پیغمبر اسلام اور دہشت گردی ، حقیقت وصداقت

in Tahaffuz, July 2008, تاج محمد خاں ازہری, تحفظ نا مو س ر سا لت

مذہب اسلام کی حقانیت و صداقت کی سب سے واضح اور روشن دلیل یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ کے چودہ سو سالہ مادی و فکری مسلسل حملوں اور یلغار کے باوجود بفضل اﷲ اسلام آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ عصر حاضر میں دشمنان اسلام کی جانب سے کئے جانے والے حملے مذہب اسلام کے لئے کوئی نئی بات نہیں بلکہ عہد قدیم سے ہی مخالفین اسلام نے وہ کون سا حربہ و ہتھیار نہیں ہے جوکہ اسلام کے خلاف استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے تو اپنے ترکش کا ہر تیر کمان اسلام کو چھلنی کرنے کے لئے نشانے پر لگایا لیکن نصرت خداوندی ہمہ وقت ڈھال بن کر دین اسلام کی حفاظت و نگہبانی کرتی رہی۔ چونکہ یہ شکست خوردہ قوم ہے۔
صلیبی جنگوں میں مسلمانوں سے اس نے ہمیشہ منہ کی کھائی ہے اس لئے اسے مسلمانوں کی قوت دست و بازو کا بخوبی اندازہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ مسلمانوں سے آمنے سامنے برسر پیکار نہیں ہوتی‘بلکہ پس پشت سے ہی بزدلانہ حملہ کرنے کی کوشش کرتی ہے‘ کبھی مسلمانوں کو دہشت گرد کہہ کر تو کبھی پیغمبر اسلام کے خود ساختہ کارٹون چھاپ کر۔
مجھے اس بات پر کوئی حیرت نہیں ہے کہ ڈنمارک کے عیسائیوں نے پیغمبر اسلام کا کارٹون بنا کر شائع کیا ہے اس لئے کہ جو قوم خود اپنے نبی کے مقام کو نہ پہچان سکے اور اس کی تصویر (وہ بھی تختہ دار پر لٹکا ہوا) بنا کر فٹ پاتھ پر فروخت کرے‘ اس سے ہم اپنے نبی کی تعظیم و کریم کی امید بھلا کیسے کرسکتے ہیں؟ ان نام نہاد عیسائیوں سے بہتر تو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہم حضرت روح اﷲ کو مصلوب نہیں بلکہ زندہ مانتے ہیں۔ دوسرے کے دامن عصمت پر دہشت گردی کا دھبہ لگانے والے پہلے خود اپنا محاسبہ کریں‘ مسلمان اور پیغمبر اسلام کو دہشت گرد ثابت کرنے سے قبل عراقی‘ افغانی اور فلسطینی مسلمانوں  کے خون میں لت پت اپنے دامن پر نظر ڈالیں۔ کیا ان ننھے بچوں  کو شفقت پدری اور ماں کی ممتا سے مسلمانوں نے محروم کیا ہے؟ کیا عراق‘ افغانستان اور فلسطین کی ہزاروں دختران حوا کو بیوہ بنانے والے مسلمان ہیں؟ کیا مذکورہ ممالک میں لاکھوں فرزندان آدم کے سروں سے سایہ چھت چھیننے والے مذہب اسلام کے پیروکار ہیں؟ نہیں! بلکہ تمہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ان گھنائونے جرائم کا ارتکاب کیا ہے‘ لیکن اپنے کالے کرتوت پر پردہ ڈالنے کے لئے اسلام اور پیغمبر اسلام کو بدنام کررہے ہو۔ ڈنمارک کے عیسائی رسول گرامی وقارﷺ کے کارٹون شائع کرکے ہمارے رسول کی اہانت سے زیادہ خود اپنے نبی حضرت عیسٰی ابن مریم کی مخالفت کے مرتکب ہورہے ہیں چونکہ انہیں کے نبی نے خود انہیں کو مخاطب کرکے اپنی زبان مبارک سے فرمایا تھا: میں تمہیں اپنے بعد آنے والے نبی کی خوش خبری سناتا ہوں ان کا اسم گرامی احمد ہوگا۔
خوش خبری اسی ذات کی آمد کی سنائی جاتی ہے جو تمام عیوب ونقائص سے منزہ ہو‘ جو اخلاق ‘ حیا اور جودوسخا کا پیکر ہو‘ جو رحم و کرم اور عدل و وفا کا خوگر ہو۔ ارے عقل کے اندھو! توہین رسالت کرنے سے قبل تمہیں یہ بھی خیال نہ آیا کہ تم نے جس نبی کی توہین کرنے کی جسارت کی ہے اس کی عظمت و بزرگی کے معترف خود تمہارے نبی تھے جن کے پیروکار ہونے کے تم دعویدار ہو۔ ہمارے نبی کی اہانت کرکے تم نے حضرت مسیح کا امتی ہونے کا حق نہیں ادا کیا بلکہ ان کا امتی کہلانے کا حق بھی کھو بیٹھے۔ اور یہ بات ہم خوب جانتے ہیں کہ آج کے عیسائی حضرت سیدنا مسیح کی تعلیمات سے ہزاروں میل دور ہیں‘ اس لئے کہ حضرت ابن مریم نے اپنے متبعین کو یہ تعلیم دی تھی کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک رخسار پر طمانچہ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اس کے سامنے کردو تاکہ مارنے والا تمہاری رواداری  کو دیکھکر از خود ہی نادم وشرمشار ہوجائے مگر کیا آج کے عیسائی حضرت روح اﷲ کی اس تعلیم پر عمل پیرا ہیں؟ نہیں اور ہرگز نہیں! بلکہ اس کے برعکس آج عیسائی دوسرا گال پیش کرنے کی بجائے دوسروں کا گلا کاٹ رہے ہیں۔ جس نبی نے سولی پر چڑھ کر (ان کے عقیدے کے مطابق) تمہارے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کیا ہے‘ اس کی تعلیمات سے منحرف ہوکر تم نے اس کے امتی ہونے کا کیا خوب حق ادا کیا ہے؟
ابتدائے اسلام سے لے کر اب تک عیسائیوں نے نہ معلوم کتنی بار اسلام اور نبی اسلام کی شان میں گستاخی کی ہے۔ لیکن ان تمام مظالم اور چیرا دستیوں کے باوجود تاریخ شاہدعدل ہے کہ اسلام کی آمد سے لے کر آج تک ساڑھے چودہ سو سال کے اس طویل عرصے میں کسی بھی مسلمان نے حضرت روح اﷲ کی شان میں اہانت آمیز ایک کلمہ بھی کہنے کی جسارت نہیں کی‘ چونکہ ہم اس کتاب مقدس پر ایمان رکھنے والے ہیں جس نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے لانفرق بین احد من رسلہ ہم رسولوں کے مابین کوئی تفریق نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان بلاتفریق جس طرح نبی آخر الزماںﷺ پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی تعظیم و توقیر کو جزوایمان تسلیم کرتے ہیں۔ اسی طرح حضرت مسیح پر بھی ایمان لاتے ہیں اور انہیں بھی قابل صد احترام مانتے ہیں۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام تو نبی صادق اور اولوالعزم رسولان عظام میں سے ہیں ان کی تحقیر اور توہین کا خیال بھی ایک مسلمان کے دل میں راہ نہیں پاسکتا۔ اہل اسلام کا یہ عقیدہ صرف حضرت مسیح کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ دیگر تمام انبیائے صادقین کے بارے میں بھی یہی عقیدہ و نظریہ ہے‘  یہ تو ہی انبیائے برحق کی بات۔ ہمارا مذہب تو ہمیں اس بات کی بھی تعلیم دیتا ہے کہ دوسرے کے معبودان باطل کو بھی برا بھلا نہ کہو اس لئے کہ وہ اپنی لاعلمی اور عداوت کی بناء پر تمہارے معبود برحق کو برے کلمات سے یاد کرے گا۔
جن لوگوں نے رسول ہاشمی کے کارٹون بنائے ہیں اور اگر وہ ان کی سیرت طیبہ سے واقف ہوتے تو اس حماقت کا ارتکاب ہرگز نہ کرتے‘ وہ شاید اس حقیقت سے نابلد ہیں‘ کہ ہمارے رسول کا اخلاق و کردار تو اتنا بلندوبرتر ہے کہ ان ردی کاغذ کے ٹکڑں پر کھینچی ہوئی چند لکیروں سے ان کی شان رفعت پر کسی قسم کی آنچ نہیں آسکتی۔ اس لئے کہ آپ کے اخلاق حسنہ کی شہادت تو خود آپ کے رب نے دی ہے۔ وانک لعی خلق عظیم
