پاکستان میں توہین رسالت کا قانون ختم ہوا تو لوگ خود سزائیں دینگے

in Articles, Authors, Tahaffuz, January 2011, ا نصا ر عبا سی, اسمٰعیل قریشی ایڈووکیٹ, متفرقا ت

پاکستان میں تحریک ناموس رسالت کے حوالے سے اسمٰعیل قریشی ایڈووکیٹ کا نام بہت نمایاں ہے۔ آج کل وہ ایک حادثے کی وجہ سے علیل ہیں۔ ملعونہ آسیہ کے معاملے پر ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ تک میں توہین رسالت کے حوالے سے قوانین موجود ہیں اور امریکہ کی بعض ریاستوں میں تو توہین مسیح پر موت کی سزا موجود ہے۔ قانون ناموس رسالت پر اسمٰعیل قریشی ایڈووکیٹ کی مخصوص گفتگو قارئین کی نذر ہے۔

سوال: قانون توہین رسالت کے حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ اس پر عملدرآمد میں گڑبڑ ہے اور مقدمات جھوٹے بنائے جاتے ہیں؟

جواب: اصل بات یہ ہے کہ اس قانون کو غیر موثر بنانے کے لئے اس کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ اس وقت آسیہ کا مقدمہ اچھالنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ کسی طرح اس قانون کو ختم کیا جائے، تاکہ وہ پاکستان میں بھی نعوذ باﷲ نبی اکرمﷺ کی ناموس پر ضرب لگالیں۔ اگر وہ پاکستان میں اس قانون کو ختم کرانا چاہتے ہیں تو یہ ان کی منافقت ہے۔ امریکہ اور یورپ میں تو توہین مسیح کا قانون ہے۔ امریکہ کی بعض ریاستوں میں اس جرم کی سزا موت ہے۔ وہاں پر اس قانون اور اس سزا کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ بھی مجرم ٹھہرتا ہے۔ ہمارے یہاں قانون کی بڑی آزادی ہے۔ برطانیہ میں بھی توہین مسیح پر قانون ہے اور اس کی سزا عمرقید ہے۔ کیونکہ برطانیہ میں سزائے موت ختم ہوگئی ہے۔ سب سے بڑی سزا عمر قید ہے۔ توہین مسیح تو بہت بڑا جرم ہے۔ وہاں پر ان معاملات میں یہ لوگ اس قدر حساس ہیں کہ مدر ٹریسا پر ایک فلم بنی جس میں وہ وجد میں آکر حضرت مسیح کی شبیہہ کے بوسے لیتی ہے تو اس فلم کی نمائش پر فورا ہی پابندی لگادی گئی۔ فلم کا معاملہ ہاؤس آف لارڈ میں گیا۔ وہاں اس کی توثیق ہوئی اور وہاں یہ بھی کہا گیا کہ اگر آپ ٹریسا کے حوالے سے بات کررہے ہیں تو آپ توہین مسیح کے قانون کو وسیع کریں اور اسے تمام انبیاء کے لئے رکھیں۔ صرف حضرت عیسٰی علیہ السلام کے لئے نہیں تو جواب یہ آیا کہ ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ اگر اسلام پر جارحانہ حملہ ہوتا ہے تو ہمارے نزدیک وہ حملہ جائز ہے۔ کیونکہ اسلام ہمارا مذہب نہیں ہے۔ آپ دیکھئے کہ برطانیہ خود کو ایک سیکولر ملک نہیں کہتا بلکہ وہ اپنی شناخت ایک مسیحی ملک کے طور پر رکھتا ہے۔ اس کے پرچم پر صلیب آویزاں ہے۔ فلم بنانے والے یورپی یونین میں گئے۔ وہاں انہیں اجازت نہیں ملی۔ یورپ کی انسانی حقوق کی عدالتوں نے اس احتجاج کو خارج کردیا اور فلم پر پابندی برقرار رکھی کہ وہ ان معاملات میں دخل نہیں دیں گے۔ کیونکہ یہ برطانیہ کا قانون ہے اور وہ کسی ملک کو اپنا قانون تبدیل کرنے کے لئے نہیں کہہ سکتے۔ لیکن وہ ہمیں کہتے رہتے ہیں۔ یہ تو ان کا اپنا اصل ہے کہ وہ کتنے مذہبی ہیں اور اپنے معاملات میں کس قدر سخت گیر ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنے نبیﷺ کی حرمت و ناموس کی حفاظت کا حق نہیں دینا چاہتے۔ رکن قومی اسمبلی ایاز امیر بھی قانون توہین رسالت کا مذاق اڑا کر توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے مضحکہ خیز باتیں کرکے ناموس رسالت کا مذاق اڑایا ہے۔ ذرا میاں نواز شریف اپنے ان رکن اسمبلی کی گرفت تو کریں۔ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ توہین رسالت کوئی جرم نہیں ہے۔ میں اس شخص کے خلاف توہین رسالت کے جرم میں مقدمہ دائر کرنا چاہتا ہوں۔

