کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی موذن کا ایک کان پر ہاتھ رکھ کر اذان دینا کیسا ہے؟ نیز میت کے جنازے کے بعد اجتماعی دعا کرنا اور قبر پر اذان دینا جائز ہے یا نہیں؟
بینوا بالکتاب توجروا عندالحساب
قاری محمد رمضان مظہری
مدرس شعبۂ حفظ جامعہ اکبریہ میانوالی
الحمدﷲ وحدہ، والصلوٰۃ والسلام علی من لانبی بعدہ
اما بعد! اذان بمعنی اعلام ہے۔ پنجگانہ نماز اور جمعہ کے لئے اذان کہنا سنت موکدہ ہے۔ ہدایہ جلد اول ص 84 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ میں رقم ہے الاذان سنۃ للصلوات الخمس والجمعۃ لاسواہا رہا یہ مسئلہ کہ اس میں کانوں کے اندر انگلیاں ڈال کر اذان دینا کیونکر مشروع ہے تو اس کی حکمت اونچی آواز کرنا ہے۔ اگر بالفرض کوئی دونوں کانوں پر ہاتھ نہ بھی رکھے تو نفس اذان کے جائز ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے (کنز و شروح کنز وحاشیہ بھترالوی)
مسئلہ کی شق ثانی کے بارے میں جواب یہ ہے کہ دعائے مغفرت بعد نماز جنازہ جائز ہے لقولہ تعالیٰ ’’ادعونی استجب لکم‘‘ یعنی مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا قبول کروںگا۔ دوسری جگہ فرمایا’ اجیب دعوۃ الداع اذا دعان یعنی میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں۔ جب بھی مجھ سے دعا کرے۔ ان آیتوں کے عموم سے معلوم ہوا کہ اوقات ممنوعہ کے علاوہ ہر وقت دعا کرنا جائز ہے۔
ایک حدیث صحیح میں مروی ہے
عن ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲﷺ اذا صلیتم علی المیت فاخلصر الہ الدعا (رواہ ابو دائود و ابن ماجۃ بحوالہ مشکوٰۃ ص 146)
ارشاد فرمایا جب میت پر جنازہ پڑھو تو اس کے لئے خالص دعا کرو۔ اس میں تو صریح صاف حکم نبوی موجود ہے فقہاء کا اسے مکروہ کہنا تو وہ اس صورت پر محمول ہے جبکہ صفیں باندھے باندھے دعا کی جائے اور صفیں توڑی نہ جائیں تو یہ مشابہت نماز کی وجہ سے مکروہ ہے اور وہ بھی مکروہ تنزیہی نہ کہ معاذ اﷲ ناجائزو حرام ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے فتاویٰ رضویہ قدیمہ کی جلد چہارم اور جدیدہ کی جلد نہم میں موجود ہے۔ نیز اعلیٰ حضرت نے اس پر دیگر دلائل بھی قائم کئے ہیں اور عبارات فقہاء کا سہارا لے کر ناجائز قرار دینے والے نجدیوں کی خوب خبر لی ہے۔
مسئلہ نمبر 3: اذان بر قبر کے بارے میں بھی جائز ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اذان کے کلمات مبارکہ میت کے لئے تلقین کا کام کرتے ہیں اور بحکم حدیث دفع شیطان کا ذریعہ ہے اور صحیح حدیثین سے ثابت ہے کہ اذان شیطان کو دفع کرتی ہے اور یہ بھی روایتوں سے ثابت ہے کہ شیطان مردے کے سامنے ظاہر ہونے کے لئے آتا ہے۔ امام ترمذی محمد بن علی نوادرالاصول میں امام اجل سفیان ثوری رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
یعنی جب مردے سے سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ شیطان ظاہر ہوتا ہے اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی تیرا رب میں ہوں۔ اس لئے حکم آیات کہ اس وقت میت کے لئے ثابت قدمی کی دعا کریں (نوادر الاصول مطبوعہ بیروت ص 323)
