بات حق ہے اسے الزام نہ سمجھا جائے

in Tahaffuz, July 2008, متفرقا ت

۶ جون بروز جمعہ مقامی اخبار میں ایک کالم بنام مکہ مکرمہ سے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا خط شائع ہوا جوکہ سعودی عرب میں منعقد ہونے والی ’’مکالمہ کانفرنس‘‘ میں مدعو کئے گئے وہاں سے انہوں نے مقامی اخبار کو اپنا کالم روانہ کیا جو کہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔
آج بھی قصر الصفاء میں ’’مکالمہ کانفرنس‘‘ زوروں پر رہی مسلم اسکالرز کے مقالوں کا محور اسلام میں مکالمے کے شرعی دلائل اور اس کی ضرورت تھا۔ ایران میں بین المذاہب اور فقہی ادارے کے سیکریٹری جنرل شیخ محمد علی التسخیری نے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ سعودی عرب کے مفتی شیخ عبدالعزیز اور رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبداﷲ بن عبدالمحسن الترکی بھی اس موقع پر موجود تھے۔اردن کی عدالت ہاشمی کے چیف جسٹس اور شاہی عدالت کے امام ڈاکٹر احمد محمد بلیل‘ شاہ سعود یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ماجد محمد الماجد اور رابطہ عالم اسلامی کے شعبہ تحقیق و تالیف کے معروف محقق ڈاکٹر منقیض محمد السقر اس بات پر زور دیتے رہے کہ اغیار کے ساتھ مکالمہ قرآن و حدیث کی روح کوسامنے رکھ کر ضرور کیا جائے تاہم اس کی بعض حدود مقرر ہیں اگر ان سے تجاوز کیا گیا تو وہ مکالمہ نہیں بلکہ دین کا تماشا بن جائے گا۔
قصر الصفاء کے اس ہال میں سے مجھے اسلام آباد کی اسلامی یونیورسٹی کے سابق سربراہ اور ان دنوں قطر میں اسلامیات کے پروفیسر محمود احمد غازی‘ دارالعلوم کراچی کے مہتمم مفتی رفیع عثمانی‘ جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد‘ جمعیت اہلحدیث کے پروفیسر ساجد میر‘ مرکز انصار السنہ لاہور کے ڈاکٹر ثناء اﷲ مدنی‘ جماعت اسلامی ہندوستان کے امیر جلال الدین عمری‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق شیخ الجامعہ پروفیسر سید حامد‘ ذاکر حسین‘ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مرغوب الرحمن اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شیخ مطیع الرحمن نظامی بھی نظر آئے۔
اس موقع پر میں نے سوچا کہ مسلک اہلسنت کی یہاں نمائندگی کیوں نہیں ہے‘ کیا مکالمے کے اس عمل میں بریلی کے علماء اہلسنت اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے اکابرین اہلسنت سے مشاورت ضروری نہیں؟ عاشقان رسولﷺ کی رائے مقدم نہیں؟
اگر ایسا ہوجاتا تو کیا ہی اچھا ہوتا؟ شیعہ حضرات کی جب بھرپور نمائندگی ہے تو مسلک اہلسنت کو نظرانداز کرنا ’’مکالمے‘‘ کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ مجھے امید ہے کہ اگلی کانفرنس میں منتظمین اس پر بھی ضرور توجہ دیں گے۔
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی بات کو میں آگے بڑھاتے ہوئے یہ بات ضرور کہوں گا کہ ’’اہلسنت‘‘ کو سعودی عرب نے ہمیشہ نظر انداز کیا ۔ یہ جذبات صرف ڈاکٹر لیاقت حسین کے اور میرے نہیں بلکہ اس خطے پر موجود اہلسنت سے وابستہ ہر مسلمان کے ہیں۔ سعودی عرب نے صرف ایک کانفرنس کی حدتک ہی نہیںبلکہ ہر معاملات میں اہلسنت کو نظر انداز کیا ہے۔ یہ میری آپ بیتی ہے جو میں لکھ رہا ہوں۔ ربیع الاول شریف کے مہینے میں جب عوام اہلسنت کثرت کے ساتھ مدینہ منورہ حاضری کے لئے تیار ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں پاکستانیوں کے لئے  ربیع الاول میں ویزے کا اجراء بند کردیا جاتا ہے۔ عام مہینوں میں کسی پاکستانی کے پاسپورٹ پر اہلسنت کی پہچان نظر آجائے تو اسے بے جا تنگ کیا جاتا ہے۔ مدینہ منورہ میں حاضری کے دوران سنہری جالیوں کے سامنے ہاتھ باندھ کر زیادہ دیر صلواۃ و سلام پڑھنے پر زبردستی ہاتھوںکو کھول کر دھکے دے کر باہر نکال دیا جاتا ہے۔ سعودی عرب کے کسی بھی ہال یا کلب کو کرائے پر لے کرآپ اس میں محفل موسیقی کرسکتے ہیں‘ مگر اس ہال یا کلب میں محفل نعت پرپابندی ہے۔
اس کے برعکس شیعہ حضرات صبح فجر کے بعد اور شام کو عصر کے بعد جم غفیر کی صورت میں جنت البقیع میں سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی قبر انور پر زور زور سے کچھ پڑھ رہے ہوتے ہیں اور رو رہے ہوتے ہیں‘ ان کو کوئی روکنے والا نہیں ہوتا۔
ہمارا لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جب سعودی عرب میں ہر مکتبہ فکر کو حقوق حاصل ہیں تو پھر اہلسنت کے ساتھ زیادتی کیوں؟ اس کائنات کی سب سے اکثریت اور سواد اعظم جماعت‘ اہلسنت کے ساتھ ایسا برتائو ناانصافی نہیں؟اس سے قبل کہ دنیا سعودی عرب کو تعصب پسند اورشدت پسندکہے‘ اسے اپنے رویہ پر غور کرنا چاہئے۔
گستاخ کہہ رہا ہے‘ بے ادب کوئی    حق بات کہہ کہ ہم بدنام ہوگئے