لٹریچر کے ذریعے بدعقیدگی کو روکا جاسکتا ہے

in Tahaffuz, December 2011-January 2012, متفرقا ت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

مسلمانوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کے کئی طریقے ہیں جوکہ ہردور میں بروئے کار لائے گئے۔ تبلیغ کے طریقہ کار مختلف ادوار میں مختلف رہے۔ موجودہ ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ دور میں تبلیغ دین کے ذرائع کافی تعداد میں ہیں جس کے ذریعے مسلمانوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہوتی ہے۔ تبلیغ دین کے دو طریقے ہر دور میں اپنی نوعیت کے منفرد اور کارآمد ثابت ہوئے زمانہ کتنی ہی ترقی کرلے یہ دو طریقے کار کبھی مانند نہیں پڑیں گے۔ پہلا طریقہ تقریر اور دوسرا طریقہ لٹریچر ہے۔
علمائے اسلام نے اپنے ایمان افروز، شیریں لب و لہجہ اور رقت انگیز خطابات کے ذریعے امت مسلمہ کی تقدیر بدل دی۔ یہی نہیں بلکہ آپ کے خطابات نے غیر مسلموںکے دلوں سے کفر کی گندگی کو دھوکر ایمان کی لازوال دولت داخل کردی۔ یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔
دوسرا ایمان افروز طریقہ دینی لٹریچر ہے جس کے ذریعے لوگوں تک علم دین کی لازوال دولت پہنچا۔ قرآن مجید کے بعد سب سے پہلے احادیث کی کتابیں مرتب کی گئیں، محدثین نے پوری دیانت داری، محنت، لگن اور جذبہ ایمانی کے ساتھ احادیث جمع کیں اور مسلمانوں کے لئے صحاح ستہ یعنی بخاری شریف، مسلم شریف، ابن ماجہ شریف، نسائی شریف، ترمذی شریف اور ابو دائود  شریف کا تحفہ پیش کی تاکہ مسلمان ان احادیث کو پڑھیں، عمل کریں اور اس کو پھیلائیں، دور گزرتا رہا، ہمیں مسند امام اعظم، موطا امام مالک، مشکوٰۃ شریف، مسند امام احمد، مستدرک شریف، مصنف عبدالرزاق سمیت کئی احادیث کی کتب کا ہمارے محدثین نے تحفہ عطا فرمایا۔ رفتہ رفتہ اکابر علماء اور فقہاء نے احادیث کی شروحات تحریر فرمائیں تاکہ امت مسلمہ ان احادیث کو باآسانی سمجھ لیں۔
الغرض کہ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ان کتابوں نے بڑے بڑے علماء اور اکابر پیدا کئے جنہوں نے ان کتابوں سے فیض حاصل کرکے پوری امت کو فیض عطا فرمایا۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں دینی کتب کا مطالعہ کرنے والے صرف چند فیصد لوگ رہ گئے ہیں۔ اس کی سب سے بنیادی وجہ جدید ٹیکنالوجی ہے، جدید ٹیکنالوجی میں انٹرنیٹ اور مذہبی چینلز سرفہرست ہیں۔ان کی آمد سے خریداری میں اورکتب کے مطالعہ میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ اب لوگ مذہبی چینل کو دیکھ کر کافی معلومات دینی حاصل کرلیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر رکھنے والے حضرات انٹرنیٹ پر مذہبی ویب سائٹ وزٹ کرکے وہاں موجود کتب دینیہ کا مطالعہ کرلیتے ہیں۔ اس طرح وہ دینی علم حاصل کرتے ہیں۔
تمام تر ٹیکنالوجی اپنی جگہ مگر کتاب کی اہمیت بہرحال اپنی جگہ مسلّمہے۔ کتاب کی اہمیت، افادیت اور اس کا کارآمد ہونا ایک ایسی چیز ہے جس کا کوئی بھی شخص انکار نہیں کرسکتا۔ یہی وہ کتاب ہے جو بہترین دوست ہے، تنہائی کا وفادار ساتھی ہے، نفع بخشنے والا اور ہر موڑ پر ساتھ دینے والا محسن ہے۔ جس کے ذریعہ بے شمار مسلمانوں کی تقدیریں بدل گئیں اور بے شمار مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوگیا۔ مگر افسوس کہ دور حاضر میں اس کتاب سے سچی دوستی ہم نے ختم کردی۔ ہم نے فٹ پاتھوں، چبوتروں، فضول باتوں، مذاق مستیوں اوربری صحبت کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم اور ہماری اولاد اسلامی تعلیمات سے دور ہیں۔