سوال: اعتراض تو یہ ہے کہ اس قانون کاغلط استعمال ہوتا ہے لہذا طریقہ کار ٹھیک کردیا جائے تاکہ اس قانون کا غلط استعمال نہ ہو؟

جواب: ان لوگوں کو صرف اسلامی قوانین کا لفظ استعمال ہی کیوں دکھائی دیتا ہے جبکہ دیگر عام قوانین کا تو وہ خود غلط استعمال کررہے ہیں۔ انہیں قانون ناموس رسالت پر اعتراض ہے۔ حدود قوانین پر اعتراض ہے۔ زنا کا قانون یہ ہے کہ عورت شکایت کرے تو زنا ہے۔ کیا اس قانون کا عورتیں غلط استعمال نہیں کررہی ہیں۔ کون سا قانون ہے جو غلط استعمال نہیں ہورہا۔ اس کا مطلب تویہ ہے کہ ملک سے سرے سے قانون ہی ختم کردیا جائے۔

سوال: اگر یہ قانون ختم ہوگیا تو پھر کیا ہوگا؟

جواب: پھر تو احتجاج کا ایک طوفان اٹھے گا اور پھر لوگ ازخود توہین رسالت کے مجرموں کو سزا دیں گے۔ تمام مسالک میں بھی اس کی سزا موت ہے۔ اس لئے جو شخص توہین رسالت کرتا ہے۔ وہ مرتد ہوجاتا ہے اور مرتد کی سزا موت ہے۔ تقریبا ہر فقہ میں اس کا ذکر ہے۔ میں نے اپنی کتاب ’’ناموس رسول اور قانون توہین رسالت‘‘ میں تفصیل کے ساتھ تمام مذاہب کا اس حوالے سے جائزہ لیا ہے اور پھر بائبل کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ اگر کوئی ان کے پادری کی توہین کرے تو اسے سنگسار کردیتے ہیں۔ پیغمبر کی ہی نہیں، پادری کی توہین پر بھی اتنی سنگین سزا ہے اور یہ بائبل کا قانون ہے۔ برطانیہ میں اٹھارہویں صدی تک توہین مسیح کے ملزم یا مجرم کو زندہ جلادیا جاتا تھا اور اب بھی وہاں اس جرم کی سزا عمرقید ہے۔ اب پاکستان میں یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس قانون کے نفاذ کا طریقہ کار تبدیل کیا جائے۔ طریقہ کار کا تعین تو شریعت کرتی ہے۔ شراب پینے کی سزا 80 کوڑے شریعت نے مقرر کردی ہے۔ ایک پروگرام میں اعجاز الحق اور میں شریک تھے۔ بات طریقہ کار پر ہورہی تھی۔ وہ طریقہ کار کے لئے پرجوش تھے میں نے ان سے سوال کیا کہ اگر آپ کے سامنے رشدی آجائے تو آپ کیا کریں گے۔ اعجاز الحق نے فورا کہا میں گولی ماردوں گا۔ یہ پروگرام ریکارڈ پر موجود ہے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کا طریقہ کار کہاں گیا؟ آپ نے تو فورا ہی تولی ماردی۔ اعجاز الحق نے کہا کہ کوئی شخص یہ کیسے برداشت کرسکتا ہے؟ میں نے کہا کہ آپ وزیر مذہبی امور ہوتے ہوئے یہ برداشت نہیں کرسکتے تو پھر ایک عام مسلمان سے کیا توقع رکھتے ہیں۔ آج کل طریقہ کار کی باتیں صرف اس قانون کو ختم کرنے کے لئے کی جارہی ہیں اور اسی لئے آسیہ کا مقدمہ سامنے لایا گیا ہے۔ اب اس نے گستاخی کی ہے تو کیا اسے آئندہ ایسی گستاخیاں کرنے کے لئے لائسنس جاری کردیا جائے؟ اس کی حمایت کے لئے گورنر پنجاب جیل میں گئے اور اس سے رحم کی اپیل پر دستخط کرائے۔ رحم کی اپیل تو اس وقت ہوتی ہے کہ جب سزا طے ہوجائے۔ ابھی تو کئی مرحلے باقی ہیں۔ یہ ایک ریفرنس ہے جو ایڈیشنل سیشن جج کی طرف سے ہائی کورٹ کے لئے ہے۔ وہاں پر گواہیاں شہادتیں ہوں گی۔ معاملہ ہائی کورٹ میں پیش ہوگا اور پھر سزا کے متعین ہونے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ رحم کی اپیل ہوسکتی ہے یا نہیں۔ ایسے ہی کوئی اسی پھانسی پر نہیں لٹکاسکتا۔ لیکن جو لوگ قبل از وقت شور مچا رہے ہیں وہ دراصل خود توہین رسالت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ملک میں ایک قانون موجود ہے، اسے طریقہ کار کے مطابق چلنے دیں اور وقت سے پہلے شور مچا کر عدالت پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہ کریں۔ گورنر پنجاب کہتے ہیں کہ یہ ضیاء الحق کا قانون ہے۔ میں انہیں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرکے بتاؤں گا کہ یہ اﷲ کا قانون ہے۔

