یہ دھواں کہاں سے اُٹھتا ہے؟

in Tahaffuz, July 2008, پیر اقبال فاروقی, متفرقا ت

کسی جنگل کا شیر بوڑھا ہوگیا۔ جنگل میں دھاڑنے کی بجائے اپنی کچھار (غار) میں جابیٹھا۔ بڑھاپے‘ کمزوری اور بیماری نے اسے اتنا لاچار کردیا کہ اپنے جنگل کی وادیوں میں ایک بار بھی نہ نکلتا نہ دیکھتا۔ جنگل کی لومڑیوں نے شیر کی اس حالت زار سے فائدہ اٹھا کر ایک زبردست اجتماع کیا اور دور دور سے لومڑیاں جمع ہوگئیں۔ رات کے سناٹے میں شیر کی غار کے سامنے مل کر نعرے لگانے لگیں۔ ہر لومڑی کہہ رہی تھی:
پدر من سلطان بود
میرا باپ بادشاہ تھا… میرا باپ بادشاہ تھا… میرا باپ بادشاہ تھا…
شیر کے کانوں میں آواز پہنچی تو اسے غیرت آئی۔ غار سے نکلا‘ نکل کر ایک بار جنگل پر نگاہ ڈال کر زور سے دھاڑا‘ ساری لومڑیاں بھاگ گئیں۔
یہ حکایت پرانے زمانہ کی ہے۔ پرانی کتابوں میں موجود ہے۔ مگر آج ہم پاکستان کے ’’شیروں‘‘ کو غاروں میں لیٹے دیکھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے‘ کہ ملک بھر کی لومڑیاں جمع ہوکر جلسے کررہی ہیں‘ اودھم مچا رہی ہیں‘ ریلیاں نکال رہی ہیں اور نعرے لگا رہی ہیں ’’پدر من سلطان بود‘ ’’پدر من سلطان بود‘… کہہ کر شیروں کو للکار رہی ہیں۔
اﷲ کی شان جنہوں نے پاکستان بنایا تھا۔ آج انہیں للکارا جارہا ہے۔ جن مسلمانوں نے کئی لاکھ جانیں دے کر پاکستان بنایا تھا۔ اور ان کا ایک ہی نعرہ تھا ’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اﷲ‘‘ آج انہیں ہی للکاراجارہاہے۔ حیرت ہے کہ جس سرزمین کو اﷲ و رسول کے احکام کے نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اس میں اﷲ و رسول کی شریعت کے احکام سے مذاق کیا جارہا ہے۔ قرآن و سنت کے خلاف بنائے جانے والے قوانین کو ’’قرآنی قانون‘‘ قرار دیا جارہاہے۔ جس سرزمین کو علامہ اقبال کا خواب کا‘ قائداعظم کی قیادت‘ علماء و مشائخ کی جدوجہد اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں نے بنایا تھا اس کے بنانے والوں کو للکارا جارہا ہے۔ علماء کرام ’’دہشت گرد‘‘ بن گئے ہیں‘ پکے مسلمان ’’انتہا پسند‘‘ قرار دیئے گئے ہیں اور انہیں غیر ترقی پسند اور پسماندہ افراد قرار دیا جارہا ہے۔ جس ملک کے کروڑوں لوگ کئی سالوں سے ’’نظام مصطفیٰ‘‘ کی صبح کی روشنیوں کے منتظر ہیں‘ انہیں روشن خیالی کے کھلونے دے کر بہلایا جارہا ہے جن لوگوں نے نظام مصطفی کے جھنڈے کے سائے میں زندگی بسر کرنا تھی‘ انہیں جارج بش کی سپر پاور کی چھتریوں کے نیچے خوفزدہ کرکے لٹایا جارہا ہے۔ آج مغل بادشاہ اکبر کے جان نشین ’’دین الٰہی‘‘ کے قیام کے لئے اپنے کافرانہ احکامات جاری کررہے ہیں ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ کے مہرے آج پاکستان کے اندر علمائے کرام پر مظالم توڑ رہے ہیں۔  جعفر و صادق کی اولاد کتنے پرفریب طریقوں سے اپنے آقائوں کے ہاتھ مضبوط کررہی ہے۔ ۱۸۵۷ء کے ناپاک فرزند‘ کتنی جرات سے ’’پدر من سلطان بود‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ کوئی انہیں روکنے والا نہیں۔ اور کوئی انہیں ٹوکنے والا نہیں۔ اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔
مسجدیں ویران کی جارہی ہیں۔ مدرسے گرائے جارہے ہیں‘ مساجد سے نکلنے والی آوازیں بند کی جارہی ہیں‘ کلمہ حق بلند کرنے والوں کے گھروں پر کریک ڈائون کیا جارہا ہے۔ اﷲ و رسول کا نام لینے والوں کو مذہبی انتہا پسند کہہ کر گالیاں دی جارہی ہیں اور خانقاہوں کو ’’چوہدری صوفیوں‘‘ کا چوپال بنایا جارہا ہے۔
گرفتہ چینیاں احرام مکی خفتہ در بطحا
یہ سیاہ کارنامے اکبر کے جانشینوں‘ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایجنٹوں‘ اٹھارہ سو ستاون کی ناپاک اولاد اور بش کی بارگاہ کے حاشیہ نشین کرہی رہے تھے‘ اب کراچی سے ایک نئی آندھی چڑھی ہے‘ ہزاروں لوگوں کو جمع کیا جاتا ہے اور لندن میں بیٹھا ایک شخص  اپنی لسانی قوت سے چلا چلا کر اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کررہا ہے۔ حکومت کو ایسے دریدہ دہن لوگ ہی پسند ہیں۔ یہ لوگ حکومت کی روشن خیالی کے ناقوس ہیں۔ یہ لوگ لسانی بنیادوں پر ملت اسلامیہ کو تقسیم کرنے والے ہیں اور چیخ چیخ کر ’’پدر من سلطان بود‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ان لوگوںنے پاکستان کی صرف امن و سلامتی ہی کو خطرے میں نہیں ڈالا بلکہ نظریہ پاکستان اور اسلامی شعائر کو للکارا ہے۔ آج ملک کے ہر محسن کو بے جان کیا جارہا ہے اور اسے اندھیری کوٹھڑی میں دھکیلا جارہا ہے۔ آج ملک کی سلامتی کے وہ مجاہد جنہوں نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا تھا ‘ پس دیوار زنداں (بہ خانہ خود) بے جان کرکے پھینک دیا گیا ہے۔ پاکستانی عوام کو عدل و انصاف دینے والا ایک مرد مجاہد آج ’’غیر فعال‘‘ ’’دورازکار‘‘ کے القابات کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ دارالحکومت میں مسجدوں کو بلڈوز کرنے کے بعد سیاہ برقعے والی لڑکیوں کے ڈنڈے دہشت گردی کا ہتھیار قرار دیئے گئے ہیں اور ان پر آپریشن کیا گیا۔ یہ کتنا بڑا الیہ ہے۔ یہ ملک عزیز پر کتنا بڑا حادثہ ہے۔ اس پاکستان پر بلائیں نازل کرنے کا کتنا سنگین وقت آگیا ہے کہ ظالموں کی روحیں بھی پناہ مانگ رہی ہیں۔ لطف یہ ہے کہ آج جو لوگ ایسے المیے اور ایسے حادثے اور ایسی بلائیں نازل کرنے کے ذمے دار ہیں‘ وہ بھی گلا پھاڑ پھاڑ کر چلا رہے ہیں لوگو! پاکستان کو خطرہ ہے۔ پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ صدر محترم کے خلاف سازش ہے‘ اسلامی لشکروں کے سپہ سالار کے خلاف سازش ہے۔ لوگو اٹھو! پاکستان کو بچائو‘ پاکستان کے صدر گرامی قدر کو بچائو‘ پاکستان کے اسلامی لشکروں کے سپہ سالاروں کو بچائو۔
