھائی نہ دے۔ ’’نوید‘‘ کے معنی ہیں خوشخبری۔ یہ زبان فارسی کا لفظ ہے۔ مال ’’المال‘‘ سے مشتق ہے ۔ ’’المال‘‘ کے معنی ہیں جائے پناہ و مذکورہ حوالہ ص 781، مصرع ثانی میں لفظ شفاعت آیا ہے جس کے معنی ہیں ’’سفارش کرنا‘‘ عربی لفظ ہے (حوالہ مذکورہ ص 415)
مقصد و خلاصہ یہ ہے کہ ہاتف غیبی سے گنہ گاروں کے جائے پناہ کی خوشخبری ہے کہ مبارک ہو حضور احمد مجتبیٰ محمد مصطفیﷺ ہمارے شفیع ہیں تو پھر کیا ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام و اولیاء عظام و صلحائے امت علماء و دین اور ملائکہ مقربین کو بارگاہ خداوندی میں جو عزت حاصل ہے۔ اس کے پیش نظر گنہ گاروں کے لئے ان کا شفاعت فرمانا، مغفرت چاہنا حق ہے۔ سب سے پہلے شفاعت کا دروازہ حضور محمد عربیﷺ کھلوائیں گے جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام تک اہل محشر کا جانا اور سب سے اذہبو الیٰ غیری سن کر حضور شافع یوم النشورﷺ کی بارگاہ کریم میں آنا اور اپنا حال بیان کرنا اور آپ کا سب کی شفاعت فرمانا حدیث شریف سے ثابت ہے۔
حضرت امام احمد بسند صحیح اپنی مسند میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اور ابن ماجہ حضرت موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور شفیع المذنبینﷺ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ شفاعت لو یا یہ کہ تمہاری آدھی امت جنت میں جائے‘‘ فاخترت الشفاعۃ لانہا اعم واکفی میں نے شفاعت لی کہ وہ زیادہ کام آنے والی ہے۔
مدنی سرکار انورﷺ فرماتے ہیں کہ ’’شفاعتی للہالکین من امتی‘‘ یعنی میری شفاعت میرے ان امتیوں کے لئے جنہیں گناہوں نے ہلاک کر ڈالا ہے۔ ونیز فرماتے ہیں ’’شفاعتی لااہل الذنوب من امتی‘‘ میری شفاعت گنہ گار امتیوں کے لئے ہے۔ حضرت ابو درداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا ’’وان زنی وان سرق‘‘ اگرچہ زانی اگرچہ چور ہو۔ فرمایا ’’وان زنی وان سرق علی رغم انف دردائ‘‘ اگرچہ زانی ہو، اگرچہ چور ہو برخلاف خواہش ابو درداء کے۔
ترا قد مبارک گلبن رحمت کی ڈالی ہے
اسے بو کر تیرے رب نے بنا رحمت کی ڈالی ہے
اس مطلع میں سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے لفظ ’’ڈالی‘‘ استعمال کیا ہے جو اردو زبان کا لفظ ہے۔ ڈالی شاخ کو بھی کہتے ہیں اور ڈالی بنیاد کو بھی کہتے ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ پہلے لفظ ڈالی سے مراد شاخ ہے اور دوسرے لفظ ڈالی سے مراد بنیاد رحمت کا ڈالنا جس کا خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ خود نبی کریم علی الصلوٰۃ والتسلیم کا وجود باوجود رحمت کی ایک شاخ ہے اور نبوت کے لئے سلسلہ رحمت کی بنیاد اﷲ تعالیٰ نے آپ کے وجود پاک سے ڈالی ہے۔ خدا تعالیٰ نے آپ کی شان میں فرمایا ’’وما ارسلنک الا رحمۃ اﷲ للعلمین‘‘ یعنی اے پیارے حبیب ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر سارے سالموں کے لئے رحم کرنے والا بنا کر۔ تو گویا آپ ہی اس سلسلہ میں اول ہیں اور آپ ہی اس سلسلہ میں آخر ہیں۔ اول و آخر جہاں خدا کے نام ہیں وہیں ہمارے نبیﷺ کے اسماء پاک ہیں۔ خدا اول ہے ایسا اول کہ اس کی ابتداء نہیں اور ہمارے سرکارﷺ اول ہیں تو ایسے کہ آپ سے پہلے کوئی نہیں۔ خدا تعالیٰ آخر ہے ایسا آخر کہ اس کی انتہا نہیں اور ہمارے سرکارﷺ آخر ایسے آخر کہ آپﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں یعنی خاتم النبین ہیں۔ حضورﷺ خود فرماتے ہیں لا نبی بعدی (مشکوٰۃ شریف)
گویا کہ یہ سلسلہ ہمارے سرکار انورﷺ سے شروع ہوکر ہمارے سرکارﷺ ہی پر ختم ہوگیا۔ یوں سمجھئے کہ دائرہ کھینچئے جس نقطہ سے دائرہ کی ابتداء جس جگہ سے ہوئی ہے، اس دائرے کی تکمیل بھی اسی جگہ پر آکر ہوتی ہے تو آپﷺ کے وجود باوجود سے یہ دائرہ نبوت و رسالت شروع ہوا اورآپﷺ کی ذات بابرکات پر ختم ہوگیا۔
الحاصل یہ کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی نعتیہ شاعری کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے اشعار میں جہاں شعر ادب اور زبان و نعت کے تمام محاسن کو سمو دیتے ہیں، وہیں سید عالم محبوب مکرمﷺ کے وہ کمالات و فضائل جو قرآنی آیات و احادیث و آثار اور تفسیر و شروح کے سینکڑوں صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں ان کو شعر کے دو مصرعوں میں سمیٹ کر اس طرح دریا کو کوزے میں بند کردیتے ہیں کہ سامع اور قاری جھوم اٹھتا ہے اور بے اختیار پکار اٹھتا ہے:
ملک سخن کی شاہی تم کو رضاؔ مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں