عام لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ مخلوق

in Tahaffuz, July 2008, متفرقا ت

ٹیلوں اور وادیوں میں رہنے والے جنات
حضرت سیدنا بلال بن حارث رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اﷲ عزوجل کے محبوب‘ دانائے غیوب‘ منزہ عن العیوبﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ میں آپﷺ کے پاس پانی کا برتن لے گیا تو میں نے آپﷺ کے پاس لوگوں کے لڑنے جھگڑنے کی آواز سنی۔ اس طرح کی آواز میں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ جب پیارے آقاﷺ تشریف لے آئے تو میں نے عرض کی ’’یارسول اﷲﷺ میں نے آپ کے پاس لوگوں کے لڑنے جھگڑنے کی آواز سنی اور اس سے پہلے میں نے ایسی آواز کسی کی زبان سے نہیں سنی تھی؟‘‘ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میرے پاس مسلم جنات اور مشرک جنات آپس میں جھگڑ رہے تھے ان لوگوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں انہیں رہنے کی جگہ دے دوں تو میں نے مسلمان جنوں کو ٹیلوں و چٹانوں میں جگہ دے دی اور مشرک جنوں کو پست زمین (یعنی گڑھوں‘ کھائیوں اورغاروں) میں جگہ دے دی۔
(المعجم الکبیر‘ الحدیث ۱۱۴۳ ج ۱ ص ۳۷۱)
بلوں میں رہنے والے جنات
حضرت سیدنا عبداﷲ بن سرجس رضی اﷲ عنہ حضرت سیدنا قتادہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے بل (یعنی سوراخ) میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔ لوگوں نے حضرت قتادہ رضی اﷲ عنہ سے پوچھا کہ بل میں پیشاب کرنے سے ممانعت کی کیا وجہ ہے؟ حضرت قتادہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ’’کہاجاتا ہے کہ بل جنات کے رہنے کی جگہ ہے‘‘
(سنن ابی دائود‘ کتاب الطہارۃ‘ باب النہی عن البول فی الجحر‘ الحدیث ۷۹‘ ج ۱ ص ۴۴)
ویرانوں میں رہنے والے جنات
علامہ بدر الدین شبلی علیہ رحمتہ اﷲ القوی (المتوفی ۷۱۹ھ) نقل کرتے ہیں: اعرابیوں (یعنی عرب کے رہنے والے دیہاتیوں) کا بیان ہے کہ ہم کثیر لوگ ہوتے اور کہیں پڑائو کرتے تو ہمیں بہت سے خیمے اور لوگ دکھائی دیتے مگر اچانک سب کچھ غائب ہوجاتا‘ ہمیں یقین ہے کہ دکھائی دینے والے وہ لوگ جنات ہیں (اکام المرجان فی احکام البحان‘ الباب السادس فی تلور الجن و تشکلھم ص ۲۶)
انسانوں کے ساتھ رہنے والے جنات
جو جن انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں اسے عامر کہتے ہیں جس کی جمع عمار ہے (لقط المرجان فی احکام الجان ذکر وجودھم ص ۲۵)
حضرت سیدنا جابر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے سنا کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہواور داخل ہوتے وقت اور کھانے کے وقت اس نے بسم اﷲ پڑھ لی تو شیطان اپنی ذریت سے کہتا ہے کہ اس گھر میں نہ تمہیں رہنا ملے گا نہ کھانا اور اگر داخل ہوتے وقت بسم اﷲ نہ پڑھی تو کہتا ہے اب تمہیں رہنے کی جگہ مل گئی اور کھانے کے وقت بھی بسم اﷲ نہ پڑھی تو کہتا ہے کہ رہنے کی جگہ بھی ملی اور کھانا بھی ملا۔
(صحیح مسلم‘ کتاب الاشریتہ‘ باب آداب الطعام‘ الحدیث ۲۰۱۸‘ ص ۱۱۱۶)
چکنائی والا کپڑا جن کی اقامت گاہ ہے
حضرت سیدنا جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ اﷲ عزوجل کے محبوب‘ دانائے غیوب منزہ عن العیوبﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اے لوگو! اپنے گھروں سے گوشت کی چکنائی والا کپڑا (دستی رومال) نکال دو (یعنی دھودیا کرو) اس لئے کہ یہ شریر جن کی جگہ ہے اور اس کی قیام گاہ ہے‘‘
(فردوس الاخبار‘ باب الالف‘ الحدیث ۳۴۳‘ ج ۱ ص ۶۸)
جھاڑیوں میں جنات کا بسیرا
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ایک شخص کو قرع میں رفع حاجت کرنے سے منع فرمایا۔ عرض کی گئی ’’قرع کیا ہے؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی جھاڑی والی جگہ میں جائے تو گویا اپنے مکان میں ہے حالانکہ وہ تمہارے بھائی جنات کے رہنے کی جگہ ہے (الکامل فی الضعفاء لابن عدی‘ ج ۴ ص ۳۱۰)
جنات کی اقسام
شارح بخاری علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی علیہ رحمتہ اﷲ الغنی (المتوفی ۸۵۵ھ) نے قرآن پاک ‘ احادیث مبارکہ اور آثار میں غور وفکر کرکے جنات کی چند اقسام بیان فرمائی ہیں۔
(۱) غول
اسے عفریت بھی کہتے ہیں۔ یہ سب سے خطرناک اور خبیث جن ہے جو کسی سے مانوس نہیں ہوتا۔ جنگلات میں رہتا ہے ‘ مختلف شکلیں بدلتا رہتا ہے۔ اور رات کے وقت دکھائی دیتا ہے اور تنہا سفر کرنے والے مسافر کو عمومادکھائی دیتا ہے جو اسے اپنے جیسا انسان سمجھ بیٹھتا ہے ‘ یہ اس مسافر کو راستے سے بھٹکاتا ہے۔
(۲) سعلاۃ
یہ بھی جنگلوں میں رہتا ہے جب کسی انسان کودیکھتا ہے تو اس کے سامنے ناچنا شروع کردیتا ہے اور اس سے چوہے بلی کا کھیل کھیلتا ہے۔
(۳) غدار
یہ مصر کے اطراف اور یمن میں بھی کہیں کہیں پایا جاتا ہے‘ اسے دیکھتے ہی انسان بے ہوش ہوکر گرجاتا ہے۔
(۴) ولھان
یہ ویران سمندری جزیروں میں رہتا ہے اس کی شکل ایسی ہے جیسے انسان شترمرغ پر سوار ہو۔ جو انسان جزیروں میں جاپڑتے ہیں انہیں کھالیتا ہے۔
(۵) شق
یہ انسان کے آدھے قد کے برابر ہوتا ہے‘ دیکھنے والے اسے بن مانس سمجھتے ہیں‘ سفر میں ظاہر ہوتا ہے
(۶) بعض جنات انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں اور انہیں تکلیف نہیں پہنچاتے۔
(۷) بعض جنات کنواری لڑکیوں کو اٹھالے جاتے ہیں۔
(۸) بعض جنات کتے کی شکل اور (۹) بعض چھپکلی کی شکل میں ہوتے ہیں
(عمدۃ القاری‘ ج ۱۰ ص ۶۴۴‘ ماخوذ از رسالہ ’’جنات کی حکایات‘‘ ص ۱۰)
جنات اصلی شکل میں نظر کیوں نہیں آتے؟
جنات بھی ہمارے ساتھ اس زمین میں رہتے ہیں لیکن وہ ہمیں دیکھتے ہیں‘ اور ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ کنزالایمان: بے شک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے بے شک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے‘ جو ایمان نہیں لاتے۔
