وہ روسائے قریش جو پہلے اسلام سے لڑتے رہے اور ایمان لانے کے بعد اسلام کیلئے لڑتے رہے علامہ عبدالستار ہمدانی برکاتی رضوی کی کتاب ’’مردانِ عرب‘‘ سے اقتباس

in Tahaffuz, December 2011-January 2012, االطاف حسین قادری, متفرقا ت

(1) حضرت ابو سفیان بن حرب بن امیہ بن عبدالشمس بن عبدالمناف:
حضرت ابو سفیان رضی اﷲ عنہ جب تک ایمان نہ لائے تھے، وہاں تک انہوں نے حضور اقدسﷺ کی عداوت و دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ اسلام کو نقصان پہنچانے کی سربراہی اور سرداری میں وہ ہمیشہ گرم جوشی سے کام لیتے تھے۔ مثلا :
(i) جنگ بدر کے لئے انہوں نے ہی کفار مکہ کو اکسایا تھا اور لشکر کفار کو مکہ سے بدر بلایا اور پھر خود بھی مکہ سے بدر آکر لشکر قریش میں شامل ہوئے تھے۔
(ii) ہجرت کی شب مشرکین مکہ نے حضور اقدسﷺ کو شہید کرنے کی سازش کی تھی۔ اس سازش کے تعین کے لئے دارالندوہ میں روسائے مکہ کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی تھی۔ اس میں ابو سفیان نے نمایاں حصہ لیا تھا۔
(iii) سن 5 ہجری میں حضرت ابو سفیان نے خیبر کے یہودیوں سے مدد طلب کی اور یہود و کفار کا مشترکہ لشکر لے کر انہوں نے مدینہ منورہ پر 10 ہزار آدمیوں کے ساتھ حملہ کیا اور غزوہ احزاب یعنی غزوہ خندق کا واقعہ پیش آیا۔
(iv) سن 6 ہجری میں حضور اقدسﷺ مدینہ منورہ سے بہ نیت عمرہ مکہ معظمہ کے لئے روانہ ہوئے تو ابو سفیان نے حضورﷺ کا مکہ معظمہ میں داخلہ روکنے کے لئے مشرکین مکہ کو جمع کیا اور حضور اقدسﷺ کو روکنے کے لئے جدہ شریف کے راستہ پر واقع موضعہ بلدہ پر لشکر کا پڑائو ڈلوایا، بعدہ (جس کے بعد) صلح حدیبیہ ہوئی۔
مختصر یہ کہ اسلام اور حضور سید عالمﷺ کے خلاف کوئی بھی تحریک یا کوئی بھی محاذ ہو، ابو سفیان بن حرب اس میں بڑی گرم جوشی سے حصہ لیتے اور اسلام کے خلاف اپنی تمام تر طاقت و دولت صرف کرتے رہے لیکن ان کی تقدیر میں ایمان لکھا ہوا تھا۔ حضور اقدسﷺ کی خدمت میں فتح مکہ کے دن سن 8 ہجری میں حاضر ہوئے۔ اپنے ماضی کے افعال پر ندامت و شرمندگی کا اظہار کرکے معذرت خواہ ہوئے اور سورہ یوسف میں مذکور، برادران حضرت یوف علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مقولہ عرض کیا:
لقد اثرک اﷲ علینا وان کنا لخٰطئین (پارہ 13 رکوع 4، سورہ یوسف آیت 91)
ترجمہ: بے شک اﷲ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بے شک ہم خطاوار تھے (کنزالایمان)
جواب میں حضور اقدسﷺ نے وہ فرمایا جو حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا یعنی:
لاتثریب علیکم والیوم، یغفراﷲ لکم وہو ارحم الرحمین (پارہ 63، رکوع 4، سورہ یوسف آیت 92)
ترجمہ: آج تم پر کچھ ملامت نہیں، اﷲ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے (کنزالایمان)