الغرض اس کی تفصیل تو ’’ایذان الاجر فی اذان القبر‘‘ مطبوعہ بمبئی، مکتبہ نوریہ رضویہ لاہور اور فتاویٰ رضویہ جدیدہ جلد پنجم کے آخر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ مگر طالب حق کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ میت کے لئے کلمات اذان تلقین کا باعث اور شیطان بھگانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
چار اہم اعتراضات کے جوابات
از طرف: حضرت مولانا محترم فضل الرحمن صاحب مدرس جامعہ اکبریہ بلوخیل روڈ میانوالی
جناب محترم مفتی صاحب! درج ذیل اعتراضات کے جوابات بحوالہ کتب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
اعتراض 1: بھردو جھولی میری یا محمدﷺ (شرک نمبر 1)
حوالہ: اے نبی کہہ دیجئے انسانوں سے کہ تمہارے نفع اور نقصان کا اختیار صرف اﷲ کے پاس ہے (الجن، پ 29، آیت 21)
اعتراض2: شاہ مدینہ سارے نبی تیرے در کے سوالی (شرک نمبر 2)
حوالہ: اے لوگو! تم صرف میرے در کے فقیر ہو (الفاطر، پ 22، آیت 15)
اعتراض 3: جو مانگ درِ مصطفیٰ سے مانگ (شرک نمبر 3)
حوالہ: جو مانگو صرف مجھ سے مانگو صرف میں تمہاری دعا قبول کرتا ہوں (المومن، پ 24، آیت 6)
اعتراض 4: مولا علی میری کشتی پار لگادے (شرک نمبر 4)
حوالہ: جب کشتی میں ہوتے ہیں تو اﷲکو پکارتے ہیں (عنکبوت، پ 20، آیت 65)
الحمدﷲ وحدہ، والصلوٰۃ والسلام علی من لانبی اما بعد
الجواب: آج کل نفسا نفسی اور بے راہ روی کا دور دورہ ہے۔ ایسے ماحول میں ’’کل حزب بمالدیہم فرحون‘‘ کے مصداق اہل سنت کے مدمقابل کل گمراہ فرقے اپنے نظریات باطلہ پر خوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم بالکل درست ہیں اوران کی خباثتوں میں سب سے بڑی خباثت یہ ہے کہ انہوں نے نظریات باطلہ کے اثبات کے لئے آیات قرآنیہ کے مفاہیم و مطالب میں ردوبدل کرکے پیش کیا اور اپنے تئیں یہ سمجھے کہ ہم نے بڑا کمال کردیا جبکہ ان کی اس روش سے بیدار مغز لوگ ناواقف نہیں بلکہ ان کی چالوں سے خوب واقف ہیں۔ اسی طرح پیش کردہ مسائل کا معاملہ بھی یہی ہے۔
اعتراض نمبر 1: بھردو جھولی میری یا محمدﷺ
معترض نے اس کو شرک قرار دے کر اس کی نفی کرنے کے لئے الجن پ 29 آیت 21کو پیش کیا ہے
’’اے نبی کہہ دیجئے انسانوں سے کہ تمہارے نفع اور نقصان کا اختیار صرف اﷲ کے پاس ہے۔ حالانکہ اصل آیت کریمہ کا مفہوم کچھ اور ہے اور وہ آیت مع ترجمہ درج ذیل ہے۔
ارشاد رب العزت ہے
قل انی لااملک لکم ضرا ولا رشدا (الجن نمبر 21)
ترجمہ کنزالایمان: تم فرمائو میں تمہارے کسی برے بھلے کا مالک نہیں
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں علامہ سید محمود آلوسی بغدادی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر روح المعانی میں اور شیخ القرآن علامہ محمد اسماعیل حقی روح البیان میں یوں رقم طراز ہیں کہ ذاتی طور پر نفع نقصان کی مالک ذات خدا کی ہے۔ باقی مخلوق کسی کو ذاتی طور پر نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتی، البتہ اﷲ کریم کے چاہنے سے اشیاء نفع نقصان پہنچاتی ہیں۔ جیسا کہ احادیث کثیرہ سے آنحضور پرنورﷺ کا لوگوں کو نفع پہنچانا ثابت ہے۔ قتادہ رضی اﷲ عنہ کی آنکھ کے ڈھیلے کو درست کردینا، ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کے حافظے کومضبوط کردینا، صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کے انگوٹھے یا ایڑھی میں لعاب دہن لگاکے انہیں شفا بخشنا سب احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ بلکہ امت مصطفے سمیت تمام امتوں کے حق میں شفاعت کبریٰ کرکے ان کا حساب جلدی شروع کروانا صحیحین کی حدیث مشہور سے ثابت ہے۔ آپﷺ سے بڑھ کر امت مصطفیٰ کے اولیائ، علمائ، شہدائ، حفاظ کا میدان محشر میں لوگوں کی شفاعت کرکے انہیں نفع پہنچانا احادیث صحیحین و سنن اربعہ سے ثابت ہے۔ بلکہ قرآن و رمضان کا شافعہونا، ان سب سے بڑھ کر شیر خوار بچوں کا اور امت مصطفیٰ کے اس کچے بچے کا جو حمل سے گر گیا، بارگاہ رب العزت میں اپنے والدین کی شفاعت کے لئے جھگڑا کرنا اور بحکم رب العزت اپنے والدین کو اپنی نال سے کھینچتے ہوئے انہیں داخل جنت کردینا یہ سب مضامین احادیث صحیحہ مشہورہ معتمدہ مستندہ سے کثیر کتب میں ثابت ہیں اور امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے۔ کیا یہ سب نفع نہیں تو کیا ہے۔
اعتراض نمبر 2: شاہ مدینہ سارے نبی تیرے در کے سوالی
اس پر اعتراض کرنے کے لئے الفاطر پ 23 کی آیت 15 پیش کی گئی ہے
یاایھا الناس انتم الفقرآء الی اﷲ
اس کا ترجمہ یوں پیش کیا گیاہے
اے لوگو! تم صرف میرے در کے فقیر ہو
حالانکہ اس میں کوئی ایک لفظ بھی بطور کلمہحصر موجود نہیں جس کا ترجمہ ’’صرف میرے‘‘ سے کیا جاسکے۔ بلکہ اس کا صحیح اور واضح ترجمہ اور صاف صاف مفہوم یہ ہے۔
اے لوگو! تم سب اﷲ کے محتاج ہو اور اس بات سے کسی بھی ایماندار کو اختلاف نہیں ہے بلکہ ساری مخلوق محتاج خدا ہونے میں کوئی کیسے انکار کرسکتا ہے۔ البتہ اتنی بات ہے کہ کل جہاں کے کل خزانے کل کائنات کے رب کی عطا سے حضور قاسم نعمتﷺ تقسیم کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے در کے سوالی کہلاتے ہیں۔
آنحضور پرنورﷺ ارشاد فرماتے ہیں
انما انا قاسم واﷲ یعطی (البخاری ،المجلد الاول ص 16، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے
انما انا قاسم و خازن واﷲ یعطی (ایضا ص 439، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
رب سے معنی یہ ہیں قاسم رزق اس کا دلاتے یہ ہیں
اعتراض نمبر 3 میں کہا گیا ’’جو مانگ در مصطفے سے مانگ‘‘ اور اس کے رد میں المومن پ 24 کی آیت 60 پیش کی گئی اور اس طرح مصطفے کریمﷺ سے مانگنے کو شرک ٹھہرایا ہے جبکہ یہی بات پچھلے اعتراض میں بھی موجود ہے۔ اس کے جواب میں بھی ہماری یہی تحقیق ہے کہ حقیقی عطا فقط اﷲ کی ہے۔ اس کی عطا سے کل نعمتوں کے خازن و قاسم محمد مصطفی علیہ التحیہ ماشفاء ہیں۔ اس لئے سائل کے کہنے کی مراد یہی ہے کہ انہی سے نعمت ہائے الہیہ مانگو، دے گا خدا بانٹیں گے مصطفے، وگرنہ کون مسلمان ہے جو اﷲ کو خالق و رازق نہ مانے، یہ تو دل پر حکم لگانے والی بات ہوگی کہ ہم باطن پر نظر رکھنے کے مدعی بن کر مسلمانوں کو خواہ مخواہ شرک کا مرتکب ٹھہراتے چلے جائیں گے (العیاذ باﷲ)
