امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی سیاسی بصیرت

in Tahaffuz, December 2011-January 2012, شخصیات, مولانا محمد ادریس بستوی

امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے بلند فقہی مقام، معقولات و منقولات پر ان کی دسترس اور علمی جامعیت کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ علماء عرب و عجم اور ارباب دانش نے ان کی بارگاہ میں جو خراج عقیدت نذر کیا ہے، وہ بجائے خود اس بات کی سند ہے کہ وہ یگانہ روزگار اور منفرد اعمال شخصیت کے مالک تھے مگر امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے اپنے دور میں جس سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا اور ملت کو درپیش مسائل کی گرہیں جس انداز میں کھولیں، مخالفین اسلام کی تباہ کن تحریکوں کا جس پامردی سے مقابلہ کیا اور اس کے مفاسد کی جس خوبی کے ساتھ نشاندہی کی، قوم کی فلاح و بہبود کے لئے جو رہبر اصول بیان فرمائے، اس پر ضرورت سے کم لکھا گیا۔یہ پہلو اب تک عام لوگوں کی نگاہ سے پوشیدہ ہے۔ اس لئے ارباب دانش کو اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
میں اپنے اس مختصر مقالہ میں امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی سیاسی بصیرت پر اپنی کم مائیگی اور بے علمی کی وجہ سے کوئی تفصیلی بحث تو نہیں کرسکتا لیکن اجمالی طور پر چند سیاسی گوشوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کروں گا جن پر امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے اپنی سیاسی بصیرت کی مہر ثبت کی ہے اور جو مستقل طور پر ملت اسلامیہ کے لئے رہبر اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔
کسی بھی شخصیت کی سیاسی بصیرت کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے اس کے زمانہ حیات میں ابھرنے والی تحریکوں اور اس کے مضمرات کو سمجھنا ہوگا، ان کے مقاصد و مفاسد کیا تھے اور ان کے کیا اثرات مرتب ہونے والے تھے۔ اس پر نگاہ ڈالنی ہوگی۔
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی ولادت 10 شوال المکرم 1272ھ مطابق 14 جون1856ء کو ہوئی اور 14 شعبان 1286ھ بمطابق 1869ء کو آپ مسند افتاء پر رونق افروز ہوئے اور بحساب سن ہجری 68 سال کی عمر میں 25 صفر 1304ھ بمطابق 1921ء کو آپ کا وصال ہوا۔
آپ کے مسند افتاء پر جلوہ افروز ہونے سے پہلے ہی ہندوستان میں مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ غیر ملکی سامراج نے ملک کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑدیا تھا۔ مسلمانوں کی عظمت رفتہ اور شوکت پارینہ کا اب صرف افسانہ ہی بیاںہوسکتا تھا۔ مادی تباہی کے ساتھ ہی علمی انحطاط کا دور شروع ہوگیا۔ اہل حق علماء تختہ دار پر چڑھائے گئے اور انہیں عبور دریائے شور کی سزائیں بھی دی گئیں۔ لیلائے حریت کی قیس پابند سلاسل کردیئے گئے۔ مسلمانوں کی اجتماعی قوت انتشار کی نذر ہوکر فنا کے گھاٹ اتر گئی۔ اب ان کا حال تھا نہ مستقبل، صرف ماضی کی یادیں اور آہ سرد ان کا مقدر۔
ان مایوس کن حالات میں امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ 1869ء میں مسند افتاء پر رونق افروز ہوئے اور اس وقت سے لے کر حیات کے آخری لمحہ تک برصغیر میں اٹھنے والی تمام تحریکوں اور ان کے اثرات و مضمرات سے قوم کو آگاہ بھی کرتے رہے اور اپنی سیاسی بصیرت سے ٰقوم کے لئے مستقبل کا لائحہ عمل بھی متعین فرماتے رہے۔
ہندوستان میں 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد دنیائے اسلام و قوم مسلم میں سب سے بڑی جو تحریک ابھری۔ وہ تحریک ترک موالات ہے۔ 1917ء کے پرآشوب دور میں اس تحریک نے کسی تیز و تند طوفان کی طرح پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اس تحریک نے ایک ایسے طوفان بلاخیز کی شکل اختیار کرلی جس کی گرفت میں پورا متحدہ ہندوستان آگیا۔ پشاور سے لے کر کلکتہ تک کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک ہر شخص اس تحریک کے زیر اثر معلوم ہونے لگا۔ اس تحریک کی ہمہ گیری کا یہ عالم تھا کہ کلمہ گو لیڈروں کے ساتھ ساتھ مشرکین و ملحدین کے تمام بڑے سردار بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے میدان میں اتر پڑے۔
ایسے ماحول میں جبکہ خلافت کی درویوزہ گری کرنے والوں اور ترک موالات کے نام پر ترک دعوت دینے والوں کے جوش و خروش کے مقابل مزاحم ہونا انتہائی مشکل کام تھا۔ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے سیاسی بصیرت اور مومنانہ جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترک موالات اور ترک معاملات کی فقہی حیثیت بیان کی اور اس کے تمام پہلوئوں کو اس خوبی سے واضح فرمایا کہ کسی مجال انکار کی گنجائش نہ رہ گئی۔
