اسلامی شریعت مطہرہ نے اساتذہ و مشائخ کے آداب کاجو بیان فرمایا ہے، اس کو کتب معتبرہ کی روشنی میں بیان کردیجئے تاکہ آج کل کی نئی روشنی کے دلدادہ اس سے سبق حاصل کریں اور ہمارے لئے مشعل راہ بن کر ہماری رہنمائی فرمائے۔ نیز ان کی جناب میں بے ادبی کرنے والے کے انجام سے بھی آگاہ فرمائیں۔
(احمد عبداﷲ، سردار آباد)
الحمدﷲ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لانبی بعدہ
اما بعد! اسلامی شریعت نے اساتذہ و مشائخ عظام کے احترام کے حوالے سے ہمیں بہت تاکیدی ارشادات و تنبیہات سے نوازا ہے۔
چنانچہ امام ابوللیث سمرقندی قدس سرہ رقم طراز ہیں:
اس آیت ’’لاتجعلو دعا الرسول بینکم کدعا بعضکم بعضا‘‘ میں لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والے کی تعظیم کا بیان ہے۔ اس لئے کہ رسول پاکﷺ کو ایسے الفاظ سے ندا کی جائے جوتعظیم کی نشانی ہوںاور اس میں استاد کی حق شناسی اور اہل فضیلت کی قدر کابیان ہے۔
وفی الآیۃ بیان توقیر معلم الخیر لان رسول  اﷲﷺ کان معلم الخیر فامرہ اﷲ بتوقیرہ وتعظیمہ وفیہ معرفۃ حق الاستاذ وفیہ معرفۃ اہل الفضل (تفسیرابی اللیث)
’’التاویلات النجمیہ‘‘ میں ہے کہ آیت کریمہ ’’لاتجعلو دعا الرسول الایۃ‘‘ میں پیران طریقت کی تعظیم کرنے کی طرف اشارہ ہے اس لئے کہ پیر اپنے مریدین میں ایسے ہی ہوتا ہے جیسا کہ نبی اپنی امت میں کہ نبی کی طرح پیران طریقت بھی اپنے مریدین کی کشتی کے ناخدا ہوتے ہیں۔ الغرض ان کی تعظیم بجا لائو اور ان کو ادب سے خطاب کرو اور ان کی بے ادبی کے وبال سے بچوکی ان کی جناب میں ادنیٰ سی بھی بے ادبی لے ڈوتی ہے اور سلوک کے اعلیٰ مقامات سے گراکر  آئندہ کے لئے دروازے بند کردیتی ہے۔
جیسا کہ لطائف اشرفی جلد اول مطبوعہ کچھوچھہضلع فیض آباد ہندوستان کے ص 139 میں ہے کہ محبوب یزدانی حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ الربانی کا ایک مرید پیر علی نامی تھا جس کو سلوک میں بڑا اشتغال تھا۔ اگرچہ وہ مقام نور الانوار تک نہ پہنچا تھا۔ مگر پھر بھی عالی مقامات اور بلند منازل پر عبور ہوچکا تھا۔ ایک مرتبہ ان سے کوئی بے ادبی صادر ہوگئی جس کو کسی شخص نے مخدوم صاحب کے سامنے بیان کردیا۔ فرمایا کہ اس خانوادہ کریم سے پیر علی مردود ہے اس کو یہاں سے باہر کردو۔ پیر علی کو جب اس ناراضگی کی اطلاع ہوئی تو بعض خدام کے ذریعے معافی کے حصول کے لئے بے انتہا کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ بالاخر وہاں سے سفر کرکے مخدوم میرسید علی قدس سرہ کی خدمت میں ہمدان پہنچے اور اپنے حالات عرض کئے۔ میر سید علی قدس سرہ نے فرمایا جس دروازہ کو فرزند سید اشرف جہانگیر نے بندکردیا ہے میں اس کو نہیں کھول سکتا۔ اس کے بعد دربدر پھرے مگر کہیں پر کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ دشوار گزار مراحل طے کرکے اور تکالیف شاقہ برداشت کرکے شیخ نجم الدین اصفہانی قدس سرہ کی خدمت سراپا عظمت میں مکہ مکرمہ حاضر ہوئے اور مدت دراز تک امور خدمت انجام دیتے رہے۔ شیخ نے ان کی مشکل کشائی کے لئے بہت کوشش کی اور پوری توجہ صرف کی مگر آخر میں یہی فرمایا کہ اے نامراد جس دروازے کو برادرم سید اشرف جہانگیر نے بند کردیا ہم سے نہیں کھل سکتا بلکہ آج کل روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں جو ان کے مقابل کھڑا ہوسکے۔
ابیات مکسی امروز در روئے زمین نیست
کہ پہلو برزند باوی توقیر
نیاودسر برآوردن بہمت
کس اززیر کمند آں جہانگیر
بلکہ بزرگان دین کی خدمت میں بے ادبی کرنے کے سبب کبھی کبھار ایمان بھی سلب ہوجاتا ہے۔
چنانچہ بہجۃالاسرار شریف میں کہ شہر دمشق کے اندر 580ھ میں علامہ ابو سعید عبداﷲ بن ہبۃ اﷲ تمیمی شافعی علیہ الرحمہ نے بیان کیا کہ جوانی کے  عالم میں تحصیل علم کے لئے سفر کرکے میں بغداد معلی پہنچا۔ ابن السقا میرے شریک درس تھے۔ صالحین کی زیارت ہمارا معمول تھا۔ اس زمانے میں بغداد کے اندر ایک صاحب کی شہرت تھی، ان کوغوث کہا جاتا تھا۔ ان کی یہ بات مشہور تھی کہ جب چاہتے لوگوں کے سامنے آجاتے اور جب چاہتے نگاہوں سے پوشیدہ ہوجاتے۔
