تاریخ گواہ ہے کہ ہر انقلاب میں نوجوان طبقہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ نوجوانوں میں کام کرنے کا جذبہ اور انقلاب لانے کی امنگ ہوتی ہے۔ یہ مضبوط عزم اور بلند حوصلہ ہوتے ہیں ان کی رگوں میں گرم خون اور سمندر کی سی طغیانی ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان کی قابلیت و ذہنی صلاحیتیں انہیں حالات کا رخ موڑ دینے، مشکلات جھیلنے اور مسلسل جدوجہد کے ساتھ ساتھ وقت اور جان و مال کی قربانی دینے کا ذہن اور حوصلہ عطا کرتی ہیں اور ان کو وقتاً فوقتاً اس کے لئے ابھارتی رہتی ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ عمر ڈھلنے کے ساتھ ساتھ حق گوئی اور بے باکی کے جذبات کمزور پڑتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ذہنی صلاحیتیں بھی زوال پذیر ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔اسی لئے نوجوانوں کو قیادت کا اہل سمجھا جاتا ہے۔
اسلامی انقلاب کی تاریخ بتاتی ہے کہ فرعون جیسے ظالم و جابر نوجوان کے خلاف موسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر ’’لبیک‘‘ کہنے والے چند نوجوان ہی تھے جنہوں نے مصائب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے علم حق بلند کیا۔ حضورﷺ کی دعوت پر ایمان لانے والوں میں سے بھی اکثر نوجوان ہی تھے۔ اولین ایمان لانے والوں میں سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی عمر تقریبا 37 سال تھی۔ عمر فاروق اور عبدالرحمان بن عوف رضی اﷲ عنہما کی عمر 30 سے 32 سال تھی۔ چند کے علاوہ باقی تمام صحابہ کرام 30 سال سے کم عمر والے تھے۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہ آٹھ سے دس سال کی عمر میں ایمان لائے۔ غزوات میں آپ نے شجاعت و بہادری کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ حیدر کرار اور اسد اﷲ (اﷲ کا شیر) کے خطابات سے نوازے گئے۔ عشرہ مبشرہ میں سے حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ سولہ سال کی عمر میں ایمان لائے۔ شجاعت و بہادری کایہ عالم تھا کہ غزوہ بدر میں اتنی جرأت سے لڑے کہ آپ کی تلوار میں دندانے پڑ گئے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ انیس سال کی عمر میں ایمان لائے، جذبہ ایمانی کا عالم یہ تھا کہ جب اپنے لشکر کے ہمراہ مدائن کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے دریائے دجلہ عبور کیا تو کفار ہیبت زدہ ہوگئے۔ آپ اپنی شجاعت و جنگی مہارت کے سبب عراق و ایران کے فاتح کہلائے۔ عشرہ مبشرہ میں سے حضرت طلحہ رضی اﷲ عنہ کی عمر قبول اسلام کے وقت 25 سال تھی جبکہ ابو عبیدہ بن جراح اور سعید بن زید رضی اﷲ عنہما کی عمریں 30 سال سے کم تھیں۔ اسی طرح اسلامی حکومت کے سنہرے نام سلطان محمود غزنوی، صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم وغیرہ مجاہدین ناموس مصطفیﷺ نور الدین زنگی، غازی علم الدین شہید، غازی عبدالقیوم شہید سب نوجوان اسی طرح تحریک پاکستان کا مطالعہ کیا جائے تو وہاں بھی مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی رحمتہ اﷲ علیہ جیسے دلیر اور بے باک رہنما کی قیادت میں نوجوانوں کی قربانیاں اور کاوشیں نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ الغرض جن لوگوں نے دین و ملت اور وطن کے لئے قربانیاں دیں، ان عاشقان رسول میں سے اکثر نوجوان ہی تھے۔ مگر افسوس… کہ ایسا عظیم الشان اور تابناک ماضی رکھنے کے باوجود کہ جس کی حیثیت صرف تاریخ کے سنہرے حروف کی ہی نہیں بلکہ ایسا ماضی جس پر ہماری آئندہ نسلیں بھی فخر کریں گی، جب ہر نیا سورج اسلام کی نئی فتوحات اور کامیابی کی خوشخبری لاتا تھا۔ اس کی ریاست میں کوئی بھوکا پیاسا نہ رہتا تھا اور کوئی جان ناحق قتل نہ ہوتی تھی۔
ہمارا آج کا نوجوان دین کی تعلیمات سے دور ہوتا چلا گیا۔ اس نے اﷲ عزوجل اور اس کے رسولﷺ کے احکامات اور اپنے آقا و مولیٰﷺ کی سنت کو بھی بھلا دیا۔ اسے دنیاداری اور فیشن پرستی نے آگھیرا۔ علاقائیت و صوبائیت، لسانیت و فرقہ واریت، شدت پسندی و سیکولر ازم کی بنیاد پر بے دین قوتوں اور ملک دشمنوں نے اسے تقسیم کردیا۔ کہیں بے دردی سے اس کا خون بہایاجارہاہے اور کسی کے اشاروں پر یہ بے گناہوں کا خون بہا رہا ہے۔
فی زمانہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے جذبات اور ذہنوں کی درست سمت میں رہنمائی کی جائے۔ ان کو اﷲ عزوجل اور اس کے پیارے حبیبﷺ کی اطاعت کا ذہن دیا جائے۔ محبت مصطفیﷺ کی شمع کو ان کے دلوں میں فروزاں کرکے عظمت صحابہ اور تعظیم اہل بیت کا درس دیا جائے تاکہ یہ نوجوان سنت رسولﷺ کو اپنا نصب العین بنا کر علاقائیت و لسانیت، صوبائیت و فرقہ واریت، شدت پسندی و دہشت گردی کے بتوں کو اپنے قدموں تلے روند کر اسلام کے سچے اور وفادار سپاہی بن جائیں۔