حدود اﷲ میں ترامیم مشرف کو لے ڈوبی

in Tahaffuz, October 2008, متفرقا ت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

18 اگست بروز پیر دن کے وقت صدر پاکستان پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں اپنے صدارتی عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ یوں پندرہ شعبان المعظم کے مبارک دن اس ملک سے آمریت اور ڈکٹیٹر شپ کا خامہ ہوا۔ مشرف نے یہ فیصلہ نہ چاہتے ہوئے تمام سیاستدانوں‘ وکلاء اور عوام کے شدید دبائو پر کیا۔ یوں تو سابق صدر کے عہدہ چھوڑنے کی کئی وجوہات ہیں مگر ان کی پسپائی کی بنیادی وجہ حدود اﷲ میں ترامیم ہے۔
مشرف 1999ء کے بعد سے بہت مضبوطی کے ساتھ حکومت کرتے رہے‘ عروج پر عروج پاتے رہے۔ اپنی خلاف اٹھنے والی ہر طاقت کو پیروں تلے روندتے رہے۔ ہر محاذ پر انہیں کامیابی ملتی رہی۔ سیاسی جماعتیں‘ پاکستانی افواج اور عوام ان کے ساتھ تھی مگر نہ جانے سابق صدر کو کیا سوجھی کہ انہوں نے اپنی طاقت اور اقتدار کے نشے میں حدود اﷲ کو چھیڑنا شروع کردیا۔ آہستہ آہستہ مشرف نے حدود اﷲ میں ترامیم کرنا شروع رکدیں‘ جس کے بعد مشرف کا زوال شروع ہوگیا۔
اﷲ تعالیٰ کی حدود میں ترامیم اس کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ مشرف حکومت نے تحفظ حقوق نسواں بل کے نام پر قرآن مجید کی واضح نصوص کا رد اور انکار کیا ہے‘ جو ایمان کے منافی ہی‘ اس بل میں زنا بالرضا کو تحفظ دیا گیا ہے‘ جس کے نتیجے میں ماضی کی طرح ہماری سوسائٹی میں طوائفوں کے بازار کھل گئے۔

حقیقی حقوق نسواں
تضاد سے پاک
اسلامی قوانین ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہوتے

بیوی کے اعتراف پر زنا پر حد
اگر شوہر بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے اور بیوی اس الزام کو تسلیم کرلے تو بیوی پر شرعی حد کی سزا قائم کی جاتی ہے
عہد نبوی میں بیوی کے اقرار پر رجم کیا گیا۔ پہلے حدود آرڈیننس 1979ء دفعہ 14 شق 4 میں یہ سزا موجود ہے

بلوغت کا معیار جسمانی علامت ہے
اسلام میں بلوغت کا معیار عمر نہیں بلکہ جسمانی بلوغت ہے
(صحیح بخاری حدیث ۲۴۷۰)

زنا بالرضا کی حد
(۱) غری شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لئے 100 کوڑے کی سزا ہے
(سورہ النور2)
(ب) شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لئے رجم یعنی سنگساری کی سزا ہے
(بخاری حدیث ۶۸۱۷)
اقدام زنا پر تعزیری سزائوں کا اجراء
زنا کے مبادیات پر بھی تعزیری سزائیں دی جاتی ہیں۔ یعنی اگر زنا ثابت نہ ہو لیکن غیر محرم سے خلوت‘ بے لباسی‘ بوس وکنار اور دیگر فحش حرکات ثابت ہوجائیں تو جج تعزیری سزا دے سکتا ہے (یہ سزائیں 1979ء کے حدود آرڈیننس دفعہ 20 میں شامل تھیں)
الزام لگانے والے شوہر کی سزا
اگر کوئی شوہر اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے تو میاں اور بیوی دونوں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ لعان کی کارروائی مکمل کریں جس کے بعد عدالت ان کے درمیان تفریق کردیتی ہے۔ حدود آرڈیننس 1979ء میں کارروائی معطل کرنے کے لئے شوہر کے لئے قید کی سزا تھی۔
سب سے بالاتر خدا اور رسول ہیں
اﷲ اور رسول کے قوانین کو تمام انسانی قوانین پر برتری حاصل ہے (المائدہ 44 الحجرات 1 النساء 65 الاحزاب 36)