سوال: گورنر پنجاب تو حکومت کے نمائندے ہیں؟

جواب: ہوں گے، لیکن صدر زرداری نے معاملات کو نہایت دانشمندی سے سلجھایا اور ملعونہ آسیہ کی رحم کی اپیل فوری منظور نہیں کی اور توقع ہے کہ وہ اس طریقہ کار کو پورا ہونے دیں گے۔ بابر اعوان نے جس جرات کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اچھی لگی۔ انہوں نے کہا کہ میں اس قانون کو نہ ختم ہونے دوں گا اور نہ اس میں ترمیم ہونے دوں گا۔ اگر وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں۔ کیونکہ یہ پوری امت مسلمہ اور خاص کر پاکستانی مسلمانوں کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ یہ بہت حساس نوعیت کی بات ہے۔ ایک ممتاز مذہبی سیاسی رہنما کو حال ہی میں اپنی توہین کی بڑی فکر تھی لیکن توہین رسالت پر ان کا آج تک کوئی بیان نہیں آیا۔ ہماری زندگیوں سے اگر حضرت محمدﷺ کا نام نکل جائے تو پھر ہمارے زندہ رہنے کا کیا جواز ہے۔ جب میں نے اس قانون کے لئے جنگ لڑی اور سپریم کورٹ سے اس قانون کی منظوری حاصل کی تو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے مضمون لکھا ’’پاکستان وار آن کرسچنز‘‘ یعنی یہ قانون پاکستان کے عیسائیوں کے خلاف اعلان جنگ ہے اور انہوں نے توہین رسالت کے قانون کو نعوذ باﷲ قریشی کا قانون (قریشینز لاء) کہا۔ انہوں نے لکھا کہ ایک پاکستانی وکیل اسمٰعیل قریشی نے یہ قانون بنایا ہے۔ یہ لوگ تو اس طرح کی شرارتیں کرتے رہتے ہیں۔ روس میں جب تک سوشلزم نہیں آیا تھا، وہاں پر بھی توہین مسیح کی سزا موت تھی۔ پورے یورپ میں اس کی سزا زندہ جلادینے اور موت کے سوا کچھ نہیں۔ آج بھی امریکہ کی بعض ریاستوں میں توہین مسیح کی سزا موت ہے لیکن وہاں اس کے خلاف کوئی احتجاج کرتا نظر نہیں آتا۔ اس قانون پر احتجاج کرنے والوں کو سزا ملتی ہے کہ وہ کس طرح سے رائج قانون کے خلاف عوامی جلسوں میں تقریر کررہے ہو۔