اعتراض نمبر 4: مولا علی میری کشتی پار لگادے۔
اس پر اعتراض کیا گیا کہ عنکبوت پ 20، آیت نمبر 65 میں موجود ہے کہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے وقت اﷲ کو پکارتے ہیں۔ ان بیوقوفان زمانہ نجدیہ خبیثہ سے کوئی پوچھے کہ تمہیں یہ کس نے کہا کہ کشتی پر سوار ہوتے وقت تم نام خدا نہ لیا کرو۔ ہر مسلمان ہر جائز کام کرتے وقت بسم اﷲ شریف پڑھنے کو اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ باقی رہا مسئلہ حضرت مولائے کائنات مولا علی مرتضیٰ شیر خدا کرم اﷲ وجہ الکریم سے مدد طلب کرنا تو یہ ہرگز شرک نہیں بلکہ شرک کی تعریف اس پر کسی طرح سچی نہیں آتی۔ علامہ تفتازانی قدس سرہ اپنی شرح عقائد میں یوں رقم طراز ہیں۔
الاشراک ہواثبات الالوہیۃ بمعنی الواجب الوجود کما للمجوس او بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الاصنام
یعنی شریک ٹھہرانا یہ ہے کہ الوہیت (الہ ہونا) ثابت کرنا تو واجب الوجود کے معنی میں ہو جیسے مجوسی کرتے ہیں یا مستحق عبادۃ ہونے کے معنی میں جیسا کہ بتوں کے پجاری کرتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ اﷲ کے ماسوا کو بھی واجب الوجود جانا تو شرک ہوگا یا اﷲ کے ماسوا کو مستحق عبادت جانا تو شرک ہوگا۔ البتہ ہمارے مسلمانوںکو انبیائ، اولیاء اور اعمال صالحہ کو اﷲ کے مقبول بندے اور مقبول عمل جان کر اﷲ کی عطا سے حاجت روا، مشکل کشا سمجھنا ہرگز شرک نہیں بلکہ جائز ہے۔ اس پر قرآن و سنت کے دلائل کثیرہ شاہد ہیں۔ کہ
قال اﷲ تعالیٰ استعینوا بالصبر والصلوٰۃ، اعینونی بقوق، من انصاری الی اﷲ وکما قال النبی اعیونی یاعباداﷲ
تنبیہ: البخاری، کتاب المغازی باب قتل الخوارج جلد ثانی میں ہے ابن عمررضی اﷲ عنہ مشرکوں کے بارے میں نازل ہونے والی آیات مومنوںپر چسپاں کرنے والوں کو بدترین مخلوق ٹھہراتے تھے اور آج کل نجدی نظریات کے لوگوں کاشب و روز یہی شعار ہے (فاعبتروا یا اولی الابصار)
شان مصطفیٰﷺ کے بارے میں مسئلہ
محترم مفتی صاحب! ایک خطیب ممبر رسول پر بیٹھ کر وعظ کرے کہ حضرت محمدﷺ نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان اور اس کے ساتھ یہ کہے کہ یہ میرا عقیدہ ہے۔ آپ قرآن و حدیث کی روشنی مں درج ذیل مسائل کی وضاحت فرما کر ممنوع فرمائیں۔
1: کیا ایسے کلمات کہنا درست ہے یا غلط؟
2: اگر یہ کلمات درست ہیں تو وضاحت کریں؟
3: اگر یہ کلمات غلط ہیں تو پھر بھی رہنمائی فرمائیں؟
4: ایسے کلمات کہنے والا امامت کا حقدار ہے یا نہیں؟
5: اگر یہ کلمے غلط ہیں تو ایسے کلمات ادا کرنے والے کے لئے قرآن و حدیث میں کیا حکم ہے؟
6: کیا یہ کلمات شان مصطفیٰﷺ میں گستاخی ہیں یا نہیں۔
بینوا بالکتاب توجروا عندالحساب
محمد بلال متعلم جامعہ اکبریہ میانوالی
الحمد ﷲ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لانبی بعدہ
اما بعد، الجواب بعون الملک الوہاب، اللھہم ہدایۃ الحق والصواب
اﷲ رب العزت کاارشاد عالی ہے
