کیا ایسے گستاخانہ عقائد کسی مسلمان کے ہو سکتے ہیں؟

in Tahaffuz, December 2011-January 2012, ا سلا می عقا ئد, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

آج کل ہر کوئی اس بات سے پریشان ہے کہ ہم مسلمانوں کے مابین نفرتیں کیوں ہیں جبکہ ہمارا پروردگار جل جلالہ ایک ہے، ہمارے رسولﷺ ایک ہیں، ہمارا دین ایک ہے اور ہمارا قرآن ایک ہے۔ باوجود اس کے کہ فرقہ و اریت کیوں؟
اس کی بنیادی وجہ مختلف مکاتیب فکر کے اکابرین و پیشوا کی گستاخانہ اور کفریہ عبارات ہیں جنہیں انہوں نے اپنی کتابوں میں تحریر کرکے فرقہ واریت اور نفرت و عداوت کا بیج بویاہے۔
جس کا عملی نمونہ آپ کے سامنے چندکفریہ و گستاخانہ عبارات تحریر کرکے پیش کیا جارہا ہے۔ جسے پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ کیا یہ مسلمان ہیں؟ کیا یہ مسلمانوں کے پیشوا کہلانے کے حقدار ہیں؟
1: حضورﷺ کے عطائی علم غیب کو پاگل، جانوروں اور بچوںسے ملایا
عبارت: دیوبندی پیشوا اشرف علی تھانوی لکھتا ہے کہ ’’پھر یہ کہ آپﷺ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب۔ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضورﷺ ہی کی کیا تخصیص ہے۔ ایسا علم غیب تو زید و عمر و بلکہ ہر صبی (بچہ) مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لے بھی حاصل ہے۔ (بحوالہ : کتاب حفظ الایمان صفحہ نمبر 8، مطبوعہ کتب خانہ اشرفیہ راشد کمپنی دیوبند)
2: حضورﷺ کے علم سے شیطان و ملک الموت کے علم کو زیادہ بتایا
عبارت: دیوبندی پیشوا خلیل احمد انبیٹھوی لکھتا ہے ’’شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالمﷺ کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلادلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کون سا ایمان کا حصہ ہے۔ شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی۔ فخر عالمﷺ کی وسعت علم کون سی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے (بحوالہ: کتاب براہین قاطعہ ص 15، مطبوعہ بلال ڈھورا)
3: نماز میں شیخ یا حضورﷺ کا تصور، بیل اور گدھے کے تصور سے بھی برا لکھا
عبارت: دیوبندی اکابر مولوی اسمعیل دہلوی لکھتا ہے ’’زنا کے وسوسے سے اپنی بی بی کی مجامعت کا خیال بہتر ہے اور شیخ یا اسی جیسے اور بزرگوں کی طرف خواہ جناب رسالت مآبﷺ ہی ہوں۔ اپنی ہمت کو لگادینا اپنے بیل اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے برا ہے کیونکہ شیخ کا خیال تو تعظیم اور بزرگی کے ساتھ انسان کے دل میں چمٹ جاتا ہے اور بیل اور گدھے کے خیال کو نہ تو اس قدر چیدگی ہوتی ہے اور نہ تعظیم بلکہ حقیر اور ذلیل ہوتا ہے اور غیر کی یہ تعظیم اور بزرگی جو نماز میں ملحوظ ہو وہ شرک کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے (بحوالہ: کتاب صراط مستقیم ص 97، مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ دیوبند (یوپی)
4: انبیاء علوم کی وجہ سے ممتاز ہوتے ہیں عمل میں امتی بظاہر انبیاء سے بڑھ جاتے ہیں:
عبارت: دیوبندی اکابر قاسم نانوتوی لکھتا ہے کہ انبیاء اپنی امت میں ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں باقی رہا عمل اس میں بسا اوقات بظاہر امتی مساوی ہوجاتے ہیں بلکہ بڑھ جاتے ہیں (بحوالہ: تحذیر الناس ص 5، کتب خانہ رحیمیہ دیوبند)
5: لفظ رحمۃ للعالمین صفت خاصہ رسول اﷲ کی نہیں ہے:
عبارت: دیوبندی اکابر رشید احمد گنگوہی سے سوال کیاگیا۔
سوال: لفظ رحمتہ للعالمین مخصوص آنحضرتﷺ سے ہے یا ہر شخص کو کہہ سکتے ہیں؟
جواب: لفظ رحمتہ للعالمین صفت خاصہ رسول اﷲﷺ کی نہیں ہے۔ بلکہ دیگر اولیاء و انبیاء اور علماء ربانین بھی موجب رحمت عالم ہوتے ہیں اگرچہ جناب رسول اﷲﷺ سب میں اعلیٰ ہیں۔ اگر دوسرے پر اس لفظ کو بتاویل بول دیوے تو جائز ہے (فتاویٰ رشیدیہ ص 218، ناشر محمد علی کارخانہ اسلامی کتب اردو بازار کراچی)