یہی وہ کتاب ہے جسے پڑھ کر عام آدمی عالم بنتا ہے، مفتی بنتا ہے، شیخ الحدیث بنتا ہے، مفسر و محقق بنتا ہے، دانشور بنتا ہے، مفکر بنتا ہے، مدبر بنتا ہے، یہی وہ کتاب ہے جسے پڑھ کر آدمی استاد بن جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس کتاب نے ہمیں کتنی بڑی بڑی اور عظیم شخصیات ہمیں فراہم کیں پھر کیوں نہ ہم بھی اس کتاب سے سچی دوستی کرلیں۔
ہر آدمی کتب خانوں اور بک اسٹالوں تک نہیںپہنچ سکتا۔ بعض لوگ مصروفیت کی وجہ سے نہیں پہنچ پاتے اور بعض لوگ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کتب نہیں خرید پاتے۔ ان دونوں قسم کے لوگوں تک لٹریچر پہنچانے کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ ان لوگوں تک کتابیں دو طریقوں سے باآسانی پہنچائی جاسکتی ہیں۔
پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہمارے مخیر حضرات جو جشن عید میلاد النبیﷺ، گیارہویں شریف اور بزرگان دین کے اعراس کے موقع پر لنگر کا اہتمام کرتے ہیں، وہ لنگر ضرور کریں مگر پچیس فیصد کھانا اور پچھتر فیصد دینی کتابیں تقسیم کریں۔ بزرگوں کے ایصال ثواب کے لئے لنگر کرنا منع نہیں ہے لیکن ا سے ایک فائدہ ہوتا ہے جبکہ دینی کتب کو ایصال ثواب کے لئے تقسیم کرنے سے دو فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ پہلا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ عوام تک دینی علم کا خزانہ پہنچتا ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری کتب کی تقسیم سے اگر ایک بھی شخص کی اصلاح ہوگئی تو ہمارے لئے یہ کام نجات کا ذریعہ بنے گا۔
اگر ہمارے مخیر حضرات اس بات پر غور کریں کہ وہ لاکھوں روپے کا لنگر لوگوں کو کھلاتے ہیں۔ اس سے ہمارے مسلک کو کیا فائدہ پہنچتاہے جبکہ عقائد و اصلاح پر مبنی کتب کی تقسیم سے ہمارا پیغام ہزاروں افراد تک پہنچ جائے گا۔ یہاں شیطان ایک وسوسہ ڈالتا ہے کہ آج کل کتابیں کون پڑھتا ہے جن کو کتابیں دی جاتی ہیں۔ وہ اپنے گھر میں رکھ دیتے ہیں۔ کتاب پڑھتے ہی نہیں ہیں لہذا کتابیں تقسیم کرنے سے کیا فائدہ؟
ایک بات ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھئے۔ ان شاء اﷲ مرتے دم تک فائدہ دے گی۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’میری طرف سے پہنچا دو، چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو‘‘ اس حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ ہمارا کام صرف اور صرف پہنچانا ہے۔ ہدایت دینا اﷲ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے۔ ہم اگر کسی کو کتاب کا تحفہ دیں یا کتابیں تقسیم کریں تو تقسیم کرنے کا اجر کہیں نہیں جائیگا۔ اس کو پورا پورا اجر ملے گا، وہ پڑھے یا نہ پڑھے، یہ اس پر منحصر ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ تمام لوگ ایک سے نہیں ہوتے۔ بعض لوگ دینی کتابوں کو بڑی خوش دلی کے ساتھ پڑھتے ہیں اور یہ میرا مشاہدہ ہے کئی لوگ دینی کتب کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔ وقت ملنے پر ضرور پڑھتے ہیں لہذا اس بات کو بنیاد بنا کر کتابوں کی مفت تقسیم ختم کرنا شیطانی وار ہے۔