حد معاف کرنے کے اختیارات کسی کو نہیں
’’حضرت محمدﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اﷲ عنہا بھی چوری کرتی تو اس کا ہاتھ کاٹتا‘‘
(صحیح بخاری حدیث 6290 )
فاطمہ بنت اسودہ رضی اﷲ عنہا کی چوری پر اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ اور حضرت اسامہ رضی اﷲ عنہا جیسے مقرب صحابی کی سفارش بھی مسترد کردی گئی۔
(بخاری حدیث 6787)
اعتراف زنا پر حد
زنا کے ملزم کے اعتراف پر بھی حد زنا جاری کی جاتی ہے۔
(۱) ماعزا سلمیٰ رضی اﷲ عنہا کے اعتراف پر رجم کیا گیا (بخاری ‘ کتاب المحابین)
(ب) غامدیہ رضی اﷲ عنہ کے اعتراف پر رجم کیا گیا۔
(س) رسول اﷲﷺ نے بیوی کے اعتراف پر رجم کا حکم دیا
(بخاری کتاب المحاربین انیس بن صحاک کا واقعہ)
حد قذف
تہمت زنا کی سزا 80 کوڑے ہیں۔ یہ قانون قذف ہے (سورہ النور 4)
زنا بالجبر کی حد
(۱) زنا بالجبر میں بھی‘ جبر کرنے والے کی سزا بھی اسلام میں‘ غیر شادی شدہ کے لئے 100 کوڑے یا شادی شدہ کے لئے رجم ہے۔
(ب) مجبور عورت بے گناہ سمجھی جاتی ہے (ترمذی ‘ ابواب المحدود)
(س) 100 کوڑ) اور جلاوطنی کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے زاتی کو اسی عورت سے نکاح کا حکم دیا (مولا امام مالک)
گواہوں کی تعداد
اسلام میں زنا کے مقدمے میں چار مردوں کی چشم دید گواہی ہے‘ جس میں مستغیث بھی شامل ہے (النور 13)

نام نہاد حقوق نسواں ایکٹ 2006ء
قانونی تضادات
تحفظ حقوق نسواں بل 2006ء کے تحت زنا کے قوانین متصادم ہوگئے ہیں
(۱) اصل حدود آرڈیننس 1979ء کی دفعہ 5 کے تحت غیر شادی شدہ کے لئے 100 کوڑے اور جلاوطنی ہے اور شادی شدہ ذاتی کے لئے رجم کی سزا ہے۔
(ب) ترمیم نمبر 7 اور 9 جدول 8 کے تحت غیر شادی شدہ کے زنا کی سزا 5 سال قید کردی گئی ہے۔
(س) ترمیم نمبر 5 کے تحت زنا بالجبر کی سزا موت یا 25 سال قید کردی گئی ہے
٭ زنا کی شرعی سزائیں: صرف نمائشی طور پر رکھی گئی ہیں۔ متوازی قوانین کی موجودگی میں شرعی سزائوں پر عمل ناممکن ہے

بیوی کے اعتراف زنا پر حد ختم
اب اس بل میں اس سزا کو ختم کردیا گیا ہے۔ اب بیوی کے اعتراف زنا کے باوجود اسے سزا نہیں دی جاسکتی (ترمیم نمبر 25)
٭ کیا عیسائیوں کی طرح اعتراف پر معافی کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔

بلوغت کا معیار عمر ہے
لڑکی کی بلوغت کے لئے 16 سال کی عمر مقرر کی گئی ہے۔ 16 سال سے کم عمر لڑکی سے زنا زنا بالجبر قرار دیا جائے گا (ترمیم 5 ) ترمیم بھی خلاف شریعت ہے۔

حدود زنا میں ترمیم
زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی قید اور 10 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا
(ترمیم 7 تعزیرات 496ب)

اقدام زنا پر تعزیری سزائوں کی منسوخی
اب ایسی تمام تعزیری سزائوں کو منسوخ کردیا گیا ہے۔اب بوس و کنار اور جسمانی افعال پر کوئی سزا نہیں ہوگی (دفعہ 20 کو 2006ء میں منسوخ کردیا گیا ہے)

الزام لگانے والے شوہر کے لئے جھوٹ
شوہر بیوی پر الزام لگاسکتا ہے اور لعان کی کارروائی کو لامحدود مدت کے لئے موخر کردیا گیا ہے۔ عدالت اسے کوئی سزا نہیں دے سکتی۔ اس طرح اب شوہر کو بیوی کو مطلق رکھنے کا حق حاصل ہوگیا ہے۔
موجودہ بل میں مرد کی سزا کو منسوخ کردیا گیا ہے (ترمیم 25)
اﷲ و رسول سے جنگ
(ا) حد زنا دفعہ 3 کو ترمیم نمبر 12 کے ذریعے ختم کرکے دیگر قوانین کو حد زنا کے قوانین پر برتری عطا کی گئی ہے۔
(ب) حد قذف دفعہ19 کو ترمیم نمبر 28 سے ختم کرکے حد قذف پر برتری حاصل کی گئی ہے۔یہ رویہ اﷲ تعالیٰ سے جنگ کے مترادف ہے۔ یہ توبہ کا وقت ہے۔

حکومت‘ صدر کو معافی کے اختیارات حاصل ہیں
صوبائی حکومت اور صدر کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شرعی سزائوں کو معاف کردے۰
(ترمیم نمبر 18)
یہ قانونی شریعت کے سراسر خلاف ہے

اعتراف زنا پر حد نہیں
لعان کی صورت میں زنا کے ملزم کے اعتراف پر شرعی سزا کو بل سے خارج کردیاگیا ۔
یہ بھی قانون شریعت کے سراسر خلاف ہے ۔
(ترمیم نمبر 25)