حضرت ابوسفیان رضی اﷲ عنہ حضور سید عالمﷺ کے دست حق پرست پر ایمان لائے۔ حضورﷺ نے ان کی تمام خطائیں معاف فرما کر اخلاق کریمہ کا مظاہرہ فرمایا۔ حضور اکرمﷺ نے کمال عفوو کرم سے ان پر نگاہ لطف و عنایت فرما کر معاف فرمادیا بلکہ اپنے دامن میں پناہ عطا فرمائی۔
کرکے تمہارے گناہ، مانگیں تمہاری پناہ
تم کہو دامن میں آ، تم پر کروڑوں درود
(اعلیٰ حضرت)
حضور سید عالمﷺ کے اخلاق جمیلہ نے حضرت ابوسفیان کو ایسا گرویدۂ اسلام کردیا کہ انہوں نے اپنے ماضی کی خطائوں کا کفارہ ادا کرتے ہوئے خلوص دل سے اسلام کی زریں خدمات انجام دیں۔ اپنی تمام صلاحیتوں کو اسلام کے فروغ کے لئے ہی استعمال کیا اور انکا شمار اکابر (بڑے) صحابہ کرام میں ہونے لگا۔ حضرت ابوسفیان نے اسلام اور بانی اسلام کی جو بیش بہا خدمات انجام دی ہیں، اس کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں۔
(i) جنگ حنین سن 8ھ میں حضور اقدسﷺ کے ہم رکاب تھے اور حضورﷺ کی سواری کی لگام تھامے ہوئے تھے۔
(ii) حضور سید عالمﷺ کے حکم سے عرب کے بڑے بت منات کے بت خانے کو منہدم کردیا۔
(iii) حضور اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر رہ کر وحی کی کتابت (تحریر) کی خدمت انجام دیتے تھے۔
(iv) ملک شام میں لشکر اسلام کے ساتھ رہ کر بڑی جانفشانی سے رومیوں سے لڑے وغیرہ
2۔ حضرت خالد بن ولید بن مغیرہ بن عبداﷲ بن عمرو بن مخزوم قرشی:
حضور اقدس جان ایمانﷺ کے سب سے بڑے گستاخ ولید بن مغیرہ کے آپ بیٹے تھے۔ حضرت خالد، اشراف و اعیان قریش میں سے تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں گھوڑوں کی عنان ان کے ہاتھ میں تھی۔ نوعمری کے زمانہ سے ہی وہ شجاع، بہادر، جنگجو، ماہر فن جنگ اور تلوار کے دھنی (مالک) تھے۔ عمرہ حدیبیہ تک وہ کافروں کے ساتھ رہے اور اسلام سے لڑتے رہے، لیکن سن 7 ہجری میں حضرت خالد بن ولید کی قسمت کا ستارہ چمکا۔ جنگ موتہ سن 8 ہجری کے دو ماہ قبل اسلام سے مشرف ہوئے۔ جب حضرت خالد بن ولید بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور سلام پیش کیا تو حضور اکرمﷺ نے خندہ پیشانی سے (مسکراتے ہوئے) ان کے سلام کا جواب عنایت فرمایا اور تبسم فرمایا۔ نظر سے نظر کیا ملی کہ حضرت خالد رضی اﷲ عنہ نے اپنا دل سرکار دوجہاں کے قدموں میں رکھ دیا۔ خدا کے محبوب اعظمﷺ کے اخلاق کریمہ نے ایسا دیوانہ عشق کردیا کہ ماضی میں اسلام کشی کی جو خطائیں سرزد ہوئی تھیں، ان خطائوں پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے حضرت خالد رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ ’’یارسول اﷲﷺ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ میں نے نیکی کی راہوں میں حق کے ساتھ کیسی کیسی دشمنیاں کی ہیں، اب دعا فرمایئے کہ حق تعالیٰ انہیں معاف فرمادے اور میرے گناہوں کو بخش دے‘‘