صدر الافاضل حضرت مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ رحمتہ اﷲ الھادی (المتوفی ۱۳۶۷ھ) اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں ’’اﷲ تعالیٰ نے جنوں کو ایسا ادراک دیا ہے کہ وہ انسانوںکو دیکھتے ہیں اور انسانوں کو ایسا ادراک نہیں ملا کہ وہ جنوں کو دیکھ سکیں‘‘
حضرت سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے سموم (یعنی جہنم کی آگ کے سترویں حصے) سے ابوالجنات کو پیدا فرمایا اور اس سے پوچھا ’’اے ابوالجن‘ تمہاری کیا خواہش ہے؟ اس نے کہا میری تمنا یہ ہے کہ ہم سب کو دیکھیں اور ہمیںکوئی نہ دیکھے اور ہم زمین میں چھپ جائیں اور ہمارا ادھیڑ عمر بھی نہ مرے یہاں تک کہ اس کی جوانی و اپس آجائے (یعنی ہمارا ادھیڑ عمر بھی جوان ہوکر مرے)‘‘ تو اﷲ تعالیٰ نے اس کی یہ تمنا پوری فرمادی۔ اسی لئے جنات ہم سب کو دیکھتے ہیں لیکن ہم لوگ انہیں نہیں دیکھ پاتے اور جب وہ مرتے ہیں تو زمین میں غائب ہوجاتے ہیں اور ان کو بوڑھا بھی جوان ہوکر مرتا ہے‘‘
(اکام المرجان فی احکام الجان ‘ الباب الثانی فی ابتداء خلق الجن‘ ص ۱۲)
علامہ بدر الدین شبلی علیہ رحمتہ اﷲ القوی (المتوفی ۷۶۹ھ) لکھتے ہیں : حضرت ربیع بن سلیمان علیہ رحمتہ اﷲ الحنان فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی علیہ الرحمہ القوی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو عادل شخص یہ گمان کرے کہ اس نے جن کو دیکھا ہے تو میں نے اس کی گواہی باطل قرار دیتا ہوں کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا (انہ یرکم ھو وقبیلہ من حیث لاترونھم‘ انا جعلنا الشیطین اولیآء للذین لامومنون o (پ ۸‘ الاعراف ۲۸) مگر یہ کہ وہ نبی ہو۔
(آکام المرجان فی احکام الجان‘ الباب السادس فی تطور وتشکلھم ص ۲۳)
یاد رہے کہ عام انسان جنات کو اصل حالت میں نہیں دیکھ پاتا لیکن اگر یہ کسی اور شکل میں ہوں تو انسان کا ان کو دیکھنا کثیر روایات سے ثابت ہے۔
جنات کی مختلف شکلیں
علامہ بدر الدین شبلی حنفی علیہ الرحمہ القوی (المتوفی ۸۶۹ھ) اپنی کتاب ’’اکام المرجان فی احکام الجان‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’بلاشبہ جنات انسانوں اور جانوروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں چنانچہ وہ سانپوں‘ بچھوئوں‘ اونٹوں‘ بیلوں‘ گھوڑوں‘ بکریوں‘ خچروں‘ گدھوں اور پرندوں کی شکلوں میں بدلتے رہتے ہیں۔
(آکام المرجان فی احکام الجان الباب السادس فی تطور الجن و تشکلھم ص ۲۱)
جنات کی تین قسمیں
حضرت سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہ مدینہ قرار قلب و سینہ‘ صاحب معطر پسینہ‘ باعث نزول سکینہ‘ فیض گنجینہﷺ نے فرمایا ’’جنات کی تین قسمیں ہیں‘ اول جن کے پر ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے ہیں‘ دوم‘ سانپ اور کتے اور سوم جو سفر اور قیام کرتے ہیں۔‘‘
(المستدرک للحاکم‘ الجن ثلاثتہ اصناف‘ الحدیث ۳۴۵۴‘ ج ۳ ‘ ص ۲۵۴)