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے سب سے پہلے ترک موالات اور ترک معاملات کا فرق بیان فرمایا کہ بلاشبہ کافر و مشرک سے مرد مومن موالات نہیں کرسکتا۔ کفر ظلمت، شرک نجاست اور اسلام و ایمان نور و طہارت کا نام ہے۔ نور کا ظلمت سے یارانہ کیا توحید کا شرک سے دوستانہ کیا؟… لیکن ہمیں اﷲ و رسول نے ترک معاملات کا تو حکم کہیں نہیں دیا ہے ایسی صورت میں قائدین تحریک ترک موالات ہمیں ان سے ترک معاملات کی تلقین کس آیت اور کس حدیث کی بنیاد پر کرتے ہیں؟
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے بتایا کہ اسلام نے ہمیں صرف نصاریٰ سے ہی ترک موالات کا حکم نہیں دیا ہے، بلکہ اس حکم کے تحت وہ تمام کافر و مشرک بھی ہیں جو ہمارے مطیع و محکوم نہیںپھر کیا وجہ ہے کہ صرف اور صرف نصاریٰ سے ترک تعلقات تک کے لئے اصرار کیا جارہا ہے اور عدم موالات کا مفہوم غلط بیان کرکے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جبکہ مشرکوں سے نہ صرف موالات کیا جارہا ہے بلکہ انہیں اپنا رہبر اور پیشوا بھی بنایا جارہا ہے۔ یہ کون سے اسلام نے اجازت دی ہے؟ کیا تمہیں معلوم نہیں الکفر ملتہ واحدۃ ایسی حالت میں کچھ سے ترک موالات اور کچھ سے دوستی خود فریبی اور مذہب سے ناواقفیت اور ریعت کو اپنے مزاج پر ڈھالنے کی ناپاک کوشش ہے۔
اس آہنی گرفت کے بعد تحریک ترک موالات کے قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے اور بت پرستوں سے اپنی دوستی ہی نہیں بلکہ ان کی قیادت پوری ملت اسلامیہ پر مسلط کرنے کے لئے طرح طرح کی دلیلیں پیش کرنے لگے اور آیت مبارکہ سے یہ استدلال شروع کردیا کہ قرآن نے ہمیں ان کے ساتھ اچھا برتائو کرنے سے منع نہیں کیا ہے۔ اس مہمل استدلال کا جواب امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی المولیٰ تعالیٰ عنہ نے اس طرح دیا ہے۔
آیت کریمہ نے کچھ نیک برتائو والی مالی مواسات ہی کی تو رخصت دی ہے۔ یا یہ فرمایا کہ انہیں اپنا انصار بنائو، ان کے گہرے یار غار ہوجائو۔ ان کے طاغوت کو اپنے دین کا امام ٹھہرائو، امن کی جے پکارو۔ ان کی حمد کے نعرے مارو، انہیں مساجد مسلمین باادب و تعظیم پہنچا کر مسند مصطفیﷺ پر لے جا کر، مسلمانوں سے اونچا بٹھا کر واعظ و ہادی مسلمین بنائو۔ ان کا ردا وجبہ اٹھائو۔ مساجد کو ان کی ماتم گاہ بنائو۔ ان کے لئے دعاء مغفرت نماز جنازہ کے اعلان کرائو، ان کی موت پر بازار بند کرو۔ سوگ منائو، ان سے اپنے ماتھے پر قشقے لگائو، ان کی خوشی کے لئے شعار اسلام بند کرائو، گائے کا گوشت کھانا گناہ ٹھہرائو۔ کھانے والوں کو کمینہ بتائو۔ اسے مثل سور کے گنائو خدا کی قسم کی جگہ رام کی دہائی لگائو۔ واحد قہار کے اسماء میں الحاد رچائو۔ اسے معاذ اﷲ رام یعنی ہر چیز میں بسا ہوا ہر شے میں حلول کئے ہوئے ٹھہرائو۔ قرآن مجید کو رامائن کے ساتھ ایک ڈبے میں رکھ کر مندر میں لے جائو۔ دونوں کی پوجا کرائو۔ ان کے سرغنہ کو کہو کہ خدا نے ان کو تمہارے پاس مذکر بنا کر بھیجا ہے۔ یوں معنی نبوت جمائو۔ اﷲ عزوجل نے سیدالانبیائﷺ سے یہی تو فرمایا۔ انما انت مذکر تم تو نہیں مگر مذکر اور خدا نے تمہیں مذکر بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے معنی رسالت کا پورا نقشہ کھینچ دیا۔ ہاں لفظ بچایا۔ اسے یوں دکھایا۔ نبوت ختم نہ ہوتی تو گاندھی جی نبی ہوتے۔ اور امام و پیشوا بجائے مہدی موعود تو صاف کہہ دیا۔ بلکہ اس حمد میں یہاں تک اونچے اڑے کہ خاموش از ثنائے تو حد ثنائے تست صاف کہہ دیا کہ آج اگر تم نے ہندو بھائیوں کو راضی کرلیا تو اپنے خدا کو راضی کرلیا۔ صاف کہہ دیا کہ ہم ایسا فکر بنانے کی فکر میں جو ہندو مسلم کا امتیاز اٹھا دے گا صاف کہہ دیا کہ ایسا مذہب چاہتے ہیں جو سنگم و پریاگ کو مقدس علامات ٹھہرائے گا۔ کیا آیت کریمہ لا ینہاکم، ان ملعونات، کفریات کی اجازت دیتی ہے۔
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے مذکورہ تحریر میں ترک موالات کے حامیوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ اور قوم کو اس خطرے سے آگاہ کردیا ہے کہ آج اگر 1919ء میں تم نے مشرکوں کی لیڈری اور قیادت تسلیم کرلی اور ان کی خوشنودی کے لئے کسی شعار اسلام کو ترک کردیا تو تمام شعار اسلام کا وجود خطرے میں پڑجائے گا اور مشرکین تمہارے پورے اسلامی تشخص کو مٹانے کے درپے ہوجائیں گے۔