جواب میں رحمت عالمﷺ نے فرمایا ’’اسلام قبول کرنا اگلے گناہوں کو محو (ختم) کردیتا ہے اور سب خطائوں کو مٹا دیتا ہے‘‘ اپنے سامنے شرمندہ اور نادم ہونے والے کی اس طرح دلجوئی فرما کر مغفرت کی بشارت سنانے کا اخلاق کریمہ ایسا کارآمد ہوا کہ اس وقت سے لے کر دم آخر تک حضرت خالد رضی اﷲ عنہ نے اسلام کی وہ خدمات انجام دیں کہ حضرت خالد رضی اﷲ عنہ کا اسم گرمی صرف اسلامی تاریخ میں ہی نہیںبلکہ دنیا کی تاریخ میں سنہری حروف سے منقش ہوگیا۔
حضرت خالد رضی اﷲ عنہ نے حضور اقدس رحمت عالمﷺ کی ظاہری حیات طیبہ اور پردہ فرمانے کے بعد بھی دین اسلام کی تائید و تقویت کے لئے مساعی جمیلہ و عظیمہ انجام دینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی مثلا:
(i) جنگ موتہ سن 8 ہجری میں تین ہزار کے اسلامی لشکر سے آپ رومیوں کے ایک لاکھ کے لشکر سے بھڑ گئے اور رومیوں کو شکست فاش دی۔ جنگ موتہ میں آپ نے جو دلیری دکھائی تھی اس سے خوش ہوکر حضور اقدسﷺ نے آپ کو ’’سیف اﷲ‘‘ (اﷲ کی تلوار) کے لقب سے نوازا۔
(ii) آپ نے اپنی زندگی میں ایک سو سے زیادہ جنگوں میں شرکت فرما کر عظیم فتوحات حاصل کرنے میں ایسے منہمک و کوشاں رہے کہ آپ کے جسم میں ایک بالشت برابر بھی ایسا حصہ نہیں تھا جہاں نیزہ، تیر اور تلوار کے زخم نہ لگے ہوں۔
(iii) جھوٹا مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے چالیس ہزار جنگ جو لوگوں کے لشکر کے ساتھ سن 11 ہجری میں جنگ یمامہ ہوئی۔ اسلامی لشکر کے سپہ سالار حضرت خالد تھے۔ اس جنگ میں مسیلمہ کذاب مارا گیا۔
3۔ حضرت عکرمہ بن ابوجہل بن ہشام
ابوجہل کا نام حضور اقدسﷺ کے دشمنوں میں سرفہرست آتا ہے۔ اسلام اور حضور اقدسﷺ کے سب سے بڑے عدو اور بدخواہ کی حیثیت سے اس نے اپنا مال (روپیہ پیسہ) پانی کی طرح خرچ کیا اور اپنی جان بھی عداوت رسول میں بدر کی دن ضائع کی۔ اسی ابوجہل کے بیٹے عکرمہ بن ابی جہل بھی اپنے باپ کے نقش قدم پر چل کر حضور اکرم رحمت عالم و جان عالمﷺ کی ایذا رسانی اور تکلیف دہی میں مشہور تھے۔ اپنے باپ کے وارث اور جانشین ہونے کی وجہ سے اسلام کی عداوت انہیں ورثہ میں ملی تھی مثلا سن8  ہجری تک جتنے غزوات ہوئے، ان تمام غزوات میں عکرمہ بن ابی جہل نے شرکت کرکے لشکر کفار کی سرداری کی تھی وغیرہ۔
جب مکہ معظمہ فتح ہوکر مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا تو عکرمہ بن ابی جہل اپنی جان بچانے کے لئے ساحلی علاقے میں چلے گئے۔ عکرمہ کی بیوی ام حکیم بنت حارث نے اسلام قبول کرکے اپنے شوہر کے لئے حضور اقدسﷺ سے امان حاصل کرکے اس کی جستجو میں نکلی ہوئی تھی۔ جب ام حکیم اپنے شوہر عکرمہ سے ملی تو اطلاع دی کہ میں نے تیرے لئے رحمت عالمﷺ سے امان حاصل کرلی ہے۔ عکرمہ نے جب امان ملنے کی خبر سنی تو وہ حیران و متعجب ہوکر کہنے لگے کہ محمدﷺ کو میں نے بے شمار ایذائیں اور تکلیفیں پہنچائی ہیں، اس کے باوجود بھی انہوں نے مجھے امان دی ہے؟ ام حکیم نے کہا ہاں! حضور اقدسﷺ اتنے زیادہ رحم دل اور کریم ہیں کہ ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے، کم ہے۔