6: حضورﷺ نے اردو دارالعلوم دیوبند سے سیکھی:
عبارت: دیوبندی اکابر خلیل احمد سہارنپوری (انبیٹھوی) لکھتا ہے کہ ایک صالح فخر عالمﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا، یعنی خواب میں زیارت مبارک ہوئی تو آپﷺ کو اردو میں کلام کرتے ہوئے دیکھ کر پوچھا ’’آپﷺ کو یہ زبان کہاں سے آگئی آپﷺ تو عربی ہیں۔ حضورﷺ نے  فرمایا جب سے علماء مدرسۂ دیوبند سے ہمارا معاملہ ہوا، ہم کو یہ زبان آگئی (بحوالہ: کتاب براہین قاطعہ ص 30، سہارنپور)
7: بڑے سے بڑا انسان ہو یا فرشتہ شان الوہیت کے مقابل چمار سے زیادہ ذلیل ہے:
عبارت: دیوبندی پیشوا اسمعیل دہلوی لکھتاہے کہ یقین مانو کہ ہر شخص خواہ وہ بڑے سے بڑا انسان ہو یا فرشتہ، اس کی حیثیت شان الوہیت کے مقابلے پر ایک چمار کی حیثیت سے بھی زیادہ ذلیل ہے (بحوالہ: کتاب تقویۃ الایمان ص 49، مطبوعہ دارالسلام پبلشرز احمد پرنٹنگ پریس 50لوئر مال لاہور)
8: انبیاء و اولیاء اﷲ، پروردگارکے بے بس بندے اورہمارے بھائی ہیں:
عبارت: دیوبندی پیشوا اسمعیل دہلوی لکھتا ہے کہ یعنی تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ جو بہت بزرگ ہو، وہ بڑا بھائی ہے۔ اس کی تعظیم بڑے بھائی کی سی کرو۔ باقی سب کا مالک اﷲ ہے۔ عبادت اسی کی کرنی چاہئے۔ معلوم ہوا کہ جتنے اﷲ کے مقرب بندے ہیں، خواہ انبیاء ہو یا اولیاء ہوں، وہ سب کے سب اﷲ کے بے بس بندے ہیں اور ہمارے بھائی ہیں مگر اﷲ تعالیٰ نے انہیں بڑائی بخشی تو ہمارے بڑے بھائی کی طرح ہوئے (بحوالہ: کتاب تقویۃ الایمان ص 111، مطبوعہ دارالسلام پبلشرز احمد پرنٹنگ پریس 50 لوئر مال لاہور)
9: جس کا نام محمد یا علی ہے، اس کو کسی بات کا اختیار نہیں:
عبارت: دیوبندی پیشوا اسمعیل دہلوی لکھتا ہے اور جس کا نام محمد یا علی ہے، اس کو کسی بات کا اختیار نہیں (بحوالہ: کتاب تقویۃ الایمان ص 85، مطبوعہ دارالسلام پبلشرز احمد پرنٹنگ پریس 50 لوئر مال لاہور)
10: حضورﷺ کا یوم ولادت منانا، ہندوئوں کے کنہیا کے دن منانے کی مثل ہے:
عبارت: دیوبندی پیشوا خلیل احمد انبیٹھوی لکھتا ہے کہ یہ ہر روز اعادہ ولادت (حضورﷺ) کا مثل ہنود کے سانگ کنہیا کی ولادت کا ہر سال کرتے ہیں (بحوالہ: کتاب براہین قاطعہ ص 148، مطبوعہ سہارنپور)
11: حضورﷺ مر کر مٹی میں ملنے والے ہیں (معاذ اﷲ):
عبارت: دیوبندی پیشوا اسمعیل دہلوی نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان کے صفحہ نمبر69 پر ابو دائود شریف کی حدیث نقل کرنے کے بعد اپنی طرف سے یہ الفاظ لکھ کر حضورﷺ کی طرف افتراء (جھوٹ) باندھاکہ ’’آپﷺ نے فرمایا کہ میں بھی اک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں‘‘ (بحوالہ: کتاب تقویۃ الایمان ص 69، مطبوعہ مرکنٹائل پرنٹنگ دہلی)
اے اپنے نبیﷺ کا کلمہ پڑھنے والو!
اکابر دیوبندی کی کفریہ عبارات انہی کی کتابوںسے آپ نے ملاحظہ کیں۔ جس میں سرور کونینﷺ کی شان اقدس میں کھلم کھلا گستاخیوں کا ارتکاب کرکے دین اسلام کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ ان کفریہ عبارات سے دیوبندی پیشوائوں نے آخر تک رجوع نہیں کیا۔ دیوبندی ادارے آج بھی ان کفریہ عبارات کو کتابوں میں شائع کرتے ہیں۔ کفریہ عبارات کی تاویلیں پیش کرتے ہیں یوں علمائے دیوبند اب تک اپنے پیشوائوں کی ان گستاخانہ عبارتوں کا دفاع کرتے ہیں۔
فیصلہ آپ کریں!
کیا ایسے گستاخانہ عقائد رکھنے والے مسلمانوںکے مذہبی پیشوا بن سکتے ہیں؟
کیا ایسے گستاخانہ عقائد کسی مسلمان کے ہوسکتے ہیں؟
ایسی گستاخانہ عبارات لکھنے والوں کو اگرکوئی صحیح سمجھے اور کوئی گروہ اس کے باوجود انہیں اپنا مذہبی پیشوا مانے تو کیا وہ انہی میں سے نہیں؟