حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, October 2008, د ر خشا ں ستا ر ے

بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اس سوال پر اجل شیرازی رحمتہ اﷲ علیہ نے حاضرین کی طرف دیکھا اور بلند آواز میں فرمایا ’’اہل مجلس غور سے سن لیں۔ میں اس سلسلے میں وہی کہتا ہوں جو حضرت جنید بغدادی رحمتہ اﷲ علیہ کا قول ہے۔ حضرت جنید رحمتہ اﷲ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اہل دنیا سے رسم و راہ رکھنا اور امرائے وقت سے ملاقاتیں کرنا فقیر کے لئے قطعا حرام ہے۔‘‘
حضرت اجل شیرازی رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ میں حاضری کے علاوہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے بخارا کے مضافات کی بھی سیر کی۔ ایک دن آپ ایک غار میں داخل ہوئے جہاں ایک بزرگ سالہا سال سے محو عبادت تھے۔ بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ نے ان بزرگ سے بھی دعائیں حاصل کیں اور رخصت ہونے سے پہلے دریافت کیا کہ آپ ایک تارک الدنیا شخص کا لباس پہن کر صرف اس غار تک کیوں محدود ہوگئے ہیں؟‘‘
بزرگ نے جوابا فرمایا ’’جب دنیا انسان کو بہت زیادہ ستانے لگے اور انسان بھی محسوس کرنے لگے کہ وہ ہلاک ہوجائے گا تو اسے لازم ہے کہ وہ شہر سے نکل کر جنگلوں کا رخ کرے میں بھی یہی سوچ کر اس غار میں مقید ہوا تھا مگر یہاں بھی مجھے دولت سکون میسر نہیں‘‘ اتنا کہہ کر بزرگ خاموش ہوگئے۔
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دوبارہ عرض کیا ’’حضرت! اپنا کوئی مشاہدہ تو بیان فرمائیں تاکہ یہ حقیر و عاجز اپنے علم میں اضافہ کرسکے‘‘
بزرگ نے ایک آہ سرد کھینچی ’’فرید! میں جاں سوختہ‘ تجھ سے اپنی روداد کیا بیان کروں؟ ساٹھ سال سے اس غار میں رہتا ہوں مگر ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا‘ جب مجھ پر کوئی بلا نازل نہ ہوتی ہو اور جس روز بلا نازل نہیں ہوتی تو گریہ وزاری کرکے خود اس کے لئے التجا کرتا ہوں‘ جب مرضی دوست آزمائش میں پوشیدہ ہے تو پھر میں کیوں نہ اس کی آرزو کروں فرزند! تجھے بھی بس میرا یہی سبق ہے کہ انسان کو بلائوں پر اس طرح صبر کرنا چاہئے کہ جیسا صبر کرنے کا ہے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ان بزرگ سے مل کر دوبارہ حضرت اجل شیرازی رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر دوسرے دن سرزمین بخارا کو الوداع کہا۔
٭……٭……٭
بخارا کی حدود سے نکل کر بغداد پہنچے اور مشہور بزرگ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت شیخ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’عوارف المعارف‘‘ کا کچھ حصہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو خود پڑھایا اور اس کے مطالب ذہن نشین کرائے۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ میں امراء قیمتی تحائف اور زرکثیر لے کر حاضر ہوتے تھے‘ مگر شیخ کا حکم تھا کہ جو کچھ بھی آئے اسے بلاتاخیر بندگان خدا میں تقسیم کردیا جائے۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہرردی  رحمتہ اﷲ علیہ فرمایا کرتے تھے۔
’’اگر دولت کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا جائے تو اہل دنیاکو تونگری کا طعنہ دیں گے اور یہ ایک بڑی سنگین تہمت ہوگی جسے درویش کسی بھی حال میں برداشت نہیں کرسکتا۔ درویشی تو نام ہی خود فروشی کا ہے سو میں نے اپنے آپ کو بیچ دیا ہے‘‘
ایک دن حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ میں حضرت جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ‘ حضرت اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت شیخ برہان الدین سیتانی رحمتہ اﷲ علیہ حاضر تھے۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دیکھا کہ حضرت شیخ کے ایک مرید نے خرقہ خلافت کی درخواست کی۔ یہ مرید ایک عرصہ دراز سے عبادت و ریاضت میں مشغول تھا اور اب اس کی شدید خواہش تھی کہ وہ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کے دوسرے خلفاء کی طرح اس اعزاز سے نوازا جائے۔