عکرمہ بن ابی جہل اپنی زوجہ ام حکیم کے ساتھ مکہ معظمہ لوٹ کر حضور اکرمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ حضور پاکﷺ نے انہیں مرحبا کہا۔ عکرمہ نے عرض کیا کہ کیا واقعی آپ نے مجھے امان دی ہے؟ فرمایا ’’ہاں میں نے امان دی ہے‘‘
پھر حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے انتہائی شرمساری سے اپنا سر جھکا کر عرض کیا کہ ’’یارسول اﷲﷺ ہر وہ دشمنی، بے ادبی، گستاخی، غیبت اور برائی آپ کے ساتھ جو ہوسکتی تھی، میں نے کی ہے۔ اب دعا فرمائیں کہ حق تعالیٰ مجھے معاف فرمائے اور مجھے بخش دے‘‘ حضور اقدسﷺ نے دست اقدس اٹھا کر دعا فرمائی اور جو کچھ حضرت عکرمہ نے کیا تھا اس کی معافی و بخشس خدائے تعالیٰ سے مانگی (یہاں جائوک والی آیت کے خدائی حکم کا عملی مظاہرہ آنکھوں کے سامنے ہے)
حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ کے دل میں جذبات کا سمندر امنڈ پڑا اور اپنے ولولہ عشق کا بارگاہ رسالت میں ان الفاظ میں اظہار فرمایا کہ ’’یارسول اﷲﷺ! زمانہ جاہلیت میں حق کی مخالفت میں جتنا مال خرچ کیا، میری تمنا ہے کہ اس سے زیادہ اب راہ حق میں صرف کروں۔ جتنی جنگیں خدا کے محبوب و مقبول بندوں کے ساتھ لڑی ہیں، اس سے دوگنی جنگیں اب دشمنان خدا سے لڑوں‘‘ اس کے بعد حضرت عکرمہ نے کفار و مشرکین کے ساتھ اپنے عہدو پیمان، دوستی اور قرابت کے تمام رشتے توڑ دیئے اور پیارے آقا و محبوب محمد رسول اﷲﷺ کی غلامی میں کمربستہ ہوگئے۔ حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک دین اسلام کی خدمت میں ہمہ وقت مشغول و مصروف رہے اور کفار و مشرکین سے ہر محاذ پر لڑتے رہے اور عہد فاروقی میں حمص کے قلعہ کی جنگ میں لڑتے ہوئے آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔
4: حضرت عمرو بن العاص بن وائل قرشی سہمی
حضرت عمرو بن العاص عرب کے دانشوروں اور روئسا میں سے تھے۔ وہ صاحب فہم و فراست اور ذہن رسا و باصلاحیت شخص تھے۔ سن 8 ہجری تک مشرکین کے گروہ میں رہ کر اسلام کے خلاف متحرک رہے اور مسلمانوں سے لڑتے رہے لیکن عمرو بن العاص کی تقدیر میں اسلام اور حضور اقدسﷺ کی عظیم خدمات کرنے کی سعادت مکتوب (تحریر) تھی۔ 8 ہجری میں وہ حبشہ میں تھے۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے ساتھ ان کے تعلقات اور مراسم تھے بلکہ شاہی دربار تک ان کی رسائی تھی۔ اتفاقاً حضور اقدسﷺ کا مبارک خط لے کر حضرت عمرو بن ضمری رضی اﷲ عنہ بحیثیت قاصد نجاشی کے پاس آئے۔ جب عمرو بن العاص کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے نجاشی بادشاہ سے کہا کہ عمرو بن امیہ ضمری کو میرے حوالے کردو تاکہ میں انہیں قتل کرکے قریش کے سامنے سرخرو بنوں۔ شاہ حبشہ نجاشی نے عمرو بن العاص کی یہ فرمائش سن کر توبہ کرنے کے انداز میں اپنے رخساروں کو تھپتھپایا اور کہا ’’میں کیوں کر اس مقدس (پاک) ہستی کے قاصد کو تمہارے حوالے کروں جس ہستی کی خدمت میں ناموس اکبر (یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا لقب ہے) حاضر ہوتے ہیں اور وہ ہستی خدا کے رسول برحق ہیں‘‘