اس شور شرابے‘ ان طوفانوں‘ ان دھندوں کاروں کے باوجود ملت پاکستان کی سواد اعظم کے سنی غفلت کی چادریں تان کر اپنی اپنی غاروں میں لیٹے ہوئے ہیں۔ سانس لیتے ہیں وہ انتشار کا شکار ہیں‘ بے اتفاقی نے انہیں بدحال کردیا ہے۔ ایک دوسرے کی مخالفت نے انہیں بے جان کردیا ہے۔ حالانکہ یہ لوگ اس ملک کے بنانے والے ہیں۔ یہ اس ملک میں نظام مصطفی نافذ کرنے والے ہیں۔ یہ اس ملک کے اولیاء اﷲ اور علمائے حق کی اولاد ہیں مگر انہیں بے اتفاقی‘ انتشار اور غفلت نے ادھمویا کردیا ہے۔ یہ اس بوڑھے زخمی شیر کی طرح اپنی چھوٹی چھوٹی کوٹھریوں اور حجروں میں بڑے دم بخود لیٹے ہوئے ہیں۔ علامہ اقبال نے غالباً ایسے لوگوں کے متعلق کہا تھا
اے کے اندر حجر ہا سازی سخن
نعرہ لا پیش نمرو داں بزن
یہ اﷲ والے نہ لسانی بیابانوں کی لومڑیوں کا جواب دے سکتے ہیں‘ جو ’’پدر من سلطان بود‘‘ کا نعرہ لگا رہی ہیں۔ نہ پاکستان کی سرزمین میں روشن خیالی کے نعرہ بازوں کا جواب دے سکتے ہیں۔ یہ سوئے ہوئے شیر‘ یہ افتراق و انتشار کے مارے ہوئے علمائ‘ یہ اﷲ ہوکی چادریں اوڑھے ہوئے مردان خدا کئی کئی جماعتوں کے رہنما ہیں‘ یہ کئی کئی کشتیوں کے ناخدا ہیں‘ نہ اپنے آبائو اجداد کی راہوں پر چل کر اپنی صفیں درست کرتے ہیں نہ اپنی تاریخ سے سبق لے کر باہر نکلتے ہیں۔
لگاتا تھا تو جب نعرہ تو خیبر توڑ دیتا تھا
حکم دیتا سمندر کو وہ رستہ چھوڑ دیتا تھا
ایران و شام وروما کو جھکایا تھا میدانوں میں
ہوکا لاالہٰ کا دے دیا تھا سب جہانوں میں
ہم بتا نہیں سکتے کہ یہ سوئے ہوئے شیر‘ یہ غفلت کے مارے شیر‘ یہ غاروں میں دبکے ہوئے شیر کب اپنی گرج سے ان شور مچانے والی لومڑیوں کو بھگائیں گے اور انہیں پوچھیں گے ’’تمہارا کون سا باپ بادشاہ تھا‘‘ غداروں کی اولادیں بادشاہوں کی اولادیں بن بیٹھی ہیں۔ کل کے کنگلے آج شاہی محلات میں شراب و شباب کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ ڈوموں اور مراثیوں کے بچے ’’فنکار‘‘ بن گئے ہیں۔ اور حکومت وقت سے ’’حسن کارکردگی‘‘ کے تمغے حاصل کررہے ہیں۔
ہائے! جنہیں سورہ فاتحہ پڑھنی نہیں آتی تھی وہ ’’اسلامی قوانین‘‘ کے ترجمان بن گئے ہیں۔ جو شریعت کا معنی نہیں جانتے‘ انہیں دینی رہنما بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ عوام کو انصاف دینے والے منصف اور جج انصاف کے لئے کچہریوں کے کٹہروں میں کھڑے ہیں۔
تفوبر تو اے فلک گرداں تفوا
یہ لومڑیوں کا دور ہے‘ یہ ڈوموں کا دور ہے‘ یہ ننگے ناچ کرنے والوں کا دور ہے‘ یہ نظریہ پاکستان کو گالیاں دینے والوں کا دور ہے۔ ہمارے ’’شیر‘‘ خدا معلوم کب انگڑائی لیں گے اور غاروں سے نکل کر ایک گرجدار دھاڑ سے لومڑیوں کو بھگائیں گے۔ ہمارے غازی خدا معلوم کن وادیوں میں کھو گئے ہیں۔ ہمارے مجاہد کن غاروں میں چلے گئے ہیں۔
اے خاصۂ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے
وہ دیں جو بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
اب اس کے ایوانوں میں نہ بتی نہ دیا ہے
یارسول اﷲ! آپ کے غلام کہاں چلے گئے! یارسول اﷲ آپ کے مجاہد کدھر چلے گئے! یا رسول اﷲ! آپ کے نام لیوا کہاں چلے گئے‘ یارسول اﷲ آپ پر صلواۃ و سلام پڑھنے والے کہاں چلے گئے۔ یارسول اﷲ اہل دل کے کارواں کن وادیوں میں کھوگئے۔
یارسول اﷲ انظر حالنا
یاحبیب اﷲ اسمع قالنا
اننا فی بحرھم مغرق
خذیدی سہل لنا اثقالنا