آخر ڈالر بھی تو کمانے ہیں

in Articles, Authors, Tahaffuz, January 2011, ا نصا ر عبا سی, متفرقا ت

محترم محمد اسمٰعیل قریشی ایڈووکیٹ کی کتاب ’’ناموس رسول اور قانون توہین رسالت ‘‘ اس جدوجہد کا تفصیل سے ذکر کرتی ہے جس کے نتیجے میں ناموس رسالت کا قانون وجود میں آیا۔ قریشی صاحب نے توہین رسالت کے موجودہ قانون کو بنوانے میں نہ صرف عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے بلکہ اس وقت کے حکمرانوں اور اہم سیاستدانوں سے ملتے رہے۔ چند روز قبل قریشی صاحب سے میری فون پر بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کی اس تحریک کی وجہ اس وقت کے بائیں بازو کا وہ نام نہاد لبرل طبقہ تھا جس نے کھلے عام قرآن، اسلام اور حضرت محمدﷺ کے بارے میں گستاخانہ کلمات بولنے اور لکھنے شروع کر دیئے تھے۔ اس دور میں روس سے پاکستان میں کمیونزم کے پجاریوں کے لئے وسیع پیمانے میں ایسا مواد بھیجا جاتا تھا جس میں اسلامی تعلیمات اور نبیﷺ کے متعلق گستاخانہ پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا۔ پاکستان میں موجود بائیں بازو کا ایک لبرل طبقہ اور کچھ لبرل فاشسٹ اس تمام تر پروپیگنڈے میں سرگرم عمل تھے۔ اپنے مذہب سے بے بہرہ یہ طبقہ اس پروپیگنڈہ میں پیش پیش تھا جبکہ اقلیتوں میں ماسوائے چند قادیانیوں کے نہ تو کوئی عیسائی اور نہ ہی ہندو، سکھ یا کسی دوسرے مذہب کا پیروکار اس سازش میں شامل تھا۔ اس دوران ایک نام نہاد مسلمان نے ایک ایسی کتاب لکھ ڈالی جس میں اسلام اور نبی کریمﷺ کے بارے میں گستاخانہ انداز میں باتیں کی گئیں۔ 1984ء میں ایک اور ’’مسلمان‘‘ شخصیت جس پر قادیانی ہونے کا بھی الزام لگایا جاتا رہا نے راولپنڈی میں حضرت محمدﷺ کے بارے میں نازیبا الفاظ ادا کر دیئے۔ اس پر اْس کو امریکہ بھاگنا پڑا اور بعد ازاں اس شخصیت نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے خوب نام کمایا۔ اس پس منظر میں توہین رسالت کے قانون کی جدوجہد شروع ہوئی۔ اس سلسلے میں اسمٰعیل قریشی صاحب نے 1984ء میں سب سے پہلے فیڈرل شریعت کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جو قانون توہین رسالت کے حق میں ایک باقاعدہ تحریک کا آغاز تھا۔ اس دوران اسمٰعیل قریشی اور محترمہ آپا نثار فاطمہ ( اللہ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے)نے قومی اسمبلی کیلئے بل تیار کیا۔ یہ بل آپا نثار فاطمہ نے خود قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ اس وقت کے وزیر مملکت برائے قانون میر نواز خان مروت نے نہ صرف اس بل کی تیاری میں بھی مدد کی بلکہ جب اس کو اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اس کی حمایت بھی کی۔ قریشی صاحب کے مطابق اس وقت کے وزیر قانون اقبال احمد خان مرحوم، جماعت اسلامی کے ایم این اے لیاقت بلوچ اور سندھ سے قومی اسمبلی کے رکن شاہ بلیغ الدین کو ابتدا میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ وہ اس بل کو قومی اسمبلی میں پیش کریں مگر ان میں سے کسی نے ایسا نہ کیا۔ آپا نثار فاطمہ صاحبہ کے پیش کئے جانے پر یہ بل قومی اسمبلی سے پاس کرایا گیا اور اس کے مطابق توہین رسالت کے مجرم کو سزائے موت یا عمر قید دی جا سکتی تھی۔ اسمٰعیل قریشی صاحب نے فیڈرل شریعت کورٹ میں استدعا کی کہ اس جرم کی سزا صرف اورصرف سزائے موت ہونی چاہئے جس پر 1990ء میں فیڈرل شریعت کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا اور حکومت کو اس قانون کو تبدیل کرنے کے لئے کہا تاکہ ناموس رسالت کے گستاخ کے لئے سزائے موت متعین کی جائے۔ یاد رہے کہ قریشی صاحب کی اس درخواست میں جنرل ضیاء الحق مرحوم کو بھی پارٹی بنایا گیا تھا۔ شریعت کورٹ کا فیصلہ آنے پر اس وقت کی حکومت نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر دی اس پر اسمٰعیل قریشی صاحب نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف صاحب کے والد محترم جناب میاں شریف مرحوم سے ملاقات کی اور انہیں درخواست کی کہ وہ وزیراعظم سے بات کریں تاکہ حکومت شریعت کورٹ کے خلاف کی گئی اپیل کو واپس لے لے۔ قریشی صاحب کے مطابق میاں شریف صاحب (اللہ ان کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے) نے فوری طور پر وزیراعظم کو فون کر کے کہا کہ حکومت اپنی اپیل واپس لے لے۔ میاں نواز شریف نے ایسا ہی کیا اور جس کے بعد 1992ء میں 295۔C میں ترمیم کر کے عمر قید کو نکال کر اس جرم کی سزا کو سزائے موت مقرر کر دیا۔