اس کے بعد بادشاہ نجاشی نے عمرو بن العاص کو فمہائش کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’اے عمرو بن العاص میری بات غور سے سن! اور حضور اقدسﷺ کی پیروی اختیار کرو‘‘
شاہ حبشہ نجاشی کی نصیحت نے حضرت عمرو بن العاص کے دل کی دنیا پلٹ دی۔ ایمان ان کے دل میں نصب ہوگیا اور مدینہ طیبہ کی طرف چل پڑے۔ جب موضع ہدہ نامی مقام پر پہنچے تو وہاں ان کی ملاقات حضرت خالد بن ولید سے ہوئی جو ایمان لانے کی نیت سے مکہ سے مدینہ جارہے تھے۔ دونوں نے ملاقات کی اور اپنے ارادے سے ایک نے دوسرے کو آگاہ کیا۔ چنانچہ دونوں حضرات نے ایک ساتھ بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوکر ایمان کی لازوال دولت حاصل کی۔ پہلے حضرت خالد نے کلمۂ توحید کا اقرار کیا اس کے بعد حضرت عمرو بن العاص حضور سید عالمﷺ کے سامنے حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ’’یارسول اﷲﷺ اپنا دست اقدس بڑھایئے تاکہ میں بیعت کروں‘‘ حضرت عمرو بن العاص کی گزارش پر حضور سید عالمﷺ نے اپنا دست اقدس بڑھایا لیکن عمرو بن العاص نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ سید عالمﷺ نے فرمایا ’’اے عمرو کیا بات ہے کیوں ہاتھ کھینچ لیا؟‘‘ عرض کیا۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک شرط کرلوں۔ فرمایا کیا شرط کرتے ہو۔ عرض شرط یہ ہے کہ میرے گناہ بخش دیئے جائیں۔ فرمایا اے عمرو! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ایمان لانا پچھلے تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور دارِ کفر سے ہجرت کرکے دارالسلام آنا اور حج کرنا یہ دونوں عمل ایسے ہیں کہ ہر ایک سابقہ تمام گناہوں کو ناپید اور محو (ختم) کردیتا ہے۔
الغرض سن 8 ہجری میں فتح مکہ سے 6 ماہ قبل حضرت عمرو بن العاص ایمان سے مشرف ہوئے۔ اس وقت سے لے کر تادم مرگ انہوں نے اسلام کی عظیم خدمات انجام دیں مثلا: جنگ ذات السلاسل سن 8 ہجری میں ان کو حضور اقدسﷺ نے امیر لشکر مقرر فرمایا۔
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے 9 ہزار کے لشکر پر انہیں سردار بناکر فلسطین بھیجا اور فلسطین ان کے ہاتھوں فتح ہوا۔
خلافت فاروقی میں آپ نے مصر کو فتح کیا۔ خلافت عثمانی میں آپ نے اسکندریہ کو فتح کیا وغیرہ
5: عدی بن حاتم بن عبداﷲ بن سعد طائی (مشہور سخی حاتم طائی کا بیٹا)
ملک عرب کے مشہور سخی حاتم طائی کے نام سے شاید ہی کوئی ناآشنا ہوگا۔ اس عدی بن حاتم طائی کا واقعہ بھی عجیب و غریب ہے۔ عدی بن حاتم بھی اپنے والد حاتم طائی کی طرح سخی تھے۔ وہ قبیلہ بنی طے کے سردار تھے۔ وہ اپنی قوم میں عزیز، شریف، فاضل، خطیب اور حاضر جواب تھے۔ قبیلہ بنی طے میں بڑا بت خانہ تھا۔ سن 9 ہجری میں حضور اکرم رحمت عالمﷺ نے مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کرم اﷲ تعالیٰ وجہ الکریم کو قبیلہ بنی طے کی اصلاح کے لئے بھیجا لیکن قبیلہ بنی طے کے لوگ مزاحم ہوئے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے اس بات خانے کو بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔ قبیلہ طے کا سردار عدی بن حاتم طائی بھاگ کر ملک شام چلا گیا۔ سیدنا علی رضی اﷲ عنہ قبیلے طے سے کچھ لوگوں کو قید کرکے مدینہ منورہ لے آئے۔ ان قیدیوں میں عدی بن حاتم طائی کی بہن سقانہ بنت حاتم طائی بھی تھی۔ تمام قیدیوں کو مدینہ منورہ میں ایک مکان میں قید رکھاگیا تھا۔ ایک دن سید عالمﷺ اس مکان کے قریب سے گزرے جہاں آلِ حاتم طائی کو قید رکھا گیا تھا۔ حاتم طائی کی بیٹی سقانہ جو نہایت خوبصورت، حسین و جمیل اور فصیح و عورت تھی۔ اس نے حضور پاکﷺ کو اسیروں کے مکان کے قریب آتے دیکھا تو کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی کہ ’’یارسو اﷲﷺ میرے باپ کا انتقال ہوگیا ہے اور میرا بھائی غائب ہے۔ مجھ پر احسان فرمایئے، حق تعالیٰ جل شانہ آپ پر فضل و کرم فرمائے گا‘‘ حضور سید عالمﷺ نے فرمایا کہ تیرا فدیہ کون ادا کرے گا؟ اس نے عرض کیا کہ میرا بھائی عدی بن حاتم طائی۔ رسول خدا نے فرمایا کہ ’’وہ تو خدا اور رسول خدا سے بھاگا ہوا ہے‘‘ یہ فرما کر حضور اقدس تشریف لے گئے۔ دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا لیکن تیسرے دن حضور اکرمﷺ نے توجہ فرمائی اور سقانہ کو سواری اور سفر خرچ عطا فرما کر باعزت رخصت کردیا۔ سقانہ اپنے قبیلے میں گئی۔ پھر وہاں سے وہ ملک شام گئی اور پنے بھائی سے ملی اور حضور اقدسﷺ کے اخلاق کریمہ اور احسان و عنایات کاذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ تمہارے متعلق حضور اقدسﷺ نے ایسا فرمایا ہے کہ وہ تو خدا اور رسول خدا سے بھاگا ہوا ہے۔ اپنی بہن سقانہ کی بات کا عدی بن حاتم پر گہرا اثر ہوا اور وہ کہنے لگا کہ بھلا خدا اور رسول خدا سے کہاں بھاگ سکتا ہوں۔ پھر وہ بنی طے کے وفدکے ساتھ حضور اقدسﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔
جنگ یرموک کے پہلے دن رومی لشکر کی جانب سے جبلہ بن ایہم غسانی 60 ہزار عرب منتصرہ کے ساتھ میدان میں آیا تھا۔ ان 60 ہزار رومی لشکر کے سپاہیوں کے سامنے لڑنے کے لئے حضرت خالد بن ولید اسلامی لشک سے صرف 60 آدمی لے کر معرکہ جنگ میں گئے تھے۔ یعنی ایک ہزار رومی سپاہیوں کے مقابلے میں صرف ایک مجاہد اسلام تھا۔ حضرت خالد بن ولید نے لشکر اسلام سے جن 60 دلیر اور شجاع مجاہدوں کا انتخاب کیا تھا۔ ان میں حضرت عدی بن حاتم طائی بھی شامل تھا۔
(نوٹ: اس مضمون کو ترتیب دیتے ہوئے کئی پیرائے اور فقرے حذف کرنے پڑے تاکہ مضمون زیادہ طویل نہ ہوجائے)