ڈنمارک کے بے ضمیر صحافیو! نبی رحمت کو دہشت گرد اور آتنک وادی ثابت کرنے سے پہلے اپنی آنکھوں پر بندھی مذہبی عصبیت کی پٹی کھول کر ذرا ان کی شان رحیمی اور کریمی کے جلوئوں کو بھی دیکھ لیتے۔ تمہیں بتائو! بھلا وہ نبی دہشت گرد اور ارھابی کیسے ہوسکتا ہے جس نے اپنی امت کو یہ تعلیم دی ہے ’’جو تم پر ظلم بھی کرے اسے بھی معاف کردینا‘‘ اور صرف تعلیم ہی نہیں دی بلکہ عمل کرکے بھی دکھایا ہے۔ طائف کے وہ اوباش جنہوں نے پتھر مار مار کر آپ کے جسم مبارک کو اس درجہ لہولہان کردیا تھا کہ خون سے آپ کے نعلین شریف لت پت ہوگئے تھے‘ سید الملائکہ جبریل امین کی گزارش پر بھی آپ کی شان رحیمی کو یہ گوارہ نہ ہوا کہ ان کے لئے دست بددعا اٹھائیں‘ انہیں معاف کردیا اور صرف معاف ہی نہیں کیا بلکہ ان کے لئے دعا فرمائی ’’اے اﷲ! انہیں درگزر فرمادے‘ اس لئے کہ یہ نادان ہیں ابھی مجھے نہیں جانتے‘‘
جن اہل مکہ نے تین سال تک سوشل بائیکاٹ کرکے آپ کا جینا دوبھر کردیا‘ آپ کے راستے میں کوڑا پھینکا اور کانٹے بچھائے‘ آپ کے عم محترم سید الشہداء حضرت حمزہ کے سینہ مبارک کو چاک کرکے ان کے کلیجے کو کچا چباڈالا‘ آپ کو مجنوں‘ پاگل‘ دیوانہ‘ شاعر اور ساحر جیسے نام دیئے‘ جنگ احد میں آپ کے دندان مبارک تک کو شہید کرڈالا۔ ان تمام مظالم کے بعد بھی اہل مکہ کو فتح مکہ کے دن عفوودرگزر کا پروانہ عطا فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
آج کا دن رحم وکرم اور امن وامان کا دن ہے‘ آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں‘ جائو‘ تم سب کے سب آزاد ہو۔ رحم و کرم جیسے الفاظ بھی اس جگہ پر آکر دنگ رہ گئے جب جناب رسالت مآب ﷺکی زبان فیض ترجمان سے یہ اعلان عام سنا۔
اسلام اور پیغمبر اسلام کے جانی دشمن ابو سفیان کے گھر میں جو بھی آج پناہ لے لے‘ اس کے لئے بھی امان ہے۔
ہے دنیا کی تاریخ میں ایسا کوئی فاتح جس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ پانے کے باوجود انہیں اس فراخ دلی سے معاف کردیا ہو؟ تم نے صرف قائداعظم کی جنگوں کو پڑھا ہے‘ لیکن جنگوں میں اسلامی فوج کوان کی تعلیمات کیا تھیں شاید اس سے تمہیں واقفیت نہیں۔ لشکر اسلامی کو میدان کارزار روانہ کرنے سے قبل آپ یہ نصیحت فرماتے تھے: بوڑھوں‘ بچوں‘ عورتوں‘ معذوروں اور مذہبی لوگوں پر ہاتھ مت اٹھانا‘ عبادت گاہوں کو ہرگز مسمار مت کرنا‘ مویشیوں‘ کھیتیوں اور باغات کو تباہ نہ کرنا؟ تاریخ عالم ایسی کوئی ایک نظیر نہیں پیش کرسکتی کہ رسول اعظم ﷺنے کبھی کسی عورت یا غلام پر ہاتھ اٹھایا ہے۔ مگر ذرا تم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو! ہے ان میں سے کوئی جرم جو تم نے فلسطین ‘ عراق‘ افغانستان اور شیشان میں نہ ڈھایا ہو
شرم تم کو مگر نہیں آتی‘ یہ کہتے ہوئے کہ دہشت گرد مسلمان اور پیغمبر اسلام ہیں۔
قریب آئو تو شاید ہمیں سمجھ لوگے
یہ دوریاں تو غلط فہمیاں بڑھاتی ہیں