سوال: کیا اس مسئلہ پر مسلمانوں کے اندر کوئی مسلکی اختلاف ہے؟

جواب: ہرگز نہیں! بلکہ فقہ جعفریہ کا حکم تو میں آپ کو بتاچکا ہوں۔ پھر خمینی کا ملعون رشدی کے لئے فتویٰ بھی آپ کے سامنے ہے کہ اسے جو بھی مسلمان جہاں دیکھے، فورا مار ڈالے۔ میں نے اپنی کتاب میں ان کا ایک مکمل فتویٰ شامل کیا ہے اور امام خامنہ ای نے خمینی کے فتوے کو اس لئے جاری رکھا ہے کہ خمینی نے اپنی زندگی میں اس فتوے کو واپس نہیں لیا تھا۔ لہذا وہ بھی واپس نہیں لے سکتے۔ لیکن ہمارے ہاں نجانے کیسے لوگ ہیں اوران کے اندر ایمان کی کیسی کمزور جڑیں ہیں، جب توہین رسالت کا قانون بنا تھا تو یہاں پر سیکریٹری قانون ضیاء محمود مرزا ہوا کرتا تھا جو فیصلہ میں نے سپریم کورٹ سے حاصل کیا تھا کہ توہین رسالت کے مجرم کی سزا موت ہوگی۔ اس نے حکومت کی طرف سے اس فیصلے کے خلاف اپیل کردی جبکہ اس وقت وزیراعظم میاں نواز شریف تھے۔ اس وقت میاں شریف جو نواز شریف کے والد تھے، میں ان سے ملنے کے لئے چلا گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ میاں صاحب! آپ کا گھرانہ تو دینی گھرانہ مشہور ہے۔ آپ کے صاحبزادے یہ کیا کررہے ہیں کہ توہین رسالت کی سزا موت مقرر ہوئی ہے تو وہ اس کے خلاف اپیل کررہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر میں پریس کانفرنس کردوں تو پھر کراچی سے خیبر تک ان کے خلاف احتجاج شروع ہوجائے گا۔ وہ حیرانگی سے کہنے لگے کہ یہ نواز نے کیا ہے؟ تو میں نے کہا کہ جی ہاں! آپ کے صاحبزادے میاں محمد نواز شریف نے ایسا کیا ہے۔ میاں شریف غصے میں آگئے۔ انہوں نے اسی وقت ہاٹ لائن پر میاں نواز شریف سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا انہوں نے توہین رسالت کی سزا کے خلاف اپیل کی ہے؟ میاں نواز شریف نے کہا کہ ہم ایسا کس طرح کرسکتے ہیں؟ اس جرم کی موت سے بڑھ کر بھی اگر کوئی سزا ہو تو ہم وہ بھی دیں گے۔ یہ تو کسی کی شرارت معلوم ہوتی ہے اور پھر حکومت نے اپیل واپس لے لی۔ میں نے توہین رسالت کے قانون کے لئے اپنی پٹیشن میں ہر مکتبہ فکر اور ہر سیاسی جماعت کو شامل کیا تھا تاکہ اتحاد کا مظاہرہ ہو۔ آج ایک بار اسی اتحاد کی ضروت ہے کہ ناموس رسالت کا تحفظ ہو۔ ورنہ قانون ناموس رسالت کا طریقہ کار تبدیل کرنے کے بعد ایک بار پھر قانون کو ختم کرنے کی بات کی جائے گی۔ میں ایاز امیر اور گورنر پنجاب کے خلاف توہین رسالت کے جرم میں مقدمہ دائر کروں گا۔ گورنر پنجاب نے یہ کہا ہے کہ توہین رسالت کی سزا اسلام میں نہیں ہے۔ انہیں یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلیں اور قرآن کے حوالے سے جھوٹ بولیں؟ ایاز امیر مذاق اڑاتے ہیں کہ لوگ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ کیا یورپ میں کہیں عیسائیت کا قلعہ ہے؟ حالانکہ سارا یورپ اور امریکہ عیسائیت کا قلعہ ہے۔ بش نے ایسے ہی نہیں کہا تھا کہ ہم صلیبی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ بھی کروسیڈ کی ایک قسم ہے۔