مجھے حوالہ تو نہیں دینا چاہئے مگر اپنے بھائیوں کو جوش دلانے کے لئے یہ بات لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بدمذہبوں کی تمام تر توجہ لٹریچر کے ذریعے اپنے باطل مذہب کی تشہیر پر مبذول ہے۔ وہ کروڑوں روپے کا لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ آپ کوپڑھ کر حیرت ہوگی کہ بدمذہبوں کی فلاحی جماعتیں آدھا فلاحی کام کرتی ہیں۔ بقیہ آدھا مال وہ اپنے مذہب کا لٹریچر تقسیم کرنے پرصرف کرتی ہیں۔ جب 18 اکتوبر 2005ء میں صوبہ خیبرپختونختوا کے مختلف شہروں میں تاریخ کا خطرناک زلزلہ آیا تو اس وقت بدمذہبوں نے متاثرین میں راشن کی تقسیم برائے نام کی تھی اور کنٹینر بھر کر رسوائے زمانہ کتاب ’’تقویۃ الایمان‘‘ متاثرین میں تقسیم کی گئیں۔ اس بات کے کئی جید علماء گواہ ہیں۔ ذرا غور کیجئے کہ اس رسوائے زمانہ کتاب جس میں پوری امت مسلمہ پر کفر و شرک کے اندھا دھند فتوے لگائے، کتنے مسلمانوں کا ایمان ضائع کیا ہوگا؟
بدمذہبوں کا تویہ حال ہے کہ وہ عوام کے ہاتھوں میں لاکھوں روپے کا لٹریچر دیتے ہی ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ وہ ٹیلی فونک ڈائریکٹری اور دیگر جگہوں سے لوگوں کے گھر کے ایڈریس نکلوا کر وہاں کتابیں بذریعہ ڈاک بھیجتے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کاایمان متزلزل ہو اور لوگ ان کے باطل عقائد سے متاثر ہو کر حق سے روگردانی کریں۔
ہمارے اندر بھی مفت اشاعت کے ادارے ہیں مگر برائے نام ادارے ہیں۔ بعض ادارے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوگئے۔ اگر ہمارے مخیر حضرات اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے لنگر میں مال خرچ کرنے کے بجائے وہ عقائد اہلسنت کی ترویج و اشاعت میں اپنا مال صرف کریں تو اس سے بڑھ کر کوئی لنگر نہیں ہوگا۔ لٹریچر کی تقسیم لنگر بھی ہے، تبلیغ بھی ہے، لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کا ذریعہ بھی ہے، تقسیم کرنے والے کے لئے ذریعہ نجات بھی ہے اور یہی فکر رضا بھی ہے۔
آج معاشرے میں بہت بگاڑ ہے۔ خصوصاًعقائد کے حوالے سے مسلمانوں کے اذہان خراب کئے جارہے ہیں۔ ہر علاقے سے آئے روز کوئی نہ کوئی نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے، جوکہ مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل کرتا ہے۔ یہ سارا کام باطل قوتیں اپنے لٹریچر کے ذریعہ کرتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی اپنے اندر لٹریچر کو عام کرنے کاجذبہ و شوق پیدا کریں۔ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات اور خصوصاً نوجوانوں تک عقائد پر مبنی لٹریچر پہنچائیں تاکہ ان کے عقائد کا تحفظ ہو، مخیر حضرات خدارا اس پر غور کریں۔
مخیر حضرات ہر ماہ اپنے منافع کا صرف اور صرف دو فیصد حصہ اور تنخواہ دار طبقہ اپنی تنخواہ کا دو فیصد دینی لٹریچر پر خرچ کریں۔ اگر ہر مسلمان اس کام کو اپنے اوپر لازم کرلے تو پھر وہ خود دیکھے گا کہ اس کے مال میں کس قدر برکت پیدا ہوگی پھر یہ شکوہ نہ رہے گا کہ گھر کا خرچہ پورا نہیں ہوتا۔ یہ میرا تجربہ ہے، تجربے کی بنیاد پر یہ بات لکھ رہا ہوں۔ آپ بھی عمل کرکے دیکھیں۔ ان شاء اﷲ برکت ہی برکت ہوگی۔
اﷲ تعالیٰ ہم سب کو علم دین حاصل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین