انسان کی فطرت ہے کہ مل جل کر رہنا اور باہمی تمدنی تعلقات کا استوارکرنا، جب سے دنیا معرض وجود میں آئی ہے اور اولاد آدم زمین پر پھیلی ہے۔ یہی طریقہ چلاآرہا ہے انسان کو دوسرے انسان سے کسی نہ کسی طریقے سے میل جول رکھنا پڑتا اور اس کی ضرورت رہتی ہے۔
مسلمان چونکہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کا پابند ہے لہذا مسلمان دوستی، میل جول، تعلقات اور محبت ان لوگوں سے رکھے جو سچے مسلمان ہوں، بدمذہبوں مثلا گستاخ رسول، گستاخ صحابہ، گستاخ اولیائ، منکرین حدیث، منکرین ختم نبوت اورائمہ مجتہدین کی گستاخیاں کرنے والوں سے دوستی، تعلقات اور محبت نہ رکھے، قرآن و حدیث میں کئی مقامات پر بدمذہبوں کی صحبت سے بچنے کا حکم دیا گیاہے۔
القرآن: لا تجد قوما یومنون باﷲ والیوم الاخر یوآدون من حآد اﷲ و رسولہ ولو کانوآ اباء ہم او ابناء ہم او اخوانہم او عشیرتہم
ترجمہ: یعنی تم نہ پائو گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اﷲ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں، ان سے جنہوں نے اﷲاور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں (سورۂ مجادلہ، پارہ 22 آیت 58)
القرآن: یاایھا الذین امنوا لاتتخذوا ابآء کم واخوانکم اولیآء ان استحبوا الکفر علی الایمان، ومن یتولہم منکم فاولٰئک ہم الظالمون o
ترجمہ: یعنی اے ایمان  والو! اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں (سورۂ توبہ، آیت 23 پارہ 9)
اﷲ تعالیٰ کے فرمان سے معلوم ہوا کہ بدمذہبوں سے دوستی کرنے والا ظالم ہے، اپنے اوپر، اہلسنت پر، اہل اسلام پر ظلم کرتا ہے۔
القرآن: ومن یتولہم منکم فانہ منہم (سورۂ مائدہ، آیت 51، پارہ 5)
ترجمہ: یعنی اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہی میں سے ہیں۔
اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ بدمذہبوں، گستاخوں، بے ادبوں سے دوستی رکھنے والا انہی میں ہے۔
القرآن: یاایھا الذین امنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیآء تلقون الیہم بالمودۃ وقد کفروا بما جآء کم من الحق
ترجمہ: یعنی اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو، تم انہیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے حالانکہ وہ منکر ہیں اس حق کے جو تمہارے پاس آیا (سورۂ ممتحنہ، آیت 1، پارہ 28)
قرآن مجید کی آیات سے ثابت ہوا کہ جو لوگ اﷲ تعالیٰ اور مسلمانوں کے دشمن ہیں ان کو دوست نہ بنائو، چاہیں وہ تمہارے کتنے ہی قریبی عزیز ہوں، ان سے دوستی اور تعلقات رکھنے والے ظالم ہیں جب تعلقات رکھنے سے منع فرمایا گیاتو پھر اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دینا اور لینا کیسے جائز ہوسکتا ہے؟
اب احادیث ملاحظہ فرمائیں جس میں بدمذہبوںسے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
حدیث شریف: حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مکرمﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔ جب کسی بدمذہب کو دیکھو تو اس کے روبرو اس سے ترش روئی کرو اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ بدمذہب کو دشمن رکھتا ہے۔ ان میں کوئی پل صراط پر گزر نہ پائے گا بلکہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر آگ میں گر پڑیں گے جیسے ٹڈی اور مکھیاں گرتی ہیں۔
(تاریخ مدینہ، دمشق، جلد 43، مطبوعہ دارالفکر، بیروت)
حدیث: حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (بدمذہبوں) کے پاس نہ بیٹھو (ان کے) ساتھ پانی نہ پیو (ان کے) ساتھ کھانا نہ کھائو، (ان کے) ساتھ شادی بیاہ نہ کرو (الضعفاء الکبیر، جلد اول، ص 126، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)
حدیث: حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ سرور کونینﷺ نے ارشاد فرمایا (بدمذہب) بیمار پڑیں تو پوچھنے نہ جائو، مرجائیں تو جنازے پر حاضر نہ ہو (سنن ابو دائود، کتاب السنۃ، حدیث 4692، ص 46، مطبوعہ دارابن حزم بیروت)
حدیث: حضرت ابن حبان نے روایت کیا ہے کہ (بدمذہبوں) کے جنازے کی نماز نہ پڑھو، نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو (کنزالعمال جلد 11، حدیث 32029، ص 540، مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت)
فائدہ: ان تمام احادیث سے درج ذیل باتیں سامنے آئیں۔
1: جب تم بدمذہبوںکو دیکھو تو اس کے روبرو اس سے ترش روئی کرو
2: بدمذہبوں کے پاس مت بیٹھو، یعنی ان کی صحبت میں مت بیٹھو
3: بدمذہبوںکے ساتھ نہ کھانا کھائو، نہ پانی پیو
4: بدمذہبوں کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو یعنی نہ ان کی بیٹی لو نہ ان کو اپنی بیٹی دو
5: بدمذہب جب بیمار ہوجائے  تو اس کی مزاج پرسی کے لئے مت جائو
6: بدمذہب جب مرجائے تو اس کے نماز جنازہ میں شرکت مت کرو
7: بدمذہبوں کے ساتھ نماز مت پڑھو (جب بدمذہبوں کے ساتھ نماز پڑھنا منع ہے تو ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسے جائز ہوسکتا ہے) بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ حدیث کفار و مشرکین کے متعلق ہے۔ ان لوگوں سے میرا سوال ہے کہ کفار و مشرکین کب سے نماز پڑھنے لگ گئے، ان کی نماز جنازہ کب سے شروع ہوگئی؟ یقینا کلمہ گو بدمذہب ہی کی نماز جنازہ ہوتی ہے اور نماز بھی مسجد میں یہی لوگ اداکرتے ہیں۔
بدعقیدہ دوستوں کی صحبت نقصان پہنچاتی ہے
حدیث شریف: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم نور مجسمﷺ نے ارشاد فرمایا نہ کسی کو مصاحب بنائو (دوست بنائو) مگر مومن کو اور نہ کسی کے ساتھ کھانا کھائو مگر پرہیزگار کے (سنن ابو دائود، جلد سوم، حدیث نمبر 1405، ص 518، مطبوعہ بک اسٹال لاہور)
حدیث شریف: حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہذا تم دیکھ لیاکرو کہ کس کو دوست بنا رہے ہو (سنن ابو دائود، جلد سوم، حدیث نمبر 1406، ص 519، مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور)
حدیث شریف: حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم نور مجسمﷺ نے فرمایا ان (بدمذہبوں) سے الگ رہو، انہیں اپنے سے دور رکھو، کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں (صحیح مسلم شریف، کتاب المقدمہ)
فائدہ: ان احادیث سے درج ذیل باتیں سامنے آئیں۔
1: صرف اور صرف صحیح العقیدہ مسلمان سے ہی دوستی رکھی جائے۔ بدمذہبوں سے دوستی اور ان کی صحبت میں ہرگز نہ بیٹھا جائے۔
2: دوست جس عقیدے پر ہوگا اس کے بقیہ دوست بھی اس کے عقیدے پر ہوں گے (یہی وجہ ہے کہ آج اچھے خاصے سنی صحیح العقیدہ مسلمان بدعقیدہ دوستوںمیں بیٹھ کر آج بدعقیدہ ہوچکے ہیں۔ کوئی دیوبندی، کوئی غیر مقلد اہلحدیث، کوئی توحیدی، کوئی شیعہ اور کوئی قادیانی ہوچکا ہے۔ دوستی نے ان کے عقیدے کو نقصان پہنچایا بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ میاں! دوستی اپنی جگہ مذہب اپنی جگہ ہے۔ ایسے ہی لوگ بدعقیدہ دوستوں کا نشانہ بنتے ہیں کیونکہ بدمذہبوں کی یہ خصلت ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنا شر پھیلاتے رہتے ہیں۔ اگر بعض نظریاتی لوگ بدمذہبوں سے دوستی رکھتے بھی ہیںتو وہ بدعقیدہ نہیں بنتے مگر ان کا عقیدہ متزلزل ضرور ہوتا ہے وہ اس لئے کہ وہ ایسے سوالات قائم کرتے ہیں جس کے ذریعے شیطان دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے)
3: دوستی کرنے سے پہلے اپنے دوست کا دین (عقیدہ) دیکھ لیا کرو کہ تم کس کو دوست بنا رہے ہو۔
4: بدمذہبوں سے دور رہو، انہیں اپنے سے قریب بھی مت آنے دو، کیونکہ وہ تمہیں بہکادیں گے اور فتنے میں ڈال دیںگے۔
اپنی دوستی کو اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت پر قربان کرتے ہوئے صرف اور صرف سنی صحیح العقیدہ مسلمان کو اپنا دوست بنائیں، محبت اور عداوت اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے لئے رکھیں جو دوست، عزیز، رشتے دار اور قرابت دار بدعقیدہ ہو، اس سے رشتہ، ناطہ توڑ دیں، اپنا عزیزصرف اور صرف وہ ہے جو حضور اکرم نور مجسمﷺ کو ساری کائنات سے زیادہ عزیزجانے۔
چنانچہ استاد ذمن مولانا محمد حسن رضا خان علیہ الرحمہ اپنے نعتیہ کلام میں بارگاہ رسالتﷺ میں عرض گزار ہیں۔
اپنا عزیز وہ ہے جسے تو عزیز ہے
ہم کو ہے وہ پسند جسے آئے تو پسند
استادذمن مولانا حسن رضا خان علیہ الرحمہ کے ان اشعار کی تشریح کرتے ہوئے حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان الازہری صاحب اپنے نعتیہ کلام میں یوں فرماتے ہیں۔
نبی سے جو ہو بے گانہ اسے دل سے جدا کردے
پدر مادر برادر مال و جان ان پہ فدا کردے
جوں جو وقت گزرتا جارہا ہے، ہماری مضبوط نسبت جو سرکار جان کائناتﷺ سے کل تک تھی، وہ کم سے کم ہوتی چلی جارہی ہے۔ جب نسبت و محبت میں کمی واقع ہوئی تو حق اور باطل میں تمیز بھی ختم ہوگئی۔ پاکیزگی اور گندگی میں تمیز ختم ہوگئی۔ ہم بدمذہبوں سے تعلقات استوار کرنے لگے۔ انہیں اپنی پیاری پیاری بیٹیاں دینے لگے، ان کی بیٹیاں لینے لگے اور یوں پوری نسل کی بربادی کا سامان تیار کرلیا۔
آج ہم معاشرے پر نظر دوڑاتے ہیں تو یہ بات صاف اور واضح نظر آتی ہے کہ فلاں صاحب کی لڑکی کی شادی کسی بدمذہب سے ہوئی تھی، آج اس کی لڑکی بدمذہب ہوچکی ہے۔ اباجان پر شرک و بدعت کے فتوے لگاتی ہے پھر اس کے یہاں پیدا ہونے والی اولاد بھی بدمذہب بن جاتی ہے۔
فلاں صاحب کا لڑکا پہلے سنی صحیح العقیدہ تھا، بدمذہب گھرانے کی لڑکی سے اس کا رشتہ ہوا اور لڑکا بھی کچھ عرصے بعد بدمذہب ہوگیا پھر اس طرح اس کی اولاد بھی بدمذہب ہوگئی۔
آج ہم معاشرے کے رنگ میں ایسے رنگ چکے ہیں کہ مسلک حق اہلسنت کے چمپئن بننے والے معتبر حضرات بھی اس آندھی میں بہہ گئے۔ انہوں نے بھی اپنی نسبت کا لحاظ نہیں رکھ اور اپنی لڑکیوں کو بدمذہب گھرانے میں بیاہ دیا۔
ہم لڑکے سے رشتے کرتے وقت سب کچھ پوچھتے ہیں۔ اس کی تنخواہ، بھائی، بہنوں، صحبت اور دوستوں کے متعلق مکمل جانکاری کرتے ہیں مگر سب سے اہم اور قیمتی چیز اس لڑکے کا ایمان و عقیدہ نہیں پوچھتے جس کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ اس سے چشم پوشی کی جاتی ہے۔ اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
یہ وہ مسئلہ ہے جس کا ہم سب شکار ہیں۔ ہماری اسی نااہلی کی وجہ سے آج پورے کے پورے گھرانے بدمذہب و بے دین ہوچکے ہیں۔ والدین کے گھر میلاد ہو تو سسرالی اپنی بہو کو جانے سے روک دیتے ہیں، نیاز کا کھانا بھجوایا جائے تو واپس کروا دیاجاتا ہے۔ یوں سنی صحیح العقیدہ والدین کی بیٹی بدمذہبوں کی ہوکر رہ جاتی ہے پھر اس کی اولاد بھی بدمذہب ہوجاتی ہے۔
میرا سوال ان والدین سے ہے جن کی اولاد شادی کے بعد بدمذہب ہوچکی ہے۔ والدین کو مشرک کہتی ہے۔ آخر اس بھولی بھالی لڑکی کو بدعقیدگی کے طوفان میں دھکیلنے کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کے ایمان کی بربادی کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کی اولاد کے عقائد کی خرابی کا ذمے دار کون ہے؟
یہی سوالات سنی  والدین سے قیامت کے دن پاک پروردگار جل جلالہ نے کرلئے تو والدین کیا جواب دیں گے؟
کیا ہم نے اپنی بیٹی یا بیٹے کا رشتہ بدمذہبوں سے طے کرتے وقت کبھی یہ سوچا، یہ تمام باتیں مدنظر رکھیں؟ اگر نہیں تو پھر سوچئے اور نیت کریں کہ ہم جب بھی رشتہ طے کریں گے تو رشتہ طے کرنے سے پہلے لڑکا یا لڑکی سے اس طرح پوچھیں گے۔
بیٹا: آپ کیا کام کرتے ہیں؟ پھر باتیں کرتے کرتے پوچھ لیں کہ بیٹا! آپ کے یہاں کبھی میلاد یا گیارہویں ہوتی ہے؟ آپ کبھی اس میں شرکت کرتے ہیں؟ کیا آپ کے گھر والے ان محافلوں میں شرکت کرتے ہیں؟
ان سوالات کے جوابات میں اس کا عقیدہ واضح ہوجائے گا۔ معلوم ہوجائے گا کہ اس کا عقیدہ کیا ہے۔ یہ طریقہ کار اپناکر ہم معاشرے کو بدعقیدگی کی غلاظت سے بچاسکتے ہیں اپنی اولاد اور نسلوں کے ایمان و عقائد کی حفاظت کا سامان کرسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ اپنی اولاد کو بچپن ہی سے اسلامی عقائد کی تعلیم دیں۔ ان کی ذہن سازی کریں، وہابیوں، دیوبندیوں، شیعوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کی گستاخیاں، بداعتقادیاں اور ان کے کفریہ  عقائد بچوں کو بتائیں تاکہ انہیں حق اور باطل کی پہچان ہوسکے اور یہی خوش عقیدہ اولاد آپ کی بخشش کا بھی ذریعہ بنے۔
اﷲ تعالیٰ ہم سب کو بدمذہبوں کی دوستی، محبت اور ان کے مکروفریب سے محفوظ فرمائے۔ آمین ثم آمین
اب میں آپ کو بارگاہ رسالتﷺ میں لے جاتا ہوں کیونکہ امتی کے لئے سب سے مقدم اس کے آقاﷺ کا فرمان ہوتا ہے۔
حدیث شریف: حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اور بدمذہبوں کے ساتھ نہ بیٹھو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھائو اور پانی نہ پیو اور شادی بیاہ نہ کرو، میل جول نہ کرو اور ان کے بیماروں کی عیادت نہ کرو اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھ اور مرجائیں تو ان کا جنازہ نہ پڑھو (بحوالہ: صحیح ابن حبان 277/1، سنن البیہقی الکبریٰ 205/10)
اس حدیث کو پڑھ کر بعض لوگوںکے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ یہ کفار کے متعلق ہے کہ ان سے میل جول اورشادی بیاہ نہ کرو۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا کفار کبھی نماز پڑھتے ہیں؟ کیا ان پر نماز پڑھی جاتی ہے؟لہذا معلوم ہوا کہ بعض نماز پڑھنے والے بھی بدمذہب ہیں، ان سے رشتہ ناطہ جوڑنا سخت منع ہے۔
دوسری جگہ آپﷺ نے بدمذہب سے شادی کرنے کے بارے میں فرمایا۔
حدیث: حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم میں کسی کو پسند آتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کسی کتے کے نیچے بچھے! تم اسے برا جانو گے ۔
(سنن ابن ماجہ، ابواب النکاح، ص 139، مسند احمد 86/1، دارالفکر بیروت، لبنان)
یعنی بدمذہب جہنم کے کتے ہیں اور انہیں بیٹی یابہن دینا ایسا ہے جیسے کتے کے تصرف میں دینا، لہذا ان احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ بدمذہبوں سے میل جول رکھنا اور ان سے رشتہ ناطہ جوڑنا سخت ممنوع ہے۔
موجودہ دورکے گستاخ فرقے جن میں دیوبندی، وہابی (اہلحدیث)، شیعہ، بوہری، قادیانی اور مودودی شامل ہیں، یہ تمام بدمذہب ہیں۔ ان سے رشتہ ناطہ جوڑنا منع ہے۔ یہ تمام بدمذہب ہم اہلسنت و جماعت سنی حنفی بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو بدعتی اور مشرک کہتے ہیں۔
ان فرقوں کے نزدیک نذر ونیاز کرنا، مزارات پر حاضری دینا، بزرگوں کے وسیلے سے دعائیں مانگنا، یارسول اﷲﷺ کہنا، میلاد النبیﷺ کی محافل کا انعقاد کرنا، بزرگوں کی دست بوسی کرنا، مقدس راتوں کو عبادات کے ساتھ زندہ رکھنا،عطائی علم غیب ماننا، انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء کرام کی حیات ماننا، بزرگوں کے اعراس، برسی، سوئم اور چہلم کا انعقاد، چار خلفائے راشدین کو برحق ماننا اور ختم نبوت پر یقین رکھنابدعت اور گمراہی ہے۔
کیا ہمیں ایسے عقائد رکھنے والوں کو اپنی بیٹی دینی چاہئے یا ان کا بیٹا یا بیٹی لینی چاہئے؟ نہیں ہرگز نہیں!کیونکہ ہماری یہی خوش عقیدہ بیٹی کل اپنے شوہر اور سسرال کے رنگ سے رنگ جائے گی اور ہم پر شرک و بدعت کا فتویٰ لگائے گی۔
اس وقت پانی سر سے گزر چکا ہوگا پھر کچھ نہ ہوسکے گا۔ وہ صاف صاف آپ سے کہہ دے گی کہ میں اپنے شوہر اور سسرالیوں کو نہیں چھوڑ سکتی؟ اس وقت والدین ہاتھ ملتے  رہ جائیں گے اور افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔
محفوظ شہا رکھنا صدا بے ادبوں سے
مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
دشمن احمدﷺ پہ شدت کیجئے
ملحدوں کی کیا مروت کیجئے
غیظ میں جل جائیں بے دینوں میں دین
یارسول اﷲﷺ کی کثرت کیجئے