چنانچہ ایک مرتبہ ان کی زیارت کے واسطے میں اور ابن السقا اور شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ روانہ ہوئے۔ راستے میں ابن السقا نے کہا کہ میں ان سے ایسا سوال کروں گا جس کا جواب نہ دے سکیں گے اور میں نے یہ کہا کہ میں ایک سوال کرکے دیکھوں گا کہ جواب میں کیا فرماتے ہیں اور شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ نے کہا معاذ اﷲ کہ میں ان سے کوئی سوال کروں بلکہ سامنے ہوکر ان کے دیدار کی برکات کا متوقع رہوں گا۔ یہاں تک کہ ہم تینوں ان کی جائے قیام پرپہنچے مگر وہ ہمیں نظر نہ پڑے، کچھ ہی وقفہ کے بعد ہم نے دیکھا کہ ہمارے سامنے بیٹھے ہیں۔ ابن السقاء کی طرف غضبناک ہوکر دیکھا اور فرمایا کہ اے ابن السقاء تیری خرابی ہو مجھ سے ایسا سوال کرنا چاہتا ہے جس کا میں جواب نہ دے سکوں۔ تیرا سوال یہ تھا اور اس کا جواب یہ ہے، میں دیکھتا ہوں کہ کفر کی آگ تیرے اندر دھک رہی ہے۔ پھر میری طرف نگاہ کرکے فرمایا کہ اے عبداﷲ تم ایک مسئلہ دریافت کرکے یہ معلوم کرنا چاہتے ہو کہ میں کیا جواب دیتا ہوں۔ تمہارا مسئلہ یہ تھا اور اس کا جواب یہ ہے دنیا تم پر ٹوٹ پڑے گی یہاں تک کہ کانوں کی لو تک ڈوب جائو گے یہ نتیجہ ہے اس امر کا کہ تمہارے الفاظ میں حسن ادب نہ تھا۔ پھرشیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ کی طرف نظر فرمائی اور اپنے قریب کرکے ان کا احترام کیا اور فرمایا۔ اے عبدالقادر تم نے ادب کی وجہ سے اﷲ و رسول کی خوشنودگی حاصل کی۔ میں دیکھتا ہوں کہ بغداد میں ممبر پر عظیم الشان جماعت کے سامنے تم کہہ رہے ہو قدمی ہذہ علی رقبۃ کل ولی اﷲ (میرا یہ قدم اﷲ کے ہر ولی کی گردن پر ہے)
اور میں دیکھتا ہوں کہ اولیائے وقت نے تعظیماً گردنیں جھکادیں۔ اس کے بعد فورا وہ غوث ہماری نظروں سے غائب ہوگئے، پھر ہم نے کبھی ان کو نہیں دیکھا۔ علامہ مذکور فرماتے ہیںکہ ہم تینوں کے متعلق حضرت غوث کا قول حرف بحرف صحیح ہوکر رہا۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ کی  قرب الٰہی کی نشانیاں ظاہر ہوئیں۔ عوام و خواص نے ان کی طرف رجوع کیا اور ایک مرتبہ انہوں نے برسر ممبر فرمایا قدمی ہذہ علی رقبۃ کل ولی اﷲ اور اولیائے وقت نے آپ کے فضل و کمال کا اعتراف کیا اور میں یہاں پر (دمشق) پہنچا تو سلطان نور الدین شہید نے جبراً مجھ کو اوقاف کا متولی بنادیا جس سے میں دنیا کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوگیا اور ابن السقاء علوم شرعیہ کی تحصیل میں مشغول رہا۔ یہاں تک کہ اپنے ہم عصر اصحاب پر فائق ہوگیا۔ مناظرہ میں ایسا کمال حاصل کیا کہ تمام علوم میں اپنے مقابل کو زیر کرلیتا۔ قدرت نے زبان فصیح کے ساتھ ساتھ شکل حسین بھی عطا فرمائی تھی۔ اسی وجہ سے خلیفہ وقت نے اپنے مقرب لوگوں میں داخل کرکے بحیثیت شاہی قاصد ایک مرتبہ بادشاہ روم کے پاس بھیجا۔ بادشاہ روم نے اوصاف مذکورہ کے ساتھ متصف ہونے کی وجہ سے بہت پسند کیا اور پادریوںکو جمع کرکے مناظرہ کرایا۔ ابن السقاء نے تمام پادریوں کو شکست فاش دی۔ سب کے سب دم بخود ہوگئے۔ کسی سے جواب نہ بن پڑا۔ اس واقعہ سے بادشاہ کے دل میں ابن السقا کی عظمت بیٹھ گئی۔ اتفاقاً ایک روز شہزادی کو دیکھا تو بقول شاعر :
دیکھا جو حسن یار طبیعت مچل گئی
آنکھوں کا تھا قصور چھری دل پہ چل گئی
قلب بیتاب ہوگیا بادشاہ سے درخواست کی کہ میرے عقد میں دے دیا جائے، بادشاہ نے کہا کہ نصرانی ہوجائو، کمبخت نے شرط منظور کرلی اور نصرانی ہوگیا۔ اب ابن السقا کو غوث کا قول یاد آیا اور سمجھا کہ ان کی جناب میں بے ادبی کرنے کی وجہ سے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