وما نقموآ الا ان اعنٰہم اﷲ و رسولہ من فضلہ(سورۂ توبہ آیت 74)
اور انہیں کیا برا لگا یہی نہ کہ اﷲ و رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا
اﷲ تعالیٰ کے حبیب اعظم صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے
انما انا قاسم واﷲ یعطی و فی روایۃ انما انا قاسم و خازن واﷲ یوطی (صحیح البخاری جلد اول ،ص 439، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
میں ہی تقسیم کرنے والا اور خزانوں والا ہوں اور اﷲ ہی عطا فرماتا ہے
رب ہے معطی یہ ہیں قاسم
رزق اس کا دلاتے یہ ہیں
ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا
پیتے ہم ہیں پلاتے یہ ہیں
ذکر کردہ ہر دو آیت و حدیث سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ ذاتی طور پر مالدار کرکے لوگوں کو نعمتیں عطا کرکے نفع پہنچاتا ہے اور اس کے حبیبﷺ اس کی عطا سے لوگوں کو غنی کرکے اور نعمتیں بانٹ کے نفع پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ صحیحین اور سنن اربعہ و دیگر کتب احادیث کی بے شمار احادیث صحیحہ مشہورہ معتمدہ سے مصطفے جان رحمتﷺ کا لوگوں کو شفاعت کے ذریعے نفع پہنچانا ثابت ہے۔ البتہ نجدی کو ہرگز یہ نفع نظر نہ آیا۔ تبھی تو یہ بکواس کردی کہ وہ کسی کو نفع نہیں دے سکتے بلکہ ابو الوہابیہ ابن عبدالوہاب نجدی نے اور امام الوہابیہ معلم ثانی اسماعیل دہلوی نے اپنی کتابوں میں شفاعت مصطفیٰﷺ کی صاف تکذیب کی اور اپنی لاٹھی کو نفع مند بتایا اور نفع مصطفیٰﷺ کا انکار کردیا۔ اس تمہید کے بعد آپ کی سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں۔
جواب نمبر 1: ایسے کلمات کہنا غلط ہے کیونکہ قرآن و سنت حضور پرنورﷺ کو نفع دینے والا قرار دے چکے ہیں
جواب نمبر 2: ایسے کلمات ضرور ضرور غلط ہیں کیونکہ عقیدہ قرآن و سنت کے خلاف ہیں
جواب نمبر 3: ایسے کلمات اس لئے غلط ہیں کہ ’’قل لا املک لنفسی ضرا ولانفعا‘‘ یعنی میں اپنے ذاتی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ اس آیت کریمہ میں بالتفاق ائمہ مفسرین اور جمہور امت مسلمہ کے حضورﷺ نے اپنے ذاتی اختیار کی نفی کی ہے نہ کی عطائی کی جبکہ کمالات عطائی، اور عطائی طور پر حضورﷺ کا نافع ہونا آیت قرآنی اور حدیث وبخاری سے ثابت ہوچکا ہے بلکہ احادیث صحیحہ سے حضورﷺ کے صدقے کے شیرخوار بچوں بلکہ حمل سے گزرنے والے کچے بچے کا اپنے والدین کے حق میں شافع بن کر نفع پہنچانا ثابت ہے۔ کما فی الصحیحین والسنن الاربعہ
جواب نمبر 4: ایسے کلمات کہنے والا اس زمانے میں نجدی خبیث ہے اور وہابیہ زمانہ علی  العموم کفار و مرتد ہیں۔ ان میں کوئی ادنیٰ ضعیف مسلمان بھی ملنا دشوار ہے لہذا ان کے پیچھے ہرگز مسلمانوں کی نماز نہ ہوگی۔ کما صرح فی الفتاویٰ الاکبریہ والا مجدیہ  والرضویہ وغیرہا
جواب نمبر 5: ایسے کلمات نازیبا کہنے والا گستاخ رسول ہے۔ قرآن و سنت میں اس کو مرتد قرار دے کر توبہ نہ کرنے کی صورت میں واجب القتل ٹھہرایا۔ کما صرح العلامہ والشامی فی رسائلہ
جواب نمبر 6: ایسے کلمات ضرور شان رسالت مآبﷺ میں سخت گستاخی ہیں اور گستاخ رسول واجب القتل ہے۔