حد قذف میں ترمیم
زیادہ سے زیادہ 5 سال کی قید اور زیادہ سے زیادہ 10 ہزار روپے جرمانہ ہوگا
(ترمیم نمبر 4967 ج)
٭ یہ ترمیم بھی خلاف شریعت ہے۔
حد زنا میں ترمیم
زنا بالجبر کی سزا موت قرار دی گئی ہے
(شق نمبر 5 تعزیرات پاکستان 376)
یہ ترمیم بھی خلاف اسلام ہے
٭ آخر غیر شادی شدہ زانی کو کس شرعی قانون کے تحت موت کی سزا دی جائے گی؟
گواہوں کی تعداد میں اضافہ
موجودہ بل میں زنا کے ثبوت کے لئے چار کی بجائے پانچ گواہ مقرر کئے گئے ہیں۔
(مستغیث‘ چار گواہ)
محترم قارئین کرام! آپ نے مشرف حکومت کی جانب سے کی جانے والی حدود اﷲ میں ترامیم ملاحظہ فرمائیں کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین میں کمی بیشی کی گئی ۔ یاد رکھئے میرے مولیٰﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن ایسے حاکم کو اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا جس نے حد میں کمی کی ہوگی اس سے پوچھا جائے گا۔ لم فعلت ذالک تونے ایساکیوں کیا؟ وہ کہے گا رحمتہ لعابک تیرے بندوں پر رحمت اور شفقت کے لئے اسے کہا جائے گا انت ارحم بہم منی کیا تو مجھ سے زیادہ ان پر رحم کرنے والا ہے؟ فیؤ مربہ الی النار اسے دوزخ میں پھینک دینے کا حکم دیا جائے گا پھر ایسے حاکم کو بارگاہ الٰہی میں پیش کیا جائے گا۔ جس سے مقررہ حد سے ایک کوڑا زیادہ مارا ہوگا اس سے اس کی وجہ پوچھی جائے گی اﷲ تعالیٰ فرمائے گا انت احکم بہ منی فیؤ مربہ الی النار کیا تو مجھ سے زیادہ حکم کرنے والا ہے پھر اسے بھی آگ میں پھینکے جانے کا حکم صادر ہوگا۔ (تفسیر ضیاء القرآن 290/3) حدود اﷲ میں ترامیم کے باعث مشرف کو بہت ذلت کا سامنا ہوا‘ انہیں سینکڑوں بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے سیاسی ساتھی بھی ان کے خلاف ہوگئے۔ پوری قوم ان سے نفرت کرنے لگی بالاخر الیکشن میں کروڑوں پاکستانیوں نے مشرف مخالف جماعتوں کو ووٹ دیئے۔ مشرف کو سلوٹ کرنے والے مرغے اپنے دربوں میں گھس گئے۔ یوں سمجھ لیں کہ آخری وقت میں مشرف کا سایہ بھی ان کا ساتھ چھوڑ گیا اور روتے ہوئے ڈرپوک کمانڈو نے صدارت کے عہدے کو خیرباد کہا۔ یہ سب حدود اﷲ سے غداری کا نتیجہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی جن جن طاقتوں نے حدود اﷲ میں ترامیم کی حمایت اور مخالفت کے خلاف آواز بلند نہ کی۔وہ تمام طاقتیں بھی ذلت ورسوائی کے عذاب کا شکار ہوئیں اور ہورہی ہیں۔ حدوداﷲ کا سب سے زیادہ مذاق اڑانے والے ’’جیونیوز‘‘ کو تاریخ کی سب سے زیادہ ذلت و رسوائی کا سامنا ہوا کئی ایام کی بندش کے بعد ناگ رگڑنے کے بعد دوبارہ کیا گیا۔ یہ حدود اﷲ کا مذاق اڑانے کی سزا تھی۔جب مشرف نے حدود اﷲ میں ترامیم کیں‘ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور تمام وکلاء خاموش تماشائی بنے رہے۔ آج تک اس خاموشی کی سزا افتخار محمد چوہدری اور دیگر وکلاء کو مل رہی ہے۔ اس وقت وہ خاموش تماشائی تھے۔ آج وکلاء کے علاوہ پوری قوم ان کی ذلت پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔وہ سیاسی جماعتیں جنہوں نے حدود اﷲ میں ترامیم کی حمایت کی اور اسلامی قوانین کو کالے قانون کا نام دیکر ترامیم کی حمایت میں ریلی نکالی۔ ان جماعتوں نے بھی نہایت ہی ذلت اٹھائی اور اپنے امیج کو خراج کیا آج پوری قوم ان جماعتوں کو گالیاں دیتی ہے۔الغرض کہ حدود اﷲ سے غداری اسلام سے غداری ہے۔ لہذا موجودہ حکومت حدود آرڈیننس بحال کرے۔ کیا معلوم ہمارے ملک پر برے حالات حدود اﷲ میں ترامیم کی وجہ سے ہوں؟