اس تمام پس منظر میں آج اگر توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کرنیوالوں اور ایسے افراد جو اس قانون کو پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف ظلم ڈھانے کا ذریعہ بنا کر پیش کرتے ہیں، کا احاطہ کیا جائے تو ان میں کچھ سرکردہ نام اور چہرے وہ ہیں جن کا تعلق اسی لبرل فاشسٹ طبقہ سے ہے جن کی دین سے دشمنی ان کے دل سے کسی صورت نہیں نکلتی۔ بہت سے لوگ جن میں لبرل افراد بھی شامل ہیں صاف نیت سے اس قانون میں بہتری لانے کی بات کرتے ہیں جو ایک جائز مطالبہ ہے، مگر مغرب زدہ لبرل فاشسٹ کا مخصوص طبقہ آسیہ مسیح کے کیس کو بغیر پڑھے پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ آسیہ مسیح کو سیشن جج نے سزائے موت کی سزا دی جس کے خلاف مجرمہ نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ آج سے پہلے کسی شخص کو اس قانون کے تحت سزائے موت نہیں ہوئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس خاتون کے بارے میں ہائی کورٹ کیا فیصلہ کرتی ہے مگر یہاں یہ بات بتانا انتہائی ضروری ہے کہ توہین رسالت کے قانون کےتحت زیادہ تر مقدمات پاکستان کے ’’مسلمان‘‘ شہریوں کے خلاف قائم کئے گئے۔ یہ حقیقت اس پروپیگنڈہ کی مکمل نفی ہے کہ قانون توہین رسالت پاکستان کی اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، مگر امریکہ و یورپ سے ڈالر وصول کرنے والوں، اسلام کے خلاف اپنے دل میں بغض رکھنے والوں اور شراب اور زنا کے رسیا آسیہ مسیح کے کیس کو پاکستان اور اسلام کی بدنامی کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ حال ہی میں کراچی کی ایک عدالت نے ایک” مسلمان” کو بھی اس جرم پر سزائے موت سنائی مگر اس کیس پر سب خاموش ہیں کیونکہ یہاں پروپیگنڈہ نہیں ہو سکتا اور باہر سے ڈالر ملنے کا چانس کم ہے۔ یہ لبرل فاشسٹ مغرب کی غلامی میں زندہ رہنا چاہتے ہیں اور اپنے دین سے دوری کی وجہ سے اسلام سے شرمندہ شرمندہ رہتے ہیں۔ آسیہ مسیح کے مسئلے پر عدالتی نظام پر بھروسہ کرنے کی بجائے یہ لوگ کسی بھی حد پر جانے کے لیے تیار ہیں مگرامریکہ و یورپ کی اسلام دشمنی، ان کی طرف سے عراق و افغانستان میں 20 لاکھ سے زائد مسلمانوں کے قتل، مغرب میں حضرت محمدﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت، فرانس میں مسلمان خواتین پر برقع پہننے پر پابندی، عافیہ صدیقی کی امریکہ میں سزا اور ایسے دوسرے اسلام دشمن معاملات پر تو ان کی زبانیں کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔ آخر ڈالر بھی تو کمانے ہیں!