مرید کی اس خواہش کے جواب میں حضرت شیخ شہاب الدین سہرردی رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
’’آج مجھے معاف کرو‘ کل کسی وقت آئو گے تو اس معاملے پر غور کریں گے‘ پھرجو خدا کی مرضی ہوگی وہی ظاہر ہوجائے گی‘‘
پیرومرشد کا حکم سن کر مرید چلا گیا۔پھر دوسرے دن واپس آیا تو خانقاہ کے ایک گوشے میں سر جھکا کر بیٹھ گیا اہل مجلس نے دیکھا کہ مرید کے چہرے پر افسردگی کا رنگ نمایاں تھا۔
حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ نے مرید کی طرف نگاہ کی اور فرمایا ’’کیا اب بھی تمہیں خرقہ خلافت کی خواہش ہے؟ رات تم نے خواب میں اپنی آنکھوں سے ایک پیر اور اس کے مرید کا حشر دیکھا لیا۔ فرشتے ان دونوں کو کھینچتے ہوئے دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف لے جارہے تھے تم نے اپنے اس خواب کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی؟‘‘
مرید نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بے حس و حرکت سرجھکائے بیٹھا رہا۔
حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ نے دوبارہ اپنے مرید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’تم سمجھتے ہو کہ ان دونوں کا یہ عبرتناک انجام کیوں ہوا؟ اس لئے کہ وہ خرقے کے نام سے دنیا کمایا کرتے تھے اور ہر وقت اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں مصروف رہتے تھے‘‘ اس کے بعد حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ نے دیگر حاضرین مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’جب تک انسان کا دل دنیا کی کثافتوں سے پاک نہ ہوجائے‘ اس وقت تک مرشد پر فرض ہے کہ وہ کسی شخص کو خرقہ نہ دے… اور مرید کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ خرقہ نہ پہنچے‘‘
حضرت بابا فرید کچھ دن تک حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کی صحبتوں سے فیضیاب ہوتے رہے تھے۔ یہ وہی شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ ہیں جو 549ھ میں بمقام ’’سہرورد‘‘ پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے امام مجدالدین سے فلسفے اور فقہ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ آپ پر فلسفے کا رنگ غالب تھا اس لئے مختلف مذہبی مسائل میں عقل و دانش کے سہارے بحث کرتے تھے جس کا کبھی کبھی خوفناک نتیجہ برآمد ہوتا تھا۔ اس قسم کے بیشتر مناظرے شہر ’’حلب‘‘ میں ہوئے۔ بالاخر فقہاء کی ایک جماعت حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کی مخالف ہوگئی۔ آپ کے بعض مریدوں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ اپنے نظریات کو اعتدال میں رکھیں مگر شیخ کے دل و دماغ مذہب کے ایک خاص زاویئے سے متاثر ہوچکے تھے اور آپ کے بیان کی شدت میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
انجام کار اس دور کے چند مشہور فقیہوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ کو ایک مشترکہ خط میں تحریر کیا ’’یہاں شیخ شہاب الدین نامی ایک درویش ہے جس کے الجھے ہوئی خیالات سے مسلمان گمراہ ہوتے جارہے ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ اہل ایمان کو فوری طور پر اس فتنے سے نجات دلائی جائے‘‘
فقہاء کی اس شکایت کے جواب میں سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے بیٹے سلطان الظاہر کو جو حلب کا حکمران تھا‘ ایک خط لکھا جس میں واضح طور پر تحریر کیا گیا تھا۔
’’ہماری سلطنت کے مشہور اور معتبر فقہ‘ شیخ شہاب الدین کے خلاف گواہی دے چکے ہیں‘ اس لئے ایک ایسے درویش کو زندہ نہ چھوڑا جائے جو لاکھوں اہل ایمان کی زندگی سے کھیل رہا ہو‘‘
سلطان الظاہر نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اپنے باپ کے حکم کی تکمیل کی اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ اپنے خون میں نہاگئے۔ اسی لئے تصوف کی بعض کتابوں میں آپ کو شیخ شہاب الدین ’’مقتول‘‘ لکھا گیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک روایت یہ ہے کہ صلاح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ نے نہیں بلکہ اس کے بیٹے سلطان الظاہر نے براہ راست شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔ جب حضرت شیخ کو اس حقیقت کا علم ہوا کہ فقہائے حلب کفر کے الزام میں آپ کے قتل کا فتویٰ دے چکے ہیں تو آپ نے سلطان الظاہر سے درخواست کی۔
’’مجھے ایک مکان میں قید کردیا جائے۔ سلطان کی طرف سے کھانے پینے کی چیزوں کا اہتمام کیا جائے مگر میں ذاتی طور پر ایک لقمہ بھی اپنے حلق سے نہیں اتاروں گا یہاں تک کہ وہ دن آجائے گا جب شدت ناتوانی اور بھوک میرے جسم کو فنا کردے گی اس طرح سلطان کے حکم کی بھی تعمیل ہوجائے گی اور فقہاء کی جماعت کو بھی قرار آجائے گا‘‘ بعض معتبر تاریخ نویسوں کے نزدیک یہ روایت معتبر نہیں ہے۔
دراصل واقعہ یہی ہے کہ اس زمانے کے مشہور فقیہوں نے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کے بعض اقوال کو کفر کے دائرے میں شامل کرکے آپ کے خلاف قتل کا فتویٰ دے دیا تھا۔ پھر سلطان صلاحح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ سے درخواست کی تھی کہ اس شخص کے بوجھ سے زمین کو ہلکا کردیاجائے گا جس کے افکار و خیالات مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ نے مزید تحقیق کرائے بغیر اپنے بیٹے سلطان الظاہر کو حکم دیا کہ وہ ملت اسلامیہ کے شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ سے نجات دلادے۔ الغرض تصوف میں سلسلہ سہروردی کے بانی کو قتل کردیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بغداد سے رخصت ہوکر سیستان جاچکے تھے۔
٭…٭…٭
کچھ دن بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سیستان پہنچے اور مشہور بزرگ حضرت اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت شیخ اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ روحانیت میں ایک بلند درجہ رکھتے تھے مگر آپ کو کرامت دیکھنے اور دکھانے کا بہت شوق تھا۔ جب بھی کوئی بزرگ آپ کی خانقاہ میں داخل ہوتا تو شیخ کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ اپنی کرامت کا اظہار کرتے اور اس بزرگ کو بھی مجبور کرتے کہ وہ اپنی روحانی قوتوں کا مظاہرہ کرے۔
ایک دن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اور دوسرے بزرگ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ نے تمام بزرگوں سے اپنی اپنی کرامات دکھانے کی خواہش کا اظہار کیا پھر حاضرین کے جواب کا انتظار کئے بغیر خود ہی اہل مجلس کو مخاطب کرکے فرمانے لگے۔
’’یہاں کا حاکم میری بہت دل آزاری کرتا ہے۔ آج وہ چوگان کھیلنے کے لئے گیا ہوا ہے۔ اب اﷲ ہی ہے کہ وہ حاکم صحیح و سلامت واپس آجائے‘‘
ابھی مجلس میں حضرت شیخ اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ کے الفاظ کی گونج باقی تھی کہ کسی شخص نے باہر سے آکر اطلاع دی کہ وہ حاکم گھوڑے سے گر کر مرگیا۔ مجلس میں موجود تمام بزرگ شیخ کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ کی یہ کرامت دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اس کے بعد دوسرے بزرگوں نے بھی اپنی اپنی کرامات کا اظہار کیا۔ آخر میں شیخ کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے کہا۔
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ کریں)